اگر "سلطان علاؤ الدین خلجی" نہ ہوتے! -جمیل فاروقی

پدماوت ۔۔ میں سلطان علاو الدین خلجی کو جنگلی اور بے رحم جنونی طرز کے ہم جنس پرست، نسلی درندے یعنی انسان کے روپ میں جانور کے طورپر دکھانے والے بھارتی ہدایتکار ۔۔سنجے لیلابھنسالی۔۔ یا تو تاریخ کے طالب علم ہی نہیں اور اگرہیں بھی تو انہوں نے اپنی فلم میں جان بوجھ کر سلطان علاوالدین خلجی کی بادشاہت کی تاریخ کو بری طرح مسخ کرنے کی بھونڈی سازش کی ہے، ہندوستان میں راجپوت اس بات کو لے کر ہنگامہ بپا کئے ہوئے ہیں کہ اس فلم میں ان کی رانی پدماوتی کی کردار کشی کی گئی ہے لیکن درحقیقت یہ مسلمانوں کے عظیم سلطان ۔۔ سلطان علاوالدین خلجی ۔۔ کے کردار اور فتوحات کے ساتھ نا انصافی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو بالی وڈ کی اس فلم کے ذریعے شروع کیاگیا ہے ۔۔

مختلف تواریخ کے مطابق اننچاس یا پچاس برس کی عمر پانے والے سلطان علاوالدین خلجی کا پیدائشی نام محمد علی گُرشاسپ خلجی تھا ، آپ 1266؁ ء میں پیدا ہوئے، آپ کی جائے پیدائش دہلی شہر بتایا جاتا ہے جبکہ بعض مورخین دہلی کے نواحی علاقوں یا ترکی کا حوالہ دیتے ہیں ۔۔ علی گرشاسپ عرف علاوالدین کابچین سے ہی تعلیم سے زیادہ ۔۔سامان حرب ، تلوارزنی ، نیزہ بازی اورگھڑ سواری کی جانب رجحان تھا ۔۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں نوعمری میں ہی بڑے بڑے عہدوں سے نواز دیا گیا ۔۔ مانا کہ علاوالدین کم تعلیم یافتہ تھے لیکن مسلم تواریخ کے اکثر مورخین نے انہیں انتہائی نڈر ، بے باک ، سلجھا ہوا اور انسان دوست بادشاہ گردانا اور لکھا ہے ۔۔وہ اپنے چچا سلطان جلال الدین خلجی کے دست راست اور لاڈلے سمجھے جاتے تھے اور یہی وجہ تھی جلال الدین خلجی نے سایہ شفقت میں لیتے ہوئے اپنی بیٹی کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا ۔۔ راجپوتوں اور ہندوتوا ۔۔ سے متاثر مورخین سلطان علاوالدین ہی کو اپنے چچا جلال الدین خلجی کا قاتل مانتے ہیں لیکن مسلم ثقافت اور سلطان علاوالدین خلجی کی فتوحات کے عینی شاہدین کے مطابق جلال الدین خلجی کے قاتل دو افراد تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ جلال الدین خلجی شہنشاہت کے مسند پر مزید براجمان رہیں، یہ مئورخین علاوالدین کے اپنے چچا کے قتل میں ملوث ہونے کے امکان یا خدشے کو رد کرتے ہیں ۔۔

لکھنے والے لکھتے ہیں کہ سلطان علاوالدین خلجی اپنے آپ ، اپنے اصلوب اور اپنے فن وہنر میں یکتائیت کی وجہ سے اپنے دور کے سکندراعظم سے کم نہ تھے۔۔ پدماوت میںمسلم سلطان کو ملک غفور نامی ہیجڑے سے ہم جنس پرستی کے رسیا دکھانے والے سنجے لیلا بھنسالی شاید اس بات سے قطعی طور پر ناواقف ہیں یا وہ اس مسلمہ حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کر بیٹھے ہیں کہ سلطان علاوالدین خلجی ہی تھے جنہوں نے جسم فروشی کی دنیا سے مڈل مین (Middle Man) یعنی دلال کے کردار کی تاریخی نفی کرتے ہوئے اسے بالکل ختم کردیا تھااور تاریخ کے طلبا اس بات سے آگاہ ہیں کہ جسم فروش عورتوں کی دلالی کرنے والے یہ ہیجڑے ۔۔ بعدازاں شاہی دیوان خانوں میں خواتین کے ساتھ عز ت واحترام کے ساتھ رکھے جاتے تھے نہ کہ سلطان کی مبینہ ہم جنس پرستی کی تسکین کے لئے ۔۔ رہا سوال خلجی خاندان کے احسانات کو فراموش کر کے حد درجہ ڈھٹائی کے ساتھ مسلم تاریخ کو اتنے بڑے پیمانے پرمسخ کرنیوالے ملک بھارت کا۔۔ تو بھارت آج تین سو سال پیچھے ہوتا اگر سلطان علاوالدین خلجی نہ ہوتے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا حل کیا ہے؟-رضوان احمد غلزئی

تاریخ کے معروف لکھاری شیشادری کماری کے مطابق سلطان علاوالدین خلجی ترکی سے نہیں آئے تھے بلکہ وہ دہلی کی پیداوار تھے اور انہوں نے1296ء سے 1316ء تک سلطنت دہلی پر حکمرانی کی ، چنانچہ مختلف سلطنتوں( چتوردیوگری، رنتم بھورے ،ہوئے سالہ اور پانڈیہ)پر فتوحات کے بعد قابض ہونے کی وجہ سے ہندوتوا گروپ انہیں ماننے کی بجائے ولن بنا کر پیش کرنے ہی میں عافیت سمجھتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سنجے لیلا بھنسالی نے ایک غیر جانبدار ہدایتکار کی بجائے خود کو ہندوتوا کا رکن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان ۔۔ سلطان علاوالدین خلجی کا مقروض ہے ۔۔ اگر سلطان نہ ہوتے تو منگول بھارت کو کہیں کا نہ چھوڑتے ۔۔ منگولوں کی چغتائی کنیٹ نے ہندوستان پر حملہ کیا تو سلطان علاوالدین خلجی کے دور بادشاہت میں کم وبیش پانچ بار شکست فاش سے دو چار ہوئے ۔۔

1298ء میں خلجی کے زیر سایہ الوغ خان کی قیادت میں منگولوں کے بیس ہزار لوگ مار دئیے گئے اور ہندوستان کو دشمن کے شدید ترین حملے سے بچا لیا گیا ، 1299ء میںسندھ میں منگولوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا اورخلجی کے زیر سایہ ظفرخان کی کمان میں منگولوں کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا بعض مورخین کے مطابق اس معرکے کی کمان خودسلطان علاوالدین خلجی نے سنبھالی ۔ ۔ 1303ء میں خلجی کی قیادت میں فوج کی کمان ملک کافور نے سنبھالی اور ہزاروں منگولوں کو جہہنم واصل کیا جبکہ 1305ء میں سلطان کے زیر سایہ ملک نائیک کی کمان میں آٹھ ہزار منگولوں کو جہنم رسید کرتے ہوئے ہندوستان پر قابض ہونے سے بچایاگیا ۔۔

یہ سلطان علاوالدین خلجی کی دور اندیشی ہی تھی جس کے ثمرات آج بھارت کے عوام کھا رہے ہیں ۔۔ اب آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ منگول ہندوستان کے لئے اتنا بڑا تاریخی خطرہ کیسے تھے ۔۔ منگول انتہائی طاقتور اور خونخوار جنگجو تھے ، روسی حکمراں ہو ں یا فارسی سلطنت ۔۔کوئی ان کے عتاب سے بچ نہیں پاتا تھا ، جہاں جاتے تھے اپنے ظلم وستم کے قصے چھوڑ جاتے تھے ۔۔جنگ شروع ہونے کے بعد منگول اس علاقے میں کچھ باقی نہیں چھوڑتے تھے ، قیمتی سامان ، ٹیکنالوجی ، کتب ، عورتیں ، مرد ۔۔ سب کو نیست و نابود کر دیتے تھے ، منگول قوم کے وحشی پن کی وجہ سے انہیں ۔۔ اللہ کے عذاب ۔۔کے نام سے جانا جاتا تھا ، اگر علاوالدین خلجی کے دور حکومت میں منگول ہندوستان پر قبضہ کر جاتے تو آج کا ہندوستان ۔۔ آج سے کم وبیش دو سو سے تین سو سال پیچھے ہوتا ۔۔ ہندوستان کی تمام ثقافت تباہ کر دی جاتی ، ہر لائیبریری ، ہر مندر اور ہر اسکول زمین دوز کر دیا جاتا ۔۔ اس کی عظیم مثال شہر بغداد ہے ، ہلاکو خان نے جب بغداد پر قبضہ کیا تو پورے کے پورے شہر کو ملامیٹ کر دیا تھا ، عباسی دور کی تمام لائیبریوں کو ایسے برباد کیا کہ ان کا نام ونشان تک نہ چھوڑا ، کہا جاتا ہے کہ بغداد کی مرکزی ندی میں لاکھوں کتابیں جلا کرپھینکنے کی وجہ سے ندی کے پانی کا رنگ سیاہ اور سڑکوں پر انسانی خون کئی ہفتوں تک بہتا دکھائی دیتا رہا ۔۔ ان منگولوں کے حملوں کا اگر درست جواب دیا تو سلطان علاوالدین خلجی اور ان کے سپہ سالاروں نے دیا ۔۔جنہوں نے دوبارہ پلٹ کر ہندوستان کی جانب پیش قدمی کی ہمت تک نہیں کی۔۔ اور ایسا شخص پدماوتی کے عشق میں اتنا فریفتہ ہو سکتا ہے یہ مسلم مورخین سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا حل کیا ہے؟-رضوان احمد غلزئی

سنجے لیلا بھنسالی نے یہ فلم ایک تاریخی نظم سے متاثر ہو کر بنائی ہے جس کا ماخذہی متنازع ہے ۔۔ آج ہم یہ بات نہیں کر رہے کہ کس نے مندر پر مسجد تعمیر کی ۔۔ بلکہ آج ہم ہندوستان میں جس ثقافت کو دیکھ رہے ہیں اس کا سہرا سلطان علاوالدین خلجی کے سر جاتا ہے ۔۔اور آج کی بھارت ماتا کے سپوت سنجے لیلا بھنسالی ۔۔اپنی اس رومانوی تخلیق ۔۔ پدماوت ۔۔ میں ایک لمحے کے لئے بھی ہندوستان کے محسن سلطان علاو الدین خلجی کے ہندوستان پر احسانات کے معترف دکھائی نہیں دئیے۔۔ کسی ایک سیکنڈ میں علاوالدین کے کردار کو مثبت نہیں دکھایا گیا ۔۔سونے پہ سہاگہ ہمار ا سینسر بورڈ اور ہماری سینما ایسوسی ایشنز ۔۔ جو دھن کی لگن میں اندھا دھند اس فلم کی نمائش پہ نمائش کئے جارہے ہیں کہ جس کی نمائش پر خود بھارت کے کئی شہروں اور کئی مسلم ممالک میں پابندی عائد ہے ۔۔

شاید ہم انٹرٹینمنٹ اور گانے بجانے کی آڑ میں اتنے محو ہوچکے ہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کی تواریخ اوران کے کرداروں میں کوئی دلچسبی نہیں ورنہ اور نہیں تو ہماری عدلیہ پپی کیس کے ملزم پر جگتیں مارنے کی بجائے اس فلم کی نمائش پر پابندی کا ضرور سوچتی جو درحقیقت ہندوستان کی مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی بھونڈی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔۔ آپ سب قارئین سے بھی التماس ہے کہ پدماوت دیکھنی ہے تو ضرور دیکھئے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ سلطان علاوالدین خلجی وہ نہیں تھے ۔۔جوایک ہندوتوا پرست ، جانبدار اور تاریخ کے قاتل ہدایتکار ۔۔سنجے لیلا بھنسالی نے دکھایا ہے۔۔۔

Comments

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی گزشتہ پندرہ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماء، ڈان نیوز، ایکسپریس، آج نیوز سے بطور اینکرپرسن وابستہ رہے ہیں۔ آج کل نیو ٹی وی کے ساتھ منسلک ہیں اور معروف پروگرام "حرف راز" کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تین کتابوں کی مصنف ہیں۔ شاعری اور نثر پر عبور ورثے میں ملا ہے۔ بطور کالم نگار پانچ سال سے نوائے وقت کراچی سے وابستہ رہے۔ آج کل روزنامہ نئی بات کے لیے کنٹرول روم کے عنوان سے لکھتے ہیں اور دلیل کے لیے بھی خصوصی طور پر لکھ رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.