زنا بالجبر، حنفی فقہ اور امام سرخسی - محمد حسن الیاس

زنا بالجبر پر ہمارے جلیل القدر فقہا کے نقطہ نظر پر ہم نے طالب علمانہ سوالات اٹھائے تھے، فقہ حنفی کے فاضل محقق نے ہمارے ان سوالات کے جواب میں درج ذیل دو اہم باتیں فرمائی ہیں:

۱- فقہ حنفی میں زنا بالجبر کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط نہیں ہے۔

۲- فقہ حنفی زنا بالجبر کو زنا کے علاوہ ایک شنیع جرم تسلیم کرتی ہے اور اس کے لیے علیحدہ سزا بھی تجویز کرتی ہے۔

یہ دو باتیں انھوں نے ان الفاظ میں پیش فرمائی ہیں:
"یہ بھی فقہاے کرام نے واضح کیا ہے کہ "سیاسہ جرائم" کا ثبوت صرف اقرار یا گواہوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کےلیے قرائن، حالات، سابقہ ریکارڈ اور دیگر ذرائع بھی قابلِ قبول ہیں بشرطیکہ اسلامی قانون کے عمومی قواعد کی روشنی میں قاضی انھیں کافی سمجھے۔ گویا یہاں بھی انھوں نے معاملہ قاضی کے اجتہاد اور صواب دید پر چھوڑا ہے".

وہ مزید فرماتے ہیں:
"زنا اگر اکراہ کے ساتھ ہو تو اس بحث میں فقہاے کرام یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ فعل محض زنا سے زیادہ شدید اور شنیع جرم ہے اور اسی لیے اس پر محض زنا کے احکام کا ہی نہیں بلکہ دیگر جرائم کے احکام کا بھی اطلاق ہوتا ہے۔ امام سرخسی نے تصریح کی ہے: وجنايته إذا استكرهها أغلظ من جنايته اذا طاوعتہ۔ (اس شخص کا جرم، جب وہ عورت کو مجبور کردے، زیادہ سنگین ہے بہ نسبت اس صورت کے جب وہ اس کے ساتھ راضی ہو ".

فاضل محقق کے ان دو انکشافات کے بعد ہم طالب علم اب تک حنفی فقہ کے مصادر سے جو بات سمجھتے آرہے تھے، ان کی اصلاح کرنے اور اپنے جہل مرکب پر شرمندہ ہو کر فقہ حنفی کے سحر میں ایک بار پھر گرفتار ہوگئے۔ اور اسی حالت ندامت میں حصول برکت کے لیے امام سرخسی کی مبسوط کھول لی تاکہ حق کا سامنا براہ راست کر لیاجائے۔

فاضل محقق نے سرخسی کی جس گفتگو سے یہ عبارت (وجنايته إذا استكرهها أغلظ من جنايته اذا طاوعتہ) نقل کر کے جو ڈاکٹرائن دریافت کیا تھا، وہ گفتگو یہاں سے شروع ہوتی ہے:

[شَهِدَ الشُّهُودُ عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ اسْتَكْرَهَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ فَزَنَى بِهَا]

“(قَالَ) وَإِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ اسْتَكْرَهَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ فَزَنَى بِهَا حُدَّ الرَّجُلُ دُونَ الْمَرْأَةِ؛ لِأَنَّ وُجُوبَ الْحَدِّ لِلزَّجْرِ وَهِيَ مُنْزَجِرَةٌ حِينَ أَبَتْ التَّمْكِينَ حَتَّى اسْتَكْرَهَهَا، وَلِأَنَّ الْإِكْرَاهَ مِنْ جِهَتِهَا يُعْتَبَرُ فِي نَفْيِ الْإِثْمِ عَنْهَا عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الْإِكْرَاهِ أَنَّ لَهَا أَنْ تُمَكِّنَ إذَا أُكْرِهَتْ بِوَعِيدٍ مُتْلِفٍ، وَالْحَدُّ أَقْرَبُ إلَى السُّقُوطِ مِنْ الْإِثْمِ فَإِذَا سَقَطَ الْإِثْمُ عَنْهَا فَالْحَدُّ أَوْلَى، وَيُقَامُ الْحَدُّ عَلَى الرَّجُلِ؛ لِأَنَّ الزِّنَا التَّامَّ قَدْ ثَبَتَ عَلَيْهِ وَجِنَايَتُهُ إذَا اسْتَكْرَهَهَا أَغْلَظُ مِنْ جِنَايَتِهِ إذَا طَاوَعَتْهُ”. (صفحہ 54 جلد 9المبسوط لسرخسی)

ترجمہ: جب گواہ اس بات پرقائم ہوجائیں کہ اس مرد نے اس خاتون کو مجبور کر کے اس کے ساتھ واقعتا زنا کیا ہے تو اس مرد کو حد لگائی جائے گی۔ عورت کو نہیں لگائی جائے گی۔ اس لیے کہ مرد پر حد کا وجوب توبیخ کے لیے ہے اور یہ عورت تو ملامت اور سرزنش کر کے (زنا پر) قدرت دینے سے انکار کرنے والی تھی. یہاں تک کہ اس خاتون کو (انکار کے باوجود) اس مرد نے مجبور کر دیا۔ اور یہ "اکراہ" اس خاتون کی طرف سے گناہ صادر ہونے کی بھی نفی کرتا ہے. جیسا کہ ہم کتاب اکراہ میں بتا چکے ہیں کہ اس عورت نے جب اس کو قدرت دی تو ہلاکت کی وعیدوں کے ساتھ (مجبورا) دی۔ لہٰذا اس خاتون سے جب گناہ ختم ہوگیا تو حد کو تو بطریق اولی اس سے ختم ہوجانا چاہیے۔ اور بندے پر تو حد بہرکیف حد لگائی جائے گی اس لیے کہ اس نے زنا کے عمل کو تکمیل تک پہنچایا ہے اور اس لیے حد لگائی جائے گی، کیونکہ اس شخص کا مجبور کر کے یہ کام کرنا زیادہ سنگین ہے، اس سے کہ وہ خاتون کو راضی کر کے کرتا۔ ”

ہم ایک بار پھر اپنے جہل مرکب کا اقرار کرکے یہ معصومانہ سوال کرتے ہیں، ممکن ہے سرخسی کی مبسوط کا کوئی دوسرا قلمی نسخہ فاضل محقق کی گرفت میں ہو، ممکن ہے ہماری عربی دانی نے ہمیں دھوکہ دے دیا ہو، ممکن ہے ہماری گستاخیوں کی وجہ سے سرخسی نے اپنی بات تک پہنچنے کے سب دروازے ہم پر بند کر دیے ہوں، لیکن امید ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہوا ہوگا۔ اگر نہیں ہوا تو پھر فقہ اور اصول فقہ کے ان ناقص طالب علموں کو بتائیں کہ امام صاحب کی عبارت سے جو دو باتیں دریافت کی گئی ہیں، وہ آخر کہاں بیان ہوئی ہیں۔ جو باتیں یہاں اس عبارت میں بیان ہوئی ہیں وہ تو اس سے بالکل مختلف ہیں۔

اگر امام صاحب کی پوری بات پڑھی جائے تو وہ تین باتیں بیان فرما رہے ہیں:

پہلی یہ کہ اس شخص پر جس نے زور زبردستی سے زنا کیا، اس کا یہ جرم ثابت ہونا، گواہوں کی گواہی پر موقوف ہے۔

یعنی زبردستی زنا کرنے کے اس جرم کو اسی طرح ثابت کیا جائے گا جیسے زنا بالرضا کے جرم کو شہادتوں سے ثابت کیا جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس جرم کے ثبوت کے بعد اسے جو سزا دی جائے گی وہ وہی سزا ہے جو زنا کی عام حد ہے یعنی سو کوڑے۔ گویا جو شھادت کا نصاب اوپر بیان کیا گیا وہ زنا کی اسی سزا کا تھا جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے لہٰذا اب اس مرد کو سو کوڑوں کی حد لگائی جائے گی۔

تیسری یہ کہ امام صاحب کی مکمل گفتگو کے آخری جملے سے (وجنايته إذا استكرهها أغلظ من جنايته اذا طاوعتہ)جو نظریہ برآمد کیا گیا ہے۔ وہ تو امام صاحب بیان ہی نہیں کر رہے۔ امام صاحب تو یہ بیان کر رہے ہیں کہ اگرچہ وہ عورت اس پورے عمل میں رضامندی سے شامل نہیں ہوئی لیکن چونکہ مرد شریک تھا اور اس نے زنا کیا لہٰذا اسے تو حد بہرکیف لگنی ہی لگنی ہے۔ یہاں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ حد کے علاوہ محض اکراہ کے سبب اب اس مرد کو اضافی سزا دی جائے گی۔ اور جو دی جائے وہ اس عبارت میں کہاں گم ہوگئی ہے؟

سرخسی کی ان معصومانہ عبارتوں سے جو ڈاکٹرائن دریافت کیا گیا ہے وہ سب سے پہلے سیاسہ کے تحت زنا بالجبر فساد فی الارض تھا، پھر زنا بالجبر تعزیزی سزا بن گیا، پھر اس کو ثابت کرنے کے لیے حدود کہ شرائط ختم ہوگئیں، پھر جرم کے شنیع ہونے سے حد کے ساتھ اکراہ کی سزا نے جگہ لے لی، پھر اس سب کو ثابت کرنے کے لیے جو براہین اور شواھد جمع کیے گئے ان کی حقیقت سامنے ہے۔

میرا خیال ہے فاضل محقق کو اس مقام پر فقہ حنفی کا یہ قرض اتار کر ہمارے سوالات کا دو ٹوک جواب دے ہی دینا چاہیے تاکہ ہمارا جہل مرکب ایک ہی بار دفن ہوجائے کہ یہ تمام دعوے اور باتیں ان عبارتوں میں کہاں بیان ہوئی ہیں؟

ممکن ہے ہمارے ناقص مطالعے میں اوجھل رہ گئی ہوں اور ہاں اس کے بعد اپنے رشحات فکر اکابر علما کے سامنے بھی ہیش فرما کر تصدیق کرلیں تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ حنفیت کے اس ارتقاء کو تسلیم بھی کرتے ہیں یا نہیں۔

باقی ہم تو طالب علم ہیں، عزت سے سوال اٹھاتے تھے، اٹھاتے رہیں گے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ’’دو شرعی سزاؤں کو علیحدہ علیحدہ سمجھا جائے۔‘‘ از ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (ادارہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی)
    قصور کے واقعے میں اندوہناک طریقے سے ہلاک کی جانے والی بچی زینب کے مجرم کی سزا پر اپنا موقف میں اس سے قبل لکھ چکا ہوں۔ اس واقعے کے حوالے سے یہ بحث یہاں جاری ہے کہ اس کو حرابہ کا جرم کہا جائے یا زنا کا؟ اور پھر کس جرم کے تقاضے اور اس کی سزا عائد کی جائے؟

    تو راقم کو ڈاکٹر مشتاق احمد اور برادرم عمار خاں ناصر کی اس رائے سے اتفاق نہیں کہ وہ اس کو صرف حرابہ یعنی دہشت گردی کا جرم ہی قرار دے رہے ہیں اور فقہ حنفی کی ایک توجیہ کی بنا پر نابالغ بچی سے زیادتی کو بعض صورتوں میں ناممکن قرار دیتے ہوئے اس سے صرفِ نظر کر رہے ہیں۔

    ظاہر ہے کہ قرآن وسنت میں زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے اس طرح کی کوئی تفصیل یا شرط عائد نہیں کی گئی بلکہ اگر کوئی مجرم ڈھٹائی سے ایک مشکل الوقوع جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس سے جرم کی شدت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ کسی بدبخت کے ایسے جرم کو کیا کہا جائے گا جب وہ چھ سالہ بچی سے زیادتی کی درون خانہ کوشش کرے، نہ تو اس کو قتل کرے اور نہ ہی علانیہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو کیا ایسی صورت میں محض شرمگاہوں کا ناجائز طور پر مل جانا ، زنا کی سزا کا موجب نہیں ہوگا، جب مجرم زنا کا خود اعتراف بھی کرلے۔

    زنا کے جرائم کو ، زنا کے دائرہ عمل سے نکال کر فساد فی الارض یعنی حرابہ کے تحت لے آنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا عقلی رجحانات کا شاخسانہ ہے ۔

    بعض اوقات کسی کیس میں دو جرائم اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت دونوں جرائم کی سزا دی جاتی ہے۔ یہی صورت حال معصوم زینب کے واقعے میں ہے، جہاں بدکاری، قتل، علانیہ جرم کا ارتکاب کرکے زنا، قصاص اور حرابہ کے سزائیں لاگو کی جانی چاہیئں۔یہی صورت حال اہانت رسولﷺ کے مسئلہ میں بھی ہے کہ اہانت رسول ایک مستقل جرم ہے، اور اس کا تکرار سے یا علانیہ طور پر ارتکاب اس میں فساد فی الارض کے جرم کا بھی اضافہ کردیتا ہے۔ تو ایسے شاتم کو دو جرائم کی سزا دینی چاہیے۔
    اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ شراب نوشی کے کسی واقعہ میں ، دنگا فساد اور فائرنگ بھی ہو تو اس سے وہ کیس شراب نوشی کے جرم سے نکل کر فساد انگیزی میں داخل نہیں ہوجائے گا، بلکہ اس میں دونوں جرم پائے جانے پر دونوں جرائم کی سزائیں علیحدہ جاری کی جائیں گی۔
    بالفرض زینب کے کیس میں مجرم اعترافِ زنا نہیں کرتا ، اور چار گواہیاں بھی پوری نہیں ہوتیں تو پھر زنا کی بجائے بے راہ روی کے جرم کا اندراج کرکے، اس کی تعزیری سزا(سیاستاً) ، جو بھی حاکم وقت نے جاری کررکھی ہے، اس کو لاگو کیا جائے گا،اور قتل وفساد کی سزا اپنی جگہ پر باقی رہے گی۔
    میرے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں واضح طور پر بیان کردہ ہرجرم اپنی اپنی جگہ شرعی نظام کے تحت دیکھا جائے گا، اور مزید جرائم کی صورت میں پہلا جرم ، دوسرے جرم سے مختلط ہوکر اپنے تقاضے تبدیل نہیں کرے گا۔ ہاں اس منصوص جرم پر دوسرے جرم کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طے کردہ سزاؤں کا نظام خالص الوہی ہے، جس میں تبدیلی کرنے کا کوئی مجاز نہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ وضاحت زیر بحث مسئلہ میں کافی سمجھی جائے گی۔