سیکس ایجوکیشن اور ہم - ڈاکٹر محمد عقیل

سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم سمجھتا ہے لیکن حقیقت سے آنکھیں چرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔

جنسی تعلیم نہ دینے کے نقصانات ایسے نہیں کہ ہماری زندگی یہ ایجوکیشن نہ دینے سے بہت پاکیزہ اور متقی گزر ہی ہوتی ہے۔ میڈیا کریم کے اشتہارات تک سے فحاشی پھیلا کر پیسہ بٹورتا ہے۔ ڈرامے جنسی زیادتی کے معاملات سر عام بیان کرتے، ناولز عشق ومحبت کے مناظر قلم بند کرنے سے باز نہیں آتے، انٹرنیٹ فحش مواد کو فنگرٹپس پر فراہم کرتا رہتا اور نیم عریاں سائن بورڈز نوجوانوں کی اشتہا کو بجھانے کی بجائے بھڑکانے کا کام کرتے ہیں۔

اس منافقانہ طرز عمل کا نقصان پوری سوسائٹی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک بچہ جب جوانی کی حدود پھلانگتا ہے تو اسے کوئی مستند ذریعے سے یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ جنسی معاملات کیا ہوتے ہیں؟ ان کا کیا مقصد ہے؟ ان کی کیا شرعی حدود قیود ہیں؟ ان کی کیا اخلاقی سرحدیں ہیں جنہیں پھلانگنا اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہے؟ ان کی کیا طبی ریڈ لائنز ہیں ؟

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک نوجوان جنسی معلومات کے حصول کے لیے غیر مستند ذرائع کا رخ کرتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنے ہی جیسے لاعلم اور غیر پختہ نوجوانوں سے رہنمائی لیتا ہے۔ اگلا مرحلہ وڈیوز، ناولز، فحش لٹریچر اور دیگر ذرائع کااستعمال ہے۔ اس قسم کا نوّے فی صد سے زائد لٹریچر کمرشل مقاصد کے بناہوتا ہے جس کا بنیادی مقصد جنسی تعلیم دینا نہیں بلکہ جنسی اشتہا کو بھڑکا کر اپنا منافع دوگنا چوگنا کرنا ہے۔ چنانچہ لٹریچر کے نتیجے میں ایک نوجوان کو جنسی امور پر کوئی سنجیدہ رہنمائی نہیں ملتی بلکہ وہ ایک جنسی اور نفسیاتی مریض بن جانے کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

ایک جانب اس کا مذہب اور کلچر اسے ان سب باتوں سے روکتا ہے تو دوسری جانب جنسی لٹریچر کی سرخ بتیاں اسے اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ایک جانب تو وہ احسا س گناہ میں مبتلا ہوکر خود کو ستا رہتا اور دوسری جانب اپنی جبلت سے مجبور ہوکر اس لٹریچر سے حظ بھی اٹھا تا ہے۔ گویا کہ

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

یہ نوجوان ایجوکیشن یا رہنمائی کے لیے جب کسی مذہبی لٹریچر کا رخ کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں بہشتی زیوریا اسی قسم کی کوئی نادر چیز ہاتھ لگتی ہے جس کی زبان اور انداز بیان سوسال پرانا اور آج کی جدید ڈیجیٹل دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے بعد یہ نوجوان اگر بہت ہی زیادہ شریف ہے تو اس جنسی اشتعال کا اخراج تنہائیوں تک محدود رہتا ہے لیکن اگر اس کی شخصیت بیرون رخی ہے یا اس کی صحبت درست نہیں تو پھر معاملہ تنہائیوں تک محدود نہیں ہوتا۔ پھر وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جانب راغب ہوتا، تشدد و منشیات کا راستہ اختیار کرتا، خواتین تک رسائی حاصل کرتا، یا خاتون مرد کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہے۔ پھر خواتین ظلم و ستم کا نشانہ بنتی، بچے جنسی زیادتیوں کا شکار ہوتے، شادی شدہ افراد دوسروں کے گھروں میں جھانکتے اور یوں گھرہی نہیں نسلیں برباد ہوتی رہتی ہیں۔

ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ سب کچھ صرف سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ بعض شادی شدہ خواتین و حضرات بھی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی کئی نفسیاتی، سماجی، معاشرتی اور دیگر عوامل بھی ہیں لیکن اس کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں۔

سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہے اور ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہوگیا۔ اسی طرح بعض بچیاں جو بلوغت میں ابھی داخل ہی ہوئی ہوتی ہیں ان کے ساتھ بھی اس قسم کی زیادتی عام ہوتی ہے۔ شرم و حیاء کے غلط تصور کی بنا پر بچہ یا بچی اپنے ساتھ ہونے والے معاملے کو بیان نہیں کرتی۔ اس طرح زیادتی کرنے والے شخص کو "لائسنس ٹو کِل" مل جاتا ہے۔ سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کا تیسرا نقصان یہ ہے کہ وہ بچیاں جو بلوغت میں داخل ہورہی ہوتی ہیں، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ وہ ماہانہ ہونے والے عمل اور جسمانی ساخت میں تبدیلی سے خوف زدہ ہوجاتی ہیں۔ بعض مائیں جھجھک یا مناسب طور پر تعلیم یافتہ نہ ہونے کی بنا پر مناسب طریقے سے بچیوں کو نہیں سمجھا پاتیں کہ یہ انڈا ٹوٹنے کا عمل ہے جو ہر ماہ ایک بچی کو برداشت کرنا ہے۔ اس کمیونی کیشن گیپ کی بنا پر بچی طبی اور نفسیاتی تکالیف کا سامنا کرتی ہے اور ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔ کم وبیش اسی قسم کا معاملہ ایک بالغ ہوتے ہوئے نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان سب کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اوپر بیان ہوا یعنی غیر مستند فحش مواد سے رہنمائی حاصل کرنا۔

اس نقصان کا نکاح کے بعد بھی جاری رہنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد بالعموم خواتین اس عمل کو ایک گناہ تصور کرتیں اور اپنے شوہر سے جائز تعاون کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔اس کا بنیادی سبب بچپن کا تصور گناہ، خوف یا عدم رہنمائی ہوتی ہے جو اس رویّے کا سبب بنتی ہے۔ نیز بعض شوہر بھی لاعلمی کی بنا پر حد سے گزرجانے کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کا ایک اور نقصان نوجوانی میں لڑکے اور لڑکی کا اختلاط ہوتا ہے۔ ہماری فلمی دنیا میں "عشق و محبت " کو عبادت کے روپ میں دکھایا جاتا اور اسے ہیروازم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکا یا لڑکی جب ایک دوسرے سے انٹرایکٹ کرتے ہیں تو ان کی گھٹی میں یہ بنیادی اور غلط قدر موجود ہوتی ہے۔ وہ یہ باتیں اپنے ہی جسے نامعقول نوجوانوں سے ڈسکس کرتے ہیں۔ یوں یہ عشق و محبت کا انجام کبھی چیٹس، کبھی فون کالز، کبھی ملاقاتیں، کبھی ہجرو فراق کا ایڈوینچر حتیٰ کہ کبھی آزادانہ جنسی اختلاط تک چلا جاتا ہے۔ بچے اور بچیاں اکثر لاعلمی میں ان حدود کو کراس کرلیتے ہیں جہاں ان کی اپنی تعلیم اور ذاتی زندگی کی تباہی کا پورا سامان تیار ہوتا ہے۔

جنسی تعلیم کے موجودہ ماڈلز سوال یہ ہے کہ جنسی تعلیم اگر دی جائے تو کیا دی جائے اور کس طرح دی جائے؟ اس معاملے میں ہمارے معاشرے میں دو ماڈل موجود ہیں۔ ایک طبقہ تو لبرلز کا طبقہ ہے جو جنس کے بارے میں فرائیڈ کے نظریات کا حامل ہے۔ یہ مغربی دنیا میں نافذ طرز تعلیم کو من و عن ہمارے معاشرے میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا طبقہ مذہبی یا روایتی لوگوں کا ہے۔ یہاں جنسی تعلیم پر مبنی لٹریچر مولوی صاحب یا کوئی عالم دین ترتیب دیتا ہے یا تخلیق کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال تو بہشتی زیور ہے اور دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہ دونوں ماڈلز دو انتہائیں ہیں جن کے نفاذ سے ہماری سوسائٹی میں بگاڑ میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوگا اور ہوا ہی ہے۔

مغربی جنسی تعلیم کی خامی مغرب کا نظام من و عن نافذ کردینا زیادتی ہے۔ مغرب جس اصول پر جنسی معاملات کی تشریح کرتا وہ ہمارے مذہبی اور اخلاقی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں جنسی تعلق اگر باہمی رضامندی سے ہو تو کوئی گناہ نہیں جبکہ ہمارے ہاں نکاح کا بندھن لازم ہے۔ وہاں غیر مردو عورت میں معانقہ کرنا ایک عام چیز سمجھی جاتی ہے جبکہ ہمارے کلچر میں یہ ایک معیوب چیز ہے۔ وہاں بوائے اور گرل فرینڈ کا نہ ہونا معیوب اور ہمارے ہاں ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ ماڈل ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔

مغربی ماڈل کی خامی دوسری جانب جنسی تعلیم کا مذہبی ماڈل ہے۔ اس ماڈل کی بنیاد یہ ہے کہ جنسی معاملات ڈسکس کرنے کو گناہ سمجھاجاتا ہے۔ چنانچہ جب بھی جنسی امور پر بات ہوتی ہے تو پرانے اشاروں کنایوں میں ہوتی ہے، اور بات ہی سمجھ نہیں آتی۔ اس کے علاوہ اس لٹریچر براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے اخذ نہیں کی جاتیں۔ اس لٹریچر پر عربی، عراقی، ایرانی، سینٹرل ایشیا اور ہندو معاشرت کا کافی اثر ہے۔ یہ لٹریچر آج کی ماڈرن دنیا اور اس میں استعمال ہونے والے میڈیا سے جنم لینے والے مسائل کو ایڈریس کرنے سے قاصر ہے۔ اس لٹریچر کی زبان قدیم اور ناقابل فہم ہے۔ پھر یہ لٹریچر جن لوگوں نے تخلیق کیا ہے وہ دین کا تو ممکن ہے بہت عمدہ علم رکھتے ہوں لیکن جدید سماجی سائنس، نیچرل سائنس، نفسیات اور پوسٹ ماڈرنزم کی تحریکوں اور ان کے اثرات سے بالعموم ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں وہ اثر نہیں پایا جاتا جو ہونا چاہیے اور آخری وجہ یہ کہ مذہبی علما ء کی اپنی اعتباریت پر آج سوالیہ نشان ہے۔ ان میں فرقہ بندی کی بنا پر ایک فرقے کا لٹریچر دوسرے فرقے کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتا، یوں اس لٹریچر کا دائرہ کار اپنے فرقے تک ہی محدود رہتا ہے۔

اس وقت ہمارا الیکٹرانک میڈیا ٹی وی پروگرامز کے ذریعے اس قسم کے اشوز پر بات کرتا ہے لیکن ان کا حل بتانے والے لوگ زیادہ تر مغربی ماڈل کے تحت ہی چیزیں بیان کررہے ہوتے ہیں۔ نیز، ان میں سے اکثر ناتجربہ کار ہوتے ہیں جنہیں خود رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن و سنت سے رہنمائی اس سلسلے میں اگر ہم قرآن، سنت اور صحابہ سے رہمنائی لیں تو بڑی واضح گائیڈلائنز سامنے آتی ہیں:

۱۔ سب سے پہلے قرآن کو لیتے ہیں۔ قرآن کا موضوع انسان کا تزکیہ ہے اور جنسی معاملات کی حدود قیود جان کر اس دائرے میں عمل کرنا تزکیہ کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن نے ہدایت دی ہے کہ جلدی نکاح کردیا جائے اور اگر کوئی مالی مسائل کا شکار ہے تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ قرآن نے مخصوص اوقات میں بچوں کو بیڈ روم میں آنے سے روکنےکی ہدایات دیں۔ قرآن نے مردو زن کے اختلاط، حجاب کے اصولوں کو تفصیل سے بیان کیا۔قرآن نے نکاح و طلاق کے امور کو تفصیل سے ڈسکس کیا۔ قرآن نے حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے قصے سے یہ بتایا کہ کس طرح ایک نوجوان بھی اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرسکتا ہے۔ قرآن نے لواطت جیسے عمل کو قبیح قراددیا۔ یہ سب باتیں ظاہر ہے بچے اور بچیاں بھی پڑھتے ہیں۔ اگر یہ باتیں بچوں کو بتانا ممنوع ہوتیں تو قرآن میں واضح طور پر لکھا ہوتا کہ یہ بچوں یا کنواروں کو نہ پڑھائی جائیں۔

۲۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھیں تو آپ سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں کہ جنسی معاملات کی حدود قیود کیا ہیں؟ آپ نے بتایا کہ اگر کوئی نکاح نہیں رکھ سکتا تو روزے رکھ لے کیونکہ اس سے نفس قابو میں رہتا ہے۔ آپ نے بہت شائستہ اسلوب میں معاشرت کے ان معاملات پر روشنی ڈالی جو ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔

۳۔ صحابہ کرام سے متعدد روایات اس سلسلے میں مروی ہیں۔ بالخصوص امہات المومنین اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت شائستہ اسلوب میں خواتین کے مسائل پر امت کو ایجوکیٹ کیا جو اب تاریخ کا ایک مستند باب ہے۔ جنسی تعلیم کے فروغ کے لیے تجاویز اس بحث کے بعد سیکس ایجوکیشن کے لیے ہماری تجاویز درج ذیل ہیں:

۱۔ سیکس ایجوکیشن کا پہلا اصول تو یہ ہو کہ اسے ہر صورت ہمارے مذہبی و سماجی اقدار کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔

۲۔ ایچ ای سی اپنی کریکیولم کمیٹی کے ذریعے سماجی ماہرین، نفسیات دان،علماء اور اساتذہ پر مشتمل ایک بورڈ بنائے جس کے ذریعے دو طرح کے لٹریچر کو تخلیق کیا جائے، ایک باقاعدہ تعلیم کا نصاب اور دوسرا شارٹ کورسز کا نصاب۔

۳۔ باقاعدہ تعلیم کے نصاب کو مختلف کلاسز کی سطح پر سلیبس میں شامل کیا جائے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس نصاب کے نفاذ کو یقنی بنائیں۔

۴۔ ان سب کاموں کی مانیٹرنگ وزارت تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ ادارے بھی کریں۔

۵۔حکومتی سطح پر ہر سال ایک رپورٹ مرتب کی جائے جس میں اس نصاب کی تخلیق، تجدید اور عمل درآمد کو بیان کیا جائے ۔

۶۔ مختلف دانشور، علما اور نفیسات دان ذاتی یا ادارے کی سطح پر اس قسم کا لٹریچر ترتیب دیں جو ان ہدایات کی روشنی میں تیار ہو۔

۷۔ اس لٹریچر سے شارٹ کورسز کے ذریعے میڈیا، اساتذہ، سماجی تنظیموں اور والدین کو تربیت دی جائے کہ وہ کس طرح اپنے دائرہ کار میں موجو د لوگوں کو جنسی تعلیم فراہم کریں گے۔

۸۔ یہ کورسز خواتین و حضرات کے ذریعے محلے، مساجد، پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل میڈیا اور اداروں کی سطح پر منعقد کیے اور پھیلائے جائیں۔

۹۔ ان میں سے اچھے پروگراموں اور لیکچر کی آڈیوز، وڈیوز اور تحریریں انٹرنیٹ پر شائع کی جائیں۔

۱۰۔ خواتین کے لیے کاؤنسلنگ کرنے والی خواتین کی ٹیم تیار کی جائے جو سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور گراؤنڈ لیول پر خواتین اور نوجوان بچیوں کے مسائل اور ان کا حل بیان کریں۔ یہی کام مردوں اور نوجوانوں کے لیے بھی کیا جائے۔

آخری بات، ایسے اقدامات سے سوسائٹی میں بہت تبدیلی آئے گی ان شاء اللہ۔ آپ میں سے کچھ قاری یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب کچھ لکھنا بے کار ہے کیونکہ کوئی عمل نہیں کرے گا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا ہم سے دوسروں کے نہیں ہمارے اپنے عمل کے بارے میں پوچھے گا کہ ہم نے کیا کیا ؟ میں جو کرسکتا تھا، کردیا اور ان شاء اللہ نصاب کی ترتیب کے سلسلے میں اگر کچھ کرسکا تو ضرور کرو ں گا۔

ہمارا ادارہ "اسرا" بھی اس سلسلے میں فوکسڈ ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے؟ آ پ کا یہ کام ہے کہ یہ سوچیں آپ کیا کرسکتے ہیں؟ اگر آپ کسی فیلڈ سے وابستہ ہیں تو لکھیے، اگر قاری ہیں تو بات پھیلائیے، اگر والدین ہیں تو بات پہنچاِئیے، اگر نوجوان ہیں تو بات سمجھیے۔ کم از کم ایک کام تو ہم سب کرسکتے ہیں کہ جنسی تزکیہ کے لیے ہم تہیہ کرلیں کہ فحش لٹریچر سے ہر صورت دور رہیں گے۔ غرض جو کچھ بھی آپ کا دائرہ کار ہے وہ کیجیے اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ یہ ہوگا یا نہیں۔ ہمارے لیے کرنا مشکل ہے لیکن خدا کے لیے نہیں۔ اگر خدا ہمارے اخلاص سے کنونس ہوجائے تو قوموں کی تقدیریں بدلتے دیر نہیں لگتی اور اگر ہم سب یہ نہیں کرسکتے تو اس وقت سے بچنے کی دعا کریں جب جنسی بے راہ روی کی آگ ہمارے بچے، بچیوں، ماؤں، بہنوں حتی کہ بیویوں کو اپنےلپیٹ میں لینے کے لیے ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوگی۔ اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں، آمین! جزاکم اللہ خیرا

Comments

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آپ گذشتہ 21 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پچھلے 14 سال سے کالم نگاری اور تحقیقی مقالات بھی لکھ رہے ہیں۔ تزکیہ نفس آپ کی اسپشلائزیشن ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت اچھا مضمون ہے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل اس میں ہے کہ ہم قرآن مجید کی تعلیم کو مسلمانوں کے لیے لازم کردیں۔ چھٹی سے دسویں جماعت کے لیے پورے قرآن کا ترجمہ اور ضروری عربی گرائمر نصاب کا لازمی حصہ ہو۔

  • بہت بہترین تحریر ہے۔ داد و تحسین کے قابل
    آج ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں موجودہ والدین اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اولین طور پر جو ان کا کردار ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے، صبح اسکول ،دوپہر دینی تعلیم اور شام کو ٹیوٹر یا ٹیوشن سینٹر کے حوالے کر کے والدین سمجھ رہے ہیں کہ وہ بچوں کو سب دے رہے ہیں جبکہ جو تربیت دینا چاہیے وہ ندارد۔ دین کی ابتدائی تعلیم دینا والدین کا فرض ہے۔