مَردوں والی بات - یوسف ثانی

اسلم بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ جب بھی گھڑی کی جانب دیکھتا، اس کی بیوہ ماں کی نگاہ بے اختیار گیٹ کی طرف اٹھ جاتی۔ آج سلمہ کو کالج میں خاصی دیر ہو گئی تھی اور جب تک وہ گھر نہ آ جاتی اسلم کھانا کھانے سے انکار ہی کرتا رہتا۔ حالانکہ اسے اخبار کے دفتر جانے میں دیر ہو رہی تھی جہاں وہ بطور پروف ریڈر ملازم تھا۔ اس کی ماں بھی کئی بار دبے لفظوں میں اسے کھانا کھانے اور دفتر جانے کا کہہ چکی تھی مگر اسلم کے شدت سے انکار کرنے پر وہ بھی خاموش ہو جاتی اور تشکر بھری نگاہوں سے بیٹے کا چہرہ تکنے لگتی۔ یہ تقریباً روز ہی کا معمول تھا۔

اسلم گو سلمہ سے ایک برس چھوٹا تھا مگر ذہانت اور محنت میں سلمہ سے کسی طور کم نہ تھا اسی لیے والدین نے دونوں کو ایک ہی کلاس میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پڑھنے پڑھانے میں دونوں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں میٹرک میں پہنچ گئے۔ اساتذہ کے مشورہ اور بچوں کے رحجانات کو دیکھتے ہوئے ان کے ابو نے انہیں سائنس گروپ میں داخلہ دلا دیا۔ خیال تھا کہ بیٹے کو آگے جا کر انجینئرنگ اور بیٹی کو میڈیکل میں داخلہ دلائیں گے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس روز میٹرک کا نتیجہ متوقع تھا جب ان کے ابو دفتر کے لیے گھر سے نکلنے لگے تو ان دونوں نے ایک بار پھر انہیں یاد دلایا کہ اخبار کا سپلیمنٹ نکلتے ہی وہ دفتر سے چھٹی لے کر گھر آ جائیں گے۔ اور انہوں نے بھی وعدہ کر لیا تھا کہ وہ صرف اخبار لے کر نہیں بلکہ مٹھائیوں کے ڈبے بھی لے کر آئیں گے۔ اور جب وہ حسب وعدہ اخبار کا سپلیمنٹ اور مٹھائی کے ڈبے لے کر خوشی خوشی تیز رفتاری سے اسکوٹر چلاتے ہوئے گھر لوٹ رہے تھے کہ اچانک سامنے آ جانے والے ایک بچے کو بچاتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والے ایک تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئے اور جائے حادثہ پر ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

غمزدہ مختصر سا خاندان سرکاری کوارٹر چھوڑ کر ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا۔ اسلم کے بے حد اصرار اور والد مرحوم کی خواہش کے مطابق سلمہ نے انٹر سائنس پری میڈیکل گروپ میں داخلہ لے لیا جبکہ اسلم نے صبح ایک آرٹس کالج میں داخلہ لے کر شام کو ایک اخبار میں ملازمت کر لی۔ اب یہ روز کا معمول تھا کہ اسلم کالج سے چھٹی ہوتے ہی گھر آ کر کھانے پر ماں کے ساتھ سلمہ کا انتظار کرتا کیونکہ پریکٹیکل کے باعث ہفتہ میں تین چار دن تاخیر سے گھر لوٹتی جب تک وہ گھر نہ لوٹ آتی اسلم نہ تو کھانا کھاتا اور نہ دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلتا۔

آج بھی وہ سلمہ کے انتظار میں ماں کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا، تاکہ ماں کی توجہ بھی بٹی رہے اور انتظار کے لمحات بھی با آسانی کٹ جائیں۔

"اماں ایسا لگتا ہے جیسے اس گھر میں ہم ہمیشہ تین ہی افراد رہیں گے" اسلم نے پیار بھری نظروں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"ارے کیا منہ سے بدفال نکالتا ہے۔ " ماں نے جھوٹ موٹ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

"جب میں تیرے لیے ایک چاند سی دلہن لے آؤں گی تو۔۔۔ " اسلم ماں کا فقرہ درمیان ہی سے اچکتے ہوئے بولا

"اماں اس وقت تک باجی کی شادی بھی تو ہو جائے گی۔ اس گھر میں ہم تو پھر تین کے تین ہی رہیں گے ناں!"

"ارے بیٹا تو کتنا بھولا ہے۔ دیکھ جب میرا پوتا اس گھر میں آئے گا تو ہم پھر۔۔۔ "۔

"مگر اماں!" بیٹے نے شوخ نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا "اس وقت تک تم اللہ میاں کے پاس نہ۔۔۔ "!

"ارے اب تو میرے۔۔۔۔! " اتنے میں گیٹ کسی نے زور سے دھڑ دھڑایا۔ یہ سلمہ کے گھر آنے کا مخصوص انداز تھا۔ اسلم نے ماں کی توجہ بٹاتے ہوئے کہا "اماں۔۔۔ لو باجی بھی آ گئی۔ اب جلدی سے کھانا نکالیے۔ مجھے پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔" کھانا تو پہلے ہی سے تیار تھا۔ بس سلمہ ہی کے آنے کی دیر تھی وہ آئی تو سب کھانے پر بیٹھ گئے اور راشد جھٹ پٹ کھانا کھا کر سلمہ اور ماں کو دسترخوان پر ہی چھوڑ کر یہ جا وہ جا۔

دن اسی طرح کٹتے رہے۔ اسلم نے انٹر کر کے بی اے میں اور سلمہ نے مطلوبہ مارکس نہ آنے پر بی ایس سی میں داخلہ لے لیا۔ ابھی وہ فائنل ایئر ہی میں تھی ماں بیٹے نے ایک اچھا رشتہ دیکھ کر اسے پیا گھر بھیج دیا۔ بی اے پاس کرتے ہی اسلم کو اپنے ہی اخبار میں سب ایڈیٹر کی ملازمت مل گئی۔ گھر میں ذرا خوشحالی آئی تو ماں کو چاند سی بہو لانے کا ارمان دل میں جاگا۔ یوں اسلم کی بھی شادی ہو گئی۔ گھر کے بے تکلفانہ ماحول کی جگہ رکھ رکھاؤ نے لے لی۔ سلمہ اب میکے آتی تو ماں اور بھائی کے ساتھ مل کر پہلے کی طرح گھنٹوں بے تکلفانہ گفتگو کرنے کی بجائے بھائی بھابھی سے علیک سلیک کرنے کے بعد ماں کے کمرے میں جا گھستی اور ماں بیٹی گھنٹوں نہ جانے کیا کھسر پھسر کرنے لگتیں۔ ایسے میں اسلم اگر گھر میں ہوتا تو اسے بڑی کوفت ہوتی۔ اس کی بیوی کچن میں کھانا پکانے میں مصروف ہوتی تو وہ اپنے کمرے میں تنہا لیٹا بہن اور ماں سے ماضی کی طرح بے تکلفانہ ماحول میں گفتگو کرنے کی تمنا کیا کرتا۔ اس روز بھی وہ جب دفتر جانے کے لیے کھانا کھانے گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ ساتھ والے کمرے سے سلمہ اور ماں کے درمیان باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں جو نسبتاً تیز ہونے کی وجہ سے صاف سنائی دے رہی تھیں۔ غالباً انہیں اسلم کے گھر آنے کی اطلاع نہ تھی۔ سلمہ ماں سے اپنے سسرال کی شکایتیں کرتے ہوئے کہہ رہی تھی، "امی وہ میری تو بالکل ہی نہیں سنتے۔ ہر کام ماں اور بہنوں سے پوچھ کر ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی مردوں والی بات تو نہ ہوئی نا!" قبل اس کے کہ بیٹی ماں سے مزید شکوہ شکایت کرتی اسلم کی بیگم نے کمرے میں آ کر اسلم کے آنے اور کھانا لگ جانے کی اطلاع دی۔ اور یوں بات آئی گئی ہو گئی۔ اسلم نے حسب معمول سب کے ساتھ کھانا کھایا اور سب کو گپ شپ کرتا چھوڑ کر دفتر کو روانہ ہو گیا۔

دن اسی طرح ماہ و سال میں تبدیل ہونے لگے۔ اب سلمہ میکے آتی تو اس کی گود میں اس کا بیٹا بھی ہوتا اور وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ دن ماں کے ہاں قیام کرتی۔ ادھر اسلم کی بیگم ہنوز اپنی گود ہری ہونے کے انتظار میں تھی۔ اسلم کو تو اس بات کی چنداں فکر نہ تھی۔ مگر ماں اور بہن دونوں مل کر اسلم کے کان بھرتیں تو وہ بھی کبھی کبھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا اور پھر اس کی اپنی بیگم سے ان بن ہو جاتی مگر وہ بالاخر بیوی ہی کی بات کو معقول پا کر ماں اور بہن کی باتوں کو نظر انداز کر دیتا اور اپنے روزمرہ کے معمول میں گم ہو جاتا۔ یہ دیکھ کر ماں بیٹی دونوں اسلم سے روٹھ جاتیں۔

اسلم کے رویہ میں کسی تبدیلی کو نہ دیکھ کر بالاخر ماں بیٹی نے اسلم سے دو ٹوک گفتگو کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ خوش قسمتی سے انہیں اس بات کا موقع بھی مل گیا۔ سلمہ اس مرتبہ جب میکے آئی تو پتہ چلا کہ بھابھی اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔ ماں بیٹی نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اسلم کو گھیر لیا۔ سلمہ کہنے لگی: "میں کہتی ہوں کیا ہر بات میں بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہو۔ مرد بنو مرد۔ اپنے اندر کچھ تو مردوں والی بات پیدا کرو۔ اور ہاں اب کان کھول کر سن لو۔۔۔۔"

سلمہ بولے جا رہی تھی مگر اسلم بظاہر متوجہ ہونے کے باوجود کچھ سننے سے قاصر تھا۔ کیونکہ اس کے کانوں میں سلمہ کے وہ جملے گونج رہے تھے جو اس نے ماں سے اپنے شوہر کے متعلق کچھ عرصہ پہلے کہے تھے: امی وہ میری تو بالکل ہی نہیں سنتے۔ ہر کام ماں اور بہنوں سے پوچھ کر ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی مردوں والی بات تو نہ ہوئی نا!

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com