بچوں کو بریکنگ نیوز سے بچائیں - سائرہ فاروق

آپ "گڈ ٹچ" یا "بیڈ ٹچ" کے قصے چھیڑیں نہ چھیڑیں، سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنانے پر اتفاق کریں یا مخالفت، مگر بچوں کو بریکنگ نیوز میں چلنے والی جنسی زیادتی و قتل پر مبنی خبروں سے ضرور بچائیں۔ یہ آگاہی اہم نہیں ہے ....مگر ہمارے لیے زیادہ اہم ہمارے بچوں کی ذہنی صحت ہونی چاہیے ۔

ہمارے لیے یہ جاننا ازحد ضروری ہے کہ جو بچے ہمارے اردگرد موجود ہیں، جو زندہ ہیں، جو ابھی سانس لے رہے ہیں کہیں ہم انھیں ہاتھ پکڑ کر خود ساختہ ڈر والے ماحول میں تو نہیں لے کر جا رہے؟ "اف اللہ...! ہائے...! دیکھو تو بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟" جیسی خوفزدہ باتوں اور سراسیمہ چہروں سے ہم اپنے بچوں کے اعصاب پر کتنا بوجھ ڈال رہے ہیں... اس کا اندازہ بھی ہے آپ کو؟

یہ ننھی جانیں جو قصور واقعے کی شدت سے مکمل طور پر آگاہ نہیں، مگر بار بار چلتی بریکنگ نیوز، ہمارے بولتے چہرے اور تبصروں سے اندر ہی اندر کس قدر اپنے تحفظ کو لے کر پریشان ہیں اور اس قدر خوفزدہ سے ہو گئے ہیں کہ ذرا سی آہٹ پر تیزی سے بھاگتے ہوئے ماں کے سینے میں چھپتے ہیں، اکیلے چھت پر نہیں جا پاتے، لائٹ جانے پر وہ سہم سے جاتے ہیں، گویا ہمارے رویوں کی بدولت وہ گھر جیسے محفوظ مقام پر بھی ڈرنے لگے ہیں۔

پہلے تو ہم بڑوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی آخری ہے۔ یہ ہمارے سماج میں ہونے والے بم دھماکوں، دہشت گردی، قتل و غارت گری کے واقعات کی طرح کی ہی ایک قسم ہے جو پوری آب وتاب کے ساتھ ہمارے سماج میں موجود ہے، بلکہ وقتاً فوقتاً اس کی بازگشت ہمیں بدقسمتی سے سنائی دی جاتی رہے گی۔

ہمارے سماج میں یہ باقی برائیوں کی طرح کی ہی اک برائی ہے، اور جہاں ہم نے بچوں کو اکیلے باہر جانے سے روکنا ہے، وہاں انھیں اس خوف سے باہر بھی ہم نے ہی نکالنا ہے۔ اور یہ بہت ضروری ہے کیونکہ معاشرے میں اک بزدل خوفزدہ فرد کا آسانی سے جینا بہت مشکل ہے اس طرح کے بچے بڑے ہو کر معاشرتی عدم مطابقت کا شکار ہو کر معاشرے کا مفید رکن نہیں بن سکتے، نہ ہی سر اٹھا کر جی سکتے ہیں، نہ ہی خود کو تحفظ دے سکتے ہیں، نہ اپنے سے وابستہ رشتوں کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔

ہم اپنے ہاتھوں اپنی نسل کو خوف بانٹ رہے ہیں، سماجی تشدد زدہ واقعات کی خبریں اور نت نئی اصلاحات (زیادتی، ریپ، نچی ہوئی لاش، کٹی کلائیاں، بےدردی سے تیز دھار آلے سے شہ رگ کاٹنا) جیسی آگاہی میڈیا کے ساتھ ساتھ ہم خود بھی دے رہے ہیں اور مکمل تفصیل کے ساتھ، بار بار اس خبر کا اعادہ بھی کر رہے ہیں جو ہمارے بچوں کے کچے اذہان کے کینوس پر بدترین نقوش کندہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ہم کیوں ادراک نہیں کرتے کہ ہمارے یہ معصوم ذہن بریکنگ نیوز سے اٹھنے والی دہشت کا شعوری طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ابھی نابالغ ہیں، ان کا مستقل اور مسلسل خوف میں مبتلا رہنے سے ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور اگر خوف مسلط کر دیا جائے تو یہ بچے کی زندگی پر انتہائی مہلک اور منفی اثرات ڈالے گی ۔

خدارا! گھر میں چلنے والی ایسی بریکنگ نیوز کے مقابل اپنے ذہنی نشوونما کے مدارج طے کرنے والوں نونہالوں کو کھڑا مت کریں ان کی عمر ابھی اتنی نہیں کہ ایسے سانحات کو برداشت کرنے کی اہلیت رکھیں۔

اپنے گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار بنائیں، نیوز ایک بار سن لی تو کوشش کیجیے کہ بار بار ان کا اعادہ مت ہونے دیں، بلکہ کوشش کیجیے کہ ایسی خبر آنے پر چینل تبدیل کر دیجیے۔ خبر پر تبصرہ ان کے سامنے مت کیجیے آپ کو لگتا ہے کہ بچے کھیل رہے ہیں مگر درحقیقت ان کا سارا دھیان آپ کی باتوں پر ہوتا ہے ۔

ہر عمر کے اپنے تقاضے ہیں، کوشش کیجیے کہ ایج کے مطابق ڈھکے چھپے الفاظ میں بچوں کو اپنے تحفظ کے سلسلے میں آگاہی دیجیے مگر انداز پرسکون رکھیے بہت ہیجان انگیزی میں ان سے ڈسکس نہ کریں بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ انھیں احساس دلائیں کہ آپ ان کے ساتھ ہیں اور انھیں کسی سے ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں آپ کا یقینی ساتھ اور خوف سے لڑنے کی ترغیب انھیں جسمانی، ذہنی، معاشرتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

Comments

سائرہ فاروق

سائرہ فاروق

سائرہ فاروق ایم ایس سی کی طالبہ ہیں۔ مطالعہ کا شوق ہے۔ دلیل کےلیے لکھتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */