ہیومنسٹ کا تصور "خدا" - حسیب احمد حسیب

خدا کے تصور سے چھٹکارا پانا کچھ اتنا بھی آسان نہیں۔ جی ہاں! یہ تصور فطرت انسانی میں اتنی گہرائی تک سرائیت کر چکا ہے کہ اس پر کتنے ہی پردے کیوں نہ ڈالیں، کسی ایک واقعے چھوٹے سے حادثے یا مشکل حالات پیش آجانے کے نتیجے میں لاشعور کے پردوں سے ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔

دور جدید کے مشرقی لبرل سیکولر ہیومنسٹ کی پریشانی یہ ہے کہ اسے ایک ایسے معاشرے کا سامنا ہے کہ جو مذہب پسندوں کی آماجگاہ ہے چاہے وہ وہ نام نہاد سیکولر ہندوستان ہو یا پھر نام نہاد مذہبی پاکستان، در حقیقت ہر دو معاشروں کی غالب اکثریت مذہب پسندوں پر مبنی ہے۔

مشرق میں جن مشکل حالات کا شکار ہیومنسٹ ہے اس کا ایک ہی حل اسے سوجھتا ہے اور وہ حل یہ ہے کہ اپنی مرضی کا خدا تخلیق کیا جاوے۔ وہ اپنے ذہن کے نہاں خانوں میں میں وہ ایک ایسے خدا کی تخلیق کرتا ہے کہ جس کے پاس نہ تو کوئی اختیار ہو اور نہ ہی اسے کسی قسم کے حقوق حاصل ہوں۔ ایک ایسا خدا کہ جو اس کی مرضی کے مطابق ڈھل سکے۔

مشرقی ہیومنسٹ سب سے پہلے خدا سے حاکمیت اعلیٰ کا حق چین لیتا ہے اس کے نزدیک قانون سازی صرف اور صرف انسانی اختیار ہے اور اس اختیار میں خدا کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ مشرقی ہیومنسٹ سب سے پہلے مذہبی تصور خدا سے جان چھڑاتا ہے یعنی اسے ایک ایسا خدا مطلوب ہے کہ جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ مذہبی تعبیرات کا انکار کرتا ہے وہ خدا کہ جو گیتا میں ہے یا وہ خدا کہ جس کا تذکرہ بائبل میں ہے یا گوسپل میں ہے یا پھر قرآن کریم میں، اسے کسی بھی دستاویزی شکل میں موجود خدا کی قانونی حیثیت مطلوب نہیں۔

مشرقی ہیومنسٹ بظاہر مذاہب سے منسلک معتبر شخصیات کا احترام تو ضرور کرے گا لیکن ان کی دینی، قانونی، اخلاقی اور معاشرتی اتھارٹی کو ماننے کا انکاری ہوگا۔ مثال کے طور پر پاکستان کا ہیومنسٹ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصیدہ لکھنے کی تو اجازت دے گا مگر نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی قانونی حیثیت کو ماننے سے یکسر انکاری ہوگا۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تسلیم کرنا اس کی طبیعت پر سخت بوجھ ہوگا۔

مشرق کا ہیومنسٹ ہر علاقے کی چلتی ہوئی مذہبی رسومات اور علامات کو کبھی نہ چھیڑے گا۔ وہ محرم میں سیاہ لباس بھی پہنے گا اور یزید کو گالی بھی دے گا مگر حسینؓ کی طرح دین کی خاطر خروج کو وہ دہشت گردی ہی قرار دے گا۔ عجیب بات یہ ہوگی کہ مذہب کے خلاف بات کرنے کو وہ حسینیت کا نام دیکر لوگوں کو دھوکہ دینا کی کوشش کرے گا۔

مشرق کا ہیومنسٹ عبادات سے بھی سخت ناراض دکھائی دے گا، بظاہر وہ دین کے صوفی ڈسکورس کا حامی ہوگا، کسی مزار پر چڑھاوے چڑھانے کو بھی پسند کرے گا، رقص و دھمال بھی اسے مرغوب ہوں گے لیکن قربانی سے اسے عجیب مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ حج کرنا اس کے نزدیک کار عبث ہوگا، جہاد سے اسے شدید نفرت ہوگی اور نماز اس کے نزدیک ایک اضافی مشقت سے زیادہ نہ ہوگی اور روزہ اس کی نگاہ میں خود کشی کے مترادف ہوگا۔ اب دین کی کوئی بھی ایسی شکل کہ جس میں خدا کے حقوق کی بات ہوگی اسے مقبول نہ ہوگا۔ وہ پوری قوت کے ساتھ حقوق العباد کا نعرہ لگائے گا اور حقوق اللہ کو بے معنی بے کار اور کمتر درجے پر ثابت کرنے کے لیے اپنی تمام تر ذہنی صلاحیت صرف کر دے گا۔

مشرق کا ہیومنسٹ خدا کو صرف ایک مفروضے کی حد تک تسلیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک اگر خدا کا مفروضہ اس کے ہیومنسٹ ایجنڈے کے موافق ہے تو درست ہے اور اگر نہیں تو پھر اس مفروضے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اب وہ خدا سے آخرت کا اختیار لینے کی کوشش کرے گا کبھی وہ کہے گا کہ میں ایسے کسی خدا کو نہیں مانتا کہ جو صرف عبادات پر جنت دیتا ہو۔ کبھی وہ کہے گا کہ اسے مولویوں کا بنایا ہوا خدا قبول نہیں ہے، کبھی وہ خدا کی اس ڈیمانڈ کی مخالفت کرے گا کہ وہ اپنے لیے توحید کا طالب ہو۔ کبھی وہ خدا سے جنت و جہنم کا مکمل اختیار چھیننے کے درپے ہوگا۔

مشرق ہیومنسٹ براہ راست مذہب اور تصور خدا پر تنقید نہیں کرے گا اس کے لیے اس نے تنقید کے حوالے سے کچھ علامات بنا رکھی ہیں اور ان علامات میں سب سے آسان علامت "مولوی" ہے، سب سے پہلے وہ مولوی کو تختہ مشق بنائے گا۔ اس کے بعد وہ مسالک پر بات کرے گا، پھر وہ تصور جہاد کو چھیڑے گا، پھر اس کی تنقید حدود پر ہوگی، اس کے بعد اس کا رخ حجاب کی طرف ہوگا۔ کبھی وہ دوسری شادی پر تنقید کرے گا، اس کے بعد اس کا رخ عبادات کی طرف ہوگا اور سب سے آخر میں وہ اعتقادات پر ہاتھ ڈالے گا۔

ایک مشرقی ہیومنسٹ کی تسلی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ خدا کو انسائی زندگی کے تمام تر دائروں سے بے داخل کر کے کسی غیر معروف و بے آباد جزیرے پر نہ لے جا پھینکے۔ ایک مشرقی ہیومنسٹ کا خدا انتہائی بے بس اور بے دخل ہے اور اس کا اظہار وہ اکثر کرتا ہے مگر کبھی انسانیت کے پردے میں اور کبھی ادب کے نام پر ایسا ہی ایک ادبی شہ پارہ ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں:

جنت کی دیوار پہ چڑھ کر

میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے

جو نہ کبھی ہم نے دیکھا تھا

ہو کر حیراں دیکھ رہے تھے

وادیِ جنت کے باغوں میں

اف توبہ اک حشر بپا تھا

شیطاں کے ہونٹوں پہ ہنسی تھی

میرا کلیجہ کانپ رہا تھا

میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ

میں نے دیکھا جو نظّارا

لعنت لعنت بول رہا تھا

جنت کا ہر منظر پیارا

موٹی موٹی توندوں والے

بدصورت بد ہیئت ملّا

خوف زدہ حوروں کے پیچھے

بھاگ رہے تھے کہہ کے "ہا ہا"

"بچ کے کہاں جاؤ گی؟" کہہ کے

وہ دیوانے ناچتے گاتے

چاروں طرف سے گھیر کے ان کو

ہنستے، کدکتے، شور مچاتے

ڈر کے چیخیں مار رہی تھیں

حوریں ریشمیں ساڑھیوں والی

ان کے دل دھک دھک کرتے تھے

دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی

میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے

اے اللہ بچانا ان کو

اپنی رحمت کے پردے میں

اے معبود چھپانا ان کو

(کلامِ راجہ مہدی علی خاں)

اور ان کو اگر کوئی اسلام پسند یہ جواب دے تو مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے:

دوزخ کی دیوار پہ چڑھ کر

میں نے اور جبریلؑ نے دیکھا

جو نہ کبھی سوچا تھا میں نے

حیراں حیراں دیکھ رہا تھا

دوزخ کی گھاٹی میں ہر سو

وحشت تھی اک حشر بپا تھا

ایسا منظر کیا بتلاؤں

میرا کلیجہ کانپ رہا تھا

میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ

میں نے دیکھا جو نظّارا

لعنت لعنت بول رہا تھا

دوزخ کا ہر منظر گندا

ننگی ننگی ٹانگوں والے

بدصورت بد ہیئت لبرل

خوف زدہ زنخوں کے پیچھے

بھاگ رہے تھے کہہ کے "ھررا"

"بچ کے کہاں جاؤ گے؟ " کہہ کے

وہ دیوانے ناچتے گاتے

چاروں طرف سے گھیر کے ان کو

ہنستے، کدکتے، شور مچاتے

ڈر کے چیخیں مار رہے تھے

زنخے ریشمی کپڑوں والے

ان کے دل دھک دھک کرتے تھے

دیکھ کے لبرل ننگے پنگے

میں نے اور جبریلؑ نے بولا

اپنے قہر کی آگ میں ان کو

دوزخ کی اس تیز تپش میں

اے معبود جلانا تو، تو!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */