مسئلہ عاصمہ: میرا دماغ کیوں الٹ گیا ہے؟ حافظ یوسف سراج

کچھ دوست پریشان ہیں کہ آخر عاصمہ کے بارے اپنے قبیلے سے الگ ہو کر اس قدر زور سے بات کرنے کی مجھے ضرورت کیا ہے؟ عاصمہ ایسی رابعہ بصری بھی نہ تھی کہ اس کا دفاع کرنا عین حق یا نا گزیر ہوتا۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں وہ فاسقہ خاتون تھی۔ لبرل تھی اور ڈٹکے کی چوٹ تھی۔ اس نے کھلم کھلا اسلام کے بارے کچھ باتیں بھی کیں۔ جن میں سے بعض تو سخت اذیتناک بھی تھیں۔ وہ پاکستان کے بارے بھی منفی باتیں کرتی رہی۔ وہ سب باتیں چھپی ہوئی نہیں، ریکارڈ پر ہیں۔ جن سے انکار ممکن نہیں۔ چنانچہ بیشتر مذہبی لوگ اس کے خلاف ہیں۔ وہ اسے رسوا کرنے یا اس کی رسوائی کو عام کرنے کے خاطر خواہ دلائل بھی دے رہے ہیں۔ بلکہ وہ اس موت پر خوشی منانے کو جائز بلکہ سنت اور مستحب بھی قرار دے رہے ہیں۔ ادھر چالیس کے قریب ناموں پر مشتمل ایک فتوی نما موقف بھی مشتہر کیا جا رہا ہے۔ پھر مقبولِ عام عوامی جذبات بھی عاصمہ کے خلاف ہیں۔ سارا مذہبی منظر نامہ اس کے خلاف ہے۔ اس عاجز کا سارا قبیلہ اس کے خلاف ہے۔ یعنی جس راہ کا انتخاب کیا، وہ دریا کے الٹے رخ تیرنا ہے، جہاں ہر قدم پر دس ہاتھ غوطہ دینے کو بھی لپک رہے ہیں۔ چنانچہ عاصمہ کے خلاف لکھ کر تو داد اور ثواب کمایا جا سکتا ہے، اس کے حق میں لکھ کر نہیں۔ عاصمہ یا اس کے قبیلے سے اس عاجز کا دور دور تک کوئی رشتہ و پیوند بھی نہیں۔ یعنی ساری جمع تفریق کے بعد کسی طور بھی اس کے حق میں بات کرنا نرے گھاٹے کا سودا ہے۔ بدنامی عین واجب ہے اور بظاہر دنیا دشوار اور عاقبت برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ پھر آخر کیوں ایسی نرم بات کہنےکو اس عاجز کا دماغ الٹ گیا ہے، کہ جس سے مقبول مذہبی بیانیے کو نقصان اور عاصمہ کو فائدہ پہنچے؟

1۔ بات عاصمہ کی نہیں، بات اسلامی موقف کی ہے، بات قرآن کے اس فرمان کی ہے۔ دشمن بھی مقابل ہو تو انصاف ہی کی بات کہو، عدل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹو۔ خواہ یہ تمھارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ چنانچہ میرے نزدیک بات عاصمہ کی نہیں ، لبرلز کی نہیں، بات اسلام کی ہے۔

2_ جب زیادہ تر مذہبی لوگ اس کے خلاف ہیں تو آخر مجھے اپنی الگ بات کہنے کی ضرورت کیوں؟ چپ بھی تو رہا جا سکتا تھا؟

۔۔۔۔یہ سوال ہی دراصل جواب ہے۔ چونکہ حقیقی موقف دینے والے علما کسی وجہ سے خاموش ہیں۔ چنانچہ ان کی جگہ جذباتی لوگ
اسلام کا غلط رخ پیش کرنے رہے ہیں، سو بولنا لازم ٹھہرا۔ کسی بھی مسلک کا کوئی ایک بڑا نام بول پڑتا تو بھلا ایک کالم لکھنے والے کو اس موضوع کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی؟

کیا ثبوت ہے کہ یہ جذباتی لوگوں کا موقف ہے، مفتیان کا نہیں؟

اولا اس میں کسی بھی مسلک کے کسی جید عالم نے فتوی نہیں دیا، چالیس ناموں والی جو ایک تحریر سامنے آئی، اس میں سوائے دو ناموں کے کوئی مفتی نہیں۔ باقی سب نام ہیں، جو مفتی بہرحال نہیں۔

ثانیا یہ فتوی ہے بھی نہیں۔ فتوی کسی چیز پر مفتی کے فہم کے مطابق شرعی حکم ہوتا ہے۔ اس میں ایک سوال ہوتا ہے، شرعی دلائل کی روشنی میں جس کا تجزیہ ہوتا ہے، اور آخر میں سوال کا واضح جواب یعنی شرعی حکم۔ جبکہ یہاں آپ دیکھتے ہیں کہ اس تحریر میں ایسا کچھ نہیں۔ پھر دو میں سے ایک مفتی صاحب سے ذاتی طور پر رابطہ کر کے اس خاکسار نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا، یہ فتوی ہر گز نہیں۔ میرا یہ مزاج بھی نہیں۔ نہ اس کا یہ موقع اور محل ہی تھا۔ معلوم ہوا، ان سے اور طرح سے بات کرکے ، ان کا نام ڈال دیا گیا۔

یہ فتوی ہو بھی کیسے سکتا ہے، کہ جس کے آخر میں حتمی شرعی رائے دینے کے بجائے لکھا گیا آپ خود فیصلہ کر لیجیے۔ اگر یہ فتوی ہے تو تاریخ اسلامی میں اپنی طرز کا واحد فتوی کہ جس میں فیصلہ کرنے کے بجائے عوام سے فیصلہ پوچھا گیا ہے۔ سو یہ ایک بے کاغذ کی تحریر ہے، جس پر کئی نام لکھے ہیں۔ اور بس!
(ویسے اب اس تحریر سے نام کاٹ دیے گئے ہیں )

یہ بھی پڑھیں:   جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

شرعی فتوی اگر لینا ہو، تو اسے یوں ہونا چاہیے:
معروف مفتیوں کے لیٹر ہیڈ پر ان کے دستخطوں اور مہروں کے ساتھ۔
شرعی جرم کی تفصیل
لاگو ہونے والے دلائل
اور دو ٹوک شرعی حکم
جس پر حکم لگے گا، یہ اس کے نام سے ہوگا اور حکم واضح ہوگا۔ یعنی فلاں فلاں جرموں کی وجہ سے عاصمہ جہنمی ہے یا کافر ہے۔
جب تک یہ نہیں ہوجاتا ، نام نہاد ہی سہی، آپ کے خیال میں منافق ہی سہی مگر موصوفہ مسلمان ہے۔ کیسی مسلمان؟
کئی خطرناک غلطیاں کرنے والی مسلمان۔
اس کا حال اور انجام؟ اللہ کو معلوم!

کسی کو کافر کہنے کا اسلامی پراسیس کیا ہے؟
کسی کے واضح کفریہ کلمات کا ارتکاب کر لینے کے باوجود اسے کافر نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ
اس کی جہالت دور نہ کر دی جائے۔
یہ معلوم نہ کر لیا جائے کہ اس نے کہیں جبر و اکراہ کے تحت تو یہ نہیں کہا۔
یہ تسلی نہ کر لی جائے کہ کیا واقعی اسے ان کلمات کے معانی اور اس کے اثرات کا ٹھیک ٹھیک پتہ پتہ ہے؟
ظاہر ہے، یہ سارے مرحلے عاصمہ کے لیے اب ممکن نہیں، کہ زندگی میں یہ سب کیا نہ گیا اور اب وہ اپنے انجام سے جا ملی۔
اگر یہ نہیں ہو پاتا تو مجرم فاسق و فاجر ہو سکتا ہے، کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ چنانچہ ایسے شخص کا جنازہ پڑھا جائے گا، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، اور اس کے احوال اللہ کے سپرد کیے جائیں گے۔

ہاں لوگ اپنے طور پر اس کے اچھے یا برے ہونے کے تبصرے کر سکتے ہیں۔ یہ مگر اسلام کا حکم نہیں۔ اس کے اثرات البتہ ہوتے ہیں۔ ایک حد تک میت کے اچھے برے ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے، لیکن بہرحال یہ مسلمہ قاعدہ نہیں۔ کبھی الٹ بھی ہوتا ہے، جہنمی سمجھا جانے والا جنتی اور جنتی سمجھا جانے والا جہنمی بھی ہو سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ حدیث رسول سے جن کا جنتی یا جہنمی ہونا آشکار ہو چکا، باقی سب کے متعلق اچھا یا برا گمان تو رکھا جا سکتا ہے، کسی کو بالضبط جنتی یا جہنمی نہیں کہا جا سکتا۔

دوسری بات اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نام لے کر (By Name) کافر یا جنتی و جہنمی کہنے میں حد درجہ محتاط رہتے ہیں۔ شیخ الحدیث حافظ شریف صاحب فیصل آباد کے معروف اور ممتاز عالم ہیں، پورے فیصل آباد کے علمی حلقے میں ان کا نام اور احترام ہے، بیان فرماتے ہیں کہ عرب عالم شیخ صالح فوزان سے کسی نے اندرا گاندھی کے متعلق پوچھا، کیا وہ جہنمی ہے۔ متعدد بار نام لینے کے باوجود انھوں نے ایک بار بھی نام لے کر نہیں کہا کہ اندرا گاندھی جہنمی ہے، ہر بار جواب میں فرمایا، جس کا کفر پر خاتمہ ہو وہ جہنمی ہے۔ واضح رہے، اندرا گاندھی نے شاید ایک بار بھی مسلمان ہونے کا اعلان یا اعتراف نہیں کیا۔ نام تک مسلمانوں والا نہیں۔ چنانچہ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ احتیاط آج کس طرح پاش پاش کی جا چکی ہے۔ یہ معاملہ دراصل اس لیے بھی مشکل ہے کہ حدیث کے مطابق اگر کسی کو کافر کہا گیا اور اللہ کے نزدیک وہ مسلمان ہوا تو یہ کفر کافر کہنے والے پر پلٹ آتا ہے۔ اندازہ کیجیے، اسامہ بن زید رسول اللہ ص کے لاڈلے صحابی سے عین حالت جنگ میں ایک ایسا دشمن قتل ہوگیا، جس نے جلدی جلدی (بظاہر تلوار سے ڈر کر) کلمہ پڑ لیا تھا۔ معلوم ہونے پر رسول رحمت اس قدر ناراض ہوئے کہ کتنی ہی دیر بار بار سرکار فرماتے رہے، اسامہ! تو نے کلمہ پڑھنے والے کو قتل کر دیا۔۔۔ اسامہ نے عرض عرض کی، یا رسول اللہ! کلمہ تو اس نے ڈر کے پڑھا تھا، فرمایا ،اسامہ کیا تو نے اس کا دل چیر کے دیکھ لیا تھا؟ اسامہ خواہش کرنے لگے، کاش وہ اس فعل کے بعد مسلمان ہوئے ہوتے۔

اس عاجز نے آج کے کالم میں عبداللہ بن ابی منافق کے متعلق وضاحت سے لکھا کہ منافق اعظم ہونے کے باوجود رسول رحمت کا اس کے ساتھ سلوک کیا رہا۔
صحابی رسول عکرمہ ابو جہل کے بیٹے تھے۔ ترمذی شریف میں حدیث ہے، ایک دن کسی نے ان کے کافر باپ ابو جہل کو برا بھلا کہا، تو ظاہر ہے، بیٹا ہونے کے ناتے ان کے چہرے پر اداسی دیکھی گئی۔ نبی رحمت نے فرمایا، لا تسبوا الاموات فتوذوالاحیا
مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ۔
اللہ اللہ! اگر اسلام کے دشمن اول کو برا کہنے سے بھی زندوں کو تکلیف ہو تو اسلام مداوا فرما دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

سیدہ عائشہ کی روایت ہے، مردوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ انھوں نے جو اعمال کیے، وہ ان کے نتائج و ثمرات بھگتنے/سمیٹنے کو آگے پہنچ چکے۔
اب جب آپ اتنا کچھ جان چکے تو چند باتوں پر غور کیجیے
1- بالضبط کافر، جنتی یا جہنمی کہنا ایک باقاعدہ پراسیس ہے، جس کے تحت زد جید علما معتوب شخص کو جہل، اکراہ اور وضاحت کا موقع دینے کے بعد کسی کو کافر ڈکلیئر کریں گے۔ ہر پوسٹ لکھنے اور بظاہر دینی جذبہ رکھنے والا نہیں۔ بہرحال اس پراسیس نہ ہونے تک خود کو مسلمان کہنے والا شخص مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

2- عبداللہ بن ابی جیسا اسلام کے خلاف دائمی سازشیں کرنے والا اور کفر بکنے والا بھی ہو تو رسول اقدس اس کی بخشش کیلیے ہر ممکن تدبیر بروئے کار لاتے ہیں۔
3- مردہ ابوجہل بھی ہو اور اگر اسے برا بھلا کہنے سے کسی زندہ کو تکلیف پہنچتی ہو تو اسے برا بھلا کہنا رسول رحمت نے ممنوع فرمایا ہے۔
اب آپ خود دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے اس دین پر عمل کیا۔ طنز کرنے اور کسی کو کافر کرنے سے نہیں، دین پر عمل کرنے سے آدمی دیندار بنتا ہے۔
واضح رہے!

میری پیش کردہ احادیث و دلائل سے کوئی عالم انکار نہیں کر سکتا۔ انھیں انکار اگر ہے تو اس سے ہے، کہ ان دلائل کو اس وقت پیش نہ کیا جائے، ان کے خیال میں اس سے عاصمہ یا لبرل ازم کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

میری گزارش یہ ہے، کہ اسلام فائدہ ہی دینے آیا ہے، اس میں کہیں نہیں لکھا کہ مولوی طبقے کو فائدہ ہو تو حدیث بیان کر دو ، لبرل طبقے کو ہو تو نہ کرو۔
پھر اس سے بھی زیادہ میرا درد کچھ اور ہے، میں یہ برداشت کر سکتا ہوں کہ میرے دوست مجھ سے ناراض ہو جائیں، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی میرے دین پر یہ تہمت لگائے کہ یہ تو مردوں پر قہقہے لگاتا اور لواحقین کے انسانی جذبات تک کا خیال نہیں کرتا۔
میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا رسول تو عبداللہ بن ابی کے جنازے پڑھنے چل پڑتا ہے، میرا رسول تو یہودی میت کے لیے احتراما اٹھ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔
اور اگر کسی زندہ کا دل دکھتا دیکھے تو میرا رسول ابو جہل تک کو برا بھلا کہنے سے روک دیتا ہے۔
تو آؤ اے لوگو! دیکھو! یہ ہے، میرا دین۔ یوں ہے، میرے دین میں انسانیت کی قدر۔

ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو، پندگرو، راہگزر تو دیکھو

اچھا اے پڑھنے والو! تم سب کو قسم ہے، اپنے پیدا کرنے والے کی، مجھے بتاؤ، یہ مجھے چھپانا چاہیے یا بتانا چاہئے؟ اس سے دین کو فائدہ ہوتا ہے یا نقصان؟
کسی نے کہا، سب ناراض ہو جائیں گے،
میں نے سوچا، اللہ نہ ہو،
کسی نے کہا، علما اذیت میں ہیں۔
سوچا تو کیا دین کو اذیت میں ڈال دوں؟

سنو! میں قسم کھاتا ہوں، میں اپنی کسی انا کے لیے یہ نہیں لکھتا۔ میں اپنے کسی عناد اور شخصی مفاد کے لیے یہ نہیں لکھتا۔ میں بس اپنے دین کی خوشنما شناخت کے لیے یوں لکھ مر رہا ہوں۔ بےوقوف کہلا رہا ہوں۔ تمھیں خوب پتہ ہے، میں لبرلز کا نہیں ہوں، نہ وہ میرے ہیں، افسوس، یہ لکھ کے میں آپ کو بھی کھو رہا ہوں۔ مگر میں رک نہیں سکتا۔ میں ٹھہر نہیں سکتا۔ آپ اپنے موقف میں درست ہو سکتے ہیں اور میں غلط ہو سکتا ہوں۔ مگر میرے نزدیک یہی موقف درست اور میں اسے چھپا نہیں سکتا۔ خدا میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو!

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.