سانحہ قصور، چند گزارشات - محمد عمیر

شہر قصور جس کی پہچان کبھی بابا بھلے شاہ اور نور جہاں ہوتی تھی، قصور جس کا نام آتے ہی لوگ قصور کی مچھلی، فالودے اور اندرسوں کو یاد کرتے تھے، اب وہ شہر گزشتہ چند سالوں سے جنسی سکینڈل، کمسن بچیوں کے اغواء، زیادتی اور قتل کے واقعات کے باعث جانا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 12معصوم کلیوں کو مسل دیا گیا۔ نہ آسمان گرا، نہ زمین پھٹی، 200سے زائد ویڈیوز کے ساتھ جنسی سکینڈل سامنے آیا تو ہرطرف سے نوٹس لیا گیا مگر سزا صرف 2 ملزمان کو مل سکی۔ دو درجن سے زائد ملزمان عدم پیروی، ثبوت، سیاسی پریشر اور رقم کی ادائیگی جیسے بہانوں کے باعث رہا ہوگئے۔

آج کی اس تحریر کا مقصد کوئی جذباتی بیان نہیں ہے بلکہ وہ چند تلخ حقائق بیان کرنا ہیں جن کا سامنا زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے اہل خانہ کو کرنا پڑتا ہے۔ میڈیا میں ہر نئی خبر پرانی خبر کو کھا جاتی ہے، ہر روز ایک نیا ایشو اور ایک نئی خبر ہوتی ہے، پرانی خبر، واقعہ، سانحہ کو میڈیا اور لوگ بھول جاتے ہیں۔ مگراس افسوسناک واقعہ کانشانہ بننے والی فیملی کے لیے مشکلات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے، جس میں نہ تو میڈیا ان کا ساتھ دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ایک سانحہ کے بعد اس خاندان کو مشکل در مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چار سال قبل قصور جیسا سانحہ ہی لاہور میں پیش آیا، سانحہ کا نشانہ بنی تھی مغل پورہ کی ایک فیملی۔ بچی کی عمر بھی کم وبیش اتنی ہی تھی اس پھول جیسی بچی کو بھی گھر کے باہر سے اغواءکیا گیا ، زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کرکے نعش پھینک دی گئی۔ اب تک لوگ اس بچی کا نام بھی بھول چکے ہیں۔ چار سال گزرنے، نوٹس در نوٹس ہونے، جے آئی ٹی اور سی آئی کی الگ الگ ٹیمیں بننے اور بار بار تفتیش کے باوجود ملزمان کا سراغ تو نہ مل سکا مگر اس خاندان کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو معمول کے مطابق میڈیا کے لوگوں نے روز اس بچی کے گھر آنا جانا شروع کردیا، بچی کے بیگ، کتابوں، کاپیوں، کپڑوں کی تصویریں بننے لگیں، اس کے والدین، بہن بھائیوں، کزنز، رشت داروں اور محلے داروں کے بیانات میڈیا کی زینت بنے۔ بچی کی پسند نا پسند پوچھی گئی۔ آہستہ آہستہ یہ بڑی خبر چھوٹی ہونا شروع ہوئی اور پھر یہ خبر میڈیا سے غائب ہوگئی۔ پھر ایک سال گزرنے کے بعد ایک روز خبرآئی کہ ایک سال گزرنے کے باوجود سانحہ مغل پورہ کے ملزم گرفتار نہ ہوسکے، اس کے بعد اس سانحہ کی کوئی خبر نہ آئی۔

خبریں ختم ہوئیں اور بچی کے اہل خانہ کی مشکلات میں اضافہ شروع ہوگیا۔ اس گھر کی شناخت یہ بن گئی کہ ان کی بچی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہوئی تھی، میں جان بوجھ کر بچی کا نام اس کے والد نام نہیں لکھ رہا، بچی کے گھر جانا ہوا تو محلے داروں سے بچی کا نام لیکر پوچھا کہ اس کا گھر کون سا ہے؟تو جواب ملا وہی بچی جس کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا؟یہ جملہ سن کردل پسیج گیا، زبان کو جیسے تالا لگ گیا اور میں خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔

کچھ عرصہ بعد دفترسے ڈیوٹی لگی کہ اس سانحہ کی دوبارہ خبر دیں۔ بچی کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے دوبارہ ان کے گھر گیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے اپنا گھر بدل لیا ہے۔ بچی کے والد کو فون کیا تو وہ رو پڑے، آواز رندھ گئی، کہنے لگے بیٹے! ہمیں آپ کا انصاف نہیں چاہیے، ہمیں بخش دیں، میڈیا کے انصاف دلانے کے چکر میں ہماری زندگی جہنم بن گئی ہے۔ میری اور بھی بیٹیاں ہیں میرے بہن بھائی بھی بیٹیوں والے ہیں۔ میڈیا کی وجہ سے ہماری شناخت زیادتی کا واقعہ بن چکا ہے، ہر کوئی ہمیں اس تلخ یاد کی وجہ سے یاد رکھے ہوئے ہے، ہماری بیٹی کو تو انصاف نہ ملا مگر آپ کی خبروں کی وجہ سے اب ہمارے گھر رشتے نہیں آتے۔ لوگ ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں ہم نے اسی وجہ سے گھر بدل لیا ہے، ہمیں معاف کردیں۔

یہ صرف ایک واقعہ ہے ، اغواء، زیادتی اور قتل جیسے واقعات کا نشانہ بننے والے خاندانوں کو کم وبیش ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اس خاندان سے تعلق جوڑنے سے کتراتے ہیں۔ ایک بچی سانحہ کا نشانہ بنی تو باقی بیٹیاں زندہ درگور ہوجاتی ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ پیمرا سمیت دیگر اداروں کو اس معاملہ میں قانون سازی کی ضرورت ہے کہ زیادتی کے واقعات کی رپورٹنگ میں بچوں، ان کے اہل خانہ کے نام، تصاویر اور گھر کا ایڈریس نہ دیا جائے کسی کی تصویر دکھانا ضروری بھی ہوتو چہرہ نہ دکھایا جائے۔ میڈیا اس سانحہ کی خبر ضرور دے مگر اس واقعہ کو اس خاندان کی پہچان نہ بنادے، میڈیا کے لیے یہ واقعہ صرف ایک خبر ہے مگر اس خاندان کو سالہا سال اس سانحہ کے آفٹر شاکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے خبر ضرور دیں مگر اس خاندان کی مشکلات پر بھی نظر رکھیں۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.