شیعہ سنی اختلاف: ایک مغالطہ - سہیل بشیر کار

شیعہ سنی اختلاف صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ خلافت عباسیہ میں بعض مرحلوں میں اس نے بے حد ناگوار صورت اختیار کرلی تھی۔ خلافت کے زوال اور بغداد کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ مصر کی فاطمی سلطنت میں بھی اس اختلاف نے عجیب و غریب صورت اختیار کرلی تھی، بعد ازاں جب ایران میں صفویوں کا دور شروع ہوا تو ایران کا سرکاری مذہب شیعیت قرار پایا اور خلافت عثمانیہ کے مقابلے میں ایران کی سلطنت دنیا بھر کے اہل تشیع کی آرزوؤں کا مرکز بن گئی۔

شیعہ سنی تعلقات کے تاریخ میں بعض خوبصورت پہلو بھی رہے ہیں۔ تاریخ نے دونوں فرقوں کو مل جل کر رہتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ بر صغیر جہاں مسلمانوں کی آبادی کا بڑا حصہ آباد ہے شیعہ اور سنی دونوں فرقے مل جل کر رہ رہے ہیں۔ مغل دور میں ایک ہی خاندان کے افراد الگ الگ فرقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جہانگیر سنی مگر اس کی بیوی شیعہ ہے۔ شاہجہاں سنی مگر ممتاز محل شیعہ ہے۔ اورنگ زیب کٹر سنی ہے مگر اس کا بھائی مراد شیعہ ہے۔

علی گڑھ تحریک میں شیعہ اور سنی دونوں فرقوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔ سید امیر علی نے شیعہ ہونے کے باوجود اپنے قلم سے اسلام کی بے لاگ ترجمانی کی۔ آگاہ خان نے مسلمانوں کے رفاہی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح شیعہ سنی دونوں کے مسلمہ رہنما تھے۔

چند روز قبل حامد کمال الدین صاحب کا ٹویٹر پڑھنے کو ملا۔ پڑھ کر تعجب سا ہوا۔ حامد صاحب نے شیعہ سنی اختلاف کو ایرانی انقلاب کی پیداوار قرار دیا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ فروری ۱۹۷۹ء کے ایرانی انقلاب نے دنیا کے مسلم نوجوانوں میں اس وقت بیداری کی لہر پیدا کی جب انقلاب کے رہنما آیت اللہ خمینی نے معاندین اسلام کے استعماری عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے شیعہ سنی اختلافات کم کرنے کی کوشش کی اور اہل تشیع کو حکم دیا کہ وہ اہل سنت والجماعت کے اماموں کے پیچھے نماز پڑھیں۔ آیت اللہ خمینی نے اور بھی اقدامات کیے جن کا مقصد شیعہ سنی اختلافات کو کم کرکے ملت اسلامیہ کو منظم کرنا تھا۔ مگر امریکہ، یورپ اور اسرائیل نے اپنے ’’بادشاہ بھائیوں‘‘ کو ابھارا کہ انقلاب آیا تو تمہاری خیر نہیں، اس لیے نوجوانوں کو انقلاب کے اثرات سے بچانے کے لیے عرب و عجم اور شیعہ سنی کے پتے کھول دیے۔

اس کے بعد شیعہ سنی اختلافات کی جو نئی لہر پیدا ہوئی وہ اسرائیل اور ’’ملوک عرب‘‘ کی بقا کے لیے ضروری اور امریکا اور یورپ کے استعماری عزائم کے لیے ناگزیر تھی۔ اسرائیل، امریکا اور یورپ نے جس طرح تاریخ کے ٹھکرائے ہوئے شیوخ عرب کو شیعیت اور جمہوریت کے خلاف استعمال کیا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کے راگ الاپنے والے امریکا نے ۳۱ سالہ ولی عہد کو مبارکباد دی جب اس کے بادشاہ باپ نے اسے اپنا جانشین نامزد کردیا۔

کسی دوست کو اوپر کے بیانات پڑھ کر مغالطہ نہ ہو کہ میں ایران کا حامی ہوں۔ ایران کی پالسی بھی کچھ قابل تعریف نہیں رہی ہے بلکہ اس نے ہمیشہ سے اپنے ہی سکے کی مضبوطی کا سوچا ہے چاہے اس کے لیے بشار الاسد جیسے سفاک کی حمایت کیوں نہ کرنی پڑے۔ افغان مسئلہ میں انتہائی منفی رویہ اختیار کرنا ہو یا کشمیر کے معاملے وقتاً فوقتاً استعمار کا ساتھ ہو۔ اس تحریر کے لکھنے کا مقصد بس حامد کمال الدین صاحب کے اس تجزیے کا جواب دینا تھا جس میں انہوں نے شیعہ سنی اختلافات کو ایرانی انقلاب کا نتیجہ بتایا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ حامد کمال الدین موجودہ شیعہ سنی اختلاف میں گزشتہ کچھ دہائیوں سے عسکری پہلو کے کچھ زیادہ ہی دخول کو دیکھ کر شیعہ سنی اختلاف کو حال کی پیداوار سمجھنے لگے ہیں جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔

ناچیز کا خیال ہے کہ حامد کمال الدین صاحب کی تحریر تاریخی حقائق کے برخلاف اور ناقص تجزیے پر مبنی ہے، اور اس پر حالات کا ردعمل صاف طور پر غالب نظر آرہا ہے حالانکہ اس جیسے اہم اور وسیع اثرات کے حامل موضوعات پر بہت ہی معروضی اور مدلل موقف اختیار کرنا چاہیے۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں