زینب کا واقعہ (1) - کاشف حفیظ صدیقی

قصور شہر میں زینب کا واقعہ پہلا نہیں۔ اس سے قبل دس، بارہ واقعات ہو چکے ہیں لیکن یہ واقعہ ہم سب کو رلا گیا اور اندر سے ہلا گیا ہے۔ ہر ایک نے اپنی بیٹی اور بہن میں زینب کو تلاش کیا اور حتی المقدور جہاں تک ہو سکا اور بہیمانہ واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ تقریباً ہر فرد نے اس حوالے سے کچھ نہ کچھ اظہار خیال کیا۔ مگر آئیے کچھ جملہ مسائل پر بھی گفتگو کریں۔

یہ واقعہ، پولیس کے فرسودہ ترین نظام کا مظہر

اس واقعے کا سب سے اہم پہلو ہے کہ پولیس کا نظام نہ صرف اس وقت فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ بدبودار اور متعفن بھی ہو چکا ہے۔ علاقے کا ایس ایچ او اس وقت وہ فرد تھا، جس کو گزشتہ دنوں گنڈا سنگھ تھانے میں (بقول اقرار الحسن، پروگرام "سر عام") میں رشوت کے الزام میں معطل ہو چکا تھا مگر پھر ڈپارٹمینٹل کارروائی کے بعد ترقی دیکر یہاں ایس ایچ او لگا دیا گیا تھا۔ بچی چاردن تک غائب رہی مگر ان کی کوشش کاغذی کارروائی سے زیادہ نہیں رہی۔ کرپٹ فرد کس طرح کسی مظلوم کی داد رسی کر سکتا ہے ؟

ایکسپریس نیوز میں میزبان عمران خان کے پروگرام میں زینب کے چچا نے کیمرے کے سامنے بتایا کہ ڈی پی او نے ننھی زینب کی لاش کے سامنے یہ شرمناک بات کہی کہ "بہت بو آ رہی ہے، میں گاڑی سے باہر نہیں آسکتا، آپ دس ہزار روپے لاش ڈھونڈنے والے سپاہی کو دے دیں، میں اسے تعریفی سرٹیفکٹ بھی دوں گا۔"

حد یہ ہے کہ قصور پولیس نے نہایت عجلت میں ملزم کا جو خاکہ جاری کیا ہے کہ وہ بھی غلط ہے۔ سی سی کیمرہ کی فوٹیج ہونے کے باوجود گزشتہ چار دن میں کوئی بھی مثبت کارروائی سامنے نہیں آئی۔ نااہل اور راشی ایس ایچ او کر بھی کیا سکتا تھا؟ معاملہ تو یہاں تک پہنچا کہ مظاہرین کو پروفیشنلی ٹیکل کرنے کے بجائے ان پہ براہ راست گولی چلائی گئیں اور دو افراد مزید ہلاک ہو گئے اور چار افراد زخمی ہوئے۔

شہر کی انتظامیہ، ارباب اختیار، منتخب ممبران اسمبلی، پولیس اور دیگر ادارے اس قدر بےغیرت، بے شرم اور بے حیا ہیں کہ بارہویں کیس پہ جب عوام نے احتجاج کیا تو روایتی طور پہ کاسمیٹکس اقدامات کر کے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ مگر اب عوامی احتجاج کے بعد ایک دو لوگوں کو معطل کر کے مستعدی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو گزشتہ تمام واقعات کا کوئی احساس نہیں۔

حکومت وقت کا رد عمل

لاہور اور قصور میں فاصلہ دو گھنٹے سے بھی کم ہے بلکہ یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ لاہور کہاں ختم ہو رہا ہے اور قصور کہاں سے شروع ہو رہا ہے بلکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں قصور کی دو یونین کونسلز کو لاہور کی حدود میں شامل کر لیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ لاہور کے ایوانوں میں گزشتہ ایک ماہ سے گزشتہ اغوا اور ہلاک ہونے والے 11 بچے بچیوں کی آہ وزاری کیوں نہیں پہنچی؟ ان کی سسکیاں اور ان کے آنسو کیوں رنگ نہ لا سکے؟ یہ تو ہوا کہ عوامی دباؤ پر آج صبح پانچ بجے زینب کے گھر پہنچ گئے ؟ مگر یاد رکھیے کہ اللہ کے امتحان میں سوال و جواب آج کی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوں گے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی نے فرمایا تھا کہ " جن کے قاتل نامعلوم ہو جائے اس مقتول کا قاتل حکمران ہوتا ہے "

تو حضور! کڑوی سچائی یہی ہے۔