گُربہ کشتن روز اول - یوسف ثانی

گربہ کشتن روز اول والی مثل تو تم لوگوں نے سنی ہی ہو گی؟

"سر سنی تو ہے مگر۔۔۔"

"ارے بھئی کمال ہے کالج میں پہنچ گئے اور ۔۔۔ خیر اس میں تم لوگوں کا اتنا زیادہ قصور بھی نہیں۔ عربی فارسی تو تم لوگوں کو کبھی پڑھائی ہی نہیں گئی"۔

"سر اب عربی فارسی والا زمانہ کہاں؟"

ارے نادانو! اب تم لوگوں کو فارسی عربی کی اہمیت بھی بتانی پڑے گی؟ دیکھو جب تک عربی فارسی تھوڑی بہت نہ آتی ہو تو صحیح طور سے اردو بھی نہیں آسکتی۔ کیا سمجھے؟

"مگر سر! وہ گربہ کشتن والی بات۔۔۔؟"

"ہاں! وہ گربہ کشتن روز اول کا مطلب ہے پہلے ہی روز گربہ یعنی بلی کو مارنا۔"

"بلی کو مارنا؟"

بھئی یہ ایک روایتی کہانی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک صاحب کی شادی ہونے والی تھی۔ ان کے کسی دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ پہلی ہی شب جب تمہاری ملاقات اپنی زوجہ سے ہو تو اس پر اپنی بہادری و شجاعت کا رعب ضرور ڈالنا تاکہ ساری عمر اس پر تمہارا رعب قائم رہے۔

یعنی کہ سر! "فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن" پر عمل پیرا ہو۔ مگر سر! اس میں بلی کہاں ہے؟

بلی کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ جب اس سیدھے سادھے شخص نے پوچھا کہ میں اپنی زوجہ پر رعب ڈالوں تو آخر کیسے؟ اس پر اس کے دوست نے بتا کہ کمرے میں پہلے سے ایک بلی چھوڑ دینا اور جب تم کمرے میں داخل ہو گی تو لا محالہ بلی کی میاؤں میاؤں کی آواز تمہیں سنائی دے گی۔ بس تم غصہ سے بلی کی طرف جھپٹنا اور تلوار سے اس کی گردن اڑا دینا۔ یہ دیکھتے ہی تمہاری زوجہ سہم جائے گی اور ساری عمر تمہارے سامنے سر نہ اٹھا سکے گی۔

"سر پھر کیا ہوا تھا؟"

ہونا کیا تھا؟ جب سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی یعنی جب کہیں فرسٹ امپریشن ہی شجاعت و بہادری کا دینا مقصود ہو تو ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے کہ گربہ کشتن روز اول۔

"سر بلی مار کر؟"

ارے نہیں بھئی! ضروری نہیں کہ بلی مار کر ہی یہ امپریشن قائم کیا جائے۔ اس کے طریقے وقت زمانہ اور موقع کی مناسبت سے بدلتے رہتے ہیں۔ تاہم اس قسم کے موقع پر فارسی میں۔ بلکہ اب تو اردو میں بھی یہی کہتے ہیں کہ۔۔۔ "گربہ کشتن روز اول۔"

شاباش! مگر دیکھو تم میں سے جو کوئی بھی اس پر عمل پیرا ہونا چاہے، وہ اپنی ذمہ داری پر ایسا کرے۔

"وہ کیوں سر!"

وہ اس لیے کہ برعکس نتائج برآمد ہونے کی صورت میں ذمہ داری ہم پر عائد نہ ہو۔ (مشترکہ قہقہہ)


"کیوں بھئی حامد! تم میری بارات میں آ رہے ہو نا؟"

"یار دیکھو کوشش تو میں ضرور کروں گا لیکن اگر۔۔۔"

"کوشش؟ نہیں بھی میں نہیں جانتا۔ تمہیں ہر حال میں آنا ہے۔ ورنہ؟"

"ورنہ یہ شادی نہیں ہو سکتی؟"

خیر اب ایسی خوش فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایسی بات ہے تو تم بے شک مت آنا۔ تمہاری شرکت کے بغیر بھی مابدولت کی شادی ہو سکتی ہے۔ سمجھے؟

ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ تم تو سچ مچ ہی ناراض ہو گئے۔ میں تو یونہی مذاق کر رہا تھا۔ تمہاری شادی ہو اور میں نہ آؤں۔۔۔؟

"یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہے نا؟"

"ہاں ہاں! ہاں بالکل۔ آخر ہم نے بھی تو شادی کرنی ہے۔"

"تو تم شادی کب کر رہے ہو؟"

بس ذرا تمہاری شادی کے بوجھ سے فارغ ہو لیں۔ پھر اپنے بارے میں بھی سوچیں گے؟

بس۔۔۔ بس۔ اب زیادہ بڑی اماں قسم کی چیز بننے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بات گول کرنے کی ضرورت ہے۔ تم بارات والے دن صبح سویرے میرے گھر آ جانا۔

"تاکہ رات ہوتے ہی تم مجھے اپنے گھر سے نکال سکو۔"

"کیا مطلب؟"

بھئی دیکھو نا۔ تم کس چاؤ سے مجھے صبح سویرے اپنے گھر بلا رہے ہو۔ برات میں اپنے ساتھ لے جا رہے ہو۔ لیکن جب تم اپنی دلہن لے کر رات گئے گھر پہنچو گے تو ہم سے فوراً گھر سے نکل جانے کا کہو گے تاکہ۔۔۔

"حامد کے بچے!"

ارے بھئی آہستہ بولو۔ ابھی تو حامد میاں کی شادی بھی نہیں ہوئی۔ اگر حامد میاں کی ہونے والی زوجہ نے سن لیا تو۔ حامد میاں کی شامت ہی آ جائے گی۔ اچھا خیر بارات والی صبح ملاقات ہو گی لیکن بارات والی رات وہ سبق مت بھول جانا۔

"کون سا سبق؟"

"بھئی وہی جو سر نے بتلایا تھا۔ یعنی گربہ کشتن روز اول"

مگر وہ گربہ کہاں سے آئے گی؟

"بھئی ایک "گربہ مسکین" تو کمرے میں ہو گی ہی۔۔۔ اسی سے کام چلا لینا۔"

"حامد کے بچے۔۔۔ میں کہتا ہوں۔۔۔ باز آ جاؤ۔۔۔ ورنہ۔۔۔"

"اوکے۔۔۔ بائی۔۔۔ بائی۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔"

"خدا حافظ۔"


"آداب عرض ہے۔"

۔۔۔خاموشی۔۔۔

"میں نے کہا حضور سلام عرض ہے۔"

۔۔۔خاموشی۔۔۔

"اچھا تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔ اگر سلام قبول نہیں تو ہم جاتے ہیں۔"

"ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ آپ۔۔۔؟"

"بھئی آپ کچھ بولی ہی نہیں تو ہم سمجھے۔۔۔؟"

"آپ کیا سمجھے۔۔۔"

"بھئی ہم سمجھے، شاید آپ ناراض ہوں۔ یا شاید آپ گونگی ہوں۔"

"ہم نہ تو ناراض ہیں اور۔ اب تو آپ کو پتہ چل ہی گیا ہو گا کہ نہ ہی گونگی ہیں۔"

"واللہ کیا بات ہے آپ کے بولنے کی۔ آپ تو خوب بولتی ہیں۔"

"ویسے ایک بات پوچھوں۔"

"کون سی بات؟"

"آپ ناراض تو نہیں ہوں گی؟"

بھئی پہلے پتہ تو چلے کہ آپ نے کون سی بات پوچھنی ہے؟ ناراض ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا۔

دراصل میں میں ایک کہاوت کی بابت جاننا چاہ رہا تھا۔۔۔ تم نے وہ مثل سنی ہے "گربہ کشتن روز اول"۔

دیکھیں۔۔۔ میں ایک بات صاف صاف کہے دیتی ہوں۔ آئندہ آپ میرے سامنے عربی وربی کا رعب مت جھاڑیئے گا۔

"لیکن بیگم! یہ تو فارسی کی کہاوت ہے۔۔۔"

عربی ہو یا فارسی! کان کھول کر سن لیجیے۔ آئندہ آپ مجھ سے سیدھی سادی زبان میں بات چیت کریں گے اور مجھے کم علمی کا طعنہ نہیں دیں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں آپ جتنی پڑھی لکھی نہیں ہوں لیکن۔۔۔ سب کچھ سمجھتی ہوں۔ ہاں!

اوہو! تو اس میں لڑنے والی کون سی بات ہے۔ اگر تمہیں نہیں معلوم تو دفع کرو۔

بس بس! مجھے تو جیسے کچھ معلوم ہی نہیں اور آئندہ مجھے یہ طعنہ بھی مت دینا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہاں نہیں تو۔

"بیگم! میں طعنہ تو نہیں دے رہا تھا۔ خیر چھوڑو اس کم بخت کو۔۔۔"

"کم بخت کس کو کہا؟"

بھئی میں تو اس کہاوت کو کہہ رہا تھا جس نے تمہارا موڈ بگاڑ دیا۔ تمہیں نہیں کہہ رہا تھا۔۔۔ تمہیں تو وہی کچھ کہوں گا جو تم کہو گی۔۔۔ جو تم چاہو گی۔

یہ ہوئی نا بات! اگر میری مرضی کے خلاف اس گھر میں آپ نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔

"بیگم! اب میں اتنا بے وقوف بھی نہیں کہ آئندہ ایسی کوئی کوشش بھی کروں۔"

"بس اسے باندھ لینا اپنی گرہ میں۔"

"ہاں اب تو یہی کرنا پڑے گا۔ کہ پچھلی گرہ کو کھول کر اس میں یہ نئی بات باندھ لوں۔۔۔ اچھا آؤ اب۔۔۔ کچھ "دوسری" باتیں۔۔۔ ہو جائیں۔۔۔ ہو جائیں؟"

۔۔۔خاموشی۔۔۔


"بیگم! پھر تم نے بیٹے کے بار ے میں کیا سوچا ہے؟"

سوچنا کیا ہے؟ میں نے تو شروع ہی سے اپنی بہن کی لڑکی کو اپنے بیٹے کے لیے پسند کر چکی ہوں۔

"کون؟۔۔۔ وہ عذرا ! مگر وہ تو۔۔۔؟"

"دیکھو تم میری عذرا کو کچھ نہ کہنا۔۔۔ ورنہ؟

میں اسے کچھ نہیں کہتا۔ لیکن یہ تو سوچو کہ میرا دوست حامد کیا سوچے گا؟ میں نے اس کے بیٹے کو اپنا داماد بنانے کا خیال ظاہر کیا تو وہ راضی ہو گیا مگر تم نے ایک نہ چلنے دی اور اپنے بھائی کے بیٹے کو داماد بنا لیا۔ اب میں نے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو اس کی اعلٰی ظرفی دیکھو کہ۔۔۔

"میں نہیں جانتی کسی کی اعلٰی ظرفی؟"

مگر پہلے تو تم راضی تھیں بلکہ تم ہی نے تو مجھے حامد سے بات کرنے پر مجبور کیا تھا میں۔۔۔

اس وقت کی بات اور تھی۔۔۔ جب آپا کے میاں نہیں مان رہے تھے۔ اب تو وہ بھی مان گئے ہیں۔ اب اس گھر میں صرف میری بہن کی بیٹی بہو بن کر آئے گی سمجھے؟

سمجھ گیا۔ تم نے کب میری بات مانی ہے جو آج مان جاؤ گی۔ جو تمہاری مرضی۔

"بس اگلے جمعہ کو آپ کے گھر چلنا ہے۔ انہوں نے پیغام بھجوایا تھا۔"

"ٹھیک ہے تو چلی جانا۔"

"آپ نہیں چلیں گے؟"

"میرے جانے کا کوئی مصرف تو نہیں۔ لیکن جب تم کہہ رہی ہو تو جانا ہی پڑے گا۔"


"اچھا بیٹا! آج ہم نے تمہارا فرض بھی پورا کر دیا۔ تم خوش، تمہاری ماں خوش۔ ظاہر ہے اس سے بڑی اور کیا خوشی ہو گی میرے لیے۔۔۔ اب جاؤ تم اپنے کمرے میں دلہن تمہارا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ لیکن دیکھو وہ تمہاری ماں آ رہی ہے۔ پہلے اس سے مل لو ورنہ۔۔۔ "

"جی اچھا! ابا جان۔"

"جی امی جان! آپ کچھ کہہ رہی تھیں کیا؟"

ہاں وہ آخری بات تو کرنا بھول ہی گئی۔۔۔ دلہن کے پاس جا رہے ہو تو۔ گربہ کشتن روز اول والی مت بھولنا۔ اگر تم نے پہلی ملاقات میں اپنی بیوی کو رعب میں نہیں لیا تو یاد رکھنا بیٹا! ساری عمر بیوی کے رعب میں گزارنی پڑے گی۔ سمجھے کہ نہیں۔"

"جج۔۔۔ جی سمجھ گیا۔۔۔ اب میں سب کچھ سمجھ گیا۔۔۔ امی جان!"

"کیا سمجھ گئے؟"

"یہی کہ گربہ گشتن روز اول ہے نا امی جان؟"

"ہاں بیٹا!۔۔۔ یہ تو ہے۔۔۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔"

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */