ترک تازیاں۔ (1) - عبد الرحمٰن مدنی

قدم رکھتے ہی خوشگوار حیرت ہوئی، اندازہ نہیں تھا کہ ترکش ایئر کا جہاز بھی امارات کی ٹکر کا ہوگا۔ سائیڈز پر دو،دو اور درمیان میں چار کرسیاں، آرام دہ اور دلکش و دل آویز رنگوں کے کرسی پوشوں سے آراستہ و پیراستہ، فضائی میزبان چاق و چوبند اور سیٹوں کے درمیانی راستوں کو رواں رکھنے کے لیے مستعد و متحرک۔ ہر ایک کے بورڈنگ کارڈ کو دیکھ کر درست سمت کی نشان دہی میں مصروف! اندازہ ہی نہیں تھا کہ پاکستان سے اس قدر لوگ ترکی جاتے ہوں گے؟ بطور خاص ان حالات میں جبکہ ترکی کا ویزا بھی آسان نہیں رہا اور خاصی چھان پھٹک کے بعد ملتا ہے؟ جس دن کراچی سے جہاز استنبول جاتا ہے اسی دن اور تقریباً اسی وقت لاہور اور اسلام آباد سے بھی پرواز کرتا ہے، پھر بھی خاصے لوگ تھے جہاز میں۔ بزنس اور اکانومی کلاس دونوں ہی شاندار تھیں اور چھت دیدہ زیب و خوب صورت، دودھیا روشنیاں سب کے چہرے پر نور بنارہی تھیں۔ ہلکا سرخ رنگ تاحد نظر دیگر رنگوں کے ساتھ مل کر دیو مالائی نظارہ پیش کررہا تھا۔

اپنی سیٹ پر پہنچ کر سامان رکھنے کا تکلف نہ کرنا پڑتا اگر وقاص بھائی خشک میوہ جات کے ڈھیر سارے پیکٹس ائیرپورٹ پر نہ تھما دیتے جو شامی بچوں کے لیے بطور تحفہ بھیجے گئے تھے کیونکہ بندہ ایک ہی بیگ لایا تھا جو کہ بک ہوچکا تھا۔بندہ کے بیگ کا وزن دس کلو سے کیا زیادہ ہوگا؟ لیکن بندہ کے نام پر جو سامان بک ہوا وہ 30کلو ہی تھا۔ مکتبہ البشریٰ کے مولانا یوسف یامین صاحب شامی علماء کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے مسند امام اعظم اور دیگر کتب لائے تھے کہ ہر ایک کے وزن میں وہ وزن بھی شمار کیا گیا اور یوں وزن بڑھ گیا۔ ویسے سفر میں اپنے آپ ہلکا پھلکا ہی رکھنا چاہیے اور زندگی بھی تو ایک مسلسل سفر ہے۔

کراچی سے استنبول جانے والے اس جہاز میں ہم چھ افراد کی ایک مختصر جماعت نے سفر کا آغاز کیا۔مفتی ابولبابہ صاحب کو میں استاد جی کہتا ہوں اور ان کی معیت میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے کوئی بیٹا اپنے والد کے ساتھ ہو،اسے دنیا کی ہر فکر سے آزادی مل جاتی ہے سوائے اباجان کی نگاہوں میں ہونے کی فکر کے۔فضائی سلطنت کے فرمانراؤں نے بہت جلد اپنی رعایا کو تخت طاؤس جیسی نشستوں پر بٹھاکر ان محبت بھری مشکیں کس دیں اور اپنی اس دنیا کو رفتار کے پہیے لگادیے۔ہر بار کی طرح دل کی دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں۔کن اکھیوں سے ساتھ والی نشست پر جلوہ افروز استاد جی کو دیکھا تو آنکھیں بند تھیں اور لب ہل رہے تھے۔دیکھا دیکھی میں نے بھی سفر کی ساری دعائیں پڑھ ڈالیں۔ہماری دنیا بھاگ رہی تھی اور یکلخت اسپ ترکی نے پاؤں سمیٹ کر لمبے لمبے پر پھیلا دیے اور محو پرواز ہوگیا۔سفر چھ گھنٹے کا تھا اور پرواز مسلسل تھی۔سوچ رہا تھا کہ کیا کروں گا اس لمبے سفر میں؟

یہ بھی پڑھیں:   جنرل مشرف کا دورہ ترکی - جہانزیب راضی

"پیارے! پیچھے جاکر کونے میں نماز پڑھ لو اور جگہ تاڑ لو،درمیان کی چار خالی نشستوں والی کوئی بھی خالی لائن سنبھال لینا اور درمیانی ہینڈل اٹھا کر سو جانا۔"استاد جی کی پیار پیار بھری آواز کانوں میں گونجی۔

"نیند تو نہیں آرہی" میں منمنایا۔

"نماز پڑھ کر نیند آئے گی اور بہت اچھی آئے گی"مسکراتے ہوئے جواب دیا " وہاں پہنچ کر خاصا لمبا انتظار کرکے ابھی مزید ایک اور ہوائی سفر کرنا ہے اس لیے سوجاؤ تو بہتر ہے۔"

بندہ نماز پڑھنے کو کپڑا بچھا کر کھڑا ہوا تو ایک صاحب مسکرا کر گویا ہوئے۔"وہ زمین سے مس ہونے والا مسئلہ کیا ہے؟"

" نمازی کا زمین سے ملا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے؟ پاکستانی بھائی مولوی صاحب کو دیکھ کر سوال داغ دیتے ہیں۔نماز پڑھنا سب سے زیادہ ضروری اور وہ پڑھنی چاہیے۔" یہ کہہ کر میں نے نیت باندھ لی۔نماز پڑھ کر آیا تو منجھے ہوئے مسافر اور زیرک پاکستانی درمیانی نشستوں کو بیڈ بنا کر چادریں اوڑھ چکے تھے۔ہارے ہوئے جرنیل کی طرح اپنی نشست پر پہنچا تو استاد جی نے مسکرا کر پوچھا "ملی کوئی جگہ؟" ایک نظر مجھے دیکھا اور کہا "جاؤ اگلی طرف دیکھ کر آؤ"

آگے ایک ایسی جگہ مل ہی گئی، واپس آکر استاد جی سے کہا کہ "آگے ایک جگہ ہے، آپ وہاں چلے جائیں،میں یہاں ہی سوجاؤں گا۔" میری بائیں طرف والا مسافر اپنی جگہ ترک کرچکا تھا۔اب میں اور مکتبہ البشریٰ کے مولانا یوسف یامین صاحب تھے۔اگر لیٹنا چاہتا توتین نشستیں تو مل ہی جاتیں۔سوچا ذرا ٹیک لگاؤں،نیند آنے لگے گی تو ٹانگیں پسار لوں گا۔

میں نے ٹیک لگائی اور پھر آنکھ تب کھلی جب دوبارہ پوری لائٹس آن ہوچکی تھیں اور متحرک و بااخلاق ترکش فضائی میزبان کھانا لے کر ہمارے سروں پر پہنچ چکے تھے۔ کھانا لانے والوں نے آئرن کا بھی پوچھا، یاد آیا کہ یہ ان کی لسی ہے جس کے پینے کی ترغیب طیب اردگان بھی دیتے ہیں کہ حلال پیو، حرام چھوڑدو۔ دو گلاس لسی پی اور سونا بنانا شروع کردیا۔آنکھوں میں چبھن سی محسوس ہوئی۔ سامنے کھڑکی سے روشنی آرہی تھی۔ پتا چلا مابدولت نے امریکن ریزرو بینک والا نہیں بلکہ اصلی سونا بنایا ہے۔وقت دیکھ کر ہڑبڑاسا گیا۔ چار گھنٹے سے زائد سویا تھا۔ایسا ہونا بھی تھا۔پوری رات تو سویا نہیں تھا اور صبح پانچ بجے ہم جہاز میں داخل ہوچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل مشرف کا دورہ ترکی - جہانزیب راضی

ترکش ائیر لائن کی پرواز نمبر 709 کراچی ائیرپورٹ سے صبح ساڑھے پانچ بجے اڑی تھی اور اب میری گھڑی گیارہ بجا رہی تھی۔دائیں طرف گردن گھمائی تو استاد جی مجھے ہی دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ "آئرن میں نشہ ہے نا؟" استاد جی نے کہا تو میں مسکرادیا۔اس چکر میں نہیں پڑا کہ استاد جی کو پتا کیسے چلا کہ دو گلاس ڈکارے تھے میں نے؟ اندازہ ہوگیا کہ جہاز اترنے والا ہے۔اسپیکرز پر ہدایات دی جارہی تھیں،سب نشستیں سیدھی کی جارہی تھیں اور سیٹ بیلٹس باندھنے کا کہا جارہا تھا۔

"تھوڑے پیچھے جاؤ کھڑکی والی سیٹ مل جائے گی،جاکر اللہ پاک کی بنائی ہوئي دنیا دیکھو۔" میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ استاد جی دل، دماغ، آنکھیں حتیٰ کہ خاموشیاں بھی کیسے پڑھ لیتے ہیں؟

"آپ کو اچھی طرح نیند آئی؟" میں نے پوچھا۔

"الحمدللہ! بہت شاندار" جواب آیا۔ استاد جی کا چہرہ دمک رہا تھا۔ مولانا یوسف سے باتیں کررہے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں استاد جی کی نظر اتار لی۔ہم مدارس و جامعات کے پڑھے ہوئے شاید کبھی اپنے اساتذہ کو نہ بتا پائیں کہ ہم ان سے کتنا پیار کرتے ہیں؟ میں وہاں سے اٹھا اور آکر کھڑکی والی سیٹ سنبھال لی۔ آبنائے باسفورس کی حشر سامانیاں سورج کی کرنوں سے مل کر نگاہیں خیرہ کررہی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے جزیرے جابجا بکھرے پڑے تھے۔ جہاز تیزی سے زمین کی طرف لپک رہا تھا۔ مکان بڑے ہورہے تھے۔ سبزہ، ہریالی، خوبصورتی، چمک دمک، خلافت عثمانیہ کا مرکز، صدیوں پرشکوہ اسلامی سلطنت کا دارالحکومت رہنے والا استنبول، اتاترک کو سہہ کر بھی اسلام سے محبت کرنے والا استنبول 180 کلومیٹر پر پھیلا دنیا کا انوکھا شہر قریب آرہا تھا۔ امت کے ببرشیر و خرد مند اور دانا قائد طیب اردگان کا استنبول قریب آرہا تھا، قریب اور قریب۔ سڑکوں پر گاڑیاں اگ رہی تھیں، گنجان آباد استنبول بانہیں پھیلائے ہمارے ترک گھوڑے کو مہمیز کررہا تھا اور پھڑ پھڑائے پروں سے زمین کی طرف لپکتے ہوئے جہاز کی ترک تازیاں بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ ہم مسافر تھے لیکن ترکی گھوڑا تو اپنے گھر واپس آرہا تھا اور اس کی دھرتی ماں اسے پچکار رہی تھی اور پھر…!