جنسی درندگی، مزاج شریعت اور عملی اقدامات - محمد طیب سکھیرا

شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ عبادات پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کو دنیاوی سزا نہیں دیتی لیکن جیسے ہی بات معاشرتی برائیوں کی آتی ہے تو شریعت " زیرو ٹالرنس " یعنی عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کرتی ہے اور بہت ہی شدید ردعمل دیتی ہے حتی کہ مجرم کو معاشرے میں نشان عبرت بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی۔

آپ اندازہ کیجیے بے نمازی کے لیے صرف نصیحت پر عمل پیراشریعت شرابی و تہمت لگانے والے کے لیے کوڑوں کی سزا پر اصرار کرتی ہے کہ نماز سے غفلت معاشرے کو ڈی ریل نہیں کرتی لیکن شراب و تہمت معاشرے کو ڈی ریل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ جس طرح شریعت معاشرتی برائیوں بارے حساس مزاج رکھتی ہے، اسی طرح ہمیں بھی معاشرتی برائیوں کے بارے خاص حساسیت کی ضرورت ہے۔ ان میں سب سے بڑا معاشرتی مسئلہ " جنسی ہوس و جرائم " ہیں۔ جنسی ہوس سے معاشرہ بیمار اور جنسی جرائم سے مردہ ہوجاتا ہے۔ اس بارے مستقل لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا معاشرہ ان جنسی ناہمواریوں کے گرداب سے نکل کر ایک صحت مند معاشرہ بن سکے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی جنسی ہوس و درندگی کا حل کیا ہے؟ آئیے کچھ عملی اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں جس سے ہم جنسی ہوس و درندگی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے:

1۔ پہلا حل یہ ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ اٹیچمنٹ اور انہیں وقت دیں۔ بچوں کو گھر میں دوستانہ ماحول فراہم کریں کہ وہ ہربات والدین سے بلا جھجھک کہ سکیں۔ جب آپ انہیں وقت نہیں دیں گے تو وہ بات کرنے اور اپنا دکھڑا سنانےکے لیے باہر سہارا ڈھونڈیں گے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے بچے کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔

2۔ کسی بھی رشتہ دار کے گھر بچے کو والد یا والدہ کے بغیر کبھی بھی نہ چھوڑیں، ساتھ لے کر جائیں اور ساتھ ہی لے کر آئیں۔ بچوں کو محرم رشتہ داروں سے بھی ایک خاص حد تک بے تکلف ہونے دیجیے۔ اسی میں باہمی رشتہ داری کی پائیداری سمیت کئی مفید راز پوشیدہ ہیں۔

3۔ کوشش کیجیے کہ گھر میں ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال نہ ہو۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک خاص عمر تک بچوں کو ان سے ایک فاصلے پر رکھیے۔ بچوں کی موجودگی میں ان کا استعمال نہ کیجیے۔ ہماری سکرین پر انٹرٹینمنٹ کے نام پر جس عریانی و بے راہ روی کو فروغ دیا جارہا ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ ڈراموں میں محرم رشتوں کے ساتھ افیئرز دکھائے جارہے ہیں۔ ٹی وی اشتہارات میں نیم عریاں ماڈلز دکھائی جارہی ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر اسلامی ویب سائٹس بھی جنسی اشتہارات کی بھرمار لیے ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں آپ معاشرے اور اپنی اولاد سے کس قسم کی خیر کی توقع کیے بیٹھے ہیں؟ جو بچہ یا بچی آپ کی موجودگی میں ٹی وی یا سوشل میڈیا پر نیم عریاں ماڈل یا اینکر کو دیکھے گا، وہ کیا اثر لے گا؟ بچوں کو ایک خاص عمر تک ٹی وی، موبائل اور انٹرنیٹ سے ایک فاصلے پر رکھیں۔ سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے سامنے موبائل استعمال نہ کریں۔ گھر آتے ہی میاں بیوی موبائل کو کسی اونچی جگہ پر رکھ دیں۔ بہت ضروری کال کے علاوہ اسے وہاں سے نہ اٹھائیں اور گھر کا وقت بچوں کے لیے مختص کردیں۔ یاد رکھیں بچے نصیحت سے زیادہ ہمارے عمل کو فالو کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے عمل سے ذمہ دار والدین ہونے کا ثبوت دیں۔

4۔ اسی طرح پیمرا کو میڈیا کے بارے میں عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ نے میڈیا میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایسا ضابطہ اخلاق طے کرنے کی ضرورت ہے جس سے بے راہ روی اور فحاشی کا سدباب کیا جاسکے۔ خصوصاً اشتہارات اور ڈراموں کو ایک خاص ضابطے کا پابند کیا جائے جس میں ہماری تہذیب و ثقافت کے خلاف مواد پر سخت ایکشن لیا جائے تاکہ والدین فیملی اور بچوں کے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہوئے شرمندہ نہ ہوں۔ یاد رکھیے جب تک ریٹنگ کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جاتا تب تک میڈیا کے سرکش گھوڑے کو قابو کرنا بہت مشکل ہے

5۔ اپنی اولاد کو معاشرتی ناہمواریوں سے بچانے کے لیے ایک بہت ضروری چیز ان کی وقت پر شادی ہے۔ اس کے لیے کسی خاندانی و معاشرتی دباؤ و ملامت کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ یاد رکھیے آپ اپنے بچے کو معاشرتی آگ میں بھیج کر یہ امید رکھیں کہ اسے تپش بھی نہ آئے گی؟ تو آپ کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

6۔ یہ بھی ہماری ایک خام خیالی ہے کہ بے پردگی یا کھلے عام اختلاط سے طبائع پر اثر نہیں ہوتا۔ خوب یاد رکھیں دنیاوی تعلیمی ادارے ہوں یا دینی مکاتب، اختلاط جہاں بھی ہوگا اگر وہاں مناسب دینی تربیت کا اہتمام نہ ہوگا تو وہاں برائی اپنا رستہ خود بنائے گی۔ اس لیے اپنے بچوں کو مخلوط تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے حتی الامکان پرہیز کیجیے۔ اگر بہت ضروری ہو تو اس کے ساتھ دوستی کا مضبوط رشتہ استوار کیجیے، اسے باور کروائیں کہ آپ اس کی پشت پر شجر سایہ دار اور ایک مخلص دوست کی طرح ہمہ وقت موجود ہیں۔ اسے ایسا اعتماد و دوستانہ تعلق فراہم کیجیے کہ وہ مخلوط ماحول کی ہر قسم کی کشش کا اعتماد سے سامنا کرسکے۔

7۔ یہ بہت ضروری چیز ہے کہ بچے کو مناسب دینی و جنسی تعلیم والدین کے ہاں سے ملنی چاہیے کہ والدین سے زیادہ بچے کا مخلص کوئی نہیں ہوسکتا۔ آج کل سکولز میں این جی اوز کی فنڈنگ سے پری پلانڈ جنسی تعلیم اور کھلم کھلا جنسی مکالمہ جات و ٹیبلو کروائے جارہے ہیں اور میڈیا کی طرف سے ایسے امور کی برابر حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ہے جو معاشرے میں اخلاقی و جنسی بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔ وقت سے پہلے اور ضرورت سے زیادہ جنسی امور کا جاننا آپ کے بچے کی جنسی ناہمواری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے اس چیز کی نگرانی کیجیے کہ بچے سکول میں کیا سیکھ رہے ہیں؟ کس قسم کی ایکٹیوٹیز کروائی جارہی ہیں؟

کوشش کیجیے کہ مناسب جنسی تعلیم بچے کو گھر پر ہی دی جائے، نہ یہ کہ اسے ان عناصر کے حوالے کردیا جائے جنہیں جنسی اخلاقیات کی ہوا تک نہیں لگی۔

8۔ ایک مشہور جملہ بولا جاتا ہے کہ ذہن و دل صاف ہوں تو کسی کی بے لباسی و جنسی کشش اثر نہیں کرتی۔ جانے ایسی باتیں کرنے والے کس دنیا کے باسی ہیں؟ چلیے آپ کو " صاف ذہنوں " کی سرزمین لیے چلتے ہیں۔ ان ممالک کے کچھ اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیے آج سب سے زیادہ منظم جنسی جرائم مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں ہورہے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ منظم جنسی جرائم کے حوالے سے بدنام صف اول کے دس ممالک میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں۔ مہذب ترین امریکہ اس میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں ہر چھ میں سے ایک عورت ریپ کی جاتی ہے، ہر منٹ میں کئی جنسی جرائم ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ 10 سے 11 سال کی بچیوں کا ماں بننا ان کے ہاں ایک عام بات ہے۔ اسی طرح بالترتیب سویڈن، برطانیہ اور جرمنی کے نام آتے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو اپنے آپ کو " حقوق انسانی " کا علمبردار کہتے نہیں تھکتے۔ برطانیہ میں اراکین پارلیمنٹ کے حالیہ جنسی جرائم کے سکینڈل اور ملوث اراکین وزراء کی خودکشیوں نے مغربی معاشرے کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اسی طرح ہالی ووڈ میں مشہور آسکر ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر " ہاروی وائن سٹائن " کے منظم جنسی جرائم نے ہالی ووڈ اور امریکہ کے مکروہ چہرے کو پوری دنیا میں طشت از بام کردیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنسی جرائم، جنسی تعلیم کی کمی یا لبرل ازم نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر نہیں ہوتے اگر ایسا ہوتا تو یہ ترقی یافتہ ملک ہمارے لیے ضرور ایک مثال ہوتے کہ وہ لبرلز بھی ہیں اور جنسی تعلیم و عمل میں بھی اوج کمال پر ہیں لیکن منظم جنسی جرائم کے باب میں ان لبرل و ترقی یافتہ ممالک کی ناکامی یہ بتاتی ہے کہ جنسی جرائم نہ جنسی تعلیم کی زیادتی سے کنٹرول کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی قانونی سختیاں اس کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔ اس کا ایک ہی فطری اور دیرپا حل ہے جو صدیوں سے مجرب ہے کہ شادی کو آسان سے آسان کیا جائے، ہم شادی کو جتنا مشکل بناتے جائیں گے جنسی درندگی اتنا ہی زور پکڑتی جائے گی۔ اس لیے بیواؤں اور جوان بچوں کی شادی میں دیر نہ کیجیے، تہذیبی ناہمواریوں سے اپنے معاشرے کو آلودہ نہ کیجیے، فطرت پر قدغن نہ لگائیے، اسے اپنا رستہ بنانے دیجیے۔ یاد رکھیے جن معاشروں میں فطرت کو راستہ بنانے دیا جائے وہاں غیر فطری چیزیں اپنی موت خود مرجاتی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */