بچوں کے لیے محفوظ انٹرنیٹ - روبینہ یاسمین

پاکستان میں بچوں کے لیے موجودہ صورت حال کافی تشویش ناک ہو چکی ہے۔ حالات جس نہج پر ہیں، وہاں ضروری ہے کی معصوم ذہنوں کے لیے انٹرنیٹ کو بھی محفوظ بنایا جائے۔ آج کل بچوں میں انٹرنیٹ کا استعمال کافی بڑھ چکا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بر وقت اس جانب توجہ دی جائے کیونکہ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

جہاں اس ڈیجیٹل زمانے نے بہت سی آسانیاں فراہم کی ہیں وہیں ماں باپ کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ والدین فخریہ بتاتے ہیں کہ ہمارے بچے تازہ ترین ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں لیکن آیا وہ آن لائن محفوظ بھی ہیں ؟ اس سے بے خبر پائے جاتے ہیں۔ جس طرح آج کل بچوں کو اجنبیوں اور مشکوک لوگوں سے محتاط رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ایک چیلنج ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے آن لائن سیفٹی کے حوالے سے بات کریں اور انھیں یقین دلائیں کہ کسی بھی نا خوشگوار صورت حال کو جلدازجلد والدین کے علم میں لانے سے اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ بچوں کے کمپیوٹر اور ٹیبلٹ پر سیکورٹی سوفٹ ویئر انسٹال کرنا چاہئیں، اگر بچے موبائل فون استعمال کر رہے ہیں تو پیرنٹ کنٹرول پروگرام انسٹال کرنے چاہئیں۔

اکثر اوقات بچے اپنی عمر سے مطابقت نہ رکھنے والی سائٹس وزٹ کرتے ہیں، اجنبیوں کو ذاتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جتنا وقت آن لائن گزارا جاتا ہے وہ بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

بچوں کو چاہیے کہ وہ ایسے پاس ورڈ رکھیں جو آسانی سے بوجھے نہ جائیں جیسے اپنی تاریخ پیدائش یا اپنے گھر کا فون نمبر وغیرہ تا کہ کوئی آپ کا اکاؤنٹ ہیک کر کے آپ کو تنگ نہ کرے۔ اگر ای میل یا سوشل میڈیا پر کوئی مشکوک لنک بھیجے تو اسےہرگز نہ کھولیں کیونکہ اس صورت میں بھی آپ کا اکاؤنٹ اور رابطے ہیک کے جا سکتے ہیں۔ اکثر سائٹ کے نام کے ساتھ ایک لاک بنا ہوتا ہے جو یہ نشاندہی کرتا ہے ہے کہ یہ سائٹ محفوظ ہے۔ اگر آپ کو لاک کا نشان نہ نظر آئے تو ایسی سائٹ پر کوئی بھی اہم ذاتی معلومات دینے سے گریز کریں۔ جعلی سائٹ آپ کی معلومات ہتھیا کر آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر انجان لوگوں کو دوست نہ بنائیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سب اکاؤنٹس پر اپنے آپ کو ایڈ کریں تا کہ آن لائن مصروفیات کا پتہ لگتا رہے۔ اگر بچے نے سیکرٹ یا کلوز گروپ جوائن کیے ہیں تو خود بھی ان گروپس کو جوائن کر لیں۔

انٹرنیٹ پر بہت زیادہ ذاتی معلومات کا تبادلہ نہ کریں جس سے کوئی آپ کے معمولات جان کر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا دے۔ اگر بچے کو کوئی دھمکی آمیز پیغام موصول ہو تو اسے محفوظ کر لے اور والدین کے علم میں لائے تا کہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے اکثر اس موضوع پر بات چیت کرتے رہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے خوشدلی سے آمادہ نظر آئیں اس طر ح بچے کو آپ کی فوری رہنمائی حاصل ہو جائے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */