عجیب سوالات - روبینہ یاسمین

آپ ہفتے میں کتنی بار نہا تےہیں؟ رشتے داروں میں سے کون آپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا؟ کس کو آپ اپنے دل کی باتیں بتاتے ہیں؟ میری پوسٹ لائیک کیوں نہیں کی؟ آپ کے بینک اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں؟ آپ کی تنخواہ کیا ہے؟ کل آدھی رات کو آن لائن کیوں تھے؟ آپ کی اب تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟ آپ نے بچوں میں اتنا وقفہ کیوں دے دیا؟ یہ اور اس طرح کے اور بہت سوالات سے ہمارا واسطہ پڑتا رہتا ہے .آخر اس نوعیت کے سوال لوگ کیوں کرتے ہیں ؟ ایسے سوالوں کا کیسے جواب دینا چاہیے ؟ کچھ لوگ اپنے نا مناسب سوالوں سے دوسروں کو عاجز کر دیتے ہیں۔ ایسا ذہنی نا پختگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میری ایک جاننے والی خاتون کاانتقال ہو گیا ۔ کچھ دن بعد ان کی چار سالہ بچی میرے گھر آئی ہی تھی کہ ایک اور پڑوسن تشریف لائیں ۔ جس بچی کی والدہ کا انتقال ہوا تھا اس سے سوال کیا "تمہیں اپنی امی یاد آتی ہیں؟" یہ کس قسم کا سوال تھا میری ناقص عقل سمجھنے سے قاصر تھی ۔

بسا اوقات سوال تو درست ہوتا ہے پوچھنے کا انداز درست نہیں ہوتا۔ میری ایک دوست امتحان میں کامیابی کی مبارک دینے آئیں اور چھوٹتے ہی فرمانے لگیں "مارکس شیٹ دکھاؤ "۔ ہمیں حتی الو سع کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے سوال نہ کریں جن کا جواب دینا دوسروں کے لیے باعث اطمینان نہ ہو ۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو سماجی ضابطوں سے ماورا سمجھتے ہو ئے ہر نا منا سب سوال کرنا اپنا فرض گر دانتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ ایسے سوالوں سے نمٹا کیسے جائے؟ اگر سوال کرنے والا زیادہ قریبی جاننے والا نہیں تو اپنے آپ کو کسی کام میں مصروف ظاہر کر کے اپنی جان بخشی کروا لینی چاہیے یا موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اگر کوئی بات بتائی جا سکتی ہے تو مختصر الفاظ میں وضاحت کر دی جائے ۔

بعض اوقات سوال تو عام ہی ہوتا ہے لیکن جواب دیتے ہوئے ہم خود اپنی وجوہات کی وجہ سے حسا سیت کا مظاہرہ کر جاتے ہیں ایسے میں اپنی کمزوریوں کو جانچنا بھی ضروری ہے ۔ کہیں ماضی میں ہم خود بھی تو غیر ضروری سوالات کرنے کی مرتکب تو نہیں ہوئے، جو اب ہمیں اس کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اگر ایسا ہے تو اپنا انداز بدلنے پر توجہ دینی چاہیے۔

کچھ لوگوں کو ویسے ہی مسلسل بولنے کی عادت ہوتی ہے ایسے لوگوں کو درحقیقت جواب سے سروکار نہیں ہوتا، لہٰذا انہیں بولنے کی پوری آزادی دینی چاہیے انہیں آپ کا ردعمل نہیں چاہیے ہوتا ۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کی ان کے معصومانہ سوال آپ کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہے ہیں ایسی صورت میں اپنی حدود کی نرمی سے وضاحت کر دینی چاہیے۔ اگر کسی تقریب میں ہیں تو بہانہ بنا کر کھسک لینا چاہیے۔ اگر آپ کو اکثر ایک ہی قسم کے سوالا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہےتو پہلے سے کوئی مناسب سا جواب سوچ لینا چاہیے۔

اچھے سوال کرنا ایک ہنر ہے جسے حاصل کرنا کامیابی کا زینہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اچھے سوال ہی اچھے جواب کا سبب بنتے ہیں تو کوشش کریں اچھے سوال کرنے کی اور اچھے جواب لینے کی۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */