آؤ اپنی اپنی ہوس کو لگام ڈالیں - اسماعیل احمد

کرکٹ پاکستانیوں کا محبوب ترین کھیل ہے۔ اس میں عام طور پر اصول ہے کہ مخالف ٹیم کی اگر پہلی بیٹنگ آ جائے تو یہ حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ فیلڈنگ کو بہت ٹائٹ لائن پر اچھی سے اچھی بالنگ کرائی جائے تا کہ کم از کم رنز اسکور ہوسکیں۔ اگر ایسا کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے اور مخالف ٹیم اچھے خاصے رنز ٹارگٹ کی صورت میں دے دے تو پھر پلان بی شروع ہو جاتا ہے یعنی اوپننگ جوڑیاں لمبی پارٹنر شپ بنانے اور کم گیندوں میں زیادہ سے زیادہ سکور کرنے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ میچ جیتا جاسکے۔ ویسے تو شیطان کے ہتھیاروں یعنی فحاشی اور عریانی کے خلاف اپنے آپ کو ہمہ وقت تیار رکھنا کوئی کھیل نہیں ایک باقاعدہ جنگ ہے۔مغربی معاشرے سے کشید کردہ فحاشی اور عریانی کی شیطانیت کے خلاف ہمارے معاشرے نے بند باندھنے کی بہت کوشش کی۔ مگر موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتاہے کہ یہ ناسور اب اپنی انتہائی صورتحال کی طرف گامزن ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس زہر کے خلاف کئی دہائیوں تک صرف عورتوں کے پردے کو اس مسئلے کا حل سمجھا جاتا رہا مگر جیسے بہت اچھی فیلڈنگ ہونے کے باوجود اگر بالنگ اچھی نہ ہو تو مخالف بیٹسمین چھکے پہ چھکا مار مار کے ٹارگٹ اتنا زیادہ کر دیتا ہے کہ شکست کے سوا کوئی اور آپشن باقی نہیں رہتا۔

بالکل اس طرح اس جنگ میں مردوں پر مشتمل ہمارے بالنگ اٹیک نے اپنے حصے کا کام بالکل نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ آج پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ انتہائی کم سن بچے اور بچیاں اب مردوں کی حیوانیت کے نشانے پر ہیں۔ شہوتِ مردانہ ختم ہونےمیں ہی نہیں آ رہی۔ الحمدللہ پاکستان ایک ایسا ملک ہےجہاں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی آچکی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں ہر طرح کی ویڈیو نہایت آسانی سے انتہائی کم قیمت میں کسی بھی جگہ پر دیکھی اور دکھائی جا سکتی ہے۔ ہمارا الیکٹرونک میڈیا بھی نہایت آزاد اور خود مختار ہو چکا ہے۔ وہاں پر رات دن مختلف قسم کی عورتیں اور مرد انسان کے فطری احساس لذت کو بھڑکانے کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ کبھی یہ کام ذو معنی ڈائیلاگزاور بوس و کنار پر مشتمل ڈرامے بنا کر کیا جاتاہے اور کبھی اس مقصد کے لیے نیوز انٹرٹینمنٹ میں اپنے مہمانوں سے یہ سوال پوچھ کرآگ بھڑکائی جاتی ہے کہ" آپ سنی لیون، متھیرا اور میرا میں سے کس کے ساتھ لفٹ میں پھنس جانا گوارا کر لیں گے؟"

یہ بھی پڑھیں:   ابنِ آدم ا ور بنتِ حوا - ربیعہ فاطمہ بخاری

میڈیا کے کمالات اپنی جگہ، ہم عام لوگ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اسکائپ اور ایمو جیسی ایپس، فیس بک اور یوٹیوب جیسی سائٹس کا استعمال جو ہم نے شروع کر رکھا ہے، ایسا استعمال تو ان کے بنانے والوں کے سان گمان میں بھی نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے معاشرے میں یہ نظریات انتہائی راسخ ہو چکے ہیں کہ ہم دنیا کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے، سو اب ہمیں اپنے پرانے خیالات سے دامن چھڑا کر نئی سمتوں پہ چلنا چاہیے۔

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے پاس جدت کو روکنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ نیا زمانہ اپنی تمام تر جمال آفرینیوں، سحرانگیزیوں کے ساتھ ہمارے گھروں کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ وقت بہت تیزی سے گزرا ہے، اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ہم نے پردہ پردہ کا بہت شور مچائے رکھا۔ کیا ایسا نہیں کہ عورت تو پردے میں ہی ہے مگر مرد بہت بے لگام ہو چکا ہے؟ وہ عورت کو چھوڑ کر اب معصوم بچوں اور بچیوں پہ چڑھ دوڑا ہے؟

پردے کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق90 سے 93 فیصددیہی خواتین سخت پردہ کرتی ہیں۔ شہروں اور بالخصوص بڑے شہروں کی خواتین میں اس جانب رجحان تقریباً 60 سے 70فیصد کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان کی 85 فیصد خواتین حجاب کی کسی نہ کسی صورت کو اختیار کرنے کی حامی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 55 فیصد خواتین نقاب، 35فیصد عبایا، چادر، سکارف اور برقع پہنتی ہیں۔ 5فیصد محض دوپٹہ اوڑھتی ہیں جبکہ باقی 5 فیصد ”کمرشل زدہ” خواتین کے نزدیک دوپٹہ بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

قرآن میں عورت کے پردے کا حکم مرد کو نظریں نیچی رکھنے والے حکم کے بعد آیا ہے۔ پاکستان میں کتنے مرد اپنی نظریں قابو میں رکھتے ہیں؟ اس حوالے سے کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں، کتنےفیصد مرد صرف نظر بازی کرتے ہیں، کتنے فیصد لمس سے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہیں؟ کتنے فیصد اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ جاتے ہیں؟ کتنے فیصد چار قدم آگے بڑھ کر اعمالِ شنیعہ میں تشدد کے بھی قائل ہیں؟ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

پردے کے ضمن میں مردانہ غلبہ رکھنے والے معاشرے کا رویہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو" والا ہے۔ فحاشی، عریانی، جنسی بے راہ روی نے بہت چھکے چوکے لگا لیے ہیں اور ہمارے سامنے پہاڑ سا ٹارگٹ رکھ دیا۔ ہمیں اپنے معاشرے کی خواتین کو اس سلسلے میں سلام پیش کرنا چاہیے کہ انہوں نےمجموعی طور پر اس لڑائی میں اپنے حصے کا کام بہت اچھا کیامگر مرد حضرات کی اکثریت نے اپنے آپ کو جنسی جبلتوں کا غلام بنا رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا قصور ہے اس کا؟ - مومنہ خان

اب اس سلسلے کو کّلی طور پر روکنے کا وقت آچکا ہے۔ نہیں تو ہر مہینے ہمارے سامنےکوئی زینب اس معاشرے سے اپنے نا کردہ جرائم کی سزا لے کر رخصت ہوتی رہے گی اور ہمارے پاس نوحہ کناں ہونے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہو گا۔ قرآن میں اس زہر سے بچنے کا حل پانچ وقت کی نماز ہے۔ اگر ہمارے ملک کے سیکولرز اور لبرلز اس بات پہ نوحہ نہ کریں کہ یہ کام پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے بھی کر جاتے ہیں تو اس سے زیادہ بہتر حل ہو ہی نہیں سکتا جو خود انسان کے خالق نے اسے بتایا ہو۔ رہا سیکولرز اور لبرز کا نوحہ تو اس کا سبب کسی مذہبی شخص کے اس قسم کے کسی فعلِ بد میں مبتلا ہونے کے کچھ انگلیوں پر گنے جاسکنے والے واقعات ہوں گے۔

غور طلب پہلو ہے کہ انسان جتنا زیادہ مذہب سے وابستہ رہتا ہے، نماز روزے کا پابند، اپنی توجہ سیرتِ رسول پاکؐ کی طرف رکھتا ہے وہ موجودہ عہد کی تاریکیوں کے باوجود اپنے جسم و روح کو روشن رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں جس طرح کا سیکولرازم اور لبرل ازم رائج کرنی کی خواہشیں اور کوششیں ہوتی ہیں، ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اس کا بھی شاخسانہ ہے۔ معصوم کلیوں سے ایسی درندگی کرنے والے خبیثوں کو پھانسیاں اوربچوں کو اس طرح کی نازک صورتحال سے نمٹنے کی تربیت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کے مردوں کو اپنی ہوس کو لگامیں بھی ڈالنا ہوں گی، ورنہ ہر ہفتے اور ہر مہینے ہم میں سے ہی کوئی نا کوئی باپ اپنی بیٹی کے بارے میں کہتا رہے گا۔

میری بیٹی تتلی کا جب پیچھا کرتے تھک جاتی ہے رو دیتی ہے اُس کو روتا دیکھ کے میرے دل میں ایک خیال آتا ہے کاش کہ میں تتلی بن جاؤں، پکڑا جاؤں یا پھر ایسا ہو کہ میری ننھی گڑیا کاش کہ وہ تتلی بن جائے، اڑتی جائے، اس دنیا کی حد سے آگے کوئی نہ اس کے پاس سے گزرے۔ اس دنیا میں رہتاہوں میں پتہ ہے مجھ کو چیلیں، گدھ، خونخوار سے کتے اس کا پیچھا کرتےرہیں گے، تھکتی رہے گی، روتی رہے گی، رو رو کے پھر سو جائے گی

کاش کہ وہ تتلی بن جائے

اڑتی جائے!

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں