عورت کا حق مہر، شرعی قدر و قیمت اور بُنیادی احکام (2) - عادل سہیل ظفر

پچھلی قسط

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا مہر کی قدر و قیمت کے بارے میں رویہ

الجحفاء السُلمی کا کہنا ہے کہ عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما نے ایک دِن ہمیں خطبہ میں فرمایا

"خبردار عورتوں کے مہر کو مہنگا مت کرو ، کیونکہ اگر ایسا کرنا دُنیا میں عِزت کا سبب ہوتا یا اللہ کے ہاں تقویٰ کا باعث ہوتا تُم لوگوں سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ کام کرتے ، جبکہ اُنہوں نے اپنی بیگمات اور اپنی بیٹیوں میں سے کسی کا بھی مہر بارہ أوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا ،اور دوسری جو بات تُم لوگ اپنی جنگی مہموں میں کرتے ہو کہ فُلاں شہادت کی موت مارا گیا ، (ایسا مت کہا کرو ) ہو سکتا ہے اُس نے اپنی سواری کو سونے چاندی سے لاد رکھا ہو اور تجارت کی غرض سے نکلا ہو ، لہذا اپنی یہ بات مت کہا کرو بلکہ وہ کہا کرو جو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کہا کرتے تھے کہ ﴿جو اللہ کی راہ میں مارا گیا ، یا مر گیا وہ شہید ہے﴾"۔

ایک اور روایت میں ابو العجفاء السُلمی رحمہ اللہ نے عُمر رضی اللہ عنہ کے فرمان میں یہ قول بھی بیان کیا کہ "اور کبھی مَرد اپنی بیوی کے مہر کی وجہ سے امتحان میں بھی پڑ جاتا ہے " اور ایک دفعہ فرمایا "اور کبھی مَرد اپنی بیوی کا مہر اتنا مہنگا کر لیتا ہے کہ وہ اُس کے دِل میں اپنی بیوی کے لیے دُشمنی کا سبب بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کہہ ہی دیتا ہے کہ میں نے تُمہارا مہر ادا کرنے کے لیے مشکیزہ لٹکانے کی رسی تک بھی خرچ کر ڈالی یا کہے مشکیزے کی طرح بہہ گیا" ابو العجفاء السُلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں "میں پیدائشی عرب لڑکا تھا لیکن پھر بھی یہ سمجھ نہ آیا کہ عَلَقَ القِربۃِ کیا ہے" ۔

( اس مذکورہ بالا روایت کو بھی اِمام الالبانی رحمۃُ اللہ علیہ نے صحیح قرار دِیا ہے "صحیح ابن ماجہ /حدیث 1532")

اور ساتھ یہ بہترین شرح بھی لکھی کہ " علق القربۃ: تحملت لأجلک کل شیء حتی علق القربۃ وھو حبلہا الذی تعلق بہ . وعرق القربۃ : تحملت حتی عرقت کعرق القربۃ وھُو سیلان مائہا عَلقَ القِربۃ: یعنی میں نے تمہارے لیے ہر چیز کا بوجھ اُٹھایا یہاں تک کہ عَلقَ القِربۃِ وہ رسی جس سے مشکیزہ لٹکایا جاتا ہے (وہ بھی تمہارا مہر ادا کرنے میں خرچ کر دی )، اور عَرق َ القِربۃ : سب کچھ برداشت کیا یہاں تک میں اس طرح نچڑ گیا (یعنی میرا مال اس طرح نکل گیا )جس طرح مشکیزے سے پانی نکلتا ہے"۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ راشد امیر المؤمنین عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کے اس فرمان میں ہمارے رواں موضوع کے بارے میں بات کے علاوہ اور بھی ہیں کئی سبق ملتے ہیں ، مثلاً

(1) صحابہ رضی اللہ عنہم کی عربی ز ُبان کی مضبوطی اور گہرائی

(2) صحابہ رضی اللہ عنہم کا سُنّت شریفہ کے عین مُطابق عمل کرنا ، حتیٰ کہ ایسی باتوں سے بھی گریز کرنا جن کی تاویل کر کے انہیں درستگی کی حدود میں داخل کیا جا سکتا ہو، اِسی کی ایک مثال یہ ہے کہ

(3) کِسی کو شہید کہنا درست نہیں ، حتیٰ کہ جو میدان جہاد میں بھی مارا گیا ہو اُسے بھی شہید نہ کہا جائے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کے مُطابق( جو اللہ کی راہ میں مارا گیا وہ شہید ہے ) کہنا چاہیے ۔

اب اگر ہم اپنی حالت کا جائزہ لیں تو کیسا عجیب مُعاملہ نظر آتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نافرمانی سے بھرپور زندگی گذراتے ہوئے دُنیاوی مقاصد کے لیے قتل کیے جانے والوں کو بھی شہید کہا جاتا ہے ، اور جو اللہ کی راہ کافروں کے خِلاف لڑتے ہوئے مارا جائے وہ دہشت گرد ، بنیاد پرست ، دقیا نوس وغیرہ وغیرہ ، اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون ۔

الحمد للہ ، شہادت کی تعریف اور اِقسام کے بارے میں بھی ایک تفصیلی مضمون نشر کیا جا چکا ہے ۔

یہ مندرجہ بالا آثار(احادیث اور اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم کو مصطلح الحدیث میں آثار کہا جاتا ہے )اس بات کے دلائل ہیں کہ عورتوں کے مہر کی قدر و قیمت آسانی سے ادا کیے جا سکنے والی ہونا چاہیے ، یعنی مہر کو کم ہی رکھا جانا چاہیے تا کہ نکاح میں آسانی رہے اور اس کے بنیادی ترین مقاصد کا حصول آسان رہے یعنی

(1) شرمگاہوں کی حفاظت جس کا نتیجہ پاکیزہ مُعاشرہ ہے جس میں سب کی عزت و عفت محفوظ رہتی ہے ، اور، (2) مُسلمانوں کی آبادی میں کثرت ،

یہاں تک یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مہر کی مقدار مُقرر کیے جانے کی کوئی نص یعنی لفظی یا عملی بات اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے مُیسر نہیں ، مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل آثار کی روشنی میں کم سے کم مقدار کی بارے میں پانچ اقوال ملتے ہیں

(1) پانچ درھم یہ قول امام الشافعی کا ہے اور اِس کی دلیل یہ روایت ہے

عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ُ کافی دِنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ،

اُن کے چہرے پر پیلاہٹ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا ﴿مَہیَم کیا ہوا ؟﴾،

تو عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا"یا رَسُولَ اللَّہِ تَزَوَّجتُ امرَأَۃً من الأَنصَارِ اے اللہ کے رسول میں نے ایک أنصاری عورت سے شادی کی ہے"،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےدریافت فرمایا ﴿ما سُقتَ إِلَیہَا؟ تُم نے اُسے کیا دِیا ہے؟﴾عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "نَوَاۃً من ذَھَبٍ أو وَزنَ نَوَاۃٍ من ذَھَبٍ سونے کا ایک نوات یا کہا ایک نوات وزن کے برابر سونا "،

تو اِرشاد فرمایا ﴿أَولِم وَلَو بِشَاۃٍ ولیمہ (ضرور)کرو خواہ ایک ہی بکری سے کرو﴾

اور دُوسری روایت یوں ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دریافت فرمانے پر عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "یا رَسُولَ اللَّہِ تَزَوَّجتُ امرَأَۃً من الأَنصَارِ عَلیٰ وَزنَ نَوَاۃٍ من ذَھَبٍ اے اللہ کے رسول میں نے ایک أنصاری عورت سے ایک نوات وزن کے برابر سونے (کے مہر)پر شادی کی ہے "

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿بَارَکَ اللَّہ ُ لَکَ أَولِم وَلَو بِشَاۃٍ ولیمہ (ضرور)کرو خواہ ایک ہی بکری سے کرو﴾ ،

فقہ الحدیث

اس حدیث مُبارک میں ہمیں یہ احکام اور باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ

(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ذاتی طور پر غیب کا عِلم نہیں جانتے تھے ، جتنا اور جب اور جیسا اللہ نے چاہا غیب کی خبر اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو عطا فرمائی ،

(2) عورت کو مہر ادا کرنا واجب ہے ،

(3) ولیمہ واجب ہے خواہ کم سے کم چیز کے ذریعے ہی کیا جائے ،

(4) شادی کی دُعا برکت کے لیے دُعا کرنا ہے ، دیگر مروج الفاظ سے منع فرمایا گیا ہے ، اِن شاء اللہ اس کی تفصیل الگ بیان کروں گا ،

(5) کم مقدار میں مہر ادا کرنا بھی جائز ہے ۔

إِمام الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی بنا پر مہر کی (کم سے کم )مِقدار پانچ درھم کہا ، کیونکہ مدینہ المنورہ کے رہنے والوں کے حساب کے مُطابق ایک أوقیہ = چالیس 40 درہم ، اور ، ایک نش = آدھی أوقیہ=20=درہم ، اور ایک نوات=چوتھائی نش = 5درہم ۔

اِس مندرجہ بالا حساب کی دلیل ہمیں انس رضی اللہ عنہ کے اِس فرمان میں بھی ملتی ہے کہ "أنَّ عَبد الرحمٰن بن عوف تَزوجَ إِمرأۃً مِن الأنصارِ عَلَی وَزنٍ نَواۃٍ مِن ذَھبٍ قَومَت خَمس دَراہِم عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہُ) نے ایک أنصاری عورت سے ایک نوات وزن کے برابر سونے (کے مہر)پر شادی کی جس کی قیمت پانچ درہم ہوتی ہے " ۔ اور کئی تابعین رحمہم اللہ کے اقوال میں بھی میسر ہیں ، جن میں سے کچھ اِسی مندرجہ بالا حوالے پر موجود ہیں ۔

(2) دینار کا چوتھا حصہ یہ اِسی مندرجہ بالا، أنس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ والی حدیث کی بنا پر ہی کچھ مالکی مذھب کے عُلماء کا کہنا ہے، کیونکہ "النواۃ"اہل مدینہ کے مُطابق دینار کے چوتھے حصے کو کہا جاتا تھا ،اِس لیے مہر کی (کم سے کم )مِقدار دینار کا چوتھا حصہ ہے۔

(3) دس درھم یہ قول إِمام ابو حنیفہ رحمہ ُ اللہ سے منسوب کیا جاتا ہے ، اوراِس کی دلیل امام الدار قُطنی کی سنن الدار قُطنی میں مروی جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ﴿لا مَھرَ أقل مِن عَشرۃِ دَراھِم﴾ لیکن یہ قابل حُجت نہیں۔

کیونکہ اس کی سند میں مبشر بن عبید ، اور حجاج بن أرطاۃ النخعی الکوفی ، نامی دو راوی ضعیف یعنی کمزورہیں

(مضمون جاری ہے ، اِن شاء اللہ اگلے حصے میں مکمل ہو جائے گا)

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔