خطبہ جمعہ اور حاضرین کی آپس میں گفتگو - بشارت حمید

خطبہ جمعہ کو دین میں بہت اہمیت حاصل ہے اور قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو کاروبار اور تمام کام کاج چھوڑ کر اللہ کے ذکر کیلئے مسجد کی طرف لپکو۔ پھر جب نماز ادا کر لو تو زمین میں پھیل جاو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو۔

علماء کی اکثریت نے خطبہ جمعہ کے وقت کئے جانے والے کاروبار کو حرام قرار دیا ہے کہ یہاں واضح طور پر کام سے رک جانے کا حکم آیا ہے۔ اور حدیث کی کتب میں بیان ہوا ہے کہ صحابہ کرام جمعے کیلئے مسجد میں اس طرح خاموشی اور سکون سے بیٹھتے جیسے انکے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں کہ ذرا سی حرکت بھی کی تو اڑ جائیں گے۔

ہمارے ہاں جو لوگ صرف ہفتے میں ایک بار جمعہ کیلئے ہی مسجد آتے ہیں ان کے لیئے مسجد میں وہ چند منٹ گزارنا بھی شاید بہت بھاری گزرتا ہے۔ ایک تو آنا اس وقت ہے جب خطیب کی تقریر بالکل ختم ہونے والی ہوتی ہے کہ ہفتے بعد بھی کوئی دین کی بات سننے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی پھر اگر دو لوگ جان پہچان والے ایک ساتھ بیٹھ جائیں تو وہ آپس میں باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسے بس یہی وقت ملا ہے پھر اسکے بعد باتوں کا ٹائم نہیں رہے گا۔ یہ خیال نہیں آتا کہ ہماری بلند آواز سے گفتگو کی وجہ سے دوسرے نمازی جو خطبہ سننے آئے ہیں انکو کوفت ہو رہی ہے۔

اللہ کے بندو اگر ہفتے بعد مسجد آنے کی توفیق مل ہی گئی ہے تو صرف چند منٹ خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔ جو خطیب بیچارہ بیان کر رہا ہے وہ دیواروں کو سنانے کیلئے بول رہا ہے۔۔۔ اگر تمہاری گفتگو زیادہ ضروری ہے کہ جمعہ سے بھی زیادہ اہم ہے تو اٹھ کر مسجد سے باہر چلے جاو اور جی بھر کر باتیں کرتے رہو دوسروں کو تنگ تو نہ کرو۔۔۔

اس معاملے میں بچوں اور بڑوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ہماری دین اور اللہ کے گھر سے وابستگی کس درجے کی ہے اور ہم دینی شعائر کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ خطیب حضرات کو بھی چاہئے کہ لوگوں کو اجتماعی اور انفرادی طور پر بھی اس بارے توجہ دلائیں اور ہم بھی اپنی جگہ اپنا اپنا جائزہ لے کر اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں