سوری مما - اختر عباس

رات کے دو بج کرپچاس منٹ ہوئے تھے۔ ٹی وی سکرین پر نمودار ہونے والا، کیمروں کی تیز روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں کو ایک لمحے کو بند کیا۔ وہ جانتا تھا اس لمحے کرۂ ارض پر سب سے زیادہ نگاہیں اسی پر ٹکی ہوئی ہیں۔ لوگوں کے دل دھڑک رہے تھے اور کان کسی انہونی خبر کے انتظار میں تھے۔ اس احسا س نے اس کی آنکھوں کی چمک اوربھی بڑھا دی۔ اس کے لفظوں میں فاتحانہ بانکپن تھا اور انداز میں ضرورت سے زیادہ اعتماد، یہ ایری فلیشر تھا۔

دنیا کے سب سے طاقت ور ملک نے اعلان جنگ کے لیے اسے چنا تھا۔ اسے وائٹ ہاؤس کی ترجمان ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور پھر اس کے ایک جملے نے دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ دو بج کر 42 منٹ اور 11 سیکنڈ پر بغداد جنگی سائرنوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ پہلا امریکی طیارہ فضا کو چیرتا ہوا پہنچ چکا تھا۔ طیارہ شکن توپیں اس کو ڈھونڈتی رہ گئیں او ر وہ آسمانوں سے انگارے برساتا، بم گراتا، ہدف بدلتا، کہیں آگے جا چکا تھا۔

فینی مور، اپنے بیڈروم میں اکڑوں بیٹھی سی این این کی ’’عراق ایٹ وار‘‘ کے نام سے آنے والی خصوصی نشریات دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی ’’میں صبح آفس نہیں جا سکوں گی‘‘۔۔۔۔ لیوس ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا۔ آج فینی کو اپنے میاں کے آنے کی امید بھی نہ تھی اس لیے وہ زیادہ پریشان تھی۔

’’ میں کس سے ولسن کی بات کروں؟ اومائی پور چائلڈ!‘‘ اس کا شوہر لیوس اور وہ خودامریکی فوج میں نہ ہوتے ہوئے بھی اس کا حصہ تھے۔ صبح سے شام ہوجاتی۔ ان کی ڈیوٹی جاری رہتی۔ جیسے جیسے سرکاری طور پر نئے فوجیوں کی بھرتی بڑھ رہی تھی۔ ان کے کام میں نہ ختم ہونے والی تیزی آگئی تھی۔ بے شک فینی اس کام کا لازم حصہ تھی۔ مگروہ کوشش کر کے اکثر وقت پرنکل آتی تھی۔ وہ فوجیوں کی یونیفارم کی کٹنگ کرتی۔ لیوس سلائی سیکشن کا انچارج تھا۔ اس نے یہ مقام بہت سالوں کی شدید محنت کے بعد پایا تھا اس کے شعبے کی تیارکردہ جیکٹس بطور خاص نئے میرین میں بہت مقبول تھیں۔

وہ دونوں اس وقت بہت ہنستے جب کبھی کرنل سکارٹ ان سے پوچھتا ’’تمھاری بنائی ہوئی یونیفارم جیکٹس نئے فوجیوں کو اتنی پسندکیوں ہیں؟‘‘ وہ کیسے بتاتے کہ انہوں نے اپنے بیٹے ولسن مور کی پسند کو سامنے رکھتے ہوئے سائز اور سٹائل میں نئی اختراعات کی تھیں۔ ولسن ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ بھوری آنکھوں والے اس سمارٹ مگر شرارتی لڑکے سے ان کی ملاقات ویک اینڈ پر ہی ہوا کرتی تھی۔ ولسن نے سکول سے فارغ ہوتے ہی ریسٹورنٹ میں جاب کر لی تھی۔ اسے آگے پڑھنے کا بالکل بھی شوق نہیں تھا۔ وہ عام امریکیوں کی طرح پانچ دن ڈٹ کر کام کرتا اور ویک اینڈ پر آرام۔ کبھی کبھی دوستوں کے ساتھ ہلّا گلا کرنے بیچ پر چلا جاتا… ورنہ اکثر وہ چھٹی کے دن ماں کے کمرے میں پڑا ٹی وی دیکھتا، باتیں کرتا، ریسٹورنٹ میں آنے والے لڑکے لڑکیوں کی، ہونے والے جھگڑوں کی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی مالکن مسز جیفر سن کی غصے میں آ نے اور چڑنے والی عادت کی تو ا س کے پاس بہت کہانیاں ہوتی تھیں۔ فینی کو اپنا یہ بیٹا ہولے ہولے بہت عزیز ہو چلا تھا۔ وہ ڈرتی اپنی کسی دوست کو بھی نہ بتاتی کہ یہ لڑکا اس کے ساتھ کتنی باتیں کرتا ہے اور کتنا اچھاوقت گزارتا ہے۔ اسے بہت برا لگتا اگر کوئی اس کی اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتا۔ اسی ڈر سے اس نے تو وہ بات بھی سب کو نہیں بتائی تھی جو صرف اپنے بیٹے ولسن کو بتا پائی تھی۔

پسند اور شوق ایک جیسے نہ ہوں تو اوّل تو دوستی نہیں ہوتی اور ہو جائے تو محبت میں نہیں بدلتی۔ مسز فینی ولسن مور کو جب سنی کہہ کر بلاتیں تو اس کا مطلب ہوتا ’’دوست آؤ! اب مووی دیکھتے ہیں۔‘‘ اس روز جانے کیا ہوا، مووی ختم ہوئی تو چینل بدلتے ہوئے ایک جگہ ولسن ٹھٹک گیا۔ عجیب سے لوگ تھے۔ ہاتھ کمر پر بندھے ہوئے، نارنجی شرٹیں اور پتلونیں، آنکھوں پر سیاہ چشمے اور چشمے کے نیچے سیاہ کپڑے کی پٹیاں۔

’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ ولسن نے حیرت سے پوچھا تھا۔

’’مسلم ٹیررسٹ ‘‘ فینی نے جواب دیا۔

’’کتنے سارے ہیں یہ تو۔ ‘‘

’’ہاں چھ سو سے زائد ہیں۔‘‘

’’عجیب سے نہیں ہیں۔ میں نے پہلے ا س طرح کے ٹیررسٹ نہیں دیکھے۔ ایک سے کپڑے، ایک سے حلیے اور ایک سی بے چارگی اور بے بسی؟ دیکھو ہر ایک کے پیچھے دو دو فوجی ہیں۔مگرمما ایک بات نئی ہے ٹیررسٹ کو عینکیں لگائے اور عینکوں کے نیچے آنکھوں پر پٹیاں باندھے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

’’بڑی سٹائلش پٹیاں ہیں۔‘‘

’’ہاں… ہم نے بنائی ہیں۔ ‘‘ فینی کے منہ سے اچانک نکلا۔

’’مما! آپ نے ؟‘‘

’’ہاں ہمارے شعبے میں تیار ہو ئی ہیں۔‘‘

’’وہیں میٹنگ ہوئی، وہیں ڈیمانڈ دی گئی، وہیں ڈیزائن ہوئیں۔‘‘

’’سپیشل ٹاسک فورس والے آئے تھے۔ کرنل سکارٹ لائے تھے انہیں، کہنے لگے۔ دنیا کے بدترین ٹیررسٹ کی آمد متوقع ہے، وہ کسی سے ڈرتے بھی نہیں اور دبتے بھی نہیں۔ ہم ان کا ایسا علاج کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا دیکھے۔ گوانتاناموبے کیمپ میں رکھیں گے۔ پھر طے ہوا کہ ایسا کیا کیاجا ئے کہ دیکھ نہ سکیں؟ میں نے پٹیاں تیار کر کے دکھائیں، ان کی تسلی نہیں ہوئی، بولے اوپر کالی عینکیں لگوائیں گے تاکہ دن کی روشنی بھی نہ دیکھ سکیں۔ یہ بڑی روح اور دل کی روشنی کی باتیں کرتے ہیں۔ آنکھیں تو دیکھیں گی نہیں، پھر یہ دیکھ لیں اپنے دل کی آنکھ سے۔‘‘

’’زیادہ دیکھ لیا تو…؟‘‘ کرنل سکارٹ نے قہقہہ لگایا تھا، اس کا قہقہہ بھی اس کی طرح عجیب بے روح سا ہوتا ہے۔ فینی بات کرتے کرتے رکی تھی۔ ٹاسک فورس والے سپیشل ایجنٹ کو یہ بات بہت بری لگی تھی۔ اس نے گھورتے ہوئے کہا تھا۔ ’’کرنل ہم اس دل کوبھی مسل کے رکھ دیں گے جو ہماری مرضی کے خلاف دھڑکا۔ پھر ہدایت ملی کہ کانوں میں روئی اور کپڑے کو ملا کر ایسے پُھندے بنائے جائیں کہ کان مکمل بند ہو جائیں، کوئی آواز بھی ان تک نہ پہنچ پائے۔ بس تب سنیں جب ہم سنانا چاہیں، صرف وہ سنیں جو ہم بتانا چاہیں۔ اس کے علاوہ ہر لمحے، وہ امید اور ناامیدی کے عذاب میں جئیں، دیکھنے کو، سننے کو اور بولنے کو ترسیں۔‘‘

’’اوہ مائی گاڈ…‘‘ ولسن نے عجیب سا منہ بنایا۔ ’’دیکھو مما! پاؤں میں کس قدر بھاری بیڑیاں ہیں اور ہاتھ بھی پیچھے بندھے ہیں۔ ہونٹوں پر ٹیپ لگے ہوئے ہیں۔ کیسے جانوروں کی طرح چپ چاپ جا رہے ہیں۔ کہاں سے پکڑے ہیں یہ سب…؟‘‘

فینی نے زور سے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ مارا ہے ’’سنی تو بھی نا عام امریکیوں کی طرح بے خبر ہے۔ یہ بھی نہیں جانتا ابھی ہم نے افغانوں کو فتح کیا ہے۔ یہ سارے وہیں سے لائے گئے ہیں۔ لمبی لمبی داڑھیاں، سروں کے لمبے بال، گھنی مونچھیں، سب غصے کی تیز دھاروں سے صاف کر دی گئی ہیں۔ ‘‘

’’مما! ظلم نہیں ہے یہ؟ مجھے تو قیدیوں کے ساتھ ایسا کرنا کچھ اچھا نہیں لگا۔ ان کے بھی تو کچھ حق ہوتے ہیں۔‘‘

’’ چھوڑو سنی! یہ سیاست کی باتیں ہیں۔ آؤ نئی مووی دیکھتے ہیں۔ واؤ… دیکھو اسکیپ فرام ابسالم آ رہی ہے۔ ‘‘

فلم ابھی جاری تھی جب لیوس کی گاڑی آکر رکی۔ فینی نے کھانا گرم کیا۔ پھر باپ بیٹے کو بلالیا۔ لیوس نے سوپ کی چسکی لیتے ہوئے فینی کو دیکھا۔

’’فینی ڈارلنگ، ایک عمدہ آئیڈیا ہے۔

’’کرنل سکارٹ نے ذکر کیا ہے کہ امریکن میرین کے لیے ان دنوں ہنگامی بنیادوں پر لڑکے منتخب کیے جا رہے ہیں، کہو تو اپنے ولسن کو بھجوا دیں۔ کرنل بتا رہا تھا بہت مزے ہوں گے لڑکے کے۔ یونیفارم اور جیکٹ بھی و ہ پہنے گا جو تم نے اسی کو ذہن میں رکھ کے ڈیزائن کیا تھا۔ ‘‘

’’نابابا نا! امریکن میرین کا مطلب یہ ہوا کہ ہر اچھے برے موقع پر لڑنے کو یہی پیدل فوج آگے آگے ہو گی۔ میں نے تو سنا ہے امریکن میرین میں لڑکے ویسے بھی نہیں جاتے اور جو جاتے ہیں وہ ڈرتے بہت ہیں۔ کابل میں امریکی دستے کی حفاظت برطانوی فوجیوں نے کی تھی۔ تب جا کر سکون سے سو سکے تھے۔ میرے ولسن کو بھلا ایسے ماحول میں کیسے نیند آئے گی؟‘‘

لیوس نے کھل کے قہقہہ لگایا۔’’ اب تم بھی نا ٹیررسٹس کی طرح سچ بول رہی ہو۔ وہ کہتے ہیں امریکی فوجی بڑے بزدل ہیں… اسی لیے پہلے ہوائی حملے کر کے ہر چیز فنا کر دی جاتی ہے۔ عمارت ہی نہیں، زندہ انسان بھی زمین بوس کر دیے جاتے ہیں۔ جب ہر ذی روح موت کے گھاٹ اُتر چکا ہوتو پھر یہ فوج ایڈوانس کرتی ہے۔ اس لیے تو کہتا ہوں… اتنی محفوظ جاب، اتنا شاندار کیرئیر؟ تم سوچو تو سہی! کیوں ولسن ؟‘‘ لیوس مور نے اپنے بیٹے کی رائے چاہی۔

’’ کیوں نہیں ڈیڈ؟ آئی وُڈ لو ٹو جوائن‘‘

’’مجھے لگتا ہے بہت محفوظ اور شاندار زندگی ہوگی۔ میں اپنے دوست رچرڈ اور جان مارشل کو بھی بتاتا ہوں۔ انہیں بھی یہ کیرئیر بہت اچھا لگے گا۔‘‘


وِلسن کو فوج جوائن کیے سال ہونے کو تھا۔

وہ بہت خوش اور مطمئن دکھائی دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ سخت فوجی تربیت اور تعلیم نے اس کی معصومیت کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ گھرآتا تو ماں سے نہ اس کی مرضی اور پسند کی ڈھیروں باتیں کرتا، نہ فلمیں دیکھتا۔ ایک ہی بات پر اس کی سوئی اٹک گئی تھی۔۔۔۔ ’’ مما! ہم سب سے شاندار اور طاقت ور قوم ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ہی ہر جگہ راج کریں۔ ہمارے اصول، ہمارے قانون، ہماری ہی پسند اور ناپسند سب سے بہتر ہے۔ یہی مستقبل کا اصل پیمانہ ہے۔ ہم قوت اور ٹیکنالوجی کے زندہ خدا ہیں۔ ہاں ! زندہ خدا! کون ہے جو سر اٹھا کے ہمارے سامنے کھڑا ہو!۔۔۔۔ کچل کے رکھ دیں گے۔‘‘

فینی یہ باتیں سن کر پہلے تو خوش ہوئی پھر ایک دم سے دہل گئی۔

’’مائی سن !‘‘ ایک روز وہ بڑے پیار سے اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر بولی تھی۔

’’دیکھو ! میرا ایک ہی بے بی ہے۔ مجھ کو بہت عزیز اور پیار ا ہے۔ تم ویسے ہی اچھے اور معصوم رہنا، جیسے ویک اینڈ پر میرے ساتھ مستی کرتے تھے۔‘‘

’’اومائی پؤرمما… میں ویسا ہی ہوں۔ مگر اب خالی ولسن مور نہیں، امریکن میرین سولجر ہوں۔ دنیا کی بہترین قوم کی بہترین فوج کا جوان۔ فتح جس کے قدموں کو چومنے کے لیے بنی ہے۔ ‘‘

فینی نے اس روز اپنے بیٹے کو بہت چوما تھا جب اسے خبر ملی تھی کہ ولسن کی پوسٹنگ کویت میں امریکی بیس کیمپ پر ہوئی ہے۔’’ تم کو موقع ملے تو ان ٹیررِسٹوں کو چن چن کر مارنا۔‘‘ اس نے بیٹے کو راہ دکھائی تھی۔

پھریہ دو مہینے فینی نے بہت مشکل میں گزارے تھے۔ دنیا بھر میں جنگ کے خلاف جلوس نکل رہے تھے۔ دوبار تو وہ خود بھی جلوس میں شرکت کے لیے گئی۔ پہلی بار عین سڑک سے واپس آگئی۔ صرف یہ سو چ کر کہ یہ تو میرے ولسن کے خلاف ریلی ہے۔

’’وہ فوجی ہے۔ لڑے گا بھی، دشمن کو مارے گا بھی اور فتح کے نغمے بھی گائے گا۔میں بھلا اس کے نغموں میں کیوں رکاوٹ بنوں ؟‘‘ وہ بڑبڑائی تھی۔ دوسری بار اسے لگا کہ جلوس بہت نکل رہے ہیں۔ ریلیاں ہر جگہ ہو رہی ہیں، کیا خبر یہی لوگ جیت جائیں اور جنگ ٹل جائے تو ولسن بھی خیریت سے لوٹ آئے گا اور میں بھی فخر سے اپنے بڑھاپے میں بچوں کو بتا سکوں گی کہ میں کس قدر امن سے محبت کرنے والی تھی۔ اپنے ہی بیٹے کی فوج کے خلاف ریلی میں شرکت کا حوصلہ تھا مجھ میں۔‘‘

فینی کا زیادہ وقت اب ٹی وی کے سامنے گزرتا۔ تھک جاتی، اداس ہو جاتی تو جگہ جگہ فون گھماتی۔ اس کی اکثر دوستوں کا خیال تھا کہ ولسن اس عظیم جنگ کا ہیرو بنے گا جو کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ Mass Destruction کرنے والے عراقی اسلحے کی تباہی سے دنیا کو بچانے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ وہ سب عام طور پر وہی باتیں کرتیں جو صبح و شام ٹی وی سے تبصروں، رننگ کمنٹریوں اور اخباری تجزیوں اورLive Reporting میں ہوا کرتیں۔

پھر موضوع اور دلائل بدلنے لگے۔ اس رات تین بج کر پندرہ منٹ پر امریکی صدر نے جب اعلان کیا کہ اتحادی فوجیں عراق میں داخل ہو چکی ہیں اور فوجی اہمیت کے حامل ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہیں تو اس کے پس منظر میں بش کی دونوں بیٹیوں کی تصاویرکی جھلک دکھائی دے رہی تھی اور فینی ان کی آنکھوں میں اپنے ولسن کی آنکھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ کہاں ہو گا، کیسے حملے کر رہا ہو گا، اگلے مورچوں پر یا کہیں پیچھے بیس کیمپ میں؟ اس کی سلامتی کے لیے اس نے صلیب کا نشان بنایا اور دعا میں مصروف ہوگئی۔

آنے والے دن اس نے دعائیں کرنے، ٹی وی دیکھنے اور اخباریں پڑھنے میں وقت صرف کیا۔ اسے ولسن بہت یاد آ رہا تھا۔ اس کی بھوری آنکھوں کو پیار کرنے کو وہ مچلے جاتی تھی۔ اس نے دفتر چھٹی کی درخواست بھجو ا دی تھی۔ فینی اسی دوپہر کو بہت خوش ہو رہی تھی۔ جب ٹی وی پر انگارے برساتے جہاز ایسے نظر آ تے جیسے وڈیوگیمز کھیلی جا رہی ہوں۔ اس نے ایک دو لمحے کو سوچا، ’’جب یہ اتنے بڑے بڑے بم پھینکتے ہوں گے تو وہ کہیں تو جا کر پھٹتے ہوں گے؟‘‘

’’نہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ‘‘ ملک کے صدر پھر اس کی مدد کو آئے تھے۔ ’’ہم عراق کو کیمیائی ہتھیاروں اور ماس ڈسٹرکشن والے ہتھیاروں سے پاک کر کے رہیں گے۔ عوام کو صدام سے آزادی دلوائیں گے۔ یہ بم تباہی نہیں پھیلائیں گے، آزادی لائیں گے۔ ‘‘

رات کو کھانے پر اس نے لیوس سے خاموشی کی وجہ پوچھی، اصل میں وہ اپنی خاموشی سے تنگ آتی جا رہی تھی۔ لیوس اخبار پر جھکا ہوا تھا۔ یہ 19 مارچ کا اِنڈی پینڈنٹ تھا۔ نوم چومسکی نے لکھا تھا ’’اس جنگ میں فیصلہ کن چیز امریکہ سے نفرت بن رہی ہے۔ ‘‘ پروفیسر جیمز آرم نے لکھا تھا۔

“The first casualty is of moral base of US which is vanishing more quickly than the gain so admitted by US.”

اس کا دل چاہا کہ لیوس کو بتا دے کہ اس نے بھی دن کو رابرٹ فسک کا آرٹیکل پڑھا جس نے امریکہ کو Rogue State لکھا تھا۔ ڈیلی ٹائمز میں ولیم رپورزپٹ نے اپنے مضمون میں لکھا تھا۔''Now I am Terrorist"

’’بغداد جو کبھی امن کا شہر تھا۔ امریکی بمباری سے آگ کی جھیل بن گیا ہے۔ لوگوں کی بیشتر تعداد مر چکی ہے سیکڑوں تباہ کن میزائل شہروں پریوں گر رہے ہیں کہ معصوم، بے گناہ اور بوڑھے، بچے کسی تمیز کے بغیر قتل کر رہے ہیں۔ یہ سب کس نے کیا۔ میرے ملک نے، میری حکومت نے… اب میں دہشت گرد ہوں۔

"امریکی حکومت، اور صدر عوام کو اور دنیا کو جھوٹ بول بول کر بیوقوف بنا رہے ہیں اور غریب عراقیوں کو مارے جا رہے ہیں۔ ان بے قصوروں کو ہم مار رہے ہیں۔ ہم… اب ہم دہشت گرد ہیں۔‘‘

فینی جوں جوں یہ آرٹیکل پڑھتی گئی، اس کا رنگ فق ہونے لگا۔ اسے یوں لگا اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ہے۔ اس کا جی چاہا کہ وہ زور زور سے روئے… کس بات پر…؟ یہ اس کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا… وہ حکومت کے ساتھ تھی۔ مگر اسے رونا اس کے خلاف لکھے آرٹیکل پر آ ر ہا تھا۔

’’یہ کس قدر ظالم اور احمق ہیں؟ وہ اکیلے ہیں، وہ چلا اٹھی تھی۔ جانتے نہیں میرا اکلوتا بیٹا وہاں ہے۔ ‘‘ اس نے اسی بے چینی میں لیوس کو فون کیا تھا۔

’’ لیوس پلیز آج جلدی آجاؤ۔‘‘

مگر آگے سے لیوس کا کوئی جواب اس کے کانوں تک نہیں پہنچا۔ وہاں خاموشی بھی نہ تھی۔ ہاں عجیب طرح سے کسی کے سسکنے کی آواز تھی۔

’’لیوس! کیا تم ہو؟ پلیز بولو۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ ‘‘

لیوس کی روتی آواز دور کسی کنویں سے آ رہی تھی۔

’’فینی…وہ ہمارا ولسن…‘‘

’’ کیا ہوا اس کو؟‘‘ فینی زور سے چیخی تھی’’تم نے ٹی وی نہیں دیکھا۔ الجزیرہ کے حوالے سے چار امریکن میرین کی تصاویر آ رہی ہیں جو نصیریہ کے محاذ پر عراقی وحشیوں کے ہاتھوں گرفتارہو گئے ہیں۔ لیوس کی تصویر…‘‘ فینی مزید کوئی بات نہ سن سکی۔ وہ چکرا کر گری اور بے ہو ش ہوگئی۔ رات گئے ہسپتال میں جب اسے ہوش آیا تو اس نے ٹی وی دیکھنے کی خواہش کی۔ سکرین پر جنگی قیدی بننے والے امریکی فوجیوں کی تصاویر آ رہی تھیں۔ ولسن کا بجھا ہوا چہرہ ان میں بہت نمایاں تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں، بے یقینی اور خوف سے بھری ہوئی تھیں۔

’’اوہ نو…!‘‘ وہ بڑبڑائی تھی، ’’ یہ وحشی مسلم…وہ جنگلی صدام…تہذیب تو ان کو چُھو کے نہیں گزری…میرا معصوم بچہ تو ابھی بیس سال کا بھی نہیں ہوا۔ ‘‘

وہ زاروقطار رو رہی تھی… اور لیوس سے، اسے چپ کرانے کے لیے تسلی کا ایک جملہ بھی نہ جوڑا جا سکا تھا۔

سامنے سی این این پر سیکرٹری دفاع ڈونلڈرمزفیلڈ غصے سے چلا رہا تھا۔ ’’ہمارے قیدیوں کو پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت قیدیوں کی تصویریں بنانا، انہیں عوامی نفرت کا نشانہ بنانا اور اذیت دینا جرم ہے۔‘‘

اسی رات صدر بش نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔

’’ ہمارے قیدیوں سے اچھا سلوک ہونا چاہیے۔‘‘

اس دھمکی سے کچھ پہلے ٹی وی پران عراقی فوجیوں کی تصاویر دکھائی جا رہی تھیں جنہیں کپڑے اتروا کے، اوندھے منہ، کمر پر ہاتھ باندھ کے بٹھایا گیا تھا۔ کئی عراقی فوجیوں کو امریکی فوجیوں کے غصے سے ٹھڈے مارنے کا سین بھی اس کوریج میں شامل تھا جسے بعد میں ایڈٹ کر دیا گیا۔

فینی کے آنسو نہیں تھمتے تھے۔ لیوس دفتر سے واپس آتے ہوئے اسے ہسپتال سے گھر لے آیا تھا۔

وہ سخت افسردہ تھا۔ امریکی فارن سروس کے عہدیدار جان براؤن کا آرٹیکل ہر جگہ زیر بحث تھا۔ ’’پچھلے جمعے میں نے بعد از دوپہر سہمے لوگوں، ڈرانے والے حملوں کو دیکھا۔ مجھے صرف یہ اطمینان ہوا کہ میں اس شرمناک موقع سے پہلے امریکی فارن سروس سے مستعفی ہو چکا ہوں۔ بش حکومت یہ جوجنگ کر رہی ہے، اس کے پاس کوئی جواز نہیں، کوئی سند نہیں۔ عراقی حکومت کی تبدیلی او ر عوام کو آزادی جیسے فرسودہ سلوگن ایک ووگ اور ولگرپراپیگنڈا ہے۔ میں نے گھنٹوں کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر خط لکھا ہے اور اسے 10 مارچ کو ای میل کر دیا ہے۔ جناب فارن سیکرٹری، میں نے فارن سروس اس لیے جوائن کی تھی کہ میں اپنے وطن سے پیار کرتا ہوں اور اب یہ سروس اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ میں اپنے وطن سے بہت محبت کرتا ہوں۔ ‘‘

گزرنے والا ہر لمحہ، ہر دن فینی اور لیوس پر عذاب کی طرح گزر رہا تھا۔ پہلے صرف حملوں کی خبریں اور تصاویر آتی تھیں۔ پھر بموں سے مرنے اور کٹنے پھٹنے والے جسموں کی تصویریں آنے لگیں۔ کسی بچے کا چہرہ اڑ گیا ہے تو کسی کے ہاتھ اور کسی کی ٹانگیں… ان کی لاشیں گنی نہ جا تی تھیں۔ ہسپتالوں میں جگہ رہی نہ بجلی اور ادویات دستیاب تھیں، تب عراقی ڈاکٹر سڑکوں پر لٹا لٹا کے مریضوں کے سادہ کپڑوں سے زخموں کوڈھانپنے اور خون روکنے کی کوششوں میں جُت گئے۔ اسی دوران کچھ امریکی فوجیوں کے مزید قید ہونے اور کچھ کے مرنے کی اطلا ع آئی ہے۔ ان میں ولسن کے دوست جان مارشل کا نام بھی شامل تھا۔ البتہ رچرڈ کی کوئی خبر نہ تھی۔

ہاں جنگ کے اکیسویں دن اچانک بغداد پر قبضے کی خبر آگئی۔ سرکاری طور پر خوشی منائی جا رہی تھی۔ سی این این کامیابی کی کہانیاں سنا رہا تھا اور اپنے بیڈ روم میں ٹی وی کے سامنے لکڑی کی طرح بے حس و حرکت بیٹھے فینی اور لیوس ہر خبر کے بعد قید ہونے والے فوجیوں کے بارے میں امید بھرے جملوں کا انتظار کرتے… مگر ان کا انتظار ختم نہ ہوا۔ مایوسی، ناامیدی اور دکھ سے بھرے دو دن اور گزر گئے۔ تیسرے دن پورا میڈیا جنگی قیدی بننے والے امریکن میرین کوکامیابی سے تلاش کر لینے کی خبروں سے اُبل رہا تھا۔

ٹھیک 12 گھنٹے بعد فوجی جہاز سے اڑے چہروں اور تھکے جسموں والے وہ قیدی اترے جنہوں نے جنگ کے زیادہ دن عراقی قید میں گزارے تھے۔ دوسرا اُترنے والا فوجی ولسن تھا۔

فینی اسے چوم چوم کر نہ تھکتی تھی۔

’’مما! آپ مجھے بہت یاد آئیں۔‘‘

وہ گاڑی میں بیٹھا، بتاتے ہوئے رودیا تھا۔

’’میرے بچے تو ٹھیک تو ہے؟‘‘لیوس نے بات کاٹ کر پوچھا تھا’’یس پاپا، آئی ایم فائن!‘‘جس روز مجھے پکڑا تھا اس عراقی بدو نے، ہم نصیریہ سے دس کلومیٹر دور تھے۔ وہ چھوٹا سا گاؤں تھا اور وہاں اتنی بمباری ہوئی تھی کہ بظاہر کوئی انسان زندہ نہ بچا تھا۔ایک جلے ہوئے گھر سے جب میں گزرا تو چھ بچوں اور چار بڑوں کی لاشوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ محمد البقر اسی گھر کا سربراہ تھا۔ زخمی پڑا کراہ رہا تھا۔ پھر جانے اس مسلم ٹیررسٹ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی کہ اس نے لپک کر مجھے آ لیا۔ وہ زخمی ہونے کے باوجود مجھ پر غالب آگیا۔ اس نے مجھے جکڑ لیا، گن پر قبضہ کر لیا، پھر جب اس نے مجھے فوج کے حوالے کیا تو عراقی میجر نے پوچھا ’’تم نے اسے مار کیوں نہ دیا؟ اس کے بھائی بندوں نے تمہارا پورا خاندان مار دیا۔ پورا گاؤں اُجاڑ دیا، تو پپا! پتا ہے اس نے کیا کہا؟ بولا… ’’ ہاں دل کیا تھا کہ اسے مار دوں۔ پھر خیال آیا، میرے سب مر گئے۔ اب مجھے بھی مرنا ہے اور وہاں جو ہولی پرافٹ نے پوچھ لیا کہ تم تو اپنے گھر کے سب پیاروں کی اتنی شہادتیں دے کر انعام کے مستحق ٹھہرے تھے۔ ایک قیدی کو مار کر سارے انعام سے کیوں محروم ہونے کو آگئے ہو؟ ہم اپنے دشمنوں اور ان کے قیدیوں سے کتنا اچھا سلوک کرتے تھے۔ تم کیسے بھول گئے؟ یاد ہے نا، جنگ بدر کے بعد نہ کسی قیدی کے ہاتھ توڑے، نہ کسی کے کان کاٹے، نہ کسی کو عذاب دیا، نہ کسی کو رُسوا کیا۔ اپنے سے پہلے ان کو کھلایا۔ پھر ان سے اپنے بچوں کو پڑھوایا اور ان کو چھوڑ دیا۔ یہ حملہ آور بُرے تھے تو تم برے کیوں بنے؟ وہ ظالم اور قاتل تھے تو تم ظلم میں کیوں مقابلہ کرنے نکل کھڑے ہوئے؟ مقابلہ جنگ میں ہوتا ہے، باندھ کر مارنا مقابلہ نہیں قتل کہلاتا ہے اور انسان قاتل کہلاتا ہے۔ بس یہی سوچ کر‘‘… وہ محمد البقر بولا تھا ’’ میں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بس یہی سوچ کر۔‘‘

’’تھینک گاڈ! میرے بچے… تھینک گاڈ! اس بھلے آدمی نے تمہیں چھوڑ دیا، ورنہ ہم تو جیتے جی مر گئے ہوتے۔‘‘ فینی جذبات سے رُندھی آواز سے بولی تھی۔

’’تو جانتا ہے میرے بچے! ہماری تو کُل کائنات تُو ہے۔ سارے خوابوں اور ساری محبتوں کا مرکز تو ہے۔ تو جانتا ہے میں تجھے کتنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’ہاں مما… ‘‘ ولسن مور اپنی مما کا ہاتھ تھام کے بولا تھا۔

’’تم مجھ کو وہاں بغداد میں بہت یاد آئی تھیں۔ میں جب جب بہت ڈرتا تھا تو گاڈ کے بعد تم کو یاد کرتا تھا۔ سوچتا تھا کاش تم میرے کہیں آس پاس ہوتیں۔پھر ایک دن میں نے گاڈ سے رو کر دعا کی۔ اس کو تھینک یو کہا کہ تم وہاں نہیں ہو۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

لیوس اور فینی حیرت سے بول اٹھے تھے۔’’ کیا خبر تم وہاں ہوتی تو پھر جنگی قیدیوں کے لیے وہی لباس سی ڈالتی۔ وہی سیاہ پٹیاں، وہی کان بند کرنے والی پھندے، وہی منہ پر لگی ٹیپ، وہی رسوائی سے بھرا نارنجی لباس۔ وہی گوانتاناموبے جیسا کوئی کیمپ، میرے تو انہوں نے کمر پر ہاتھ بھی نہیں باندھے۔ بیڑیاں بھی نہیں پہنائیں۔ مجھے Abuse بھی نہیں کیا۔ ٹھڈے بھی نہیں مارے۔ورنہ میں تو اتنی رسوائی سہنے سے پہلے ہی مر گیا ہوتا۔ سوری مما! میں قید میں اکثر سوچتا تھا تھینک گاڈ کہ مسلمانوں میں فینی جیسی مائیں نہیں ہوتیں۔‘‘

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اختر عباس بھائ؛ اللہ آپ کے قلم میں ں اور برکت ڈالے بس سچ کہوں جذبات پر قابو نہ رکھ سکا آپ وہی اختر عباس ہیں جن سے میری پہلی؛ پہلی ملاقات اردو ڈائجسٹ کے آخری صفحات پر ہوئی تھی پر نہ جانے کیوں آپ کا سلسلہ وہاں سے کٹ گیا. اور آج آپ کو دیکھا تو یاد آیا'سفر نامہ مصر ؛غزہ آپ نے لکھا تھا