اگر زینب زندہ ہوتی – محمد حسن الیاس

ہم تھوڑی دیر کے لیے تصور کر لیتے ہیں کہ زینب زندہ ہے۔

وہ کوڑےدان کے پاس بے ہوش پڑی ملی تھی۔ اسے بروقت ہسپتال پہنچا دیا گیا اور یوں اس کی جان بچ گئی۔ چند ہفتوں بعد جب وہ چلنے کے قابل ہوئی تو عدالت نے اسے طلب کرلیا گیا اور اس سے اس دعوے کے متعلق پوچھا گیا جو اس کی بے ہوشی کے دوران کیا گیا تھا۔ زیر نظر کارروائی شرعی عدالت کی ہے جو فقہ اسلامی کی روشنی میں انصاف فراہم کرتی ہے۔

قاضی :تمہارے والد نے رپورٹ لکھوائی ہے، کہ تمہارے ساتھ زنا کیا گیا ہے۔

زینب:جی، مجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قاضی:کیا عمر ہے تمہاری؟

زینب:سات سال

قاضی:وکیل صاحب، آپ کو معلوم ہے بچے کا دعویٰ شریعت اسلامی میں معتبر نہیں۔ وہ عاقل و بالغ نہیں، کیا آپ اس کے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ (التشریع الجنائی 397:2)

وکیل:جی ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ یہ ہے۔ اس پر دو "عاقل، بالغ، مرد ڈاکٹروں" نے سائن کر کے لکھا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

قاضی:کس شخص نے تمہارے ساتھ زنا کیا ہے؟

پولیس:جی ہم نے CCTV کی مدد سے اس درندے کو گرفتار کر لیا ہے اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔

قاضی:مجرم پیش ہو اور عدالت کے سامنے بتائے کیا وہ زنا کا اقرار کرتا ہے؟

مجرم:نہیں، میں اقرار نہیں کرتا۔

پولیس افسر:کیمرے سے اس کے کپڑوں، بالوں، قد سب کی شناخت ہوگئی ہے۔ دیکھیں ویڈیو میں نظر آرہا ہے یہی ہے جو ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا ہے۔

قاضی:حدود کے کیس میں گواہی کا معیار متعین ہے، لگتا ہے وکیل صاحب آپ شریعت اسلامی اور فقہ اسلامی سے واقف نہیں ہیں۔ زنا کے معاملے میں ضروری ہے کہ عینی گواہوں کہ تعداد چار ہوں اور یاد رہے گواہ مسلمان ہونے چاہئیں۔ کسی غیر مسلم اور مشرک کی گواہی معتبر نہیں۔ (المغنی176/10)

وکیل:آپ جو فرما رہے ہیں ایسا ہی ہوگا، لیکن جی یہ زنا رضامندی کے ساتھ نہیں ہوا، یہ تو زنا بالجبر ہے یعنی زبردستی کیا گیا ہے اور یہ بچی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس معصوم بچی کے ساتھ۔

قاضی:فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر، زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے۔ زنا زنا ہی ہوتا ہے، چاہے جبراً ہو یا مشاورت سے۔ جوان سے ہو یا عجوزہ سے۔ البتہ اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ زینب بی بی مالکی فقہ کی پیرو ہیں اور چار مسلمان عاقل بالغ مردوں نے اس شخص کو زبردستی زینب کو اپنا گھر میں لے جاتے دیکھا ہے تو "جنسی استمتاع کے عوض" مہر کی رقم کے جتنا معاوضہ مجرم سے دلوایا جا سکتا ہے، حد پھر بھی جاری نہیں ہوگی، کیونکہ مردوں کی گواہی زینب کو لے جانے کی ہے، زنا ہوتے ہوئے انھوں نے نہیں دیکھا۔ (المدونۃ 322/5)۔

وکیل:کیا آپ نے ٹی وی دیکھا ہے؟ اس معصوم پھول جیسی بچی سے ہمدردی میں پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا ہے، لوگ انصاف کا تقاضہ کر رہے ہیں، ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے۔

قاضی:اگر زینب حنفی ہے تو مجرم کے انکار کے بعد چار گواہوں نے اگر اسے اٹھا کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا ہو تو "جنسی استمتاع کے عوض" حق مہر جتنا معاوضہ ملنا نا ممکن ہے۔ اس صورت میں حد بھی جاری نہیں ہو سکتی (سرخسی، المبسوط، 61/9)

حد جاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انھوں نے مجرم کو زینب کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پورے یقین سے دیکھا ہے اور وہ ہوش و حواس، قطعیت اور پورے اذعان سے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ وکیل صاحب ان چار میں سے اگر دو یہ بھی کہہ دیں کہ زنا جبراً ہوا ہے تو زینب سزا سے بچ جائے گئی اور مجرم پر حد نافذ ہوسکے گی۔ (المغنی(185/10))

وکیل:زینب کو سزا سے کیا مطلب؟ زینب تو بے چاری وہ بچی ہے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ جبراً زیادتی کی گئی۔

قاضی:زینب اگر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی تو وکیل صاحب اسے قذف کی سزا ہو سکتی ہے۔ ہم آپ کو رعایت دے کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ آپ اگر چار گواہ لے آئیں اور ان میں سے دو بھی یہ کہہ دیں کہ زنا جبراً کیا گیا تھا تو زینب سزا سے بچ جائے گی اور مجرم کو سزا مل جائے گی لیکن زینب کو قذف سزا سے بچانے کےلیے بھی دو لوگوں کو جبراً زنا کی گواہی دینا ہوگی۔ لہذا چار گواہ ہوں گے تو مجرم کو سزا ہوگی ورنہ شرعی حد نافذ نہیں کی جا سکتی۔ (الاستذکار 146/7)

زینب کے والد :اگر ہم چار گواہ پیش کردیں تو پھر کیا عدالت اس مجرم کو سزا دے دے گی اور زینب کو انصاف مل جائے گا؟ اس مجرم کو عبرت ناک سزا مل سکے گی ؟ کیا سزا ہوگی اسلامی قانون و فقہ کے تحت قاضی صاحب ؟

قاضی:کیا مجرم شادی شدہ ہے؟

پولیس افسر:جی نہیں!

قاضی:پھر سو کوڑے کی سزا دی جائے گی۔ (سورہ نور، آیت 2)

پولیس: ہم نے چار گواہ تلاش کر لیے ہیں۔

قاضی :عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

فیصلہ :

"میڈیکل رپورٹ پر دو مرد مسلمان ڈاکٹرز کی تصدیق اور چار عاقل بالغ مسلمان مردوں کی عینی گواہی کے بعد فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو "سو کوڑے " مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے، ان شرائط کے ساتھ کہ کوڑے اتنے سخت نہ ہوں کہ مجرم کو زخمی کر دیں یا جلد اکھڑ جائے بلکہ متوسط ہوں اور ان میں گرہ بھی نہ لگی ہوئی ہو۔ کوڑے مختلف اعضاء پر مارے جائیں گے کیونکہ ایک عضو پر مستقل مارنا باعث ہلاکت ہو سکتا ہے، کوڑوں کا مقصد محض زجر ہے، مجرم کی شرم گاہ اور چہرے پر بھی کوڑے نہیں ماریں جائیں گے (ہدایہ کتاب الحدود فصل فی کیفیۃ الحدود و اقامۃ)۔

مجرم کو ایک ہفتے میں سو کوڑے کی سزا پوری ہوجانے کے بعد رہا کردیا گیا۔

زینب کی طبیعت بحال ہوگئی، وہ اب تین ماہ بعد اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تو اس نے دیکھا، گلی کی کونے میں کھڑا ایک شخص اس کی طرف نظریں جما کر زیر لب مسکرا رہا تھا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ڈاکٹر مشتاق اس مسئلے پر شریعت اور قانون کے مطابق الگ پوسٹس میں مفید جوا بات دے رہے ہیں پھر بھی یہاں کمنٹس میں کچھ باتیں مختصر اور سمجھنے والی میں بھی شیئر کئے دیتا ہوں۔

    چار گواہ یا ملزم کا اقبال جرم، محمد حسن الیاس، اگر زینب زندہ ہوتی، انہونی پر ہونی سے جو عدالت آپ نے لگائی جس کے قاضی آپ ٹھہرے اور ملزم کے وکیل کے بغیر ہی فیصلہ ملزم کے حق میں سنا دیا،
    نہ تو آپ نے سول کورٹ میں کوئی مقدمہ پر کاروائی ہوتے دیکھا ہے اور نہ ہی شرعی کورٹ میں اور نہ ہی آپ کو قوانین پر کوئی معلومات ہے، ماسوائے کتاب میں کوئی بات پڑھ کر اپنے ایک اندازہ سے بیان کرنے کے۔ عرب ممالک کی شرعی عدالتوں میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔

    یہ موٹر سائیکل چالان نہیں تھا جو درجہ اول مجسٹریٹ میں اکیلے پیش ہونا تھا اور سٹوڈنٹ کہہ کے 50 روپے جرمانہ کے ساتھ مسئلہ حل۔ یہ اغواہ، زیادتی، اور قتل کا کیس تھا اس میں جج کے علاوہ وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی دونوں کی موجودگی ضروری ہے ایسے کیسیز میں ملزم کی وکالت کرنے کے لئے کوئی بھی وکیل کیس نہیں لیتا جس پر ڈیوٹی وکیل ملزم کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    قاضی کا یہ کہنا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، میڈیکل رپورٹ، ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ، ملزم کا اقبال جرم کو وہ نہیں مانتا اس لئے ملزم کو بری کرتا ہے تو ایسی صورت میں قاضی کا بھی ذہنی توازن درست نہیں جس نے شریعت پڑھی اور قانون نہیں پڑھا اس پر بھی آخر میں ذکر کریں گے۔ عرب ممالک میں شرعی عدالت کا قاضی قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ عالم فاضل بھی ہوتا ہے۔

    قاضی کا کام سوال پوچھنا نہیں ہوتا بلکہ دونوں وکلاء کے سوال و جواب پرکاروائی کو سننا ہوتا ہے اگر قاضی سوال کرے تو وکیل اسے سوال کرنے سے روک سکتا ہے، فیصلہ پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے قاضی کو سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے تو وہ درمیان میں کھانے کے وقفے میں مخالف وکیل کو اپنے سوالات دے سکتا ہے عدالتی کروائی کے دوران پوچنے کے لئے، اور زینب اگر زندہ ہوتی تو جج پرائیویٹ چیمبر میں اس بچی کی بیان لیڈی وکیل کی مدد سے بھی لے سکتا ہے۔

    کسی بھی کیس پر انویسٹی گیشن پولیس ٹیم سی سی ٹی وی فوٹیج، میڈیکل رپورٹس، ڈی این اے کی مدد سے ہی ملزم تک پہنچتی ہے اور اسی کے مطابق ہی ملز سے سوالات اور اس کے جوابات ریکارڈ بھی ہو رہے ہوتے ہیں اور لکھے بھی جاتے ہیں اور اس کمرہ میں لگے کیمرہ سے بھی محفوظ کئے جاتے ہیں۔ جس پر لکھے ہوئے سوالات اور جوابات مکمل ہونے پر ملز کو پڑھنے کے لئے دئے جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ اس پر اپنے دستخط کر دو۔ اسی طرح اس کیس سے جڑے ہوئے سہولت کار یا زیادتی میں ملوس مزید ملزمان کے ساتھ بھی اسی طرح سوالات اور جوابات پر ان سے داستخط یا انپڑھ ہونے کی صورت میں انگوٹھا لگوایا جاتا ہے پھر عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ان کی میڈیکل فٹنس رپورٹ بھی ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ملزم کے وکیل کو اگر میڈیکل فٹنس رپورٹ پر اعتراض ہو تو وہ اس کا میڈیکل دوبارہ بھی کروا سکتا ہے۔

    ملزم کی طرف سے اگر کوئی وکالت کر رہا ہے تو وہ وکیل انویسٹیگیشن ٹیم کے سوال و جوابات کی کاپی حاصل کر سکتا ہے اور اسے سٹڈی کرنے کے بعد وہ ملزم کے گھر والوں کو بتا دیتا ہے کہ اس کے بچنے کی کوئی راہ نہیں اگر آپ چاہیں تو میں کوشش کر سکتا ہوں مگر بچانے کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔

    قاضی کیس کو سٹڈی کرنے کے بعد سنوائی سے پہلے کسی بھی دن دونوں وکلاء کو بلوا کے اس کیس کی باریکیوں پر بات کر سکتا ہے۔

    محمد حس الیاس کے کہنے کے مطابق زینب اگر زندہ ہوتی تو زینب کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ ملزمان اس زیادتی میں ملوث پائے گئے اور یہ سب انکوئری کے دوران اقبال جرم اور ایک دوسرے پر گواہ ہیں اس لئے قاضی ان سب کو شریعت کے مطابق سزا دینے کا اہل ہے۔

    اب آتے ہیں انکوائری اور انکوئری کے دوران استعمال میں لایا جانے والا میٹیرل کو شریعت سے اجازت ہے یا نہیں۔

    سورۃ البقرۃ 2، آیت نمبر 67 سے 73 تک ترجمہ تفسیر مطالعہ فرمائیں۔

    مختصر! جب سیدنا موسی علیہ سلام بنی اسرائیل کو لے کر یروشلم آ گئے۔ ہوا یوں تھا کہ ایک شخص بنی اسرائیل میں قتل ہو گیا تھا۔ گواہی معدوم تھی۔ مشتبہ افراد ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے۔ بنی اسرائیل کی پولیس بھی کارکردگی کے معاملے میں پنجاب پولیس کی جڑواں بہن تھی۔ منصف بے بس تھے۔

    (جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تو اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جس جرم کو تم چھپانے والے تھے اللہ نے اس کو ظاہر کرنا تھا۔ ہم نے حکم دیا کہ ذبح شدہ بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کے بدن کو مارو۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل پکڑو)

    اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایک گائے ذبح کریں اور اس کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں۔ ایسا ہونا تھا کہ مقتول یک بہ یک زندہ ہو گیا۔ اس نے قاتل کی نشاندہی کی اور دوبارہ مر گیا۔

    اب چونکہ انبیا اور معجزات کا زمانہ نہیں لہذا یہ تو ممکن نہیں کہ زینب خود کوڑے کے ڈھیر سے اٹھ کر کھڑی ہو اور اپنے سفاک قاتلوں کا نام پکارے اور دوبارہ ابدی نیند سو جائے، لیکن یہاں یہ سبق ملتا ہے کہ گواہان نہ ہونے کی صورت میں ملزم تک پہنچنے کے لئے دوران تفتیش سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہر قسم کا میٹیریل استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    باقی قارئین پر چھوڑتے ہیں۔