اگر کسی کو آپ سے کوئی مسئلہ ہے - نسرین غوری

آج میں اپنی ساتھی جہاں گرد خواتین سے مخاطب ہوں، عموماً خواتین اور لڑکیوں سے لیکن خصوصاً شادی شدہ خواتین جہاں گردوں سے۔ کیوں کہ آپ خاتون ہیں تو آپ کو اپنے شوق کے ساتھ ساتھ اپنی دیگر ذمہ داریاں بھی بحسن خوبی پوری کرنی پڑتی ہیں تاکہ کوئی آپ کے شوق پر انگلی نہ اٹھا سکے اور وہ آپ ضرور پوری کرتی ہوں گی۔ ہم خواتین ایسی ہی ہوتی ہیں، اپنے شوق کی خاطر دہری مشقت اٹھانے والی کہ کوئی ہم پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ لیکن

کچھ تو لوگ کہیں گے

لوگوں کا کام ہے کہنا

اس کے باوجود لوگ آپ پر طرح طرح کی انگلیاں اٹھائیں گے، اعتراضات کریں گے۔ کبھی آپ کو سننا پڑے گا کہ آپ غیر ذمہ دار ہیں۔ آپ کو آپ کے بچوں کا، گھر کا، شوہر کا کوئی احساس نہیں۔ کیا ملتا ہے تمہیں ان فضول کاموں میں؟ رنگ دیکھو اپنا، کتنی کالی ہوگئی ہو! غیر مردوں کے ساتھ پھرتی ہو، لڑکوں سے دوستیاں لگاتی ہو وغیرہ وغیرہ

اس ضمن میں عرض ہے کہ ہر ایک کی بات سننا اور اس پر دھیان دینا یا جی جلانا ہرگز ہرگز بھی ضروری نہیں ہے، گو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول کہ "یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے" سر آنکھوں پر کیونکہ جب کوئی عقل کی بات کر رہا ہو تو یقیناً بات پر دھیان دینا چاہیے، بندے پر نہیں۔ علم مومن کی میراث ہے، جہاں سے ملے لے لو لیکن کبھی کبھی یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ کون کہہ رہا ہے؟ خاص کر جب آپ کی ذات کو بلا وجہ اعتراضات کا نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

یاد رکھیے کہ سب سے اہم آپ کی فیملی ہے، آپ کے شریک حیات اور آپ کے بچے، آپ کے والدین، آپ کے ساس سسر وغیرہ۔ اگر ان میں سے کسی کو آپ کے شوق پر کوئی اعتراض ہے تو اس پر آپ ضرور غور کریں اور ان اعتراضات پر بیٹھ کر باہمی تبادلہ خیال کر کے کوئی درمیان کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ جس سے آپ کا گھر بھی ڈسٹرب نہ ہو اور آپ کا شوق بھی پورا ہوتا رہے۔یقیناً ہر دو پارٹیز ایک دوسرے کی بات سمجھ سکتی ہیں۔ اگر آپ کے گھر والے ہٹلر کے وارث ہوتے تو آپ کی حرکتیں پہلے ہی"نارمل" ہوتیں۔ اب تو بہت دیر ہوچکی۔

ٹریکنگ میں کچھ بھی کر لیں رنگ تو خراب ہوتا ہی ہے۔ سب سے پہلی بات کہ یہ ایک ٹریکر کا تمغہ حسن کار کردگی ہے۔ ہم تو ہمیشہ اس پر اتراتے ہیں اور پچھلے ٹریک کا رنگ اترنے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی نیا ٹرپ کر کے اس پر پالش کر لیتے ہیں۔

اگر آ پ اپنے کالے پیلے رنگ سے مطمئن ہیں تو ویری ویری گڈ یا پہلے ہی حفاظتی اقدامات کرلیتی ہیں تو یہ تو سب سے اچھی بات ہے۔ لیکن پھر بھی اگر رنگ خراب ہو ہی جاتا ہے تو فکر صرف اپنے میاں کے رائے کی کریں۔ دنیا میں وہی ایک فرد ہے جسے آپ اچھی لگنی چاہئیں۔ اگر اسے کوئی اعتراض نہیں تو پھر باقی دنیا کے لیے یہ گانا گائیے

دنیا کب چپ رہتی ہے

کہنے دے جو کہتی ہے

خدشہ نقص امن و آئین حیا داری کے تحت ہم آدھے گانے پر اکتفا کرتے ہیں لیکن آپ پورا گا سکتی ہیں۔ باقی رہ گئے بچے! تو بچوں کے لیے ان کی امی مس ورلڈ ہوتی ہیں، چاہے وہ افریقہ کے کسی قبیلے سے ہی کیوں نہ ہوں اورآپ کے والدین صرف ایک رنگ گہر ا ہوجانے کی بنا ء پر آپ کو جائیداد سے عاق تو نہیں کردیں گے نہ ہی خون کا رشتہ ختم ہوسکتا ہے؟ سو چِل کریں انگریزی میں!

اب رہی غیر مردوں کے ساتھ پھرنے اور دوستیاں لگانے کی بات تو دنیا میں اور جگہوں پر کیا ہم صرف خواتین سے ہی انٹر ایکٹ کرتے ہیں۔ اسکول، کالج، یونی ورسٹی، محلے، دفتر، بازار، ہسپتال، ٹرانسپورٹ وغیرہ کیا 'خواتین اونلی پلینٹ' پر واقع ہیں۔ نہیں ناں؟ یہ اعتراض زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں خصوصاً وہ خواتین جنہوں نے کبھی اپنے کنویں سے باہر جھانک کر بھی نہیں دیکھا اور سب کو اپنی طرح مینڈک ہی کی ایک قسم گردانتی ہیں۔ خود کبھی کسی ٹریکنگ ٹرپ پر جا کر دیکھیں کہ دوران ٹرپ جینڈر/ صنف کیسے مزے سے جھڑ جاتی ہے اور سارے انسان کے بچے بن جاتے ہیں، واپس آنے کے بعد بھلے دوبارہ اپنی اپنی صنف میں قید ہوجائیں۔

اس قسم کے اعتراضات دراصل losers اور failures ہی کرتے ہیں، جو خود کبھی کچھ نہیں کرسکے اور دوسروں کو کرتے دیکھ کر حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ میں یہ نہیں کر سکتی تو یہ کیوں کر رہی ہے، اس کی کیوں اتنی واہ واہ ہورہی ہے؟ یاد رکھیے کہ حسد تعریف کی "superlative" ڈگری ہے، انجوائے اِٹ! اور ایسے غیر متعلقہ معترضین کو شٹ اپ کال دینا سیکھیے۔ ان سارے اعتراضات کے جواب میں صرف ایک جملہ کافی ہے۔ "None of your business"

ہمارے حلقۂ احباب میں ایسی خواتین شامل ہیں کہ جو بس گھریلو خواتین ہیں اور وہ اس میں ہی خوش ہیں تو ہم اعترض کرنے والے کون؟ ایسی خواتین بھی ہیں کہ جن پر گھریلو ذمہ داریاں کم ہیں اور وہ اکثر و بیشتر جہاں گردی مہمات پر ہوتی ہیں۔ یقیناً انہیں اپنی فیملی کی سپورٹ حاصل ہے تو ہم کیوں اعتراض کریں؟

کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو ہیں تو گھریلو خواتین، جو سارا سال اپنے گھر اور فیملی میں مصروف رہتی ہیں لیکن سال میں ایک آدھ دن وہ اپنے لیے بھی جیتی ہیں، خواہ وہ کراچی میں چند گھنٹوں کی مارننگ واک ہو یا کراچی کے آس پاس ایک دن کی آؤٹنگ ، کسی بک فئیر میں چند گھنٹے گزارنے ہوں یا کسی ادبی محفل میں شرکت۔ اور میں جانتی ہوں کہ وہ کس طرح اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں سے ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے وقت نکالتی ہیں۔ ان کے لیے ہیٹس آف!

چند خواتین ایسی بھی ہیں جن کے شوہر حضرات انہیں زبردستی اپنی ہر آؤٹنگ میں شامل کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ خود ہی اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے باعث میاں کو خفا کردیتی ہیں اور ایک خاتون تو اتنی خوش قسمت ہیں کہ جب ان کے بچے چھوٹے تھے اور انہیں کوئی کتاب ختم کرنی ہوتی تھی تو ان کے شریک حیات بچے کو کندھے لگا کے بہلاتے رہتے تھے کہ جب تک تم کتاب ختم کرو میں اسے سلا دیتا ہوں۔ کہاں سے ملتے ہیں ایسے میاں؟ یہ ہمیں آج تک پتا نہیں چل سکا۔

تو خواتین اعتراض کرنے والوں کو سورٹ آؤٹ کریں، اہم لوگوں کی بات کو اہمیت دیں، ان کا حل مل کر تلاش کریں۔غیر اہم افراد کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیں۔ زیادہ تنگ کریں تو انہیں شٹ اپ کال دے دیں اور یاد رکھیں کہ اگر کسی کو آپ سے کوئی مسئلہ ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے آ پ کا نہیں۔

Comments

نسرین غوری

نسرین غوری

نسرین غوری ایک بلاگر ہیں۔ خود کو زمانے سے الگ سمجھتی ہیں۔ ہر معاملے پر ان کی رائے بھی زمانے سے الگ ہی ہوتی ہے۔ جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ آؤٹ اسپوکن کے نام سے ان کے بلاگز یہاں موجود ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سانوں کی۔۔۔۔who cares , have a life, وغیرہ بہت سے انداز ہوتے ہیں یہ بات کرنے کے کہ جان بخشی کی جائے لیکن جہاں یہ کہنا آسان ہے وہیں کرنا ٹھیک ٹھاک ڈیفیکلٹ! اور جہاں تک یہ بات کہ ہم کس کی بات سنیں اور کس کی نہیں۔۔۔تو یہ تو اور بھی مشکل کہ جن کی بات سنی جائے آیا وہ ان کی ہی بات ہے یا ان کے دل میں خدشات بنا کر ڈالی گئ ہے ۔۔آسان نہیں اس جہاں میں اپنے دل کی کرنا!
    ایز یویوئل بہت خوب لکھا!