کل رات کا ٹریفک جام - قاضی عبدالرحمٰن

کہتے ہیں،اقوام کی حقیقت اور مجموعی اخلاق و مزاج کا اندازہ نہ تو معاشی ترقی اور سیاسی و عسکری قوت سے کیا جاتا ہے اور نہ ہی قدرتی وسائل کی فراوانی اور تہذیبی ورثہ سے کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مجموعی مزاج و منہاج کا پتہ ان کا ٹریفک سسٹم دیتا ہے۔

دروغ بر گردن راوی،آچاریہ پلا نی سوامی تو یہاں تک کہہ گئے،

“Show me a nation's roads, and I'll show you its very soul.”

(تم مجھے کسی قوم کی سڑکیں دکھاؤ اور میں تمہیں اس کی حقیقی روح دکھا دوں گا ۔ )

ہندوستان کا ٹریفک نظام بھی یہاں کے سماج کی طرح پیچیدہ ہے ، فہم سے بالا۔ یہاں لوگ قانون پر ذاتی تصور آزادی ، عرف من مانی، کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک اچهے شہری کی تشکیل میں ایک بنیادی ingredient درکار ہوتا ہے، جسے "کامن سینس" کہتے ہیں وہ ہندوستانیوں میں بالکل کمیاب ہے۔

چلیے،اب آتے ہیں مطلب کی بات پر،گذشتہ رات 'آبیل مجھے مار' کی طرح شیخ انور صاحب سے تقاضا کر لیا سعید آباد سے مرشد آباد چلنے کا۔ حالانکہ ملاقات کے دوران باتوں میں ہی اچھا خاصا وقت بیت گیا تھا۔ رات کی سیاہی اپنے جوبن پر تھی۔ پھر بھی شیخ صاحب آمادہ سفر ہوگئے۔ سفر کی تکمیل کے لیے درکار تھے تیس منٹ۔ مگر ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ آج کی رات نہ صرف ویک اینڈ بلکہ کرسمس شاپنگ کی بھی رات ہے۔

ایسے میں جو ہونا چاہیے تھا، وہی ہوا بلکہ اس سے کچھ زائد ہوا۔ کچھ ہی منٹوں میں شیخ صاحب کی 'ملٹری جپسی' کو ہم نے شیطان کی آنت کی مانند گاڑیوں کی طویل لائن میں پھنسا ہوا پایا۔ ادھر ہم نے خود کو انتظار کی صلیب پر لٹکا ہوا پایا ۔ ہر چار پانچ منٹ بعد جپسی، کچھوے کی رفتار سے چند قدم آگے بڑھ کر رک جاتی تھی۔ بالکل اس رفتار سے جس رفتار ہماری عدلیہ مقدمات کے فیصلے سناتی ہے۔ الغرض، جو راستہ منٹوں میں قطع ہونا تھا، اسے گھنٹوں لگے۔ نیند کا یہ عالم کہ پلکیں دباؤ سے بوجھل ہوئی جارہی تھی اور دل کا ویران جزیرہ بستر کی مانگ کررہا تھا۔

ٹریفک جام میں اب تک صرف پھنسے تھے مگر اب کی مرتبہ برے پھنسے تھے۔ واپسی کی راہ پر نظر دوڑائی جو مسدود نظر آئی۔ یہ 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' تھا۔ اب آگے بڑھنے کے لیے انتظار کرنا تھا۔ جیسے ہندوستانی عوام ایک پارٹی کو مسند اقتدار پر چڑھاکر دوسرے الیکشن کا انتظار کرتی ہے یا اس غریب حیدرآبادی باپ کی مانند جو اپنا سب کچھ لُٹاکر ایک بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے بعد پھر محنت اور جمع پونجی میں لگ جاتا ہے تاکہ دوسری بیٹی کے ہاتھ اپنے خون کی کمائی سے 'حناآلود' کرسکے۔

ٹریفک جام میں دو چیزوں کا استعمال خاصا ہوتا ہے، وہ ہیں ہارن اور بریک۔ ہارن کی آوازیں کسی باتونی عورت کی طرح رُکنے کانام نہیں لے رہی تھیں۔ بریک کی ہر چرچراہٹ کسی نامراد شاعر کی ساقط البحر غزل بن کر سمع خراشی اور سکون تراشی کی مرتکب ہو رہی تھی۔

انتظار اور صبر کا ملاپ نیم سے کریلے کا ملاپ تھا جس کو گھونٹ گھونٹ پی رہا تھا۔ آخر کار دو گھنٹوں کے صبر آزما انتظار کے بعد ،اس ٹریفک جام کا 'کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے'۔ آگے بڑھتے ہوئے اس مظلوم قلم کار نے ٹریفک جام کی نذر کسی شاعر کا شعر بہت کچھ تصریف کے ساتھ کیا

'تیرگی' میں دو ہی لمحے مجھ پہ گزرے ہیں کٹھن

اک تیرے 'جانے' سے پہلے، اک تیرے 'آنے' کے بعد

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.