نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش - اے وسیم خٹک

ہر کلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والا عرفان جب کالج سے غیر حاضری کرنے لگا اور دن بھر گھر میں اپنے کمرے میں مقید ہوکر دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف آنے لگا۔ اس کی صحت کا بھی ستیاناس ہوگیا۔ کچھ دن ماں نے محسوس کیا کہ عرفان واش روم میں بہت زیادہ وقت گزارنے لگا ہے اور جوں ہی باہر آتا ہے ایک عجیب قسم کی بو واش روم سے آتی ہے مگر سادہ لوح ماں کو پتہ نہیں تھا کہ یہ بو کس چیز کی ہے؟ اس نے اپنے خاوند سے شکایت کی کہ عرفان پر نظر ڈالو مجھے اس کی سرگرمیاں ٹھیک نہیں لگ رہی ہیں، اب تو یہ کالج بھی نہیں جاتا۔

میٹرک تک امتیازی پوزیشنوں سے پاس ہونے والے عرفان کے کچھ پیپر رہ گئے مگر والد کے لاڈلے ہونے کی وجہ سے اسے گھر میں کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔ اس کی بہن نے بھی کئی دفعہ ماں سے شکایت کی کہ اسے عرفان کے کچھ دوستوں سے الرجی ہے جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ مگر ماں اس کے سامنے بے بس تھی عرفان کی صحت جواب دے گئی تھی۔ خاور نے اپنے بیٹے کو ایک دن بلا کر پوچھا کہ بیٹا تمھیں کوئی مسئلہ ہے تو بتادو، کسی چیز کی کمی ہے؟ کیونکہ ہمیں نہیں لگتا کہ تم پہلے والے عرفان ہو، کالج جاتے ہی تمھاری لائف تبدیل ہوگئی ہے ، تم اکتائے اکتائے سے لگتے ہو۔ مگر اس نے کہا کہ ڈیڈی! ایسی کوئی بات نہیں ہے اور پھر کسی بات پر بد تمیزی پر اتر آیا اور میز کو لات مار کر کمرے سے نکل گیا۔

تب خاور کو احساس ہوا کہ کچھ تو ہے جو عرفان چھپا رہا ہے، مگر وہ سمجھنے سے عاری تھا پھر ایک دن علی احمد جو کہ خاور کا بچپن کا دوست تھا اور امریکہ سے ہیومین سائیکی میں ڈاکٹریٹ کی تھی، سے ملاقات ہوئی اور اسے اپنے بیٹے کا مسئلہ بتایا جس نے گھر آکر عرفان سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ عرفان کی کیفیت جانی جا سکے کہ اسے کیا مسئلہ ہے جو کالج جاتے ہی اس کے رویّے میں تبدیلی آگئی، تبدیلی آتی ہے مگر اتنی بڑی تبدیلی اس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ عرفان نے ملنے سے صاف انکار کیا مگر وہ مجبور ہوکر علی احمد کے سامنے آگیا اور پھر ایک گھنٹے کے اکیلے ملاقات کے بعد علی احمد ایک نتیجے پر آگیا کہ عرفان کو کون سی بیماری لاحق ہوئی ہے اور اس بیماری کا ذمہ دار اس کا باپ خاور تھا، جس نے کالج میں داخلہ لیتے ہی اسے لیپ ٹاپ لے کر دیا اور فاسٹ انٹرنیٹ کنکشن بھی لگوادیا کہ بچے کو گھر میں ہی مقید کر لیتے ہیں، باہر کا ماحول اسے خراب کردے گا اور انٹرنیٹ سے وہ کالج کے اسائمنٹ بنانے میں مدد لے گا مگر خاور یہ بھول گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی تباہی کا سامان خود کر رہا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی کے جتنے فوائد ہیں اس سے زیادہ یہ ٹیکنالوجی خطرات سے بھر پور ہے ایسے جیسے ایک شخص کو تیراکی نہیں آتی ہو اور آپ اسے سمندر میں دھکیل دیں تو لازمی امر ہے کہ وہ اس میں ڈوبے گا۔ یہی کام عرفان کے ساتھ بھی ہوا، راتوں کو پڑھنے والا عرفان اب دن رات لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر دنیا جہاں کے فحش سائٹس سے لطف اٹھانے لگا۔ وہ پورنوگرافی کا ایڈیکٹ ہوگیا، اس کے دن رات پورن سائٹس دیکھنے میں گزرنے لگے جس میں اس کے دوست بھی ساتھی ہوتے۔ یوں وہ اس میں غوطہ زن ہوکر تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہوتا گیا۔ سگریٹ کے دھوئیں میں اسے سکون ملنے لگا۔ ہر لڑکی کو وہ دوسری نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے دوستوں کی اس کی بہن نے شکایت اسی لیے کی تھی کہ اچھی اور بری نظر میں تمیز کرنا سب کو آتا ہے اور وہ تمیز کرسکتی تھی۔ خاور نے اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ اس کا ذمہ دار وہ خود تھا اپنے بچے کو خراب کرنے میں اس کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس پر چیک اینڈ بیلنس بھی ہونا چاہیے، مگر اب کیا ہوسکتا تھا؟ علی احمد نے ذمہ داری لی کہ عرفان کی حالت سنبھل جائے گی اپ فکر نہ کریں۔

یہ تو ایک کہانی تھی ۔ اگر ہم نظر دوڑا کر دیکھیں تو آج ہر گھر میں خاور جیسے باپ اور عرفان جیسے بیٹے موجود ہیں جو اس نئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور خاندان اور معاشرے کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ معاشرے میں بگاڑ کا سبب اسی کے مرہون منت ہے۔ جس معاشرے میں ریپ کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا اب اسی معاشرے میں معصوم تین سال سے کم عمر کی بچی کو بھی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس میں قصور کس کا ہے؟ نئی ٹیکنالوجی نے ہمارے نوجوانوں کو تعلیم اور سماجی اقدار سے دور کردیا ہے بات اب لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر سے اب موبائیل فونز تک آگئی ہے یعنی اب لاکھوں پورن سائٹس ہمارے نوجوانوں کی دسترس میں آگئی ہیں۔ اس پر طرّہ پورن ایپلی کیشنز، موویز، پکچرز اور گیمز بھی ہیں۔

حکومت تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے لیے اپنی کوششیں تو کر رہی ہیں مگر ان سائٹس کی بندش کے لیے ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں ہورہی، نہ ہی ان سائٹس کو بند کیا جارہا ہے حالانکہ یہ سائٹس خلیجی ممالک میں بند ہیں اور یورپی ممالک میں والدین کو پورن سائٹس کی بندش کے لیے تریبت دی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو اس سمندر میں غوطہ زن ہونے سے بچا سکتے ہیں مگر ہمارے چونکہ خمیر میں خناس ہے، یہاں مثبت سوچ کی بجائے پہلے منفی سوچ پروان چڑھتی ہے اس لیے وہ اس رو میں بہے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے سمندر کے سامنے بند باندھا جائے، جو ہمارے نوجوانوں کو نگل رہا ہے۔ یہ طوفان بلا موجودہ دہشت گردی سے بھی بڑی بیماری ہے جس سے بچاؤ کا تدارک نہ کیا گیا تو یہ ہماری اگلی نسلوں کا خاتمہ کردے گا اور ہمارے پاس مذاکرات کرنے کی گنجائش بھی نہ ہوگی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com