سوچیے اور امیر ہو جائیے (3) - شہاب رشید

پچھلی قسط

اپنے کاروبار میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر رہبری کی خصوصیات بھی ہوں اور یہ خصوصیات کیا ہیں؟ انتہائی اختصار سے پیش خدمت ہیں۔ ان خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں، ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، آپ ان کو پڑھ کر ہی سمجھ جائیں گے کہ یہ کیا ہیں؟ اور آپ میں کون سی خصوصیت کی کمی ہے جس پر آپ کو کام کرنا ہے اور جتنا جلد ہو سکے ان کو اپنی ذات کا حصہ بنا لینا ہے۔

۱۔خود اعتمادی

۲۔غیر متزلزل حوصلہ

۳۔ضبط نفس

۴۔منصف مزاجی یا عدل پسند

۵۔فیصلہ سازی کی اہلیت

۶۔معیّن اور واضح منصوبے

۷۔معاوضے سے زیادہ کام کرنے کی عادت

۸۔دل موہ لینے والی شخصیت

۹۔دل سوزی

۱۰۔جزئیات پر دسترس

۱۱۔مکمل ذمہ داری قبول کرنے پر آمادگی

۱۲۔تعاون

درج بالا خصوصیات کے علاوہ بھی کچھ خصوصیات ہو سکتی ہیں لیکن ایک رہبر کے اندر کم از کم بیان کردہ خوبیوں کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔اب ہم ناکام رہنے والے قائدین کی اہم خامیوں کا ذکر کریں گے اور ان کا جائزہ لیں گے۔کیا کرنا ہے کے ساتھ کیا نہیں کرنا سیکھنا بھی انتہائی اہم و ضروری ہے۔

قیادت میں ناکامی کے دس بڑے اسباب:

۱۔فرائض منصبی ادا کرنے اور منظم کرنے کی نااہلیت

۲۔ادنیٰ خدمت کرنے پر نارضامندی

۳۔اپنے کام کی بجائے اپنے علم کے معاوضے کی ٹوقع رکھنا

۴۔پیروکاروں کی جانب سے مقابلے کا خوف

۵۔تخیّل کا فقدان

۶۔خود غرضی

۷۔بے اعتدالی

۸۔بے وفائی

۹۔پیروکاروں کے دل میں خوف بٹھانا

۱۰۔خود کو پیروکاروں کا حاکم سمجھنا

کوئی بھی شخص اپنے اندر بیان کردہ خصوصیات پیدا کر کے اور ذکر کیے گئے قیادت میں ناکامی کے اسباب سے اجتناب کر کے ایک اچھا لیڈر بن سکتا ہے۔اگر آپ رہبری کے تمنائی ہیں تو اس فہرست کا بغور مطالعہ کریں اور اپنی ذات کا جائزہ لیں کہ ان میں سے کن باتوں پر آپ کو کام کرنا ہے۔ جن پر کام کرنے کی ضرور ت ہے ان کو الگ لکھ لیں اور کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں پر آپ کی نظر آسانی سے ان پر پڑتی رہے، کوشش کریں کہ ہر روز ان کا مطالعہ کریں تاکہ یہ آپ کے تحت الشعور کا حصہ بن جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی ذات ان خوبیوں سے آراستہ ہو اور خامیوں سے پاک ہو۔

ناکامی کی تیس بڑی وجوہات:

دنیا میں ناکام افراد کی تعداد کامیاب افراد کی نسبت بہت زیادہ ہے، اور ان افراد کی تعداد بھی کم نہیں جو کامیاب ہوناچاہتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ لوگ ناکام کیوں ہوتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ کوشش کر کے کامیاب ہو جاتے ہیں؟ ناکام افراد ایسا کیا کرتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہوتے اور کامیاب افراد ایسا کیا نہیں کرتے کہ کامیاب ہو جاتے ہیں؟

نپولین ہل کے تجزیاتی کام نے یہ ثابت کیا کہ ناکامی کی تیس بڑی وجوہات ہیں جن کو اختصا ر کے ساتھ بیان کر رہا ہوں۔اس فہرست کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر ایک ناکامی کے حوالے سے اپنی ذات کا تجزیہ کریں تا کہ آپ یہ جان سکیں کہ ان میں سے کتنی خرابیاں آپ اور کامیابی کی راہ میں حائل ہیں،ان خرابیوں کا بغور مطالعہ کریں اور کوشش کریں کہ جتنا جلد ہو سکے ان کو اپنی ذات سے دور کریں۔

۱۔ناموافق وراثتی پس منظر: جو لوگ جینیاتی کمزوری کی وجہ سے کمزور ذہن لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی اور معاشرتی نظام ایسا نہیں ہے کہ وہ ان کی اس کمزوری کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو۔اس لیے اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ماسٹر مائنڈ کا استعمال کیا جائے۔تاہم یہ بھی اہم ہے کہ تیس خرابیوں میں سے صرف یہی ایک خرابی ہے کہ جس کو دور کرنا آسان نہیں، باقی کی تما م خرابیوں کو آسانی سے درست کیا جا سکتا ہے۔

۲۔زندگی میں متعین مقصد کا فقدان: ہل نے اپنی زندگی میں جن افراد کا تجزیہ کیا ہے ہر سو میں سے 98 افراد کا کوئی معیّن مقصد نہ تھا۔اس سے آپ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زندگی میں متعین مقصد کا ہونا کس قدر ضروری ہے؟

۳۔ترقی کرنے کے عزم کی کمی: جو شخص 'ریٹ ریس 'سے نکلنے کی تمنا اور خواہش ہی نہ رکھتا ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ترقی ہمیشہ قیمت مانگتی ہے اور اگر آپ یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

۴۔ناکافی تعلیم : تعلیم محض علم نہیں بلکہ علم کے موثر اور تسلسل کے ساتھ اطلاق پر مشتمل ہے۔کسی بھی شخص کو محض جو وہ جانتا ہے کا معاوضہ نہیں دیا جاتا بلکہ جو وہ جانتا ہے کو کس طرح استعمال کرتا ہے کا پیسہ ملتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو پیسہ بنانے کے لیے استعمال کریں۔

۵۔خود ضبطی کا فقدان:ڈسپلن کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے نفس پر قابو پائیں۔اگر آپ نفس پر غلبہ حاصل نہیں کریں گے تونفس آپ پر غلبہ پا لے گا۔آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر آپ بیک وقت اپنے قریب ترین دوست اور اپنے سب سے بڑے دشمن کو دیکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

۶۔خرابی صحت:کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے، اگر آپ کی صحت خراب ہے تو سب بیکار ہے۔اس لیے خرابی صحت بھی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

۷۔بچپن میں ناموزوں ماحولیاتی اثرات:ہل کے مطابق مجرمانہ رجحانات رکھنے والے اکثر افراد میں یہ رجحان بچپن کے غلط ماحول اور برے دوستوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

۸۔کاہلی: ہم میں سے لوگوں کی اکثریت ہمیشہ کام کی ابتدا کرنے سے پہلے موزوں حالات کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یوں ہو جائے، ایسا ہو جائے، ویسا ہو جائے تو میں یہ کر پاؤں گا۔ اس لیے ہم زندگی بھر ناکام رہتے ہیں۔انتظار نہ کریں وقت کبھی موزوں نہیں ہو گا۔جہاں آپ ہیں اور جو کچھ بھی آپ کو دستیاب ہے اسی سے ابتدا کریں،چلتے چلتے بہتر چیزیں مل جائیں گی۔

۹۔استقامت کا فقدان:ہم میں سے اکثر ہوگ کام کا آغاز تو کر لیتے ہیں مگر جیسے ہی کسی پریشانی یا ناکامی کا سامنا کرتے ہیں تو مایوس ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ثابت قدمی سے اپنے کام پر ڈٹے رہنے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ناکامی استقامت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

۱۰۔منفی شخصیت یا کردار:منفی شخصیت یا کردار سے دوسروں کا تعاون حاصل نہیں ہوتا۔

۱۱۔جنسی خواہش کو قابو میں رکھنے کا فقدان: جنسی خواہش تمام محرکات میں سے سب سے زیادہ طاقتور محرک ہے جو لوگوں کو عمل پر ابھارتا ہے لہٰذا مقصد کے حصول کے لیے اسے کام میں لایا جا سکتا ہے۔

۱۲۔کچھ نہ کر کے بھی کچھ حاصل کرنے کی خواہش: ہر وہ کام جس میں کچھ نہ کر کے کچھ مل جانے کا لالچ ہو ہمیشہ تباہی کا باعث بنتا ہے جیسے کہ سٹاک مارکیٹ، سٹے بازی و جوا وغیرہ۔

۱۳۔فیصلہ کرنے کی واضح قوت کا فقدان:جتنا جلد فیصلہ کرنا ضروری ہے اس سے کئی زیادہ ضروری یہ ہے کہ آپ مناسب وقت آنے پر اور ضرورت پڑنے پر اپنے فیصلہ کو بتدریج تبدیل کرتے رہیں۔

۱۴۔کسی خدشے یا خوف کا لاحق ہونا:ہل کے مطابق انسان کو لاحق خدشات یا خوف چھ اقسام کے ہیں، جن کے ہوتے ہوئے کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔وہ درج ذیل ہیں:

1۔ غربت کا خوف۔2۔نکتہ چینی کا خوف۔3۔خرابی صحت کا خوف۔4۔محبت میں ناکامی کا خوف۔5۔بڑھاپے کا خوف۔6۔موت کا خوف

۱۵۔غلط شریک حیات کا چناؤ:اگر آپ یہ غلطی کر بیٹھے ہیں تو آپ ذہنی طور پر کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے،اور کامیابی کے لیے ذہنی سکون ضروری ہے۔

۱۶۔حد سے زیادہ احتیاط:ہل کے مطابق جو بندہ قسمت آزمائی نہیں کرتا یا خطرات مول نہیں لیتا اس کے ہاتھ وہ آتا ہے جو لوگ چننے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔

۱۷۔کاروباری شرکا کا غلط چناؤ:ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی ٹیم کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کر کریں۔

۱۸۔ضعیف الاعتقادی اور تعصب: یہ جہالت کی ایک قسم ہے۔ کامیاب لوگ اپنا ذہن کھلا رکھتے ہیں اور کسی اندیشے میں مبتلا نہیں ہوتے۔

۱۹۔غلط پیشے کا انتخاب:کوئی بھی بندہ کسی ایسے پیشے اور شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتا جو اسے ناپسند ہو۔زیادہ ضروری قدم ایسے پیشے کا انتخاب ہے جس میں آپ دل و جان سے بغیر تھکے دل و جان سے محنت کر سکیں۔

۲۰۔ایک مقصدکا حصول : ایک وقت میں صرف ایک ہی مقصد کا حصول ممکن ہے۔ہر فن مولا شاذ ہی کسی کام کا ماہر ہوتا ہے۔اپنی تمام تر توجہ ایک متعین اور بنیادی مقصد پر مرکوز کریں۔

۲۱۔فضول خرچی کی عادت

۲۲۔جذبے اور ولولے کا فقدان:ولولے اور جوش کے بغیر آپ نہ ہی اپنی بات منوا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو قائل کر سکتے ہیں۔ ولولہ انگیز شخص کو اپنے درمیان پا کر لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی پیشے میں جگہ ہے۔

۲۳۔عدم رواداری

۲۴۔زیادتی اور اعتدال کی کمی:کھانے، شراب نوشی اور جنسی سرگرمیوں سے متعلق زیادتی بہت ہی نقصان دہ ہے۔ان میں سے کسی ایک کی کثرت کامیابی کے لیے مہلک ہے۔

۲۵۔دوسروں سے تعاون کرنے کی نااہلیت :اگر دوسروں کے ساتھ مدد و تعاون کی عادت نہیں ہے تو یہ بھی ناکامی کی وجہ ہو سکتی ہے۔

۲۶۔ایسی قوت و اختیار کا حامل ہونا جو اپنی کوشش سے حاصل نہ کیا گیا ہو:راتوں رات حاصل کی گئی دولت و کامیابی اکثر مہلک ثابت ہوتی ہے جو غربت سے زیادہ مہلک ہے۔

۲۷۔قصداً بے ایمانی

۲۸۔خود غرضی، جھوٹی شان:یہ دونوں خطرے کی علامت ہیں اور لوگوں کو دور رہنے کے لیے خبردار کرتی ہیں، یہ کامیابی کے لیے مہلک ہیں۔

۲۹۔فکر کی بجائے قیاس کرنا: اکثر لوگ قیاس کو فکر پر ترجیع دیتے ہیں۔اپنے مستقبل کی فکر کریں، اپنے حصے کی محنت اور کام کر نے کے بعد قیاس کرنا بری بات نہیں لیکن حقائق کو سامنے نہ رکھ کر قیاس کرنا آپ کو ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔

۳۰۔سرمائے کی کمی:یہ پہلی بار کاروبار شروع کرنے والے افراد کے درمیان ناکامی کی عام وجہ ہے۔ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک زندگی میں کوئی مقام یا شہرت حاصل ہونے تک وقت کو دھکا دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

ناکامی کی ان ۳۰ وجوہات میں سے اکثر یا چند کا ہونا بھی ناکامی کے لیے کافی ہے۔ اگر فہرست میں موجود ناکامی کی وجوہات کو آپ اپنے اندر اور اپنے ارد گرد موجود ان ناکام افراد میں تلاش کریں تو آپ کا ایمان ان پر اور پختہ ہو جائے گا۔ناکامی سے ڈرنا نہیں چاہیے لیکن ناکام ہی رہ کر زندگی کو گزار دینے سے ضرور ڈرنا چاہیے۔ کوئی بھی شخص ناکام ہوئے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات کا جائزہ لیں اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے بارے میں سب سے بہتر آپ خود جانتے ہیں اس لیے فہرست میں دی گئی وجوہات جو آپ میں نہیں ہیں ان پر کراس لگائیں اور باقی بچ جانے والی وجوہات پر کام کریں۔اللہ سے اچھے کی امید رکھیں اور اسی سے مدد مانگیں، اللہ نے ہر انسان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے، اپنے آپ کو پہچانیں، اپنے اوپر وقت اور پیسہ لگائیں، اپنی کمیوں پر کام کریں،اچھی کتابیں پڑھیں، اپنے وقت کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کریں اور جتنا ہو سکے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں، آج نہیں تو کل کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

اپنی ذات کا جائزہ:

ناکامی سے بچنے کے لیے اپنی ذات کا جائزہ سالانہ بنیادوں پر لینا نہایت ضروری ہے۔ہر سال کے اختتام پر خود سے چند سوالات کا کرنا اور ان کے جوابات کا ایمانداری سے جائزہ لے کر ان پر درست طریقے سے عمل کرنا آپ کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔یہ آئندہ سال کے لیے نئے عزم کے ساتھ اپنے مقصد سے جڑے رہنے کے لیے لازم ہے۔اپنی ذات کا تجزیہ خود سے درج ذیل سوالات پوچھ کر کریں:

۱۔کیا میں نے اس سال کے لیے مقررہ ہدف حاصل کر لیا؟

۲۔کیا میں نے اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق بہترین معیار کی خدمت فراہم کی ہے یا میں اسے بہتر طور پر انجام دے سکتا تھا؟

۳۔کیا میرا رویہ ہمہ وقت ہم آہنگ اور تعاون پر مبنی تھا؟

۴۔جتنی صلاحیت مجھ میں ہے کیا میں نے اتنی ہی مقدار میں کام کیا ہے؟

۵۔کیا میں نے کاہلی کو اپنی لیاقت و صلاحیت میں کمی کی اجازت دی ہے، اگر ایسا ہے تو کس حد تک میری لیاقت و صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے؟

۶۔کیا میں نے اپنی شخصیت کو بہتر کیا ہے۔اگر کیا ہے تو کس حد تک؟

۷۔کیا کام کے ختم ہونے تک میں نے کام میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے؟

۸۔جب بھی فیصلہ کی ضرورت پڑی کیا میں نے فوری اور حتمی فیصلے کیے؟

۹۔کیا میں نے چھ بنیادی خدشات /خوف میں سے ایک یا زائد کو اپنی اہلیت میں کمی کی اجازت دی؟

۱۰۔کیا میں نے حد سے زیادہ احتیاط یا بے احتیاطی کی؟

۱۱۔کیا اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ میرا تعلق خوشگوار تھا یا ناخوشگوار؟

۱۲۔کوشش کے ارتکاز کے فقدان کے باعث کیا میں نے اپنی توانائی منتشر کی؟

۱۳۔کیامیں نے رواداری اور وسیع النظری کا مظاہرہ کیا تھا؟

۱۴۔کیا میں نے خدمت فراہم کرنے کی صلاحیت بڑھائی؟

۱۵۔کیا میں نے اپنی کسی عادت کی بے اعتدالی اختیا رکی ہے؟

۱۶۔کیا میں نے کھلی یا مخفی خود غرضی کی؟

۱۷۔کیا شراکت داروں سے میرا طرز عمل ایسا تھا کہ وہ میرا احترام کرنے کی جانب مائل ہوئے؟

۱۸۔کیا میری تما م آرا اور فیصلے قیاس آرائی پر مبنی تھے یا ان کی بنیاد درست تجزیے اور فکر پر تھی؟

۱۹۔کیا میں نے اپنا وقت، اخراجات اور آمدنی مختص کرنے کی عادت پر عمل کیا، اور کیا میں نے بچت کی؟

۲۰۔سعی لاحاصل پر میں نے کتنا وقت صرف کیا جو میں کسی بہتر فائدے کے لیے استعمال کر سکتا تھا؟

۲۱۔میں اپنا وقت دوبارہ کیسے مختص کر سکتا ہوں تا کہ آئندہ سال زیادہ بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کر سکوں؟

۲۲۔کیا میرا طرز عمل ایسا تھا جس پر میرے ضمیر نے ملامت کی ہو؟

۲۳۔خدمت کے لیے جتنی تنخواہ مجھے دی جاتی ہے میں نے کن طریقوں سے زیادہ اور بہتر خدمت فراہم کی؟

۲۴۔کیا میں نے کسی سے نا انصافی کی؟اگر کی ہے تو کس طرح؟

۲۵۔اگر میں سال بھر کے لیے اپنی خدمات کا خود خریدا ر ہوتا تو کیا میں اپنی خرید سے مطمئن ہوتا؟

۲۶۔کیا میں درست پیشے میں ہوں اگر نہیں تو کیوں؟

۲۷۔کیا میری خدمات کا خریدار میری خدمت سے مطمئن ہے اگر نہیں تو کیوں نہیں؟

۲۸۔کامیابی کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے میری درجہ بندی کیا ہے؟

امید ہے اس قسط میں دی گئی معلوما ت پڑھنے اور انہیں ذہن نشین کرنے کے بعد اب آپ اپنی ذاتی خدمات کی مارکیٹنگ کی غرض سے عملی منصوبہ بندی کے لیے ہر ضروری اصول سیکھ چکے ہوں گے۔اس کے علاوہ قیادت کی اہم خصوصیات ناکامی کی بہت عام وجوہ، تمام شعبہ ہائے زندگی میں ناکامی کے اہم اسباب اور اپنی ذات کا تجزیہ کرنے کے لیے اہم سوالات بھی آپ کومل گئے ہیں۔چاہے آپ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ان ہدایات پر عمل کرکے آپ اپنی زندگی میں واضح تبدیلی لا سکتے ہیں۔

جاری ہے

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.