لودھراں کا ضمنی انتخاب، کیا کچھ بدل سکتا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

لودھراں کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے علی ترین کی شکست اور مسلم لیگ ن کے امیدوارپیر اقبال شاہ کی کامیابی نے سیاسی منظرنامے پر ایک ارتعاش پیدا کیا ہے۔ یہ ایسا ضمنی انتخاب تھا، جسے غیر معمولی اہمیت نہیں دی جا رہی تھی۔ حکمران جماعت کے کسی مرکزی رہنما نے وہاں جانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ میڈیا نے بھی پہلے جیسی ہائپ پیدا نہیں کی تھی۔مقامی سطح پربعض امیدواروں نے اس لئے ٹکٹ لینے سے انکار کیا کہ صرف تین چار ماہ کی ممبری کے لئے کیوں اتنے پیسے لگائے جائیں۔سابق رکن اسمبلی صدیق بلوچ نے ن لیگ کا ٹکٹ نہیں لیا تو پی ٹی آئی کے نواب امان اللہ خان جو 2002ءمیں اس حلقے سے ایم این اے بنے تھے، انہوں نے تحریک انصاف میں ہونے کے باوجود ٹکٹ نہیں لیا ۔ہر ایک کا اندازہ شائد یہی تھا کہ جہانگیر ترین کے صاحبزادے یہ الیکشن جیت جائیں گے ،اس لئے اسے معمول کی کارروائی ہی سمجھاجائے۔ غیر متوقع نتیجے نے تحریک انصاف کو دھچکا توپہنچایا ہے، مگر ن لیگ کے حوالے سے سوکھے دھانوں پر پانی پڑنے جیسا کام ہوا۔

میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ نیب ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انہیں کچھ زیادہ حوصلہ افزا منظرنامہ نظر نہیں آرہا۔ لودھراں میں کامیابی سے میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کو یہ کہنے کاموقعہ مل گیا کہ عوام نے نواز شریف کے بیانیہ کے حق میں ووٹ دیا اور عدالتی نااہلی کے فیصلے کو رد کیا ہے۔ اگر نتیجہ اس کے برعکس ہوتا تو اسی طرح کا بیان تحریک انصاف والے دیتے کہ عوام نے ہمارے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے اور نواز شریف کا بیانیہ مسترد کر دیا ہے۔ خیر اس فیصلے کے مضمرات تو ہیں، اس نے سب کچھ تبدیل تو نہیں کیا، مگر ایسا بھی نہیں کہ اس کے اثرات معمولی ہیں اورکچھ فرق نہیں پڑے گا۔

یہ تو مانناپڑے گا کہ جیت بہرحال مسلم لیگ ن کی ہے۔ اس میں زیادہ کردارمقامی امیدوار اور الیکٹ ایبلز کے اتحاد کا رہا، مگر جیتنے والا مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑا اورچند فی صد سہی، مسلم لیگی ووٹ استعمال توہوا ہے۔مسلم لیگ ن کو اس جیت کی شدید ضرورت تھی۔ انہیںاپنے الیکٹ ایبلز اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کو چیلنج درپیش ہے۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے کروڑوں کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا تاکہ جو ارکان اسمبلی تحریک انصاف میں شمولیت کا ارادہ کئے بیٹھے ہیں، وہ بھی ان فنڈز کے لالچ میں اپنا فیصلہ موخر کر دیں ۔ لودھراں کی جیت سے ڈانواںڈول قسم کے الیکٹ ایبلز کو حوصلہ ملا ہوگا، ممکن ہے ان میں سے بعض اپنا ارادہ بھی بدل لیں ۔کوئی مانے یا نہ مانے، ن لیگ کو لودھراں سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تو ملا ہے۔ ایک فیکٹر البتہ اہم ہے، مگر سردست مسلم لیگ ن والے اس کا ادراک نہیں کر رہے۔ اس الیکشن سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو باقاعدہ کوشش کر کے نہ روکا گیا تو وہ اپنے الیکٹ ایبلز اور اپنے روایتی الیکشن جیتنے والے نیٹ ورک کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آ جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ میاں نواز شریف کو ناپسند کرنے والے سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کی نظروں سے یہ حقیقت اگر اوجھل تھی تو اب نوشتہ دیوار بن کر سامنے آ گئی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

پی ٹی آئی کو لگنے والا دھچکا معمولی نہیں۔ جہانگیر ترین جنوبی پنجاب میں پارٹی کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے مضبوط امیدوار کی شکست لمحہ فکریہ ہے ۔ اپنی دولت، اسے خرچ کرنے کا حوصلہ، سائنسی انداز میں الیکشن مہم چلانا اور عرق ریزی سے مقامی سطح پر کارکن اکٹھے کرنے کی وجہ سے جہانگیر ترین بھی ایک نئی طرح کے الیکٹ ایبل بن کر سامنے آئے تھے۔ تحریک انصاف کا تھنک ٹینک سوچ رہا ہوگا کہ اگر جہانگیر ترین (کا بیٹا علی ترین) بھی ہارگیا تو پھر جنوبی پنجاب میں ن لیگ کے الیکٹ ایبلز کا کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لودھراں جہانگیر ترین کا آبائی شہر نہیں، پہلے وہ رحیم یار خان میں اپنے برادر نسبتی مخدوم احمد محمود کے محفوظ حلقوں سے الیکشن لڑ کر جیتتے رہے تھے۔ مخدوم صاحب سے شدید اختلافات کے بعد ترین صاحب نے لودھران کو اپنا مستقر بنایا اور این اے 154میں بھرپور طریقے سے کام کیا۔ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر جہانگیر ترین نے پورے ضلع میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور ہر یونین کونسل سے امیدوار کھڑے کئے۔ اگرچہ بلدیاتی الیکشن میں عبدالرحمن کانجو گروپ جیت گیا، مگر ان کے اتحاد کو اندازہ ہوگیا کہ اگر جہانگیر ترین کو نہ روکا گیا تو وہ این اے 154 کے ساتھ 155اور تمام صوبائی نشستوں پر سیاسی غلبے کی کوشش کریں گے۔ حالیہ ضمنی انتخاب کے نتیجے کے پس پردہ یہ فیکٹر سب سے زیادہ کارفرما رہا۔

جہانگیر ترین یہ الیکشن تو ہار گئے، انہوں نے جو غلطیاں کیں، ان کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔ وہ جلسوں پر زیادہ انحصار کرتے رہے، ڈور ٹوڈور مہم نہیں چلائی، لوگوں سے رابطہ کم رہا، پچھلا سال بھر وہ حلقے سے باہر زیادہ وقت گزارتے رہے۔ اب انہیں اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ٹی وی سکرین پر زیادہ نظرآنے کا شوق چھوڑ کر اپنے حلقے میں وقت گزارنا ہوگا۔ صرف چند ماہ بعد دوبارہ انتخاب ہوگا۔ جہانگیر ترین کا یہ فائدہ ہوگا کہ ان کا مخالف سیاسی اتحاد اپنی اپنی نشستوں کے دفاع میں مصروف ہوگا، ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اپنی سیٹ چھوڑ کر جہانگیر ترین کے بیٹے کو ہرانے کے لئے جت جائیں۔ عبدالرحمن کانجو اپنے حلقے میں مصروف ہوں گے، صدیق بلوچ کو اپنا نیا کردار ڈھونڈنا ہوگا، اس سیٹ کے لیے تو اب ٹکٹ انہیں ملنے سے رہا، احمد خان بلوچ اور پیر رفیع شاہ وغیرہ بھی صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں مصروف ہوں گے۔ اس کا فائدہ علی ترین کو ہوسکتا ہے۔ تاہم جو وقتی نقصان تحریک انصاف کو پہنچنا تھا، وہ تو پہنچ ہی گیا۔ عمران خان کو اگراگلا الیکشن جیتنا ہے تو انہیں ایک نئے پلان اور پرکشش انتخابی نعروں کے ساتھ آنا ہوگا۔ پچھلے نعروں سے اب کام نہیں چل سکتا، انہیں کسانوں کے مسائل سمجھ کر ان کے لئے باقاعدہ پلان ہوگا، شہری حلقوں میں بھی خان صاحب کو اب اپنا سودا بیچنے کے لئے کچھ نئی پراڈکٹس کی ضرورت ہے۔ پارٹی کی تنظیم سازی وہ کر نہیں پائے، بہتر امیدوار ہی چن لیں اور بھرپور انتخابی تحریک چلائیں تو شاید خامیوں کا ازالہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ گیم اب نہیں چل سکے گی - جاوید چوہدری

پیپلزپارٹی ہر نئے ضمنی انتخاب کے ساتھ پنجاب میں مزید رسوا ہورہی ہے۔ ایسی ذلت اس پارٹی کے مقدر میں آئے گی، کبھی سوچا نہیں تھا۔ سنٹرل پنجاب میں تو انہیں بدترین شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جنوبی پنجاب میں بھٹو ووٹ بینک چند سال پہلے تک موجود تھا۔ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انہی حلقوں سے امیدوار ستر ،ا سی ہزار ووٹ بھی لیتے رہے ، اس بار صرف تین ہزار ووٹ مل پائے۔ کوئی اچھا یونین کونسلر یاناظم بھی اس سے زیادہ ووٹ لے لیتا ہے۔ زرداری صاحب کو اس شاندار کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرنا تو بنتا ہے۔ تحریک لبیک یارسول اللہ اب پنجاب میں تیسری سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔ اس الیکشن میں بھی اس کے غیر معروف امیدوار نے گیارہ ہزار ووٹ لے لئے۔ لاہور، چکوال، لودھراں، پشاورہر جگہ یہ جماعت جس کا میڈیا نام نہیںلینا چاہتا، اخبار والے خبر کی سرخی میں حوالہ تک نہیں دیتے، پھر بھی انہیں دس بارہ ہزار ووٹ ہر جگہ مل رہے ہیں۔ یہ ایک نیا فیکٹرہے ، سنجیدگی سے جس کا تجزیہ کرنا چاہیے۔سوچنا ہوگا کہ آخر کون سا ایسا خلا تھا جسے مولوی خادم رضوی کی جماعت نے پر کیا۔ اہم بات یہ کہ انہیں ووٹ ڈالنے والے گیارہ ہزار لوگ وہ ہیں ،جنہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ پارٹی جیت نہیں سکتی، اس کے باوجود انہوں نے ووٹ دے کر اپنی وفاداری نبھائی۔ ایسا کم ہوتا رہا ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ لبیک یا رسول اللہ مسلم لیگ ن کے ووٹ کاٹے گی، کیونکہ سنی ووٹ روایتی طور پر نواز شریف صاحب کا سمجھا جاتا ہے۔ ممکن ہے ا س میںچند فی صد تحریک انصاف کا ووٹ بھی ہو، اس سے زیادہ ممکن نہیں کیونکہ عمران خان کو روایتی مذہبی حلقے پسند نہیں کرتے۔

پس نوشت: بدھ کو ویلنٹائن ڈے تھا، کئی برسوں بعد اس بار ویلنٹائن کا طوفان نظر نہیں آیا۔ بڑے بڑے سٹورز پر پہلے ویلنٹائن گفٹ کے انبار لگے ہوتے، رنگا رنگ چاکلیٹ، سرخ پھول، ٹیڈی بئیر، دیگر تحائف سجے رہتے۔ اس بار اکثر سٹورز پر یہ اہتمام نہیں تھا، مہنگے ریستوران ایڈوانس بک ہوجاتے تھے، ایسا بھی نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک دن پہلے کچھ چہل پہل تھی،وہ بھی محدود رہی۔وجہ صرف یہ تھی کہ اسلام آبا د ہائی کورٹ کے حکم سے ویلنٹائن کی تشہیر پر پابندی لگ چکی تھی۔ یہ واضح ہوگیا کہ ہمارے ہاں بہت سے مسائل اور ہائپ میڈیا ہی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ توجہ نہ دے تو ویلنٹائن جیسے مصنوعی بدیسی تہوار اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ ہمارے بچپن میں اپریل فول کا تذکرہ ہوتا تھا۔ اب کئی برسوں سے لوگوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ آج یکم اپریل ہے، اپریل فول ہونا چاہیے۔ میڈیا کی اصلاح اور اس کے اہم کردار کا گہرائی سے تجزیہ کرنا چاہیے، اسے سنجیدہ مباحث کا عنوان بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.