قصور سانحہ، نظریات اور بچوں کو کیا سکھائیں؟ - وقاص احمد

قصور کے دلخراش سانحے کے بعد کئی موضوعات پر زور شور سے بات ہورہی ہے۔ ان میں سے کچھ موضوعات تو وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑ رہے ہیں کیونکہ میڈیا کو خود اُن میں بوجوہ دلچسپی نہیں ہے۔ اسی طرح کچھ موضوعات بوجوہ طاقت پکڑ رہے ہیں۔ لیکن کچھ امور ایسے بھی ہیں جن پر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں متحرک نفوس بالکل بات نہیں کر رہے الّا ماشاء اللہ۔ ذہنوں میں راسخ نظریات کا عمل دخل یہاں بھی ہے۔بیرونی فنڈنگ، فنڈڈ این جی اوز اور مغرب زدگی کے آثار یہاں بھی نمایاں ہورہے ہیں۔

بہت سے اچھے اورسلجھے ہوئے لکھاریوں نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عریانی اور فحاشی پر بات کی ہے۔ انٹرنیٹ پر لڑکے لڑکیوں کے آزاد، خالصتاً لذت پرست یا شاعرانہ الفاظ میں رومان پرور رابطے تو ایک طرف، اچھی خاصی سنجیدہ اور پروفیشنل کمیونی کیشن بھی غیر معمولی تعداد میں جس سرعت و رفتار کے ساتھ غیر سنجیدہ اور ذاتی نوعیت میں تبدیل ہوجاتی ہے اس پر دلائل یا کسی بہت بڑی ریسرچ کی ضرورت نہیں۔ ہاتھوں میں تھامے جانے والے برقی مواصلاتی آلات نے انسان کی شہوت پسندی کے ناپاک جذبات میں جو سہولیات فراہم کی ہیں اس میں ایک درجے میں تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ مگر ایک طبقہ کھل کر اس موضوع پر بات کرتا ہے اور ایک طبقہ خاموش۔

کیا انسانی ضمیر اور فطرت سلیمہ بھی ہم سب کو کسی متفقہ موقف پر نہیں لا سکتا؟ کن ویب سائٹس پر فی الفور پابندی لگا دینی چاہیے اس پر ابھی سوچنا باقی ہے؟ ہوسکتا ہے یو ٹیوب، اور سوشل میڈیا کے پیجز بلاک کرنے میں مختلف اقسام کے مسائل ہوں۔ لیکن پاکستان میں کھل کر دیکھی اور دکھائی جانے والی فلموں اور مجروں میں انسان کے اندر موجود کن جذبات کو ہوا دی جاتی ہے، دلوں میں کون سے ارمان جنم لیتے ہیں؟ اس معاملے میں آپ کسے بے قوف بنا سکتے ہیں۔ ہمارے 'الٹرا لبرلز' جو قرآن کو کم اور فرائیڈ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ کسے چکمہ دے رہے ہیں کہ ’’ بس معا شرے میں جو بھی ہو پروا نہیں، بس نفس کو قابو میں رکھنا چاہیے۔‘‘

یہ الٹرا مغرب زدہ لبرلز ہمیں انسانی نفسیات و جنسیات پڑھا کر ہمارے سامنے ہی یو ٹرن لیکر ہمیں ہی الّو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔جبکہ مولوی جب اسی فحاشی، عریانیت کو روکنے کی بات کرتا ہے تو یہ اس پر راشن پانی لیکر چڑھ دوڑتے ہیں۔ جینیاتی مجبوریوں، پروش کے ماحول، نفسیاتی مسائل، جہالت میں رہنے والے، اگر کروڑوں کے معاشرے میں چند ہزار بھی ہیں تو اس کے بعداگر میڈیا کے تمام گوشوں میں عورت کو ایک جنسی کموڈٹی کے طور پر پیش کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خطرات سے ہم خود کھیلنا چاہتے ہیں۔ معاشرے میں کسی بھی وجہ سے موجود یہ چند سو انتہائی گمراہ، ذہنی بیمار لوگ بھی معاشرے کا سکون تہہ و بالا کرسکتے ہیں۔ اوپر سے شرعی سزاؤں کی حکمت کو ہم سمجھ نہیں پارہے۔ تازہ سانحے کے بعد بہت سے لبرلز پر شرعی سزاؤں کی حکمت بھی واضح ہوگئی ہے۔ وہ شرمائیں نہیں کھل کر اظہار کریں۔ قتل، زنا اور زنا با لجبر پر خاص طور پر اگر سزائیں کھلے عام دی جاتیں تو قصور شہر جیسے انتہائی اندوہناک واقعات کی روک تھام ہوسکتی تھی۔ اس لیے انتہائی ضروری ہے کہ اجتماعی اور حکومتی سطح پر کم از کم فحاشی اور سفلی جذبات کو ہوا دینے والے تمام معاملات پر پابندی لگائی جائے۔ ماحول میں عمومی سدھار لایا جائے اور باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

ایک معاملہ جو ڈسکس بالکل نہیں ہورہا وہ ہے مخلوط تعلیم، جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں رومان پرور مناظر کی بھرمار ہے۔ ان کو دیکھ کر ہمدردی و ایثار اور جہاد کے جذبات نہیں امڈتے۔ بات کہیں اور جاتی ہے اور پھر ہر کوئی اپنے اپنے علم اور جذباتی کنٹرول کے مطابق اپنے لیے لائحہ عمل سوچتا ہے۔ وائس چانسلز اور پرنسپلز سے گزارش ہے کہ اسپر سنجیدہ اصول و ضوابط بنا کر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ گلی میں جب گٹر کا پانی آجائے تو پانی کی نکاسی جتنی ضروری ہے اس سے زیادہ ضروری گٹر کی صفائی ہوتی ہے۔ تعزیرات کا نظام تب ہی موثر ہوتا ہے جب ماحول اور معاشرے میں موجود گٹر بند کئے جاتے ہیں۔

آخر میں جو موضوع دن بدن زور پکڑ رہا ہے وہ ہے بچوں کو جنسی حوالے سے تعلیم کا ہے۔ ڈان نیوز کے ضرار کھوڑو صاحب نے اپنے پروگرام میں فرمایا کہ اس تعلیم سے ’’اگر کسی کی فیلنگ ہرٹ ہوتی ہے تو ہوتی رہے‘‘۔ ضرار صاحب سے پہلے تو گزارش ہے کہ ذرا اس موضوع پر تو اظہارِ خیال کریں کی فحاشی اور عریانی کی تعریف کیا ہے، پاکستان میں کوئی چیز اس زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟ یہ کوئی مسئلہ ہے بھی؟ اور کیا فرائیڈ کی تحقیقا ت فالتو اور ناکارہ ہیں؟ ان پر جب آپ کچھ فرمائیں گے تو آپ کی اور باتیں ہمیں صحیح سے سمجھ میں آئیں گی۔ رہی بات بچوں کی تعلیم کی، تو اس حوالے سے یہ چیز تو انتہائی اہم ہے کہ بچوں کو بتایا جائے کہ اجنبیوں اور کم جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ کہیں نہ جایا جائے چاہے وہ یہ بھی کہیں کہ تمہیں چاکلیٹ دلاؤں گا۔ یا تمہارے ابو امی وہاں کھڑے ہیں وغیرہ۔ سکھایا جائے کہ اس طرح کی صو رتحال میں بچے کو کیا کرنا ہے؟ کس کو اطلاع دینی ہے؟ اسکول والوں نے کیا کرنا ہے؟ باقی جہاں تک چچا، ماموں، اور ان کے دوستوں اور دوسرے مرد حضرات کا معاملہ ہے تو اس کے حوالے سے بچوں کو نہیں بڑوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ والدین اسکول میں سخت ہدایات دے سکتے ہیں۔ بچوں سے سوالات کر کے معاملے کو جانچا جاسکتاہے۔ کہ انھیں کوئی چیز بری تو نہیں لگتی۔ رشتہ داروں میں لوگ ایک دوسرے کی خصلتوں سے اکثر واقف ہوتے ہیں۔ وہاں ان معاملات کے حوالے سے والدین ویسے ہی الرٹ ہوتے ہیں۔ ان کو مزید الرٹ رہنے کی ضرورت ہے لیکن بلوغت سے پہلے بچوں کو جنسی فہم و ادراک دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ چھو ٹے بچوں کا یہ کامن سوال ہوتا ہے جب کسی گھر میں پیدائش ہوتی ہے کہ ابو! بے بی بوائے اور بے بی گرل کا کیسے پتا چلتا ہے؟‘‘ تو یہاں آپ پر حقائق بیان کرنا فرض نہیں ہوجاتا۔ بچوں میں اس حوالے سے معصومیت، جسمانی و عقلی بلوغت تک رہنے دی جائے تو کوئی بڑا فرق نہیں پڑجائے گا جبکہ بچے کے دل میں رشتوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے اور ہر وقت یہ جانچتے رہنے سے دوسرے اخلاقی اور نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ہاں، بچوں کی بلوغت تک والدین، ٹیچرز ہوشیار اور خبردار رہیں۔ پرائمری تک ویسے بھی پورا تعلیمی اور تدریسی نظام خواتین کے حوالے کردینا چاہیے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.