ہوشیار باش عوام! الیکشن قریب ہے - امجد طفیل بھٹی

پاکستانی عوام کو آنے والے دنوں میں یعنی مستقبل قریب میں بہت سے وڈیرے، مَلک، چوہدری اور جاگیردار اپنے ارد گرد نظر آئیں گے، آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے، گھل مل جائیں گے، آپ کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے، آپ کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کریں گے، خود کو عام عوام جیسا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، آپ کے مسائل اور پریشانیوں کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھیں گے اور ہاں !اٹھنے سے پہلے دعائے خیر لازمی کرائیں گے اور اس دعائے خیر کو آپ نے عام نہیں سمجھنا بلکہ یہ دُعا ایک طرح سے اس شخص کو ووٹ دینے کا حلف نامہ تصور کیا جاتا ہے یعنی کہ اس سے انحراف ممکن ہی نہیں ہے۔ جب ایک شخص کے لیے یہ دعائے خیر ایک مخصوص گاؤں یا برادری کی طرف سے ہو جاتی ہے تو پھر کسی دوسرے کے لیے نہیں ہو سکتی یعنی کہ پہلے آئیے، جھوٹ بولیے، جھوٹے وعدے کیجیے اور لارے لگائیے تو بس آپ کا ووٹ پکا۔

اسی طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے ہمارے سیاستدانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد بڑی بڑی برادریوں کو اپنی باتوں میں کر کے اپنا ووٹ پکا کیا جائے۔ عوام کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی پرانے لوگ ہیں جو پانچ سال پہلے بالکل اسی طرح آپ کے گاؤں میں، شہر میں یا گلی محلے میں آئے تھے اور پھر الیکشن کے بعد آپ ان کی شکل دیکھنے کو بھی ترستے رہے اور اگر کبھی حلقے کے کسی بندے نے ان سے رابطے کی یا ملنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ملک صاحب اسلام آباد گئے ہوئے ہیں اور اگر اسلام آباد جاکر ملنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ صاحب تو لاہور وزیراعلیٰ یا گورنر سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے ہیں، الغرض پنجابی میں ایک کھیل کو “ چھُپن چھُپائی “ کا نام دیتے ہیں جاری رہتا ہے اور حکومت کا وقت قریب آ جاتا ہے اور یوں پھر سے وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ ہر دو چار مہینے بعد یہی لوگ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے ساتھ اپنی تصاویر ضرور سوشل میڈیا اور اخبارات پر چھپوائیں گے اور ساتھ ایک تحریر لکھی ہو گی کہ فلاں صاحب اپنے حلقے کے مسائل کو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کرتے ہوئے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے عوام ان لوگوں کی چالوں سے واقف نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں سیاست منافقت کا دوسرا نام ہے، یہاں ہمارے وڈیرے، چوہدری، اور مَلک عوام کی خدمت کے لیے ایم این اے یا ایم پی اے کا ٹکٹ نہیں خریدتے بلکہ اپنے بینک بیلنس اور جائیدادیں بنانے کے لیے کروڑوں روپے لگا کر اور پارٹیوں کی لیڈرشپ کی چاپلوسی کر کر کے ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ پھر حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈ کے نام پر اربوں روپے کمیشن کی مد میں حاصل کرتے ہیں۔ عوام کبھی غور سے ان لوگوں کے چال چلن دیکھیں تو سہی کہ الیکشن سے پہلے یہ کس قدر رحم دل اور ملنسار ہوتے ہیں اور الیکشن جیتنے کے بعد ان کے دماغوں میں کیسے فرعونیت آ جاتی ہے جو کہ انسان کو انسان بھی نہیں سمجھتے، کئی دفعہ ان لوگوں کے پروٹوکول کی وجہ سے غریب عوام کی جان بھی چلی جاتی ہے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور یہ اُس وقت کو بھول جاتے ہیں کہ یہ اقتدار، کرسی سب عارضی ہیں۔

عوام کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو کہ اپنی پارٹی کے لیڈروں کے لیے اپنے حلقوں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کرائیں گے، پیسے دے کر نوجوانوں کو جلسے میں شرکت کرنے کا کہیں گے اور اپنے ذاتی پیسوں سے غریب لوگوں کو کھانے اور بریانیاں کھلائیں گے، سب سے بڑھ کر اپنے لیڈر سے اپنے حکقے کے لیے بڑے بڑے اور جھوٹے منصوبوں کے وعدے کروائیں گے۔ خدارا ان لوگوں کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین مت کیجیے گا نہیں تو اگلے پانچ سال پھر در بدر کی ٹھوکریں ہی آپ لوگوں کا مقدر بنیں گی۔ خدارا ان لوگوں کو پہچانیے جو کہ ہر بار نئی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر خود کو نظریاتی اور اصولی سیاست کا شاہکار بنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ لوگ جو اپنی پارٹی بدل کر اپنے محسنوں سے جنہوں نے ان پر اربوں روپے لگا کر وزیر بنائے رکھا ان کے وفادار ثابت نہیں ہوسکے تو پھر عام عوام کے ساتھ وہ کس طرح مخلص ہو سکتے ہیں اور سچ بول سکتے ہیں؟

ایک بات اور بھی عوام کو یہاں باور کراتے چلیں کہ آجکل یا کچھ مہینے پہلے اعلان کردہ منصوبوں یعنی کہ سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی فراہمی، سکولوں کی تعمیر اور کسی بھی نئے پراجیکٹ کے افتتاح یا سنگ بنیاد کی تقریب پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سب ایک سراب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سراسر دھوکا، فریب اور عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اگر اس بات کا یقین نہ آئے تو پچھلے الیکشن سے پہلے انہی لیڈروں کی طرف سے کیے گئے وعدوں کو ذرا ذہن نشین کریں جو کہ انہوں نے پچھلی بار آپ کے حلقے، گاؤں کا گلی محلے میں جلسے کے دوران کیے تھے۔ ان وعدوں میں کسی موٹروے کی تعمیر، بڑے ہسپتال اور میڈیکل کالج کی تعمیر، کسی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ، یا پھر کسی شہر کو ضلع کا درجہ دینے کا وعدہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اوپر بیان کردہ جھوٹے وعدوں میں سے کوئی ایک بھی مکمل ہوا ہو تو پھر یہ سیاستدان سچے ہیں اور اگر یہ وعدے پورے نہیں ہوئے تو پھر سوچ سمجھ کر اور دانشمندی کے ساتھ ووٹ دینے کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ کسی ایسے بندے کو ووٹ دینا ہے جو کہ چار پانچ دفعہ ایم این اے منتخب ہوا ہو اور حلقے کے عوام کی فلاح وبہبود کا ذرا برابر بھی نہیں سوچا یا پھر نئی قیادت اور نئی پارٹی یا پھر کسی نئے پڑھے لکھے سیاستدان کو ووٹ دینا ہے۔

عوام کو ووٹ دیتے وقت یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ان کے ووٹ کی کتنی اہمیت ہے کیونکہ ان کے ووٹ کی بدولت ہی کوئی سیاستدان ملک کا وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا پھر وزیر بن سکتا ہے۔ اگر عوام کسی سیاستدان کو مسترد کر دیں تو پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منظر سے غائب بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کو کسی سیاستدان کی طرف سے دیے گئے صرف ایک دن کے مفت کھانے، چند پیسوں یا پھر کچھ دن کی مفت کی گاڑی استعمال کرنے کی خاطر قربان نہ کریں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.