کہانی جو میں نے پڑھی - حمنہ بخاری

زندگی ایک سٹیج کی مانند ہے جہاں ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا کررہا ہے ہر کردار لوح حیات پر ایک نئی و منفرد کہانی رقم کررہا ہے۔ بعض کردار رومانوی نوعیت کے ہوتے ہیں اور بعض مشکلات و مصائب میں گھرے حالات کے گرادب سے نکلنے کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بعض انہی تلخ دھاروں پر اپنی نوشتہ حیات رکھ چھوڑتے ہیں کہ جہاں ہواؤں کا رخ بہا کر لے جائے وہی منزل ہے، وہی مقدر ہے۔ بعض کردار اپنی بھول بھلیوں، اٹھکھیلیوں اور نوخیزیوں سے قاری کے چہرے پر تبسم بکھیرتے ہیں تو بعض تلخی حیات اور اپنوں کی سفاکی کی عکاسی کرتے "قدم قدم بلاؤں" کے مصداق حساس دل رکھنے والے افراد کو آغاز سے لوٹ جانے کی نصیحت کرتے نظر آتے ہیں۔

کہانی کے کردار بالواسطہ و بلا واسطہ حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں کیونکہ مصنف اپنے فن پاروں کی تخلیق میں اپنی بہترین تخیلاتی حس کو بیدار کرتے ہوئے ایسے موضوعات زیر بحث لاتا ہے جو بیک وقت معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کو تفریح فراہم کرتا ہے اور شعور و آگاہی کے مدارجات بھی طے کراتا ہے۔ چودہ سو سال پہلے جب دنیا غفلت کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی تو اخلاق حسنہ کی تبلیغ و ترویج کے لیے سراج منیر، ہادی برحق جو نسخہ کیمیا ساتھ لائے اس میں ادب کے خالق اعلی و مصور اعلی نے انسانی حس لطافت کی ضرورت کے پیش نظر تذکیر و تبشیر کے لیے "کہانی" کا سہارا لیا۔

انہی محاسن و کمالات کو بروئے کار لاکر آج ادب کی دنیا میں صنف کی ہزارہا اقسام متعارف ہوچکی ہیں لیکن چونکہ کہانی میں انسان کی فطرت زیادہ کشش محسوس کرتی ہے اس لیے معاشرے کی اصلا ح کے لیے یہ میدان کار زار روز اول سے متحرک و سرگرم رہا ہے۔ رسم و رواج کے جھوٹے لبادے میں ملبوس سفاکیت و بربریت کو برہنہ کرتی ایسی ہی ایک کہانی حال ہی میں قانتہ رابعہ کے قلم سے " عشق بکواس سہی " کے عنوان سے صفحہ قرطاس پر رقم ہوئی۔ یہ کہانی ایک طرف شعور و آگاہی کے در وا کرتی ہے تو دوسری طرف قاری کی نظروں کو متلاشی بناتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ایسے کسی کردار کی زندگی کو برباد ہونے سے بچائے۔

کہانی کا آغاز شہر کے بالکل وسط میں واقع مشہور گائناکالوجسٹ کے نجی ہسپتال سے ہوتا ہے۔ لیبر روم میں ایک طرف ننھے وجود کو دنیا میں لانے کے لیے ایک ماں موت وحیات کی کشمکش میں ہے تو دوسری طرف نومولود کے دنیا میں آنے کے منتظر چار رشتوں (باپ، دادی، پھپھو، خالہ) کے انتظار و بے چینی کی منفرد نوعیت کہانی میں بیک وقت رشتوں کی محبت و خود غرضی کا خلاصہ بیان کرتی ہے۔ کئی گھنٹوں کی جان توڑ مشقت برداشت کرنے کے بعد ماں کی ترسی ممتا نومولود کو کلیجے سے لگانے کو بے تاب ہے مگر اس حسرت کے پورا ہونے سے قبل نند کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے دامادی کا شرف قبول کیے جانے کا پیغام ماں کے دل اور آنکھوں کو نمناک کر دیتا ہے۔

وہ سوچتی ہے کہ :کتنی مشقت سے ایک روح دنیا میں آتی ہے اور ابھی ماں کے ہاتھوں میں پہنچی نہیں کہ اسے پرائی امانت سمجھنے کا بوجھ سر پر لادو۔ انہیں اپنے سسرالی رسم و رواج کا علم تھا اس لیے خاموش رہی۔ یہ کہانی دراصل خود ساختہ رسم ورواج میں مقید افراد کی بے بسی کی داستان ہے جہاں خاموشیاں اظہار رائے کا گلہ گھونٹتی ہیں اور یہی خاموشی آغاز سے انجام تک ہر کردار کی زندگی کا خاصہ بھی رہی۔ کبھی مروتا، کبھی ضرورتا، کبھی عادتا اور کبھی رسما۔ کہانی کا مرکزی کردار نومولود بچی سیرت کا ہے جس کا باپ خاندانی رسم و رواج کی بیڑیوں میں جکڑا اپنی بچی کی پہلی خواہش (اعلی تعلیم کے حصول) کا گلہ گھونٹ دیتا ہے۔

تابعدار،فرمانبردار،آنکھوں کا نور، دل کا سرور سیرت باپ کی بے بسی کے سامنے ہار مان لیتی ہے۔ سیرت اپنے بچپن کے منگ حسنین کا نام ورد، ذکر واذکار کی طرح روز سنتی ہے۔ حسنین کسی بھی لحاظ سے سیرت کے ہم پلہ نہیں ہوتا۔ باپ بھی دل سے اس رشتے پر راضی نہیں مگر خاندان کے رسم و رواج سے بغاوت کا حوصلہ نہ رکھنے کے سبب صرف دعا پر اپنی بیٹی کے مقدر کا فیصلہ رکھ چھوڑتا ہے۔ اس کہانی میں برصغیر(پاک و ہند) سے تحفتا لائی گئی دو رسوم کے برے نتائج کو حصہ بنایا گیا ہے۔

مہندی کے روز دولہا مہندی کا بطور خاص ڈیزائن کیا گیا لباس زیب تن کیے جب ہال میں داخل ہوا تو دوستوں کی طرف سے ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کا سرپرائز پورے گھر کے لیے حقیقتا سرپرائز بن گیا۔ ہلکی پھلکی جگت میں جب منہ کے بل گرے دولہے کو اٹھایا گیا تو اس کی دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی۔ "سیرت فاطمہ بیوی بننے سے پہلے بیوہ ہو چکی تھی۔ جب نکاح ہی نہیں ہوا تو عدت کاہے کی؟ یہ سوال مسلم معاشروں میں ستی کیے جانے کے بڑھتے رواج پر گہرا طنز ہے۔ مذہب و تہذیب کے جھوٹے لبادے میں خواہشات، احساسات، و ارمانوں کا قتل انسان باراضی و رضا کر رہا ہے۔ جس کی ایک وجہ تو دینی تعلیمات سے دوری اور دوسرا خود ساختہ رواج کی تکمیل کو فرض عین سمجھنا ہے۔ پرائیوٹ کمپنی کا ملازم باپ بیٹی کا صدمہ لیے قرضوں کے بوجھ سمیت منوں مٹی تلے دب گیا۔ تقدیر کی ستم ظریفی نے سیرت سے باپ کا سایہ چھیننے کے ساتھ ساتھ گھر کی چھت بھی چھین لی۔ خاندان کے بزرگوں نے پنجائیت بلاکر سیرت کے مقدر کا فیصلہ انتہائی سفاکی و بےحسی سے کیا۔

اس موقع پرمصنفہ کا کاٹ دار فقرہ دل کوآرے کی طرح چیرتا ہے کہ جب سر جھکا ہو تو آنکھوں کی طرف کون دیکھتا ہے کہ آنسوؤں سے بھری ہیں یا خوشیوں سے چمکتے ستاروں جیسی!

سیرت پہلے پہل مدرسہ ہذا کی پرنسپل بنی پھر رفتہ رفتہ "باجی جان" اور "آپاجان" کے عہدے پر فائز ہوئی۔ بشری برائیوں سے پاک سیرت آپا سیرت کاملہ کے عہدے پر فائز ہوئیں تو دوا دارو، وظائف، علاج معالجے، گھروں کی کفالت کا بوجھ رفتہ رفتہ اپنے نازک کندھوں پر منتقل کر لیا۔ بیٹیوں کے رشتے کے لیے آپا کا در گویا مراد بر آنے کا موجب بن گیا۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک فرد خواہشوں کی قبر پر مقبرہ بنائے بیٹھا ہے خود جن کی خواہش حسرت ناتمام رہی انہی کے در سے جھولیاں بھرنے کا ڈھب ہمیں خوب آتا ہے۔

مصنفہ نے مرکزی کردار کی اندرونی و بیرونی اعصابی جنگ کو واضح کرنے کے بجائے ہیروئن کا سراپا اس انداز میں بیان کیا ہے کہ جذبات کی سردی اور خواہشات کی قبل از وقت موت روح پر تازیانے لگاتی ہے۔ سیرت کو اخلاق کے اعلی پیمانے تک پہنچا کر گویا رہبانیت و عیسائیت کے پنپتے رجحان کی عکاسی کی گئی ہے ۔ سیرت کی موت کا منظر "وحشت سے کھلی آنکھیں"گویا دنیا کی بے حسی و خود غرضی، اپنوں کی سفاکیت پر حیرت زدہ و نوحہ کناں ہونے سے مشروط کی گئی ہیں۔ سیرت کے ترکے میں حسنین کی پاسپورٹ سائز تصویر اور پھپھو کی طرف سے تحفتا ملنے والے سونے کے ٹیکے کا برآمد ہونا گویا حسرت ناتمام کے دل کے کسی کونے میں مدفن ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ سیرت جس راز کو دل میں دفن کیے دنیا سے رخصت ہونا چاہتی تھی سانسوں کی ٹوٹتی ڈوری نےان حقائق سے پردہ فاش کردیا۔ اس صورت حال میں زندگی بھرکا روگ "ہائے کاش" کا ٹکر لیے ذہن کی سکرین پر ہمہ وقت چلنے لگتا ہے۔ بس پھر یادوں کا ریموٹ کنٹرول کہیں کھو سا جاتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی اس منظر و یاد کو ہم ذہن سے کھرچ نہیں پاتے۔ یہی معاملہ سیرت کی پھپھو کے ساتھ ہوا جو سیرت کی موت پر اپنے بیٹے کی موت سے زیادہ بے صبری دکھائی دیتی ہے۔

مصنفہ طنز کے پیرائے میں یہاں نہایت عمدہ فقرہ چست کرتی ہیں کہ ایسا لگتا تھا کہ حسنین کی موت ہی آج واقع ہوئی۔ سیرت تو خاموشیوں کی دبیز چادر اوڑھے آخری آرام گاہ منتقل ہو گئی مگر مظلوم کردار کی خوشیوں کو ترستی زندگی قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے جو احساس سے بھری پر عزم زندگی ہے جوحالات کو بدلنے اور اصلاح معاشرے کو اپنا فرض اول سمجھنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے ۔ مصنفہ کی ایک خوبی عام فہم زبان اور انداز بیاں کی بے ساختگی بھی ہے۔ معاشرتی رویوں کاجائزہ لیتی یہ کہانی نہایت سادہ، عمدہ اور حساس دل کی حامل مصنفہ کے مخلص جذبات کی ترجمان ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */