دانتوں کا ماورائے علاج قتل بند کریں - قسمت خان زمری

یہ اسلام آباد میں واقع ایک بڑے نجی ڈینٹل اسپتال کا او پی ڈی روم تھا، جس میں بہت سارے ڈاکٹرز مل کر اپنی ایک ساتھی ڈاکٹر کی گود میں موجود بچے کو بہلا رہے تھے۔ درد کی وجہ سے اکثر مریضوں کے گال پر ہاتھ تھے، مگر ڈاکٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس معصوم بچے سے زیادہ شور مچایا جائے۔ ہم نے اس ساری صورتحال میں شیخ سعدی کی اس کہاوت کا سہارا لینے کی کوشش کی، جس میں اپنے سے بدحال دوسروں کو دیکھ کر شکر بجا لانے کا درس دیا گیا ہے۔ ہم نے بھی خود سے زیادہ تکلیف میں موجود مریضوں کو دیکھ کر اپنا درد کم کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔درد کی ناقابل برداشت لہریں اٹھ رہی تھیں۔ آخر ایک لیڈی ڈاکٹر کو ہم پہ ترس آیا، اور اس نے ہماری تکلیف کا نوٹس لے لیا۔ میں نے اسے ریسپشن سے ملنے والا کاغذ تھما دیا۔پھر ہمارے دانتوں کا معائنہ شروع ہوگیا۔

"جی تو قسمت خان صاحب، بتائیں آپ کو کیا تکلیف ہے؟"جواب میں ہم نے اپنی درد بھری صورتحال سنا دی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے طبی آلات سے ہمارے منہ کا معائنہ کیا۔ ہماری جانب سے درد کا باعث بننے والے "جرنیلی دانت" کی نشاندہی کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ ایک ایک دانت پر ایک "ہتھوڑے نما بونے اوزار" (ہمارے لیے اس بونے اوزار کا وار ہتھوڑے جیسا ہی تھا) سے وار کرتیں اور پوچھتیں "کیا اسی دانت میں درد ہو رہا ہے؟" ہمارا جواب اثبات میں ہوتا کیونکہ "بونے ہتھوڑے" کے وار سے باقی امن پسند دانت بھی، جو واضح اکثریت میں تھے، درد پیدا کرنے والے " جرنیلی دانت" کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجاتے۔

خیر، ایک ایک کرکے سب دانتوں کا پرتشدد معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ نے اعلان کیا کہ آپ کی عقل داڑھ نکالی جائے گی، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ آپ یہ ایکسرے کروا لائیں، میں وہ دیکھ کر مزید بتاؤں گی۔ " اس کے ساتھ اس نے ان دانتوں کی نشاندہی کے لیے جن کا ایکسرے ہونا تھا،جمع(+) کا نشان بنایا اور اس نشان کے بائیں طرف والے نچلے حصے میں 6، 7، 8 لکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   دانتوں پر ٹھنڈا یا گرم لگنے کی وجہ جانتے ہیں؟

میں 15 منٹ بعد دانتوں کا ایکسرے کروا کر او پی ڈی واپس آیا تو جس ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا وہ جاچکی تھیں۔ اب ایک اور ڈاکٹر کو ایکسرے دکھانا چاہا، تو اس نے کہا ہماری چھٹی کا وقت ہوگیا ہے۔آپ 3 بجے کے بعد دوبارہ آسکتے ہیں اور مجھے بتا دیا کہ تین سے چھ کے درمیان آپ نے فلاں روم میں جانا ہے۔

پھر میں اپنے آفس چلا گیا جو اس اسپتال سے 15 منٹ کی دوری پر ہے۔آفس میں مجھے محمد مالک صاحب کے ریسرچر مجاہد خٹک صاحب ملے۔انہیں اپنی تکلیف کے متعلق بتایا تو انہوں نے تسلی دی اور دانتوں کی تکلیف بارے اپنے تجربات شیئر کیے۔میں ایک بار پھر آفس سے ساڑھے تین بجے اسپتال پہنچ گیا۔

وہاں موجود ڈاکٹرز کو صبح والی صورتحال بتائی اور ایکسرے دکھایا۔ ایک ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور مزید ہولناک انکشافات کر ڈالے۔ محترمہ بولیں "بہت ہی نازک صورتحال ہے، سرجیکل ایکسٹریکشن کریں گے اور عقل داڑھ نکالیں گے ، اس کے علاوہ ایک دانت کی روٹ کینال ہوگی۔مسوڑھوں کی بھی سرجری ہوگی۔" میں مزید پریشان ہو گیا کہ ایک رات کے درد نے نوبت یہاں تک پہنچا دی ہے۔

یہ ڈاکٹرز ایسے بتا رہے تھے جیسے پاکستانی جمہوریت کی طرح منہ کا پورا سسٹم خطرے میں ہے۔میں پہلے ہی غریقِ درد تھا اور ایک ہی اسپتال کے ڈاکٹر ایک ہی معاملہ پر ایک دوسرے سے مختلف رائے دے رہے تھے۔یہ پریشان کن بات تھی۔ انہوں نے میری پریشانی اور تکلیف میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ جو بھی ڈاکٹر منہ کا معائنہ کرتا مسائل کی فہرست میں کم از کم ایک مسئلہ کا اضافہ کرنا اپنا فرض سمجھتا۔

اتنے میں ان سب ڈاکٹر صاحبان کے سینئر نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ہم سے ہماری دردناک صورتحال کی تفصلات طلب کیں اور ہمارا ایک اور تفصیلی معائنہ شروع کر دیا۔ان کا ازخود نوٹس میرے لیے تسلی کا باعث یوں تھا کہ انہوں نے کہا "ابھی اس مریض کے دانتوں کا علاج آخری اسٹیج سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق ہمیں صرف دانتوں کی صفائی (scaling) کی ضرورت ہے۔اس کے بعد دیکھیں گے کہ عقل داڑھ نکالنے کی ضرورت رہتی ہے یا نہیں،لیکن فی الحال صفائی کی ضرورت ہے عقل داڑھ نکالنے کی نہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   دانت کے درد سے نجات کا گھریلو ٹوٹکا

اگر یہ صاحب ازخود مداخلت نہ کرتے تو طب کے شعبہ کے راؤ انوار ہمارے دانتوں کا ماورائے علاج قتل کر چکے ہوتے۔خیرمیں نے وہاں سے دانتوں کی صفائی اسکیلنگ کرائی، اسکیلنگ دانتوں سے زیادہ زبان اور جبڑوں کی ہوئی،زبان اور جبڑے ناحق مارے گئے،جبکہ ’’جرنیلی دانت ‘‘ اسکیلنگ کے بعد مزید بپھر گیا۔ اس اسکیلنگ نے میرے دانتوں کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا لیکن تربیتی ڈاکٹر کو تجربہ میں اضافے کا فائدہ ضرور پہنچا۔

صبح ایک بار پھر درد نے جگایا اور منہ میں کل کے "تجرباتی علاج"کے بعد سوجن سے ایک "روڑی" سی بن چکی ہے۔ بہت تگ و دو کے بعد دوبارہ ایک مستند ڈاکٹر کا سراغ ملا جس نے دانتوں کے معائنہ کے بعد میڈیسن سے علاج تجویز کیا ہے۔ان کے مطابق دانت نکالنے والا کام آخری مرحلہ پر، جب دوائیں ناکام ہوجائیں اور کوئی چارہ نہ رہے، تب کیا جاتا ہے۔

یہ سب میں اس لیے تحریر کررہا ہوں کہ میں ان معزز ڈاکٹروں کے پاس اپنی تکلیف کم کرانے گیا تھا مگر وہاں مجھ پر تجربے کیے گئے۔ مجھے زندگی میں پہلی بار دانت کی تکلیف ہوئی اور ڈاکٹرز میرے دانت نکالنے پر تل گئے۔ جو کام میڈیسن سے ہوسکتا تھا اس کے لیے سرجری تجویز کی گئی۔ طب ایک مقدس پیشہ ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ طب کے راؤ انواروں سے بھرا پڑا ہے۔ دانتوں کی صفائی جیسا انتہائی نازک کام ناتجربہ کاروں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ ایک درد سے کراہتا مریض اپنی تکلیف کم کرانے کے لیے اپنے مسیحا کے ہر مشورے پر اندھا دھند اعتماد کرتا ہے اور ہمارے مسیحا علاج کے کئی مرحلہ چھوڑ کر آخری مرحلہ سے علاج کرتے ہیں۔اس لیے سب سے گزارش ہے کہ طب کے راؤ انواروں سے بچیں۔