کیا ہمیں سعودی عرب فوج بھیجنی چاہیے؟ آصف محمود

ایک بار پھر وہی سوال زیر بحث ہے: کیا ہمیں اپنی فوج سعودی عرب بھیجنی چاہیے؟ اس سوال کا جواب تب ملے گا جب ہم چند مزید سوالات پر غور کر لیں ۔

پہلا سوال یہ ہے کہ امور خارجہ کی صورت گری میں بنیادی چیز کیا ہے؟ محض چند اصول ؟ صرف ریاست کا مفاد ؟ یا اصول اور ریاستی مفاد میں ایک توازن ؟اصولی طور ہم نے طے کر لیا کہ ہم نے ایران اور سعودی عرب کی باہمی کشمکش میں ایک فریق نہیں بننا ۔ لیکن کیا اس اصول کی شرح اب یہ ہو گی ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ جان لیا کریں کہ ایران ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ؟ کیا ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کا تعین اپنے مفادات اور اپنے اصولوں کی روشنی میں کرنا ہے یا اس بات پر کہ ہمارے کسی فیصلے کو پڑوس میں کس طرح دیکھا اور سمجھا جائے گا ؟ ہم نے طے کر دیا ہم ایران کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم نے واضح کر دیا ہماری افواج صرف سعودی عرب کے اندر کام کریں گی اور اس کی سرحدوں کے باہر ان کا ہر گز کوئی کام نہیں ہو گا ۔ ہمارے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اپنے وفد کے ساتھ سعودی عرب سے واپسی پر ایران جا کر یہ بات برادر اسلامی ملک کی قیادت کو واضح کر دی تھی ۔ کیا اتنا اہتمام کافی نہیں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ برادر اسلامی ممالک کے لیے جتنی حساسیت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے کیا ہمارے بارے میں بھی اتنی ہی حساسیت کا مظاہرہ یہ برادر اسلامی ممالک بھی کر تے ہیں ؟ مثال کے طور پر جب جب سعودی عرب فوج بھیجنے کا معاملہ اٹھا ، ہمارے اہلِ دانش اور اہل سیاست نے توجہ دلانا ضروری خیال کیا کہ دیکھ لیجیے کہیں ا س سے ایران ناراض نہ ہو جائے۔ ہر دفعہ یہ آواز اٹھی کہ ایران کے جائز مفادات کا کا خیال رکھیے اور انہیں نظر انداز نہ کیجیے کہ وہ بھی ایک برادر اسلامی ملک ہے۔ یہ مطالبہ غلط بھی نہیں ۔ ہمیں بلاشبہ پڑوسی برادر اسلامی ملک کے مفادات کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔ لیکن کیا ذمہ داری صرف ہماری ہے؟کیا امور خارجہ میں یک طرفہ محبتوں کا کوئی تصور پایا جاتا ہے؟

ابھی ایران نے بھارت کے ساتھ چاہ بہار کا معاملہ کیا ۔ یہی نہیں، یہ اعلان بھی کر دیا کہ باہم مل کر افغانستان میں کام کیا جائے گا ۔ بھارت افغانستان میں2 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ جب کہ اس کی افغانستان کے ساتھ سرحد بھی نہیں ملتی ۔ اس اہتمام کا نشانہ واضح طورپر پاکستان ہے۔ خود ایمنسٹی انٹر نیشنل اقوام متحدہ کو لکھ چکی ہے کہ اٖفغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ قائم بھارتی قونصل خانے بند نہ کیے گئے تو خطے کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران میں بھی کسی صحافی، کسی اینکر، کسی کالم نگاریا کسی سیاست دان نے اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ گوادر سے محض 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بندرگاہ میں بھارت کو بٹھانے سے اجتناب کیجیے کہ کہیں پاکستان ناراض نہ ہو جائے ؟ کیا کسی ایک ٹاک شو میں یا کسی اخبار کے کسی ایک کالم میں کسی صحافی اور دانش ور نے اپنی حکومت سے کہا کہ پاکستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اس کے جائز مفادات کا خیال رکھا جائے؟اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کیا خارجہ پالیسی یک طرفہ محبتوں کے یہ بوجھ اٹھانے کی متحمل ہو سکے گی؟اگر چاہ بہار میں بھارت کو لا کر بٹھایا جا سکتا ہے اور اس سے مل کر افغانستان میں کھیل کھیلنے کا منصوبہ بھی بنایا جا سکتا ہے تو پاکستان کی افواج سعودی عرب کیوں نہیں جا سکتیں جب کہ وضاحت بھی کر دی گئی ہو کہ یہ صرف سعودی عرب کے دفاع کے لیے اس کی سرحدوں کے اندر کام کریں گی۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کیا صرف ’ برائے وزنِ بیت‘ تشکیل دی جاتی ہے یا ایسا کرتے وقت حساب سوددوزیاں بھی رکھا جاتا ہے؟ کبھی ہم نے یہ حساب کر کے دیکھا کہ ایران کہاں کھڑا ہے اور سعودی عرب کہاں ؟ صرف ایک مالی سال میں سعودیہ سے پاکستانیوں نے قریبا سات سو ارب روپے کا زر مبادلہ پاکستان بھیجا ۔ سعودی عرب کے زیر اثر گلف کونسل کے ممالک میں جو پاکستانی کام کر رہے ہیں انہیں بھی شامل کر لیں تو یہ رقم ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے ۔اور یہ صرف ایک مالی سال کا قصہ ہے۔حقیقت یہ ہے دنیا میں سب سے زیادہ زر مبادلہ ہمارے ملک میں سعودی عرب سے آتا ہے جہاں لاکھوں پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ اب آپ بتا دیجیے کہ ایران میں کتنے پاکستانی کام کر رہے ہیں اور وہاں سے کتنا زر مبادلہ آ رہا ہے؟ کیا ہمیں احساس ہے کہ ہمارے جو معاشی حالات ہیں ان میں یہ زر مبادلہ کتنا قیمتی ہے اور اس سے محرومی کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں، کیا اس حساب سودو زیاں کے بغیر خارجہ پالیسی تشکیل دی جا سکتی ہے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں سعودی عرب کی عسکری اہمیت کا علم ہے؟ وہ اپنے دفاع کے لیے ہم سے مدد چاہتا ہے تو ہم شاید یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بھی بھوٹان ، یا موریطانیہ جیسا ایک ملک ہے جس کی کوئی عسکری حیثیت نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔مت بھولیے کہ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے سعودی عرب دنیامیں تیسرے نمبر پر کھڑا ہے۔ امریکہ اور چین کے بعد سب سے بڑا دفاعی بجٹ سعودی عرب ( بعض اوقات روس)کا رہا ہے۔ چین ، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک پی فائیو کا حصہ ہیں اور ویٹو پاور ہیں مگر ان کا دفاعی بجٹ سعودی عرب سے کم ہے۔ یہ ایک الگ اور دلچسپ بحث ہے کہ اتنے بڑے بجٹ کے باوجود وہ ایک منظم اور طاقتور فوج کیوں نہیں کھڑی کر سکا ۔ مختصرا عرض کر دوں کی اس کی وجہ وہاں کی داخلی ہیئت ترکیبی ہے۔ شایدایک بادشاہ اپنی فوج کو ایک حد سے زیادہ مستحکم نہ کر سکتا ہو کہ کہیں فوج اقتدار ہی نہ چھین لے۔ لیکن ہمارے لیے ایسے ملک سے دفاعی تعلقات امکانات کی ایک دنیا آباد کر سکتے ہیں ۔ پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر ایف سولہ کے ہم پلہ ہے۔ اسے سعودی عرب کو فروخت کیا جائے تو معیشت کو سہارا مل سکتا ہے کیونکہ اگر سعودی عرب اس کا خریدار بن جائے تو پھر گلف کونسل کے باقی ممالک بھی یہ لے سکتے ہیں۔ اسلحہ سازی کے کئی پیداواری یونٹس کھڑے کیے جا سکتے۔ بہت کچھ ہوتا آیا ہے اوربہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اس کے دفاعی نظام کا حصہ بن جائیں تو عسکری معاملات سے منسلک ہمارے کئی معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کیا اس پہلو سے بے نیاز ہو سکتی ہے؟

پانچواں سوال سعودی عرب کی سفارتی افادیت سے متعلق ہے۔ کیا وہ اس محاذ پر ہمارے کسی کام آ سکتا ہے۔ ٹرمپ اور سعوودی ولی عہد کی قربت تو ایک حقیقت ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کے دفاعی نظام میں اگر آپ کی حیثیت ہے تو اس کا اثر لازم ہے کہ امریکی پالیسیوں پر بھی پڑے گا اور ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے خلاف اس حد تک نہیں جا سکے گی جس کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔ ابھی اگر واچ لسٹ میں پاکستان کا نام نہیں ڈالا جا سکا اور معاملات تین ماہ کے لیے موخر ہو گئے ہیں تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں اس میں راحیل شریف کی سعودیہ میں موجودگی کا کوئی کردار نہیں اور یہ خواجہ آصف صاحب کی گلابی اردو کا کمال ہے؟ آپ چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھتے جائیے اور سعودیہ سے قربت آپ کو ٹرمپ کے شر سے بچائے رکھے ، ایسے امکانات کو ٹھکرا دینا کیا عقلمندی ہو گی؟

چھٹا سوال یہ ہے کہ خارجہ پالیسی جذباتی کیفیت میں طے ہوتی ہے یا ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر ، امکانات اور خدشات کا جائزہ لے کر؟ اس بار پاکستان کسی جذباتی کیفیت کی بجائے عملیت پسندی سے ایک پالیسی بنا رہا ہے اور سیکولر لابی نے شور مچا دیا ہے۔ حالانکہ یہی لابی ہمیں دن رات سمجھاتی ہے کہ خارجہ پالیسی رومانوی ماحول میں نہیں بلکہ حقائق کی تمازت میں طے ہوتی ہے۔

ساتواں سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ایران اور سعودی عرب کے معاملے کو فرقہ وارانہ خطوط پر دیکھتے اور سمجھتے رہیں گے اور ایک بچگانہ توازن ڈھونڈنے کی ناکام کوشش میں لگے رہیں گے؟ کیوں نہ اس مرتبہ ایک نیشن سٹیٹ کے طور پر معاملے کو دیکھا جائے۔ نیشن سٹیٹ کے مفادات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ایران سے کسی تصادم میں نہ الجھیں اور ہم سعودی عرب سے پیدا ہونے والے امکانات کو ضائع نہ کریں۔ شروع میں یہ خدشہ موجود تھا کہ پاکستان کہیں مشرق وسطی کی آگ کا ایندھن نہ بن جائے اسی لیے کچھ خدشات بھی تھے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس کے فوجی دستے صرف سعودی عرب کی حدود میں تعینات ہوں گے۔ ہمیں ایران کا دشمن نہیں بننا لیکن ہمیں ایران کا دم چھلا بھی نہیں بننا۔ ایران اگر چاہ بہار میں بھارت کو لا بٹھا سکتا ہے تو ہم بھی سعودی عرب اپنی فوج بھیج سکتے ہیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • زبردست آصف محمود صاحب یقین جانیں میں خود اس موضوع پر لکھنے والا تھا کہ جب ایران چابھار میں بھارت کو بٹھا سکتا ہے تو پاکستان کو سعودی عرب فوج بھیجنے سے کون روک سکتا ہے اور شاید پاکستان نے
    یہ حتمی فیصلہ ایرانی صدر کے دورہ بھارت کے بعد ہی کیا ہو تاکہ واضح پیغام پہنچ سکے۔ باقی کالم انتہائی شاندار اور جاندار ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */