گھروں میں نوکرانی کلچر - بشارت حمید

آج سے بیس تیس سال پہلے عورتیں گھروں کے تمام کام خود کیا کرتی تھیں۔ جھاڑو دینے وائپر لگانے جھاڑپونچھ کرنے سے لے کر گندم کی صفائی آٹا پسوانے کھانا پکانے برتن دھونے اور سب گھروالوں کے کپڑے نلکے پر بیٹھ کر ہاتھوں‌سے دھونے تک سب کام خود اپنے ہاتھوں‌سے سرانجام دیئے جاتے تھے۔ ایک تو اپنے میعار کے مطابق سب کام ہو جاتے تھے دوسرا سب سے بڑا فائدہ خواتین ایکٹیو رہتی تھیں اور صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ موٹاپے سے بھی بچی رہتی تھیں۔ تب لوگوں کے پاس پیسہ بھی اتناعام نہیں تھا اور لوگ اکثر کام خود ہی کیا کرتے تھے۔ جیسے جیسے دور تبدیل ہو کر جدت کی طرف آیا تو ٹیکنالوجی کی آمد کے ساتھ لوگ سہل پسندی کا شکار ہوتے گئے۔ گھروں میں نوکر یا ملازم رکھنے کا رواج صرف معاشرے کے بالائی طبقے تک ہی ہوتا تھا جو دیکھا دیکھی متوسط طبقے میں بھی سرایت کرتا گیا۔ اور اب جن کے پاس چار پیسے ہیں وہ گھر میں کام کرنے کے لئے ملازمہ ضرور رکھتے ہیں کہ اب یہ بھی ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جہاں کوئی شدید ضرورت یا مجبوری کی حالت ہو میں انکی بات نہیں کر رہا بلکہ جو لوگ خواہ مخواہ اس کلچر کو اپنا رہے ہیں وہ میرے مخاطب ہیں۔

گھر کے کام خود کرنے سے خاتون خانہ ذہنی اور جسمانی طور پر مصروف ہو جاتی ہے وہی کام اگر نوکرانی کرنے آئے تو ایک مسئلہ اس کی نگرانی کرنے کا ہے دوسرا اس سے اپنے مطلوبہ میعار کے مطابق کام کروانے کا ہے۔ اکثر ایسی کام والی عورتیں صفائی ستھرائی کے بارے زیادہ حساس نہیں ہوتیں۔ گھر میں جھاڑو دے کر کوڑا کرکٹ باہر کوڑے دان میں پھینکنے کی بجائے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سیوریج لائن کی جالی اٹھا کر اس میں بہا دیا جائے جس کے نتیجے میں سیوریج لائن کچھ عرصہ بعد بلاک ہو کر دیگر مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ یہ کام والیاں ایک گھر کی باتیں دوسرے گھر جا کر بتاتی رہتی ہیں جن میں آدھا سچ اور باقی مرچ مصالحہ اپنی طرف سے شامل کیا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کے آپس کے تعلقات بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ پھر کئی خواتین ان کے ذریعے دوسرے گھروں کی جاسوسی بھی کرواتی ہیں

یہ کام والی عورتیں ہر وقت ایک سیکورٹی رسک بھی بنی رہتی ہیں، وہ گھر کے راز بھی جان لیتی ہیں اور گھروں میں ہونی والی کئی وارداتوں میں بھی ملوث پائی جاتی ہیں۔ گھروں میں مرد حضرات کے سامنے خلوت میں انکی موجودگی شرعی لحاظ سے بھی درست نہیں کیونکہ کسی وقت بھی شیطان اپنا کام دکھا سکتا ہے اور کئی لوگ گھر میں کام والیوں کے ساتھ عشق فرمانے لگتے ہیں۔ جن گھروں میں کام والیاں رکھی ہوتی ہیں ان گھروں کی خواتین جب سوسائیٹی میں دوسری خواتین سے ملتی ہیں تو اپنی اپنی کام والی کی برائیاں بیان کرنا ان کا ایک محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔ خود تو سارا دن بیٹھ کر سٹار پلس دیکھ لیا یا فون پر گپیں لگا لیں یا شاپنگ کرنے نکل گئیں اور پارلر کے چکر لگا لئے لیکن گھر کے کام کو ہاتھ لگانے سے توہین ہوتی ہے یہ بہت غلط رویہ ہے۔ آج کل کی مائیں بھی بچپن سے بچیوں کی گھر کے کام کاج کے حوالے سے تربیت نہیں کرتیں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ جب گھر میں کھانا پکانے کپڑے دھونے صفائی کرنے اور دیگر کاموں کے لئے ملازم رکھے ہوں گے تو اگلی نسل کیسے یہ کام خود کرنا پسند کرے گی۔ جس دن کام والی کی چھٹی ہو اس دن گھر بے ترتیبی کا نمونہ بنا رہتا ہے اور خاتون خانہ ہر آنے والے کے سامنے کام والی کا شکوہ کرتے ہوئے ساری ذمہ داری اسی پر ڈال دیتی ہیں جیسے خود صفائی کر لی تو توہین ہو جائے گی۔

جو لوگ امریکہ یا یورپ کا سفر کر چکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں ہمارے معاشرے کہ طرح نوکرانیاں رکھنے کا رواج نہیں ہے وہ لوگ سارے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں اور حضور صل اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی یہی ہے کہ اپنا کام خود کیا جائے۔ لیکن ہم تو وہ لوگ ہیں جو باتھ روم گندا کرکے بھی دوسروں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ کوئی اور ہی آ کر اسے صاف کرے۔ اگر ہم اپنا کام خود کرنے کی عادت اپنا لیں‌تو زندگی میں ترتیب اور سکون میسر ہو جائے گا۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں