زینب کے اصل قاتل کون؟ - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

ایک اور کلی ظالم خون آشاموں کی سنگ دلی اور جنسی درندوں کی شہوت پرستی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ ملک بھر میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی اور مطالبہ ہورہا ہے کہ ظالموں کا سراغ لگاکر کیفرکردار تک پہنچایا جائے، کیفر کردار تک پہنچانے والے خود ہی ظالم ہوں تو ظالم اپنے انجام کو کیسے پہنچے؟؟؟

جی ہاں! اس سانحے کا سب سے پہلا ذمہ دار ہماری وزارتِ اطلاعات ہے، جس نے پہلے بھارتی فلموں کا رواج بڑھنے دیا، پھر مغرب سے درآمدہ تہذیب کو پنپنے دیا۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مشرقی تہذیب کا خون ہونے دیا۔ جس عمر میں انسان کے اندر شہوت کی آگ لگی ہو، اس کچی عمر میں آپ اسے ذرائع ابلاغ کے ذریعے مزید بڑھکاوا اور ہر دم بڑھاوا دیں گے تو یہی کچھ ہوگا۔ درندہ صفت شیطان معصوم بچیوں سے ہوس کی آگ بجھائیں گے، پھرعوام سڑکوں پر ٹائر جلائیں گے لیکن اس کا دھواں حقیقی مجرموں کے چہرے چھپادے گا۔

اس کا دوسرا ذمہ دار وہ چینلز ہیں جن کے مالکان اپنی تجوریوں کا جہنم بھرنے کے لیے ’’عشق ممنوع‘‘ جیسے ڈرامے اور انگریزی فلمیں اُردو پشتو میں ڈب کرکے چلاتے رہے۔ ہم چلّاتے رہے، لیکن کسی نے نہ سنی۔ اب معصوم بچیوں کی روحیں فریاد کررہی ہیں، لیکن چینلوں کو لگام ڈالنے والے اسلامیانِ پاکستان اور مشرقیت کے تحفظ کا بیڑا اُٹھانے والوں کو شدت پسندی کا طعنہ دینے سے فارغ ہوں تو انہیں اس ظلم عظیم کے اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کی فرصت ملے۔

اس کا تیسرا ذمہ دار ہمارے اینکرپرسن، ہمارے ہاں کا سیکولر ولبرل طبقہ، تجدد پسند نام نہاد اسلامی اسکالر اور سوشل میڈیا کے بزرجمہر ہیں جو 9 سالہ بچیوں کو پردہ کرانے پر تنقید کرتے نہ تھکتے تھے، آج 7 سالہ بچیوں سے درندگی کا سلوک ہونے پر ٹسوے بہارہے ہیں۔

اس دلخراش سانحے کے ذمہ دار تعلیم گاہوں کی انتظامیہ بھی ہے جو مخلوط تعلیم کو اعتماد میں اضافے کا ذریعہ، موسیقی کو روح کی غذا اور رقص کو ترقی کا زینہ قرار دے کر نصاب سے آیات واحادیث اور اسلامی تاریخ نکالنے اور جنسی تعلیم داخل کرنے پر خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی۔ معصوم زینب کا خون ان کے ہاتھوں پر کوئی کیوں تلاش نہیں کرتا؟؟؟ کیوں ہمیں دھوکے پر دھوکا دیا جارہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   نوحہ بے قصوراں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سراغ تو کھوجی کی ناک تلے ہے، وہ اپنی ناک بچانے کے لیے کتنی کلیوں کے مسلے جانے کا جرمِ مسلسل کرتا رہے گا!