جیدا، بابا فرمان اور آج کے بچے - فیاض راجہ

جڑواں شہروں میں گزشتہ کچھ دن بارش کی آنکھ مچولی جاری رہی۔ دفتر سے گھر پہنچا، کھانا کھانے اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد، میری بیوی شمائلہ نے پوچھا! "بارشیں کتنے دن جاری رہیں گی؟ بچے کہہ رہے تھے، اگر ویک اینڈ پر موسم صاف ہے تو آؤٹنگ کا کوئی پروگرام بنائیں"۔ میں نے سر ہلایا تو مسکرا کر بولی۔ "لگتا ہے بچے ان ڈور کھیلوں سے بور ہو گئے ہیں۔ بارش کی آنکھ مچولی بند ہو تو ہی کسی آؤٹ ڈور کھیل کا پروگرام بن سکتا ہے۔'' میں نے بستر پر نظر دوڑائی تو امل اور ابان (میری بیٹی اور بیٹا) نیند کی وادیوں میں اترنے ہی والے تھے۔ دونوں ہی کے سرہانے، ان کے "ٹیب" رکھے تھے۔ باہر اب بھی ہلکی بارش جاری تھی۔ میری سماعتوں نے ایک تیز آواز سنی اور میں کہیں دور "کھو" گیا۔

شپ کی زوردار آواز آئی تھی، فٹ، ڈیڑھ فٹ لمبی لوہے کی سلاخ جیدے کے ہاتھ سے نکلی اور گویا فضا میں تیرتی یوئی کئی فٹ دور جا گری، آدھی سے زائد سلاخ، "حاجی بابے فرمان" کے گھر کے بالکل سامنے، زمین کے اندر غائب ہوگئی تھی۔ کچھ تو "جیدے" کے مضبوط چپٹے ہاتھوں کا کمال تھا اور باقی کام، صبح سے جاری کئی گھنٹوں کی بارش نے کر دکھایا تھا۔ جس کے باعث سخت زمین بھی، روئی کے گالوں کی طرح نرم ہوگئی تھی۔ مہینہ، مجھے یاد ہے، مارچ کا تھا، کیونکہ سالانہ امتحانات دے کر فارغ ہو ئے تھے۔ 31 مارچ کو نتیجے کے انتطار میں اسکول سے چھٹیاں تھیں۔ اور اس روز میں، جیدا، عمران مانا اور گوپی "سنبا" کھیل رہے تھے۔ سنبا جو بارشوں کے موسم میں ٹینچ بھاٹہ کی نئی آبادی نمبر ایک کے اس محلے میں ہمارا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا۔ اس کھیل کے لیے چاہیے بھی تھا تو کیا؟ فقط لوہے کی فٹ، ڈیڑھ فٹ لمبی سلاخ اور قدرے تیز بارش کے بعد گیلی نرم زمین۔

لوہے کی لمبی سلاخ کو بڑی مہارت کے ساتھ ہاتھ میں پکڑ کر اپنے سے آگے زمین پر پھینکنا ہوتا تھا۔ اگر لوہے کی سلاخ، زمین میں" کھب" جائے تو اس جگہ پہنچ کر سلاخ کو ایک مرتبہ پھر آگے کی جانب ایسے ہی پھینکا جاتا تھا۔ لوہے کی سلاخ زمین میں نہ کھبے اور گر جائے تو باری کرنے والا "آؤٹ" ہوجا تھا تھا۔ دوسرا کھلاڑی عین اس جگہ سے ایک ٹانگ پر اچھلنا شروع کرتا تھا اور اچھلتے اچھلتے واپس اس جگہ پہنچتا تھا جہاں سے یہ سارا عمل شروع ہوا تھا۔ ایک ٹانگ پر اچھلنے کے اس عمل کو "پدنا" کہتے تھے۔ یوں دوسرا کھلاڑی بھی اپنے باری لیتا تھا اور پھر سے لوہے کی سلاخ اپنے سے آگے زمین پر پھینکنے کا عمل دوبارہ شروع ہو جاتا تھا۔

جیدے نے سنبے کا کھیل، "ماسی بنو" کے گھر کے سامنے سے شروع کیا تھا اور سلاخ پھینکتا، تین چار باریوں میں حاجی بابے فرمان کے گھر کے آگے پہنچ گیا تھا۔ ان دنوں ماسی بنو کا گھر، ہماری گلی کا پہلا اور حاجی بابے فرمان، جس کے غصے سے گلی محلے کے سارے بچے ڈرتے تھے، کا گھر، گلی کا آخری گھر ہو اکرتا تھا۔ حاجی بابے فرمان کے گھر کے فورا بعد، الٹے ہاتھ، زرا سا موڑ مڑتے ہی "لالے صفدرے" کے کھیتوں کی حدود شروع ہوجاتی تھی۔ رات بھر جاری رہنے والی بارش نے لالے صفدرے کے کھیتوں کی کچی زمین کو مزید نرم کردیا تھا۔ سنبے کے لیے گیلی اور نرم زمین گویا ایک نعمت تھی، جیدے کا سنبا یہاں سے آگے بڑھتا تو ہم کہیں کے نہ رہتے۔ کیونکہ میں، گوپی اور عمران مانا جانتے تھے کہ جیدا لوہے کی سلاخ پھینکنے اور "سنبا" کھیلنے کا ماہر ہے اور آج ہمیں بہت "پدنا" پڑے گا۔

پست قامت جیدا، جس کے اعتماد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا، کمال بےنیازی سے بابے فرمان کے گھر کے عین سامنے، زمین میں دھنسی لوہے کی سلاخ نکالنے کو نیچے جھکا، الٹے ہاتھ سے سلاخ زمین سے باہر نکالی، سلاخ پر لگی گیلی مٹی سیدھے ہاتھ سے صاف کی اور زوردار قہقہہ لگاتے ہو ئے لوہے کی سلاخ اترائی سے قدرے نیچے کئی فٹ دور لالے صفدرے کے کھیتوں کی طرف اچھال دی۔ شڑاپ کی آواز آئی، سلاخ گیلی زمین میں دھنسنے کے بجائے، ایک طرف پڑی جیدے کا منہ چڑھا رہی تھی۔ وجہ یہ ٹھہری کہ کھیت میں پانی کی زیادتی نے کیچڑ سا بنا دیا تھا جس کے باعث زمین کی تہہ نے سلاخ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ گوپی، عمران مانے اور میں نے خوشی سے نعرہ بلند کیا تھا۔ یوں حاجی بابے فرمان کے گھر کے بالکل سامنے، پتہ نہیں ضرورت سے زیادہ "اعتماد" یا کسی "انجانے خوف" نے جیدے کی ساری مہارت مٹی میں ملا دی تھی۔

لمبا قد، سرخ وسپید رنگت، نوکدار گھنی سفید مونچھیں اور سر پر سواتی ٹوپی، حاجی بابا فرمان مرحوم (اللہ جنت میں جگہ عطا فرمائے) ہمارے محلے کے بچوں کے لیے ایک خطرناک کردار تھے، پورے محلے کے بچے ان کے غصے اور نوک والی لاٹھی سے ڈرتے تھے۔ نوک والی لاٹھی جس کا ان سے چولی دامن کا ساتھ تھا، ہر وقت ان کے ہاتھ میں موجود یہ لاٹھی، محلے کے کئی بچوں کا مزاج پوچھ چکی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے والدین نے کبھی بھی حاجی بابا فرمان سے ہماری "مزاج پرسی" کرنے پر باز پرس نہ کی تھی، بلکہ الٹا ہمیں گھر والوں سے یہی سننا پڑتا تھا کہ ضرور کوئی غلط کا م کیا ہوگا جبھی تو بابا فرمان کے ہاتھ لگے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ گلی سے گزرتے، کہیں سے آتے جاتے بابا فرمان راستے میں مل جاتے تو ہمارے اوسان خطا ہوجاتے اور ہم وہ راستہ ہی بدل دیتے تھے۔ ان کی اپنے گھر میں موجودگی کے دوران، ہمارے لیے کرکٹ، ہاکی، گلی ڈنڈا اور سنبا سب کچھ ہی محال ہوتا تھا۔ ہم سب میں سے کسی ایک دوست کی روزنہ ڈیوٹی ہوتی تھی کہ وہ نظر رکھے کہ کب بابا فرمان گھر پر ہیں اور کب نہیں۔ بعض دفعہ تو یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ وہ گھر پر ہیں یا نہیں، ہم میں سے کوئی گھر سے دور، آخری بس استاپ ٹینچ بھاٹہ کا ایک چکر بھی لگا آتا تھا۔ جہاں ارشد سٹیشنرز اینڈ بک سیلرز کے نزدیک ان کی دکان "ذیشان ٹینٹ سروس" تھی۔ دکان بند ہونے کا مطب ہوتا تھا کہ حاجی بابا فرمان ابھی گھر پر ہی ہیں، احتیاط برتی جائے۔ اگر وہ دکان پر بیٹھے نظر آجاتے تو محلے میں اس وقت ہماری چاروں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا۔

آج کئی برس بعد، دسمبر کی بارش میں بھیگی ایک رات، چھت کی ممٹی میں بنے اسٹڈی روم میں، کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے سوچ رہا ہوں، میں خوش قسمت تھا یا میرے بچے۔ کبھی کبھی تو مجھے آج کل کے بچوں پر ترس آتا ہے۔ آنکھ مچولی کھیلیں بھی تو کس سے، ان کی زندگیوں میں بارش تو ہے مگر بارش سے جڑا کوئی آؤٹ ڈور کھیل نہیں۔ ان کی بارشوں میں کوئی "حاجی بابا فرمان" ہے نہ ہی لوہے کی سلاخ والا سنبا۔ وہ نہیں جانتے، صبح سویرے، بارش میں سائیکل کا پرانا پنکچر شدہ ٹائر، کپڑے دھونے والے تھاپے سے چلانے کا کیا مزہ ہے اور بارش تھمنے کے بعد نکلنے والی، قوس قزح تلے ڈھلتی شاموں میں، اسٹیل کی دہری کی ہوئی موٹی تار کی مدد سے، پریشر ککر کے خراب گول ربڑ کو "رنگا" بنا کر چلانا کیا لطف دیتا ہے۔
(جاری ہے)

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.