ایک نیا عمرانی معاہدہ، وقت کی اہم ضرورت - افتخار احمد شاہین

یوں تو پاکستانی ریاست کو بہت سے مسائل درپیش ہیں مگر ان میں سے بعض اہم خارجہ پالیسی، اداروں کے باہمی تعلقات اور پالیسیوں کا عدم تسلسل، گورننس اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے منصوبہ بندی کا فقدان ہیں۔ وطنِ عزیز اپنے قیام کے ۲۵ سال کےاندر دو لخت تو ہوا ہی، مگر اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہوا کہ اس عظیم حادثے سے ملنے والی سبق کو بھی درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ یاران نکتہ داں نے اس سبق کو فراموش کرنے میں ہی عافیت جانی اور آنکھیں بند کرکے بنیادی مسئلےکی وجود سے ہی انکار کیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کو کلیتاًہندو اساتذہ اور مکتی باہنی کے سر تھوپ کر وفاقی اکائیوں کے مابین ایک منصفانہ عمرانی معاہدے کے بنیادی سوال کا جواب نہیں دیا گیا، یوں اس موقع کو مسائل کے انبار میں ایسے کھودیا جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی پھینکی جاتی ہے۔ نتیجتاً کہیں پر بلوچ قوم پرست عدم اطمینان کا شکار ہو کر اغیار کے آلہ کار بنتے ہیں اور کہیں پر مہاجر قومیت کے نام لیوا سیکورٹی رسک اور کہیں پر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے منظور پشتین کی پرُسوز پکار پر شکوہ کناں قبائلی مظاہرین کم محب وطن قرار پاتے ہیں اور قومی میڈیا کی مجرمانہ بے مروتی کا شکار بنتے ہیں۔ سرائیکی علاقوں کی پسماندگی کو بنیاد بنا کرالگ صوبے کی خواہش غیر ضروری جبکہ گلگت بلتستان کے آئینی شناخت کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔

ان تمام مسائل کو دیکھتے ہوئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی مقتدرہ اور مخلص اشرافیہ اس اہم نکتے پر غور کرے کہ آخر پاکستان کے اندر چھوٹی قومیتوں (عددی لحاظ سے، ورنہ کوئی قوم چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی) کو کیسے آن بورڈ لیا جائے؟ اس کا واحد حل ایک نیا عمرانی معاہدہ اور اس پر اخلاصِ کامل سے عمل کرنے میں ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جہاں ہر برادری اور قومیت کو اپنے وسائل، شناخت اور ثقافتی امتیازات محفوظ نظر آئیں، نہ کہ انہیں ہمہ وقت اس پر پہرے کی ضرورت محسوس ہو۔ ہمیں اور ہماری اشرافیہ کو اس تنوع سے ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ اس کو وطن عزیز کا حسن اور طاقت بنانا چا ہیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ ایک صحت مند ماحول میں اس پر مناسب انداز میں بات کی جائے۔ پیپلز پارٹی سے ہزار اختلافات کے باوجود آصف زرداری کو ۱۸ ویں آئینی ترمیم کا کریڈٹ جا تا ہے کہ انہوں نے اس کام کی ابتداء کی گو کہ کماحقہ عملی نفاذ کی منزل ابھی دور ہے۔ یہ آئینی ترمیم ایک نئے، جامع اور ہمہ جہت مکالمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے جو کہ پاکستان کے اندر ایک متفقہ عمرانی معاہدے پر منتج ہو۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز درج ذیل ہیں:

۱۔ صوبوں کو اپنے وسائل پر پورا اختیار دیا جائے اور ان کے وسائل کی رائیلٹی کو بطورِ محض سیاسی رشوت نہیں بلکہ حق اور قرض کے طور پر ادا کیا جائے۔ مثلاً خیبر پختونخواہ کی بجلی کی رائیلٹی مرکز صرف تب ادا نہ کرے جب صوبے میں اس کی یا اس کی حلیف حکومت ہو بلکہ اس کو صوبے کے عوام کا قرض سمجھتے ہوئے بر وقت ادا کرے۔ یہی صورتحال بلوچستان کی گیس، سندھ کے کوئلے، شمالی علاقہ جات کی سیاحت اور برآمدات کی ہو۔ آزاد کشمیر میں سیاحت کی فروغ کے لیے اقدامات وہاں کی معیشت کے لیے آکسیجن ثابت ہو سکتے ہیں۔ الغرض، وسائل میں یکسانیت شاید ممکن نہ ہو مگر مواقع اور عدل سب کے ساتھ ازحد ضروری ہے۔

۲۔ صوبوں کی موجودہ سرحدیں قرآن و حدیث کی نصوص نہیں جو بدلی نہ جا سکیں۔ اس کو انتظامی ضرورتوں، شناخت اور تاریخی و تمدنی رشتوں کو دیکھتے ہوئے ایک ہمہ گیر مشاورت اور مکالمے سے طے کیا جائے۔ مثلاً اگر ریاستِ پاکستان کے اندر چار انتظامی اکائیوں میں بٹے ہوئے پختون اگر ۲ یا ۳ اکائیوں میں اپنی انتظامی تشکیلِ نو چاہتے ہیں تو فاٹا کے پختونخواہ میں انضمام کے راستے میں بلاوجہ روڑے نہیں اٹکانے چاہئیں۔ اگر ہزارہ کے عوام، اپنی شناخت اور انتظامی ضرورتوں کی بنیاد پر اپنے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کریں تو اس کو خوامخواہ انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ یہی حالت دیگر صوبوں اور علاقوں میں اٹھنے والی شناخت کی آوازوں کی بھی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں اسی طرح کے مباحث سامنے آتے رہتے ہیں اور مہذب معاشرے، مہذب انداز میں اس کا حل بھی نکالتے رہتے ہیں۔ افغانستان، ہم سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہونے کے باوجود اگر ۳۰ سے زائد صوبوں کا متحمل ہو سکتا ہے تو پاکستان بھی اس تنظیمِ نو پر غور کر سکتا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے ڈاکٹر طاہرالقادری (ان سے ہزارہا اختلافات کے باوجود) کی گزارشات اس سلسلے میں زیادہ قابلِ عمل لگتی ہیں۔

۳۔ یہی حال صوبوں کے اندر ہماری علاقائی رجحانات، زبانوں اور تمدنی عوامل کا ہے۔ سندھ میں اجرک ڈے ایک اچھی پیشرفت ہے مگر پختونخواہ، بلوچستان، شمالی علاقہ جات، سرائیکی وسیب اور آزاد کشمیر کی دیگر نسبتاً چھوٹی قومیتوں کے امتیازی تمدنی رجحانات (جوانمردی، مہمان نوازی، اخلاص اور تاریخ) کو بھی ریاستی سطح پر فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ بڑے بھائی پنجاب کی علاقائی ثقافت کو بھی قومی سطح پر منانے سے باہم محبتیں ہی پروان چڑھیں گی۔ مختلف قومیتوں اور برادریوں پر آوازیں کَسنے اور بیہودہ لطیفے بنانے سے اجتناب اور میڈیا کی سطح پر اس کی حوصلہ شکنی ازحد ضروری امر ہے کیونکہ اس سے ان میں عدمِ تحفظ اور جذبہ انتقام ہی پیدا ہوتا ہے۔ میڈیا پر پٹھان کو ایک چوکیدار کے روپ میں ہی دکھانے پر اصرار سے عظیم تاریخ اور روایات کی حامل، ابدالی کےان بچوں میں صرف انتقام اور بیگانگی کا احساس تو ابھارا جا سکتا ہے، محبت نہیں۔ معذرت کے ساتھ، ایک پختون کی حیثیت سے یہ گلہ اس لیے کیا کہ سوات آپریشن کے دوران غیرت مند اور خوددار پختون خاندان کراچی اور لاہور کے لیے نکلے تو ان کی پناہ کو آبادکاری سے نہ صرف تشبیہ دی گئی بلکہ عزت مآب بزرگوں اور عفت مآب خواتین کی ڈیرہ غازی خان سرحد پر شناخت پریڈ کی گئی۔ حال ہی میں ہر افسوسناک دھماکے کے بعد، لاہور میں جس طرح پختون مزدوروں کو تنگ کیا گیا اس سے یقینناً نفرتیں ہی بڑھیں۔ یہی رویے راؤ انوروں کو معصوم نقیب اللٰہوں کو مارنے کا لائسنس فراہم کرتی ہیں۔ یہی نوحہ دیگر چھوٹی اکائیوں کا، بلکہ پنجاب کے پسے ہوئے طبقات کا بھی ہے، جسے حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

۴۔بلاشبہ پنجاب بڑا بھائی ہونے کے ناطے بڑا دل رکھتا ہے کیونکہ پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہمیں کشمیری، پختون اور مہاجر رزق تلاش کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ جہاں عام پنجابی یقیناً ملنسار ہے وہاں پر پنجاب کے بالادست طبقے تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ضرور ملتے ہیں کہ جب ریاست دیگر چھوٹی قومیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا ہوتا تو پنجاب میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ اسی وجہ سے ۱۹۷۱ میں حبیب جالب نے کہا تھا ’’اُٹھ جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان جلا‘‘ کیونکہ جب بنگال جل رہا تھا اور وہاں کے عوام کے ووٹ کا تقدس داؤ پر لگا ہوا تھا، پنجاب میں زندگی معمول کے عین مطابق رواں دواں تھی۔ اگر اس وقت پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے عوام اٹھ کھڑے ہوتے تو آج تاریخ مختلف ہوتی۔ آج یہی شکوہ پختون لانگ مارچ میں ایک نوجوان نے دہرایا کہ کاش آج نقیب اللہ کا ماتم کرنے والے صرف قبائلی نہ ہوتے بلکہ دو چار ہزار دیگر اہالیانِ پاکستان بھی ہوتے، خاص طور پر جب یہ غیور قبائلی پچھلے ۳۰ خونخوارسالوں اور ڈیڑھ صدی کے ایف سی آر کا نوحہ شہرِ اقتدار لائے تھے۔

۵۔ نکتہ ۳ میں پیش کی گئی بنیادی اصلاحات کے لیے جمہور یت اور پالیسیوں کا تسلسل از حد ضروری امور ہیں۔ کیونکہ اتنے بنیادی کام کے لیے جس وسیع تر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے وہ ٹیسٹ ٹیوب جمہوریت، عدالتی مداخلت یا آمریت میں نہیں ہو سکتے۔ ایک صحتمند مکالمہ ایک مہذب ماحول میں ہی پروان چڑھ سکتا ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزرائے اعظم کا حقِ حکمرانی ہی جمہوریت کا زینہ ہے، نہ کہ مسلسل پارٹی سازی اور ’’شمولیتوں‘‘ کے ذریعے ’’ہوا‘‘ کے رخ کا تعین کیا جائے۔

۶۔ سوِل ملٹری ریلیشن شپ کا تعین اور ہر ادارے کا اپنے دائرے میں کام کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے تاکہ تمام ادارے مل کر ریاست کو ایک سمِت میں آگے لے جا سکیں، نہ کہ سال کا بیشتر حصہ آپس کی بد اعتمادیوں میں ضائع کیا جائے۔

درج بالا تمام امور کے علاوہ وفاقی اکائیوں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کے لیے سینیٹ کے کردار کو بڑھایا جائے کیونکہ موجودہ ہارس ٹریڈنگ سے آنے والے ’’سرمائے کے بت‘‘ کسی بھی طرح وفاقی اکائیوں یا ریاست کو تقویت نہیں پہنچا سکتے۔ سینیٹ کا موثر کردار (بالخصوص وسائل کی تقسیم اور پالیسی ساز ی میں) چھوٹی اکائیوں کی احساسِ محرومی کے لیے تریاق ہے۔ وسائل کی تقسیم محض آبادی کے ذریعے ہونے سے دائمی بداعتمادی در آتی ہے۔اسی لیے وسائل کو غربت، ضرورت اور پیداوار کے اصولوں پر تقسیم کیے جائیں اور اس کے لیے سینیٹ کو ایک موثر فورم بنایا جائے تاکہ صوبوں اور مرکز کے معاملات صرف چھوٹے فورمز (مشترکہ مفادات کونسل) کی بجائے زیادہ کھلے ماحول میں انجام پا سکیں۔ ان تجاویز کے علاوہ انتخابی اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن پر ان شاء اللہ جلد ہی اپنی طالبعلمانہ رائے ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھوں گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com