اسلام، مسلمان اور فرقہ واریت - حسیب احمد حسیب

اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے ذہن میں ایک آئیڈیل منظر تخلیق کرتے ہیں اور پھر اس منظر کی بنیاد پر ایک مقدمہ قائم فرماتے ہوئے موجودہ پوری امت کو فرقہ پرست ثابت کر دیتے ہیں۔ مگر شاید ہم اس فطری امر سے واقف نہیں کہ جو چیزوں کو سمجھنے میں علمی اختلاف کے نتیجے میں واقع ہوا کرتا ہے اس فطری امر سے اختلاف کیا جانا ممکن نہیں۔ آپ چاہے کتنی ہی افسانویت اور رومانویت کے شوقین کیوں نہ ہوں اختلاف تو ہوگا کہ ہر دو افراد اپنی اپنی افتاد طبع مزاج علمی صلاحیت اور ادوار کے مطابق آراء قائم کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

آراء و افکار کی ترویج شخصیات کی علمی اور روحانی صلاحیت اور معاشروں میں ان کی اثر پذیری کی بنیاد پر ہوا کرتی ہے جو شخصیت جتنی بلند ہوگی اتنے ہی لوگ اس سے متاثر ہوں گے اور اتنی ہی دیر تک اس کا اثر باقی رہے گا۔

غور کیجیے کیا امام ابو حنیفہؒ یا امام مالکؒ یا امام احمد بن حنبلؒ یا امام شافعیؒ یا ابن تیمیہ ؒ نے کسی عالمی سازش کی بنیاد پر اپنی اپنی فقہ کو عوام میں مقبول یا رائج کروا دیا، کیا یہ ایک فطری عمل اور شخصی وجاہت اور علمی جلالت کے سبب نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے کوئی سازش تھی ؟

دین کے کچھ امور واضح اور دو ٹوک ہوا کرتے ہیں

١۔ الله ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

٢۔ محمد عربی صلی الله علیہ وسلم الله کے آخری رسول ہیں۔

٣۔ اسلام انسانیت کے لیے الله کا آخری اور مکمل ترین دین ہے۔

٤۔ اس کائنات کو ایک دن فنا ہو جانا ہے اور اس کے بعد یوم حساب ہے۔

٥۔ قرآن الله کا کلام اور اس کی آخری کتاب ہے۔

فرق اسلامی کی تاریخ کا جائزہ لیجیے تو پوری امت ہر دور میں ان تمام نکات پر متفق نظر آتی ہے اور ان کی بابت کبھی کوئی اختلاف امت کی سطح پر موجود نہیں رہا اور جب کبھی کسی نے ان نکات پر اختلاف کی کوشش کی وہ امت سے باہر جا کھڑا ہوا… لیکن دوسری جانب امت کے ابتدائی سیاسی معاملات یا دین کی مختلف تعبیرات یا پھر فقہی مستدلات کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ تمام اختلافات دلیل کی بنیاد پر قائم ہوں؟ یہ بیانیہ ہی غلط ہے کہ مذہب کے اندر فرقے متعارف کروائے گئے یعنی آپ ان تمام شخصیات کو مذہب ساز قرار دے رہے ہیں کہ جو تاریخ اسلامی کے ہیرے ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب ترین بات اور اس سے زیادہ شدید ترین الزام کیا اور کوئی ہو سکتا ہے ؟ یعنی بیک جنبش قلم تمام موجود مسالک و مکاتب فکر کو اسلام سے باہر کھڑا کر دینا؟

خود نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے بعد خلافت کے عنوان پر ایک اختلاف رو نما ہوا گو کہ اس وقت کی صالحین کی جماعت نے اپنے اندر موجود خیر کی بنیاد پر اس اختلاف رائے کو رفع فرما دیا لیکن کیا بعد کے دور میں خلافت راشدہ اور امامت بلا فصل کی بنیاد پر امت میں دو بڑے گروہوں اہل تسنن اور اہل تشیع نے جنم نہ لیا؟ ایک جانب اہل سنت کا نظریہ خلافت ہے تو دوسری جانب اہل تشیع کا نظریہ امامت ہے۔

جدید فکر ہر دو گروہوں کو اسلام سے باہر لا کھڑا کرتی ہے اور یہ سوچ اپنی فکر میں اتنی ہی تکفیری ہے کہ جتنی کسی بھی تکفیری گروہ کی ہو سکتی ہے۔ جب آپ کسی ایک گروہ سے سوال فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے ساتھ سنی یا شیعہ کیوں لگایا؟ تو آپ کے اندر اتنا صبر اور حوصلہ نہیں ہوتا کہ اس سوال کا جواب سننے سمجھنے یا جاننے کی کوشش کیجیے۔ یہ کوئی فروعی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اصولی اختلاف ہے جس کا مخصوص پس منظر اور تاریخ ہے، چشم زدن میں اس کا رفع کر دیا جانا ایک ایسا واہمہ ہے کہ جس کا علاج شاید حکیم لقمان کے پاس بھی نہ ہو۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ بین المسالک ہم آہنگی کی بات ہو مکالمے کی فضاء پیدا کی جاوے لیکن مسالک کا ہی انہدام ایک ایسی فکر ہے کہ جس سے ایک نئے فساد کی بو آتی ہے۔

دوسری جانب غور فرمائیں اہل سنت کے اندر دو بڑے مکاتب فکر دکھائی دیں گے، فقہاء اور ظواہر یا اہل الحدیث۔ ہر دو گروہ اپنی اپنی اصولی بنیادیں رکھتے ہیں ایک کے نزدیک ظاہر الحدیث کے حکم پر قائم ہونا لازم امر ہے تو دوسرے کے نزدیک استنباط کر کے حدیث کے کے حقیقی حکم تک پہنچنا ضروری ہے۔ ایک گروہ سے حفاظت حدیث کا کام لیا گیا، تو دوسرے گروہ سے تدوین فقہ و اجتہاد کی خدمت لی گئی۔ اب عقل اس امر کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہر دو گروہوں کی دینی خدمات کو صرف اس وجہ سے فساد قرار دے دیا جاوے کہ ان کے درمیان فکری اختلاف تھا؟

غور فرمائیں کہ اگر اس فکری اختلاف کا ظہور نہ ہوتا تو کیا الفاظ حدیث کی وہ معیاری حفاظت ہو سکتی تھی کہ جو مطلوب تھی یا جدید امور کے حوالے سے وہ اجتہادی روح بیدار ہو سکتی تھی کہ جس کی ضرورت تھی؟ اصول فقہ ہو یا اصول حدیث، ہر دو شعبہ جات کی ابتداء ان کا ارتقاء اور ان کا درجہ کمال تک پہنچنا دراصل اہل الحدیث اور اہل الرائے فقہاء کی محنتوں کا اجر ہے۔ مزید اس فطری پھیلاؤ کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

عراق میں بیٹھا ایک فقیہ دینی مسائل کے حوالے سے کچھ اصول قائم کرتا ہے دوسری جانب مدینے میں بیٹھا ایک دوسرا فقیہ کچھ دوسرے اصول پیش کرتا ہے ہر دو کی علمی جلالت اور قوت استدلال سے عوام نہیں بلکہ علماء متاثر ہوتے ہیں "Islamic Jurisprudence" کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں کوئی زور نہیں کوئی زبردستی نہیں بلکہ خلیفہ وقت ان میں سے ایک فقیہ سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ کی فقہ کو ریاستی قوت کے ساتھ نافذ کر دیا جاوے تو وہ سختی سے منع فرما دیتے ہیں۔

فقہی مکاتب فکر کا یہ پھیلاؤ اتنا ہی فطری ہے کہ جتنا فطرت انسانی کا پھیلاؤ ہے موجودہ اسلامی دنیا کی عظیم اکثریت کہ جو ان فقہی مکاتب فکر سے منسلک ہے اسے بزور قوت یا جبر کے ساتھ ان فقہی مکتب فکر کے ساتھ نہیں جوڑا گیا بلکہ یہ صدیوں پر محیط ایک جاری علمی تسلسل ہے۔

اب کوئی صاحب کھڑے ہوں اور اس بات کا مطالبہ کریں کہ جناب ان تمام فقہی مکاتب فکر کو دریا برد فرما دیجیے تو جواب میں انہیں کسی اچھے نفسیاتی معالج سے رجوع کا مشوره ہی دیا جا سکتا ہے کہ کہیں ان کی یہ نرگسیت انہیں باقی تمام کی تردید و تذلیل پر ہی آمادہ نہ فرما دے۔

پھر مزید غور کیجیے کہ ایک گروہ علوم اسلامی کی تشکیل کی جانب راغب ہوتا ہے، کہیں علوم القرآن پر کام ہو رہا ہے، کہیں علوم الحدیث پر محنت چل رہی ہے، کہیں تدوین فقہ کا کام جاری ہے، کہیں تاریخ مدون ہو رہی ہے، ایسے میں ایک گروہ روحانیت کی بات کرتا ہے اور اسلامی اخلاقیات اور اوصاف کے بیدار کرنے کو اپنی محنت کا میدان بناتا ہے یہاں ایک نیا شعبہ وجود میں آتاہے کہ جسے " صوفیاء " کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

اب امت میں دو جدید مکاتب فکر وجود میں آتے ہیں زاہدان خشک اور عاشقان معرفت، یہ تقسیم بھی اس فطری امر کی متقاضی تھی کہ جو دین کی آبیاری کا ضامن ہے۔ علوم اسلامی کی حفاظت بے شک زاہدان خشک کی محنتوں کا نتیجہ ہے تو دوسری جانب تزکیہ نفس دراصل عاشقان معرفت کا کار اصلی ہے۔ یہ تو ایک بنیادی تقسیم ہے وگرنہ ایک صوفی محدث بھی ہو سکتا ہے اور ایک محدث فقیہ بھی ہو سکتا ہے تاریخ اسلامی میں ایسی متعدد شخصیت گزری ہیں کہ جنہیں جامع قرار دیا جا سکتا ہے ۔

آج اگر ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں دو ہمیں مختلف گروہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث وغیرہ کے نام سے دکھائی دیں گے اس سے پہلے کہ ان تمام گروہوں کو لعنت ملامت کی جاوے، سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے بیٹھ کر ان گروہوں کو کسی تجربہ گاہ میں تخلیق کیا ہے؟ کیا یہ گروہ آسمان سے اترے ہیں یا پھر زمین سے برآمد ہوئے ہیں؟ فرقہ واریت کی پھبتی کسنے سے پہلے غور فرمائیں کہ کیا ان کا کوئی تاریخ پس منظر ہے بھی یا نہیں؟

در حقیقت غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی سازش نہ تھی بلکہ ان کا ایک علمی اور تاریخی پس منظر ہے بر صغیر کو احناف میں تصوف کی مقدار میں کمی اور زیادتی نے دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کو جنم دیا۔ دوسری جانب تقلید شخصی کے کلّی انکار اور اس کی ہر صورت تائید کے نتیجے میں مقلد و غیر مقلد (عرف عام میں اہل حدیث) نامی گروہ وجود میں آئے جبکہ بنیادی طور پر ان تمام کا انتساب ہی اہل سنت کی طرف تھا۔

گو کہ ان کے درمیان چند حقیقی اور اصولی اختلاف بھی موجود ہیں لیکن اکثریت فروعات کی ہی ہے۔ ان اختلافات کو کسی غیر فطری طریقے سے ختم کرنے کی خواہش یا کوئی بے جا کوشش معاشروں میں مزید تباہی اور انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔

دوسری جانب یہ سوال کہ مساجد اور مدارس کیوں الگ ہیں؟ اتنا ہی عجیب ہے کہ جیسے کوئی یہ پوچھے کہ ہندوستان و پاکستان کیوں الگ ہیں؟ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کیوں فرق ہے؟ برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ کی تقسیم کیوں ہے؟ جہاں جغرافیائی سرحدات ہوا کرتی ہیں وہیں علمی اور فکری سرحدوں کا وجود بھی ہوتا ہے چونکہ عام طور پر دنیا میں اور خاص طور پر بر صغیر پاک ہند میں مذہبی عبادت گاہیں اور تعلیمی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت وجود میں آئے ہیں اس لیے جس گروہ کی علمی و فکری مناسبت جس جانب تھی اس نے اس کی کے حساب سے مساجد، مدارس اور خانقاہوں کو تفریق کی۔ چونکہ، حکومتوں کو اس کار خیر میں حصہ لینے سے کوئی دلچسپی ہی نہ تھی اس لیے کوئی حکومتی مسجد، مدرسہ یا خانقاہ وجود میں نہ آ سکا ہاں زکٰوۃ و اوقاف اور مذہبی امور کے نام پر جیبیں گرم کرنے کا بازار ضرور گرم رہا۔

آپ مسالک اور مکتب فکر سے یہ سوال کہ اپنی علمی اختلافات کو چھوڑ کر اپنی مساجد اپنے مدارس اور اپنی خانقاہیں کرپٹ حکومتوں کے حوالے کر دیجیے انتہا درجے کا ظلم اور نا انصافی ہی شمار ہوگی۔ کرنے کا کام صرف باہمی روابط میں احسان اور ہمدردی کی سوچ کو پیدار کرنا ہے تاکہ مسلکی انہدام یا مسلکی انضمام کی بجائے مسلکی احترام کی حقیقی فضاء قائم ہو سکے۔