ڈاکٹر کا بخار – خدیجہ افضل مبشرہ

میں مسمی عدنان احمد آج آپ کے سامنے انتہائی گھمبیر مسئلہ اور اس کا حل لے کر حاضر ہوا ہوں اور یہ مسئلہ صرف میرا نہیں، بلکہ آج کے بہت سے نوجوانوں کا مسئلہ ہے۔ امید ہے کہ آپ میں سے کوئی اور بھی اپنا مسئلہ اسی طریقے سے حل کر سکے گا۔

میں دو بہنوں اور دو بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہوں اور انتہائی شریف، محنتی اور معصوم لڑکا ہوں، صرف اپنی نہیں سب کی نظر میں۔ ایک نجی یونیورسٹی میں انجینیئرنگ کے آخری سال میں ہوں اور ساتھ ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھا کر اپنا خرچہ نکالتا ہوں۔ ویسے لگتا یہی ہے کہ تعلیم مکمل ہونے کے دو تین سال بعد تک بھی یہی کرنا پڑے گا اور اپنے جیسے دوسرے کئی بھائیوں کے ساتھ نوکری کے لیے جوتیاں چٹخاتا ہی نظر آؤں گا۔

ابا ایک سرکاری محکمے میں اتنے ایماندار افسر ہیں کہ مہینے کے آخری ہفتے میں مرغی تک ہمارے ہاں آتے ہوئے شرماتی ہے۔ ہاں! دالیں سبزیاں کافی بے تکلّف ہیں ہم سے۔ خیر، سفید پوشی سے کام چل رہا ہے۔ بہنیں شادی شدہ ہیں اور اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ چھوٹا بھائی کالج جاتا ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر کہ کچھ بننا چاہتا ہے۔

یہ تو تھا میرا مختصر تعارف۔

اب آتے ہیں میرے مسئلے کی طرف۔ میرے ایک عدد تایا جان کی منجھلی سپوتنی ہیں مسمات بسمہ اختر عرف شفقت چیمہ … کافی جھگڑالو، دبنگ اور منہ پھٹ واقع ہوئی ہیں محترمہ۔ مگر پتہ نہیں پھر بھی مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ ارے نہیں نہیں! غلط مت سمجھیے گا۔ وجہ اصل میں یہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے جب ہم سب تایا جان کے ہاں بیٹھے تھے اور جب ہمیں " بڑوں میں تمہارا کیا کام ہے۔ چلو تم بھی باہر " کہہ کر کمرے سے نکال دیا گیا تو ہم بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کمرے سے نکل کر وہیں کان لگا کر کھڑے ہو گئے۔ اور تب ہمارے گنہگار کانوں نے سنا کہ اندر شفقت چیمہ کے اس لیڈیز ورژن یعنی کہ بسمہ اختر کا رشتہ ہم سے کرنے کی سازش کی جا رہی تھی۔ اس دن ہم نے خواتین کی اس شفقت چیمہ کو ذرا غور سے دیکھا تو احساس ہوا کہ شکل تو ان کی بہت اچھی تھی بس مزاج ہی ولن والا پایا تھا موصوفہ نے۔ وہ جو فلموں میں ایسے مواقع پر میوزک سا بجتا دکھاتے ہیں نا پس منظر میں، ہمارے دل میں بھی اس وقت کچھ ایسے ہی سر بجتے محسوس ہوئے۔ ابھی ہم ان سروں کی راگنی میں پوری طرح گم بھی نہ ہو پائے تھے کہ قہقہوں کی آواز نے ہمیں خیالوں کی اس حسین وادی سے نکال کر حقیقت میں لا پٹخا۔ اصل میں ہم جب فلمی دنیا جیسے خیالوں میں مگن تھے تو غالبا ہمارا منہ کھل گیا تھا اور بسمہ نے سب کو متوجہ کر کہ ہمارا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور اب سب ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے۔

ہم بھی چہرے اور آنکھوں میں " تمہیں تو میں دیکھ ہی لوں گا" والے ایکسپریشنز لیے وہاں سے ہٹ گئے۔

اتنے سالوں سے بند کمرے میں کی گئی جس سازش کو صیغہ راز میں رکھا گیا تھا اب اسے خاندانی سطح پر عام کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔ مگر میں بہت مشکل میں پھنس گیا۔ شفقت چیمہ یعنی کہ بسمہ اختر صاحبہ ڈراموں اور فلموں کی بہت شوقین ہیں۔ یہ تو میں جانتا ہی تھا مگر ان کا یہ شوق میری جان پر بن آئے گا اس کا علم نہ تھا مجھے۔

اب بات یہ تھی کہ بسمہ صاحبہ کو مجھ میں کوئی ایسی خوبی نظر نہیں آتی تھی جو یہ ثابت کرے کہ میں ان سے شادی کے قابل ہوں۔

"نہ تو تم میں سالار سکندر والی کوالٹیز ہیں اور نہ ہی اشعر والی قابلیت اور ٹھہراؤ۔ "

یہ ڈائیلاگ ابھی پرانا ہوا بھی نہ تھا کہ یہ کوئی ڈاکٹر اسفندیار بیچ میں آپڑا۔

سب سے پہلے تو انہیں میرے نام پر اعتراض ہونے لگا کہ "عدنان… اتنا عام سا نام؟ کوئی چارم ہی نہیں فیل ہوتا بلانے میں؟"

لو کر لو گل… میں نے کون سا خود رکھا تھا اپنا نام؟ سیدھے سادے میرے اماں ابا نے آسان سا نام رکھ ڈالا کہ بڑے بزرگ بھی آسانی سے بلا لیں۔ اب اس میں میرا کیا قصور ؟

دوسرا اعتراض میری سوکھی سڑی خشک سی انجینئرنگ پر… "ہائے اللہ! گریس تو صحیح میں ڈاکٹرز کی ہوتی ہے۔ وائٹ کوٹ پہنے، اسٹیتھو اسکوپ گلے میں ڈالے گھومتا بندہ کتنا 'اٹریکٹو' لگتا ہے تمہیں کیا پتہ؟" یعنی کہ لخ دی لعنت میری انجینیئرنگ تے ۔

پھر انہیں لگتا کہ مجھے وہ اپنی دوستوں سے متعارف کراتے ہوئے کتنی شرمندہ ہوں گی۔ میرے سیدھے سیدھے بازو دیکھ کر وہ فرماتیں کہ میرے مسلز تو نہیں البتہ مسائلز ضرور ہیں۔ اب بندہ پوچھے کہ بی بی جم کیسے جوائن کروں میں؟ اسٹڈیز اور اکیڈمی سے بچنے والا آٹے میں نمک برابر وقت تو امی کے لیے دودھ دہی اور دھنیا لانے میں صرف ہو جاتا ہے۔

اگلا اعتراض انہیں میرے بالوں پر تھا جو کہ ہمیشہ سے چھوٹے چھوٹے کٹے ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کم سے کم میرا ہئیر اسٹائل تو ڈاکٹر اسفی جیسا ہونا چاہیے۔ ادھر بندہ ہفتے میں دو بار نہا کر شکر کرتا ہے اور باتیں سنو ان کی، اپنے اس ڈاکٹر والی اسٹائلنگ ٹیم رکھوا دو مجھے بھی تو پھر دیکھو۔

" کیا ہر وقت نیستی موڈ آن رہتا تمہارا؟ کبھی اچھے سے ڈریس اپ بھی ہو لیا کرو۔ اف… کیا ڈیشنگ لگتا ہے اسفی بلیک شرٹ میں اور اس کی وہ فولڈ کی ہوئی سلیوز… اف غضب!" وہ خلاؤں میں گھورتی ہوئی کہتی تو میری نظر اپنی جینز ٹی شرٹ پر چلی جاتی جو یونی جاتے ہوئے بمشکل ڈھونڈ ڈھانڈ کر دھلی ہوئی مل جانے پر میں خوشی سے اچھلتا ہوا جاتا ۔

خیر… اگلا اعتراض سب سے نرالا ہے۔ "مجھے نہیں رہنا شہر کی اس آلودہ فضا میں۔ رہنے کی اصل جگہ تو پہاڑی علاقےہیں۔ صاف ستھرے سرسبز۔۔" بچو! علاج بھی تمہارا یہی ہے کہ ان علاقوں میں لے جائے بندہ تمہیں۔ پہاڑ سے گر گرا کر خود ہی اللہ کو پیاری ہو جاؤ۔

اب آپ ہی بتائیے کہ میں کیا کرتا ؟ اس کی فرمائشوں پر پورا اترنے کے لیے تو مجھے دوبارہ سے پیدا ہونا پڑے گا یعنی کہ ساری لائف ہی سالی اُلٹی چلانی ہو گی۔ اچھا سوری ! غصے میں نکل گیا منہ سے۔

مجھے پتہ ہے جو آپ سوچ رہے ہیں۔ میں انکار ضرور کر دیتا مگر اصل میں دل کا معاملہ تھا ناں؟ سمجھا کریں آپ لوگ بھی۔

خیر، میں نے فیصلہ کیا کہ ذرا اس ڈاکٹر اسفندیار کو دیکھوں تو۔ آخر یہ ہے کیا بلا، جس نے لوگوں کی شادیوں میں پھڈے ڈال رکھے ہیں؟

اپنا قیمتی وقت برباد کر کے میں نے تھوڑا بہت ڈرامہ دیکھا اور ڈرامہ دیکھتے ہوئے مجھے بسمہ کا یہ بخار اتارنے کا آئیڈیا بھی آ گیا۔

اگلے دن میں تایا جان کی طرف چلا گیا۔ شفقت چیمہ کچن میں ہی موجود تھی۔ میں نے جاتے ہی بڑے مہذب لہجے میں بات شروع کی۔ " میں نے بہت سوچا ہے بسمہ! تم ٹھیک کہتی ہو۔ مجھ میں واقعی کوئی ایسی خوبی نہیں جو تم چاہتی ہو۔ مگر میں وہ سب کر کے دکھاؤں گا۔ میں ڈاکٹر تو نہیں بن سکتا اب مگر میں ڈاکٹر اسفندیار جیسا بن کر دکھاؤں گا۔" میں نے رک کر بسمہ کو دیکھا

بسمہ حیرت و خوشی کے ملے جلے جذبات لیے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔

" دیکھو بات یہ ہے کہ پھر میں تمہیں 'ڈیزرو' نہیں کروں گا۔ پھر مجھے بھی ڈاکٹر زوبیہ جیسی لڑکی ہی چاہیے ہو گی۔ میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا مگر… پھر تم اپنے ماموں کے بیٹے توفیق کے رشتے کے لیے ہاں کہہ دینا۔ ہاں ہاں! وہی جس کی اپنی ورکشاپ ہے" میں نے "ورکشاپ" پر زور ڈالتے ہوئےکہا اور آخری نظر اس کے لال ہوتے چہرے پر ڈالی اور وہاں سے بھاگ آیا۔

رات کو اس کی کال آئی تھی موبائل پر جو میں نے 'اگنور' کر دی۔

ابھی یونیورسٹی سے آکر امی سے کھانا مانگا تو کھانے کے ساتھ امی نے منگنی کی تاریخ طے ہونے کی خوشخبری بھی سنا دی ہے اور ہاں! میرے انباکس میں ایک میسج بھی موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ میں سمجھ گئی ہوں عدنان… یہ ڈراموں کے ہیرو ڈراموں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ تم جیسے بھی ہو بہت اچھے ہو۔ ایسے ہی رہو بس…"

اور میں ہنستے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ میں ڈاکٹر تو نہیں مگر شفقت چیمہ کا یہ ڈاکٹر اسفی والا بخار میں نے اتار ہی لیا ہے۔

اگر آپ کی پھوپھو چچا ماموں کی بیٹی کو بھی آپ کی بجائے کسی ڈرامے کا کوئی ہیرو چاہیے تو اسے بھی یہی دوا کھلا کر دیکھیں۔ امید ہے افاقہ ہوگا۔