جنسی تعلیم اور ہمارا معاشرہ - ربیعہ فاطمہ بخاری

زینب کیس کے بہت سے نتائج و عواقب میں سے ایک، بہت سے حلقوں کی طرف سے کیا جانے والا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں مغرب کی طرزپر جنسی تعلیم دی جائے۔ ہمارا معاشرہ چونکہ اس اصطلاح سے نابلد ہے لیکن اس کے باوجود معاشرے کا ایک فیکٹر اس کے حق میں دن رات دلائل پیش کر رہا ہے تو سوچا اس کی کچھ سوجھ بوجھ تو حاصل کی جائے۔

وکی پیڈیا پر مغربی ممالک میں دی جانے والی جنسی تعلیم کو جب سرچ کیا تو جو کچھ اس آرٹیکل میں میرے سامنے آیا اسے تو میں اپنے معاشرے کے بہت تھوڑے طبقے پر بھی منطبق نہیں کر پائی۔ اس آرٹیکل کے مطابق بیسویں صدی میں یہ تعلیم مغربی تعلیمی اداروں میں متعارف کروائی گئی اور اس کی دو بنیادی وجوہات اس میں بیان کی گئی ہیں،اولاً تو وہ لوگ بہت چھوٹی چھوٹی نو بالغ بچیوں کے بلوغت کے ساتھ ہی حاملہ ہو جانے سے پریشان تھےاور اس کی روک تھام کرنا چاہتے تھے (یاد رہے کہ زنا کو معاشرے سے ختم کرنا اس کا مقصد ہر گز نہیں تھا)۔

وہ اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہتے تھے کہ تم بھلے بلوغت کی ابتداء کے ساتھ ہی اپنے کسی کلاس فیلو کے ساتھ، کسی ہمسائے کے ساتھ کسی راہگیر کے ساتھ جب مرضی جنسی تعلق قائم کر لینا، کیونکہ ظاہر ہے کہ باہمی رضامندی کے ساتھ کیا گیا زنا کوئی گناہ تھوڑی ہے؟ ہاں! یہ خیال رکھنا کہ حمل نہ ٹھہرے، وہ یہ سکھانا چاہتے تھے کہ سیف سیکس کیسے کی جا سکتی ہے اور وہ کون سا طریقہ ہے جو حمل پر منتج نہ ہو۔ بعد ازاں جب ان کے معاشرے میں فری سیکس کے ثمرات کی بدولت ایڈز کی بیماری حدسے تجاوز کرنے لگی تو انہیں یہ تربیت دینا نا گزیر ہو گیا کہ فری سیکس کی تو خیر ہے بس یاد رہے کہ "احتیاطی تدابیر" کر لینا تاکہ ایڈز سے محفوظ رہو!

ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ یہ دونوں وجوہات کسی بھی حوالے سے ہمارے معاشرے کے ساتھ ریلیٹ کی جا سکتی ہیں؟ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے! ہمارا معاشرہ بدترین اخلاقی گراوٹ کے باوجود اس مقام پر نہیں پہنچا، جہاں ہمیں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اس طرح کی تربیت دینی پڑے۔ ہاں! چھوٹے بچوں کو اچھے لمس اور برے لمس میں فرق کی آگہی دینا ازحد ضروری ہے۔ انہیں یہ اعتماد دینا بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے غیر معمولی واقعہ کو فوراً ماں یا باپ کے ساتھ شیئر کرے، لیکن جب بچے بالغ ہو جائیں تو ان کی تربیت کے اور بہت سے مناسب طریقے ہیں۔ اگر بیٹا ہے تو اسے نظر نیچی رکھنا اور عورت کا عزت و احترام سکھائیں، نماز روزے کی پابندی سکھائیں، اسے بتائیں کہ بیٹا اس عمر میں تمہارے دل سے بہت سے اچھے برے خیال گزریں گے اور ضروری نہیں کہ جو خیال دل سے گزرے تم اسے عملی جامہ بھی پہنا دو۔ اسے اس بات کا احساس دلائیں کہ تمہارے گھر میں بھی ماں بہنیں موجود ہیں اور کل کو تم ایک بیٹی کے باپ بھی بن سکتے ہو، تمہارا کردار ایک بیج ہے، جو بونا تو تمہیں ہے مگر کاٹنا شاید تمہاری بہن یا بیٹی کو پڑے۔ قرآنِ پاک کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اگر آپ بیٹی کے ماں باپ ہیں تو اسے سب سے پہلے کردار کی بلندی سکھائیں، اسے معاشرے میں سنبھل کر اور اپنا دامن بچا کر رکھنے کی تاکید کی جائے، اسے اتنا اعتماد دیا جائے کہ وہ کسی بھی قسم کی صورتحال کا نہ صرف سامنا کر سکے بلکہ اس کا حل بھی تلاش کر سکے۔ بچیوں کو خاص طور پر سورةالنساء اور سورةالحجرات پڑھائی جائے، بچوں اور بچیوں کی شادی میں بلا جواز تاخیر نہ کی جائے۔

ہمارے معاشرتی مسائل کا حل ہر گز ہر گز بچوں کو شادی سے پہلے جنسی عمل کی وضاحت پیش کر کے اور کنڈوم کا استعمال سکھا کر نہیں ہو سکتا۔ میری دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ کبھی بھی اس نہج پر نہ پہنچے جہاں ہمیں اپنے بچوں کو اس طرح کی تعلیم دینے کی ضرورت محسوس ہو۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */