میں بھی زینب کا قاتل ہوں - انعام مسعودی

سب نے لکھا، دُرست لکھا اور خُوب لکھا۔

کسی نے کانپتے ہاتھوں، کسی نے بہتی آ نکھوں، کسی نے گُنگ زبانوں، کسی نے غصے اور رنج بھری کیفیت میں اور کسی نے بے چین و بے قرار روح اور سوچ کے ساتھ … مگر بہت سے میری طرح لکھ بھی نہ سکے۔ کہ آ نکھیں پتھرا گئی تھیں، دماغ ماؤف ہو گیا تھا، الفاظ ساکت ہوگئے تھے، قلم کپکپانے لگے تھے، خیالات ٹھہر سے گئے تھے، جسم ایک زندہ لاش کی مانند محسوس ہو رہا تھا، لوگوں کے لب حرکت میں نظر آتے تھے مگر ان کے الفاظ محسوس نہیں ہورہے تھے، دل کی دھڑکنیں بےربط سی تھی اور کلیجہ پھٹنے کو آ رہا تھا، زینب…!

اسکرینوں پہ تبصرے کرتے''دان شُوروں''، بڑھاپے میں بھی جوان دکھنے کے لیے گھنٹوں پارلرز سے ہو کر آ نے والی ''انسانی حقوق کی نام نہاد چیمپئنز آ نٹیوں''، دولت و زر کی حوس میں اندھے ٹی وی مالکان، اپنے کاروباراور کرپشن کو بچانے کے لیے چلائے جانےوالے اخباروں، میڈیا کے جملہ ٹھیکیداروں، حکومت کے پالیسی ساز اداروں (اگر کو ئی ہوں تو)، بڑے بڑے تھنک ٹینکس، مذہبی لبادوں میں ملبوس ابلیسوں سے سوال کریں، احتجاج کریں، یا پھر بدلہ لیں؟

یہ سب تو ہونا ہی تھا۔
جب ٹی وی اسکرین پر دھماکے کی خبر سنانے والی نیوزکاسٹر نے بھی دلہن جیسا میک اپ کر رکھا ہو،
جب ماڈرن اینکرز کی قمیضوں کے گلے کسی دور میں بننے والی فلموں کی ہیروئنز سے بھی گہرے ہوں،
جب دوپٹہ سینے کی اوڑھنی کی بجائے ایک طوق سمجھا جائے،
جب چادر حیا اور عفت و آبرو کی علامت کی بجائے دقیانوسیت اور جہالت کی نشانی سمجھی جائے،
جب شدید سردیوں میں بھی کپڑوں کی باریکی کے پیمانے مقرر ہوں،
جب مرد کی شیونگ کے سامان کے لیے بھی عورت اشتہار کی زینت بنا دی جائے،
جب انٹرنیٹ پر پرفحش مواد کی دستیابی روکنے کا کوئی اہتمام نہ ہو،
جب ڈراموں میں اور سماجی موضوعات پر ہونے والے ٹاک شوز میں ببانگ دہل گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈز کے موضوعات پر بڑھ چڑھ کر گفتگو ہوتی ہو،
جب سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں پر جہازی سائز کے اشتہارات میں عورت کے جسم کے اُبھار اور کسی فلم میں سنسر کیے جانے کے قابل مناظرمیں کو ئی فرق نہ رہ جائے،
جب موبائل فون پر نائٹ پیکیجز اور ان لمیٹڈ مستی جیسے عنوانات کے تحت مارکیٹنگ کی جاتی ہو،
جب مرد و زن کی جنسی اشتہا میں بے بہا اضافہ ہو چکا ہو،
جب نکاح مشکل اور زنا عام ہو جائے اور تزکیہ نفس کی بجائے دین صرف سیاست کے لیے رہ جائے، آخرت کے ذکر کے بجائے آمین اونچا یا آہستہ کہنے پر مجلسیں برپا ہوں،
جب اخلاقی تربیت، خوف خدا، ذکر و فکر، سیرت رسول ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں پر گفتگو کرنے کے بجائے، زبان کی آفات اور اس سے محفوظ رہنے کے طریقوں کے بجائے، کھیرے کو اسلامی طریقے سے کاٹنے پر ٹی وی پروگرام منعقد ہوتے ہوں،
جب پیرخانوں اور سجادہ نشینوں کے درباروں پر نذرانے چڑھا کر نمازیں بخشوائی جاتی ہوں اور جنازوں کے دوران صرف مُشک و عِطر کا چھڑکاوٗ کرنے سے قبر کے عذاب سے جاں خلاصی کی نوید سنا دی جانے لگے،
جب محض اپنے مسلکی پرچار کے لیے شرک و بدعت کے فلٹرز لگائے جائیں،
جب مدرسے والے سکول والوں کو دین سے دور اور سکول والے مدرسے والوں کو کم تر جاننے لگیں،
جب ذہنی تسکین اور علم میں اضافے کے لیے کتا ب کی بجائے واٹس ایپ پر انحصار بڑھ جائے،
جب برداشت، عدم تشدد، دلیل اور اعلیٰ ظرفی کی جگہ تنگ نظری، جذباتیت اور ری ایکشن لے لے،
جب تعمیر کی جگہ تخریب، اتفاق کی جگہ انتشار اور اجتماعی سوچ کی جگہ انفرادیت چھا جائے،
اور ہم لوگ صرف ایک پوسٹ کر کے، ایک مظاہرہ کرکے یا پھر کسی اور طریقے سے دل کی بھڑاس نکال لیں، تبدیلی کی خواہش کریں لیکن یہ خواہش عمل کے جذبے سے خالی ہو اور صرف ایک بانجھ سوچ بن کر رہ جائے، مالی و اخلاقی طور پر کرپٹ، مفاداتی طبقے اور مافیاز کو ووٹ دیتے وقت نہ ہمارے ہاتھ کانپیں، نہ دل میں کھٹکا ہو اور نہ ہی کوئی احساس ندامت و ملامت ہو…

تو پھر کیونکر زینب ظلم کی چکی میں نہ پسے؟

زینب درندگی کا نشانہ نہ بنے؟

زینب کبھی جیتے جی اور کبھی مر مر کر کیوں نہ مرے؟

ارے زینب کے قاتل تو تم سب ہو!

اور ہاں یادرکھنا!

میڈیا مالکان، مذہبی ٹھیکیداران، صاحبان مسند و اقتدار…! اب بھی اگر نہ سنبھلے تو ایک زینب ہم میں سے ہرکسی کے گھر میں ہے ۔

اگر بدلنا نہیں چاہتے تو اپنی زینب کے جنازے کے لیے تیار رہنا!

اس وقت آنسو سوکھ جائیں گے، آنکھیں پتھرا جائیں گی لیکن کچھ کر نہ سکو گے اور اگر پھر بھی بچ گئے تو پُل صراط پر کسی زینب کا سامنا کیسے کروگے ؟ کیوں کہ تم بھی زینب کے قاتل ہو…میں بھی زینب کا قاتل ہوں!

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جزاک اللہ! جو باتیں آپ نے لکھی ہیں اسمیں ایک اہم اضافہ شرعی سزائیں ہیں۔ قرآن اسکا باقاعدہ حکم دیتا ہے اور حکمت بیان کرتا ہے۔وہ جرائم جو فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ان پر تو بہت شخت سزائیں جنسے عبرت ہوتی ہے۔
    یہاں جب سزائے موت کی بات ہوتی ہے تو فوراً انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں سامنے آجاتی ہیں۔ ذرا سامنے آئیں نا وہ زینب کے والدین کے سامنے!

  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    ماشاء اللہ ، بہت خوب لکھا ہے ، اللہ عزّ وجلّ آپ پر راضی ہو، اور آپ کے اِن الفاظ کو اندھیرضمیروں کے لیے روشنی بنائے ، بیمار ذہنوں کی شفاء بنائے ۔