رحمٰن کیانی - حبیب الرحمٰن

ایوب خان کا دور حکومت تھا، یہ وہ زمانہ تھا جب سوشل ازم اور کمیونزم کا چرچہ تھا، ایوب خان صاحب کا جھکاؤکسی حد تک چین کی جانب تھا، پاک چین دوستی کی باتیں ہر محفل کی زینت تھیں، مخالف اور موافق، دونوں ہی فریق گفتگو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ اس وقت چین اور روس کی قربت کا مطلب سوشل ازم یا کمیونزم کی حمایت ہی سمجھا جاتا تھا اس لیے اکثر ایسی بحث و تمحیص تلخیوں میں بدل جایا کرتی تھی اور بعض اوقات بات چیخ و پکار سے آگے بھی نکل جاتی۔ جب بھی جلسے جلوس نکلتے، کوئی ”ایشیا سبز ہے“ کا نعرہ بلند کرتا گزر جاتا اور کوئی ”ایشیا سرخ ہے“ کا نعرہ بلند کرتا گزر جاتا۔ معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا، ادیب ہوں، شاعر ہوں، ڈرامہ نگار ہوں، سیاسی پارٹیاں ہوں یا ان کے رہنما، الغرض زندگی سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی شعبہ ہائے زندگی ہو سکتے ہیں وہ یا تو ”سرخے“ کہلاتے تھے یا ”سبزے“۔ ادبی محافل ہوں یا مشاعرے، ان میں بھی یہی دو رنگ بہت نمایاں نظر آتے تھے، ادیب اور شعرا واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔ دائیں بازو والے کہیں، ایشیا کو سبزہے، کہنے اور سمجھنے والا کہیں یا اسلام پسند کہیں، اس قبیل کے ایک مشہور شاعر کا نام ”رحمٰن کیانی“ بھی تھا۔

رحمٰن کیانی کو میں نے بہت قریب سے دیکھا بھی ہے اور ان کو سنا بھی ہے، ایک نہایت سادہ انسان تھے، کھلتا ہوا رنگ، کسرتی جسم، مسکراتا چہرہ اور نہایت سادہ لباس میں ملبوس ایک پر وقار شخصیت کے حامل انسان تھے، ان کے ایک بھائی ریحان سے میری دوستی تھی اور یہ دور وہ تھا جب میں سیکنڈری گوئنگ طالب علم تھا، گھر ہمارے گھر سے قریب ہی تھا اس لیے اکثر ریحان کے ساتھ میں ان کے گھر بھی چلاجاتاتھا۔

اس زمانے میں رحمٰن کیانی پاک فضائیہ میں سارجنٹ کے عہدے پر ہوا کرتے تھے اور ایک سپاہی ہونے کے باوجود اتنی اچھی شاعری کرنا، میرے لیے یہ بات بہت ہی کشش رکھتی تھی اسی لیے میں کوشش کرتا تھا کہ جن جن مشاعروں میں ان کی شرکت متوقع ہو میں ان کو سننے کے لیے ضرور جاؤں۔

رحمٰن کیانی کا نام اس وقت بہت عروج پر پہنچا جب 1965ء کی جنگ کے بعد ان کی ولولہ انگیز نظموں نے مشاعروں کے شرکا کو گرما کر رکھ دیا، انھوں نے اپنی نظموں میں پاک فضائیہ اور بری افواج کے کارناموں کو جس طرح سمویا اور الفاظ کے خوبصورت موتیوں سے اپنے اشعار کو مزین کیا یہ ان کا ہی حصہ ہے اور یہی چیز ان کی شاعری کو اتنا منفرد کر گئی کہ ان کو اردو ادب کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

رحمٰن کیانی کی نظمیں مرصع تو ہوتی ہی تھیں مگر ہوتی بہت طویل تھیں، اپنی نظمیں وہ تحت اللفظی میں پڑھا کرتے تھے لیکن انداز اس قدر دلکش ہوتا کہ مشاعرے کا ہر شریک محو ہو کر رہ جاتا۔ وہ عام شعراکی طرح بیٹھ کر کبھی اپنا کلام نہیں سناتے تھے، وہ کھڑے ہوکر پورے ایکشن کے ساتھ اپنا کلام سنایا کرتے تھے، پیر کے پنجوں سے لیکر جسم کا ہر ہر عضو لفظوں کے اتار چڑھاؤکی تصویر بن جایا کرتا تھا، اپنے کلام کے حافظ تھے اور اپنی یاداشت میں شاید ہی کوئی ثانی رکھتے ہوں، شرکاء کے شوق کا عالم یہ ہوتاکہ طویل طویل نظمیں سننے کے باوجود ان کی فرمائشیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مطالعہ اور کتابیں - محمد عامر خاکوانی

کلام کی روانی، موقع اور ماحول کے مطابق لفظوں کا چناؤاور اٹھان، ان کی شاعری کا خاصہ ہیں، وہ جس ماحول کی عکاسی کرنا چاہتے، الفاظ خود بخود انہیں سانچوں میں ڈھل جایا کرتے تھے۔

پڑھتے نہیں ہیں بھول کر اللہ کی کتاب

ہوتے نہیں ہیں چشمہ زم زم سے فیضیاب

مغرب کے میکدوں کی چڑھائے ہوئے شراب

اس درجہ ہوچکے ہیں مسلمان اب خراب

سڑکوں پے ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی

اور تالیاں بجاتی ہے امت رسول کی

اب قارئین ایک اور رخ بھی ملاحظہ فرمائیں

آگے بڑھی جو فوج خداوند ذوالجلال

پایا زمیں نے اوج فلک ہو کے پائیمال

پنجہ کہیں ٹکا تو بنی بدر کی مثال

ایڑی جہاں جما کے رکھی بن گیا ہلال

ٹھوکر اگر لگی تو شرارے بکھر گئے

قدموں پے غازیوں کے ستارے بکھر گئے

عام گفتگو یا تقریرو تحریر کے ذریعے کسی بھی منظر کی تصویر کشی اس طرح کرنا جیسے قاری اس کو اپنی چشم حقیقت سے دیکھ رہا ہو، شاید اتنا دشوار نہ ہو جتنا دشوار تر اشعار کے ذریعے کسی منظر کی تصویر کشی کرنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شعرا نے اس حق کو خوب خوب نبھایا ہے اور خاص طور سے ان شعرا نے جن کی پہچان ان کی نظمیں ہیں۔ رحمٰن کیانی ایسے تمام شعرا سے کسی بھی طور پیچھے نہیں، وہ ایک سپاہی تھے اس لیے انھوں نے جن جن ہوائی یا بری مناظر کو عملاً یا چشم بیناسے دیکھا ان کی ایسی ایسی منظر کشی کی جس کی مثال مشکل ہی سے مل سکتی ہے۔ مثلاً وہ ایک ایسے وقت کی منظر کشی کر رہے ہیں جب دشمن کی فضائیہ پاک دھر تی پر حملہ آور ہونی والی ہے اور خطرے کے بگل چیخ اٹھے ہیں تو ہماری فضائیہ کی جانب سے کیا رد عمل ہونے جارہا ہے، ملاحظہ کیجیے۔

یہ سنا اور فوراً لپکتے ہوئے

دو جواں سال شہباز اپنے بڑھے

ایک لمحہ گزرنے نہ پایا کہ وہ

تھے جہازوں کی ہودوں میں بیٹھے ہوئے

اک اشارہ کیا اور چنگھاڑ کر

انجن ان کے جہازوں کے منھ پھاڑ کر

سامنے کی ہوا نگلنے لگے

سرخ شعلے زمیں پر اگلنے لگے

روک ان کی ہٹائی گئی تھی کہ بس

اژدہوں کی طرح پھنپھناتے ہوئے

اپنی ہر سانس میں گرد کی اک گھٹا

آسماں تک زمیں سے اڑاتے ہوئے

آندھیوں کی طرح عاجلانہ چلے

بجلیوں کی طرح قہرمانہ چلے

آگے پیچھے یہ اڑنے کے میدان تک

جاکے پہنچے تو پھر سے گرجنے لگے

اس قدر زور سے اس قدر شور سے

جیسے آتش فشاں کا دہانہ کھلے

اور دیوار و در کو ہلاتے ہوئے

دندناتے ہوئے سنسناتے ہوئے

آگے پیچھے اڑے پر سے پر جوڑ کر

یہ بھی پڑھیں:   نعیم صدیقی کا ادبی مقام - حبیب الرحمٰن

صاف نیلی فضا میں زمیں چھوڑ کر

اس سے پہلے کہ دشمن پہنچتا یہاں

یہ ہواؤں میں چکر لگاتے ہوئے

اٹھ گئے اتنے اونچے فضا میں کہ بس

دو ستارے کہوں ٹمٹماتے ہوئے

گھٹ کے جگنوں بنے دور جب ہوگئے

آنکھ جھپکی تو وہ بھی کہیں کھو گئے

خطِ تبخیر کا اک نشاں چھوڑ کر

دودھیا رنگ کا کچھ دھواں چھوڑ کر

ایک اور مقام پر فضائی حملے کے دوران ہوائی جہازوں سے ہونے والی گولیوں کی بارش کی منظر کشی وہ کچھ اس دلکش انداز می کرتے نظر آتے ہیں

گولیاں جیسے جاڑوں کی برسات میں

تڑ تڑا تے ہوئے خشک اولے پڑیں

آسماں سے زمیں پر برستی ہوئیں

خشک برسات میں جیسے بوندیں پڑیں

گر کے دھنستی ہوئیں اور پھٹتی ہوئیں

یا اچٹ کر فضا میں چٹکتی ہوئیں

چاند تارے زمیں پر بنا تی ہوئیں

خشک مٹی سے لوکے اٹھاتی ہوئیں

کسی فلسفیانہ استدلال کو شعروں کی زبان دینا اور پھر اس بات کو دل و دماغ کے پور پور میں اتار دینا یقیناً ایک بہت دقت طلب کام ہے۔ رحمٰن کیانی نے اپنی شاعری میں اس کو جس خوبی سے نبھایا ہے اس کا جواب نہیں۔ ملاحظہ فرمائیے

ایک تلوار سے پتھروں کا

کبھی کچھ بگڑتا نہیں

بلکہ تلوار ہی ٹوٹ جاتی ہے

زخم مکافات سے چھوٹ جاتی ہے

خود ظلم کے ہاتھ سے

لیکن انسان پر ظلم کے ہاتھ کو روکنا فرض ہے

موڑنا فرض ہے

ایک ظالم کے ہاتھوں سے تلوار کو چھیننا فرض ہے

توڑنا فرض ہے

اس سے پہلے کہ وہ اپنی حد سے بڑھے

ہم پہ لازم ہے امن و اماں کے لیے

اس کے سینے میں سنگین ہم بھونک دیں

جنگ کی آگ میں خود اسے جھونک دیں

بس اسی واسطے اپنے شاہیں بچے

گھونسلے کرگسوں کے اجاڑ آئے تھے

اپنے خونخوار پنجوں سے منھ نوچ کر

جنگ بازوں کے حلیے بگاڑ آئے تھے

رحمٰن کیانی کو صرف نظم کا شاعر کہنا زیادتی ہوگی، اس وقت کے ماحول نے بے شک ان کو نظمیں کہنے پر ضرور راغب کیا ہوگا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی نظمیں نہ صرف ان کی پہچان بنیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کو شہرت کے اوج ثریا کی بلندی سے بھی بلند تر کرگئیں لیکن ان کی غزلیں بھی عام روش اور عامیانہ مضامین سے ہٹ کر تھیں، ان کی لازوال نظمیں اور پھر ان کی دلنشینی نے شرکائے مشاعرہ کے دل میں اس خواہش کو کبھی ابھرنے ہی نہیں دیا کہ وہ ان سے غزلوں کی فرمائش کریں اور اگر وہ خود بھی ایسا کرنا چاہتے تو شاید سامعین ان کو ایسا کرنے سے روک دیتے۔

ان کی غزل کے صرف تین اشعار پیش خدمت ہیں جن سے ان کے منفرد انداز فکر کا پتہ چلتا ہے۔

عقل قدِ کوتاہ سے اپنے رکھتی ہے معیار بلند

منبر سے محراب کو اونچا مسجد سے مینار بلند

جو اپنے گھر کے دریچے بھی بند رکھتے ہیں

سنا گیا ہے دلِ درد مند رکھتے ہیں

ہمارا کیا ہے کہ ہم بد نصیب آئینے

نہ اپنا ذوق نہ اپنی پسند رکھتے ہیں