احسن تقویم سے اسفل السافلین تک - عثمان کاظمی

جہاں انسان نما جانور وحشی درندوں کا روپ دھار لیں۔ جہاں دن رات جان کو دھڑکا لگا رہے، جہاں درندگی معصوم بچوں کا پیچھا کرنے لگے، جہاں دریدہ و بریدہ لاشیں ندی نالوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے ملنے لگیں، جہاں لوگ گلی محلوں میں بھی محفوظ نہ رہیں اور جہاں طیبہ، طوبیٰ اور زینب ایسی کلیاں مسلی جانے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ وہاں انسان احسن تقویم سے اسفل السافلین کی سطح تک آ پہنچا ہے۔ بہترین تخلیق کا اعزاز پانے والا رزیلوں میں سب سے رزیل بن چکا ہے، وہ جو شرفِ کائنات تھا اب ننگِ کائنات بن چکا ہے۔ ابو لہب اور ابو جہل تو معصوم بچیوں کو صرف زندہ درگور کیا کرتے تھے۔ ہم تو ان ننھی کلیوں کو مسلتے بھی ہیں، کچلتے بھی ہیں اور ان پنکھڑیوں کو نوچنے کے بعد آزادی سے گھومتے بھی ہیں اور مہذب بھی کہلاتے ہیں۔ ہم معاشرہ یا قوم نہیں بلکہ منتشر اور وحشی ہجوم ہیں اور اسی ہجوم سے کبھی کبھار کوئی انسان ایسے بھیانک درندے کا روپ دھار لیتا ہے کہ جنگل کے درندے بھی اس سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔

آج جبکہ برائیوں کا ایک جال ہے جو ہر طرف بچھا ہوا ہے تو ایسے میں ایک اچھا بھلا انسان بھی برائیوں کی طرف یوں کھینچا چلا جاتا ہے، جس طرح مقناطیس لوہے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بے راہ روی نے معاشرے کے تار و پود ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ آنکھوں سے حیا اور دل سے ضیاء ختم ہو رہی ہے۔ مذاق میں فحش حد اعتدال کو تجاوز کر گیا ہے اور رہی سہی کسر نوجوانوں کی طویل بے روزگاری نے نکال دی ہے۔ بے روزگاری نے ان نوجوانوں کو آتش فشاں بنا دیا ہے۔ فارغ ذہن کے بارے میں سچ کہا گیا ہے کہ یہ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ فراغت کے لمحات میں شیطانی خیالات کے پہلوان ایسے نوجوانوں کے دل و دماغ میں کبڈی کھیلتے رہتے ہیں اور یہ شغل اور ٹائم پاس کے نام پر بہت کچھ کر گزرتے ہیں۔ ہماری اس افرادی قوت کا اس طرح ضائع ہونا وطن عزیز کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

ننھی زینب کو نوچنے والا کون تھا؟ ننھی زینب کو نوچنے والا بھی ہم میں سے ہی تھا۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج مدھم ہی سہی لیکن وہ کوئی باہر کا نہیں لگتا۔ عمومًا ہم سانحات اور حادثات میں بھارت یا اسرائیل کا ہاتھ ڈھونڈ نکالتے ہیں اور اسے دشمن کی سازش قرار دیتے ہیں لیکن یہ بربریت کرنے والا کوئی غیر نہیں تھا۔ اس کا حلیہ بتا رہا ہے کہ وہ اپنا ہی تھا، جو بھی تھا احسن تقویم تھا جو اسفل السافلین بن گیا۔ منٹو نے کیا خوب کہا تھا " انسان اپنے اندر کوئی برائی لے کر پیدا نہیں ہوتا، خوبیاں اور برائیاں اس کے دل و دماغ میں باہر سے داخل ہوتی ہیں بعض ان کی پرورش کرتے ہیں بعض نہیں۔ "

اصلاح کیسے ممکن ہے؟

اصلاح کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے۔ والدین بچپن سے ہی بچوں کے ذہن میں تعلیم و تربیت کی اہمیت اجاگر کرتے رہیں تاکہ یہی بچے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں تو کہیں بہک نہ جائیں اور برائیوں کی پرورش نہ کرنے لگ جائیں۔ گھر کے بعد سکول، کالج، یونیورسٹی اور مدارس طلباء کو ایسا ماحول فراہم کریں جہاں نوجوانوں کے کردار کی تعمیر اور اخلاق کی تشکیل ہو سکے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے کیوں کہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم خود سر، آوارہ مزاج اور دین بیزار لوگ تیار کر رہا ہے۔ ملک و ملت کے تقاضوں سے اسے کوئی سرو کار نہیں۔ اخلاق و کردار اجاگر کرنے میں تعلیمی نصاب اہم کردار ادا کرتا ہے بدقسمتی سے قرآن و حدیث کے ذخائر اور صحابہ کرام کے زندگیاں بدل دینے والے واقعات بتدریج ہمارے تعلیمی نصاب سے ختم کیے جا رہے ہیں۔ تعلیم بالغاں کے نام سے بھی سلسلے دوبارہ شروع ہونے چاہئیں جو کبھی پاکستان میں نافذالعمل ہوا کرتے تھے اور تب اس طرح کے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت ٹیلی وژن ایک استاد کی حیثیت رکھتا تھا۔ طرح طرح کے تعلیمی پروگرامات ہوا کرتے تھے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی سنوارتے تھے۔ اب چینلز کا اتوار بازار ہے لیکن تعلیمی اور تربیتی پروگرامات سے کوسوں دور۔

دنیا میں عروج انہی قوموں کو ملا ہے جنہوں نے تعلیم کو سر فہرست رکھا۔ ہمارا پڑوسی ملک چین اس کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ہمدردی، انسانیت، اعلیٰ اخلاق اور شائستگی ایسے اوصاف حمیدہ صرف اور صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہیں۔ جس طرح کھاد، پانی اور ہوا سے پودے کی خوبصورتی نکھرتی ہے، گل مہکنے لگتے ہیں اسی طرح اچھی تعلیم و تربیت سے شخصیت بھی نکھرتی ہے۔ اصلاح معاشرہ میں محلے کی مسجد بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کبھی کبھار ایسے مجرم بھولے بھٹکے جب مسجد میں آ ہی جاتے ہیں تو یہاں انھیں فروعی اختلافات اور فرقہ پرستی سے پالا پڑتا ہے جس سے انھیں کوئی سر و کار نہیں ہوتا بلکہ ان کا مزاج مزید بگڑ جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے مجرم، چور، ڈاکو اور لٹیرے کسی واعظ کی محض ایک بات سے اتنے متاثر ہوئے کہ باقی کی زندگی توبہ کرتے گزار دی لیکن ہمارے ہاں واعظین کی بہتات ہے لیکن اصلاح کرنے والا اکا دکّا " ہم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ "

اگر کوئی حکمران ہے تو وہ دیکھے کہ کیا وہ فرعون وقت کے تیور دیکھ کر اپنی پالیسیاں اور ترجیحات متعین کر رہا ہے یا اسے عوام کا مفاد عزیز ہے۔ اگر کوئی استاد ہے تو وہ دیکھے کہ وہ اپنے اسٹوڈنٹس میں اخلاقی قدروں کو کس حد تک اجاگر کر سکا ہے۔ اگر کوئی مبلغ ہے تو وہ دیکھے کہ وہ مذہبی منافرت پھیلا رہا ہے یا لوگوں کے اخلاق سنوارنے میں، کچھ کردار ادا کر رہا ہے۔ عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرے، میڈیا ریٹنگ کی بجائے قوم کے اجتماعی مفاد کو مد نظر رکھے۔ الغرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا جوابدہ ہے، اسے دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے "احسن تقویم" یا پھر "اسفل السافلین"۔

افراتفری کے اس عالم میں ہمیں اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرنا ہو گی ورنہ سماج گل سڑ کر بکھر جائے گا۔