جلوۂ طور تو موجود ہے - رومانہ گوندل

’’(اے محمد ﷺ) اللہ کی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم دل ہو ئے۔ اور اگر آپ بد خو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کر دو اور ان کے لیے مغفرت مانگوــ‘‘ (سورہ آل عمران)

اس دنیا میں آنے والے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے دین ِ اسلام کی تبلیغ کا کام کیا۔ جن کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا اور پھر قیامت تک کے لیے نبی ﷺ ؐکی تعلیمات، اخلاق اور کردار کو نمونہ بنا دیا گیا۔ نبیﷺ جیسی کامل ہستی اس دنیا میں اور کوئی نہیں آئی اور صحابہ کی جیسی عقیدت نبی ﷺ کے ساتھ تھی اس کی بھی دنیا میں کوئی دوسری مثال نہیں۔ کیونکہ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو ہی ایسا تھا جس سے دوسرے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے پوری شخصیت میں سے خاص طور پہ جس چیز کا ذکر کیا وہ نرم دلی ہے۔ اگر آپ ﷺ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ دُور بھاگتے تو پھر نصحیت کیسے قبول کرتے؟

انبیاء کی وراثت علم ہے جس کے وارث ہمارے مذہبی سکالر بنے کیونکہ علم پھیلانے کی ذمہ داری ان پر ہے اور علم پھیلانے کے لیے پہلا قدم لوگوں کو اپنے قریب کرنا ہے۔ نرم دلی اور خوش اخلاقی ایسی چیز ہے جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے لیکن آج کل لوگ مذہب اور مذہبی لوگوں سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ وراثت سنبھلانے والوں نے بس علم لیا ہے نرم دلی اور معاف کرنا نہیں سیکھا لیکن انہوں نے غصہ، فتوے اور اپنے علاوہ دنیا کے ہر انسان کو گناہ گار سمجھنا سیکھ لیا۔

مذہبی لوگ بھی تجزیہ نگار بن گئے ہیں۔ کوئی گناہ کا اقرار کرلے تو وہ اس سے نکلنے کا طریقہ نہیں بتاتے بلکہ سارا زور یہ احساس دلانے میں لگا دیتے ہیں کہ سامنے والا کتنا گناہگار ہے اور وہ پارسا لوگ گناہوں سے کتنی نفرت کرتے ہیں اور پھر دوسروں کے گناہوں کے تذکرے سر عام کرتے ہیں اور اپنی پاک دامنی کے قصے سنا تے ہیں۔ جیسے لوگوں کو یہ احساس دے رہے ہوں کہ ان کی طرح بننا یا گناہوں سے نکلنا نا ممکن ہے۔ اس طرح سے معاشرے ٹھیک نہیں ہوتے۔

قرآن میں نماز اور روزے میں کتنی آیات اتریں، وہ گنی جا سکتی ہیں لیکن ان احکامات کے علاوہ باقی سارا قرآن کیا سکھا رہا ہے اس پہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ باقی قرآن معاشرت سکھاتا ہے رویے کی تربیت دیتا ہے۔ قرآن میں نماز کا حکم ہے لیکن طریقہ نہیں بتایا گیا لیکن اخلاق کی اتنی تربیت کی گئی کہ سورہ مجادلہ میں محفل میں بیٹھ کے سرگوشی تک سے منع کیا گیا کیونکہ یہ پاس بیٹھے لوگوں کی دل آزاری کا سبب بنے گا۔ دو لوگ یہ کام کر رہے ہیں تو تیسرا پاس بیٹھا کئی طرح کے وسوسوں کا شکار ہو گا۔ دوسرا حکم محفل میں آنے والوں کو بیٹھنے کی جگہ دینے کا ہے۔ یہ کام ہماری نظر میں معمولی ہیں۔

لیکن اللہ رب العزت نے ان کو اتنی اہمیت دی ہے کہ قرآن جیسی عظیم کتاب میں جو قیامت تک کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہے، اس میں نماز کا طریقہ نہیں بتایا جو اس ذات پاک کی اپنی عبادت ہے۔ لیکن اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کی۔ کیونکہ اللہ رب العزت جانتے ہیں کہ لوگ نماز کا طریقہ سیکھ لیں گے لیکن یہ چھوٹی چھوٹی باتیں نظر انداز کریں گے جس سے آ پس کے تعلقات بگڑیں گئے جو گھروں اور معا شروں کو تباہ کر دیں گئے۔

بے شک نماز دین کا ستون ہے جو ہر حال میں، ہر جگہ فرض ہے کیونکہ نماز استقامت کا سبق ہے اور وہ سبق نظر آنا چاہیے رویوں میں کیونکہ رویے تبلیغ کرتے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال نبی ﷺ کی ہے۔ جب روزانہ کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کے گھر عیادت کے لیے پیغمبر ﷺ تشریف لے جائیں تو وہاں اور کس تبلیغ کی ضرورت ہے؟ وہ تو خود بخود کلمہ ہی پڑھے گی۔ جادوگر کے خوف سے مکہ چھوڑ کے جانے والی عورت کا سامان محمد ﷺ خود چھوڑ آئیں تو اس عورت کے دل سے خوف اور وسوسے نہیں بلکہ کلمہ ہی نکلے گا۔

ہمارے آج کے مبلغ کو بھی تھوڑا سا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی سی نرمی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ایک آدمی، ایک بزرگ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نماز پڑھتا تو باقاعدگی سے ہوں لیکن مجھے نماز میں مزا نہیں آتا۔ بزرگ جواب میں کہنے لگے پھر تو بہت خوش قسمت ہو۔ آدمی حیران ہو ا کہ مجھے نماز میں مزا نہیں آتا اور آپ کہہ رہے کہ میں خوش قسمت ہوں۔ بزرگ نے جواب دیا کہ خوش قسمت اس لیے ہو کہ جس کو نماز میں مزا آئے وہ تو مزے کے لیے نماز پڑھتا ہے لیکن تمہیں مزا نہیں آتا پھر بھی پڑھتے ہو کیونکہ تم نماز مزے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے لیے پڑھتے ہو۔ جب دین دار لوگ ایسا رویہ رکھیں گے تو لوگ یقیننا نہ ان سے دور بھاگیں گے اور نہ دین سے۔

تھوڑی سی نرمی، تھوڑی سی پردہ پوشی کسی گرتے ہوئے کو سہارا دے سکتی ہے جس کی اس وقت ہمیں سخت ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری صرف مذہبی لوگوں کی نہیں، ہم سب کی ہے۔ لیکن ہم کیا کر رہے ہیں پہلے ایک لڑکی کو قندیل بلوچ بناتے ہیں پھر غیرت کے نام پہ اس کا قتل کرواتے اور پھر اس پہ ڈرامے بنا کے اسے مدر ٹریسا ثابت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن کسی زندہ انسان کو سہارا دینے اور نرمی سے راستہ دکھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ جس کی تعلیم ہمارا دین دیتا ہے

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں

جلوۂ طور تو موجود ہے، موسی ہی نہیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com