بابا رحمت کی کہانی - ڈاکٹر شفق حرا

ہمارے گاؤں میں ایک بابا جی رہا کرتے تھے جن کا نام بابا رحمت تھا۔ ویسے تو ایسے بابے ہر گائوں میں موجود ہوتے ہیں لیکن میں نے صرف اپنے گائوں کے بابا جی کا ذکر سنا تھا۔ بچپن سے ان کو دیکھتی آئی تھی اور گائوں میں ان کی عزت و تکریم کی کہانیوں پر یقین کرتی آئی تھی۔ مجھے اپنے آبائو اجداد سے پتہ چلا کہ بابا رحمت کئی دہائیوں سے ہمارے گائوں کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ہمارے دادا جان کے زمانے سے بابا رحمت کو گائوں کے چودھری نے منصف کا درجہ دیا ہوا تھا۔ چودھری صاحب نے چونکہ گائوں کی ایک ایک دیوار اور گلی کوچہ اپنی محنت اور نگرانی میں بنوایا تھا اس لئے انہوں نے بابا رحمت کو مکمل آزادی دی ہوئی تھی کہ وہ انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولیں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔ بدقسمتی سے گائوں بننے کے کچھ ہی عرصہ بعد وہ چودھری صاحب جہان فانی سے کوچ کرگئے اور پھر ان کی جگہ گائوں کے دیگر زمیندار وقفے وقفے سے چودھری بنتے رہے۔ اس دوران ایک چودھری کی دوسرے چودھری سے مخاصمت کافی طول پکڑگئی اور دونوں کے درمیان جب بات بگڑی تو انہوں نے خون خرابے کی بجائے معاملہ بابا رحمت کے پاس لانے کی ٹھانی۔ بابا رحمت نے دونوں کی بات سن کر فیصلہ سنایا کہ اگرچہ چودھری ناظم اور چودھری تمیز حق پر ہیں لیکن چونکہ چودھری غلام کے بیٹے جوان اور طاقتور ہیں اس لئے نظریہ ضرورت کے تحت گائوں کی چودھراہٹ ان کو دی جانی چاہئے۔ بابا رحمت کا یہ فیصلہ پھر ایک تاریخی مثال بن گیا اور گائوں میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول لاگو ہوگیا۔

میرے دادا بتاتے ہیں کہ بڑے چودھری صاحب نے گائوں کی حفاظت کی ذمہ داری کیلئے چوکیدار تعینات کیا تھا اور اگرچہ اس کو بھی عزت و تکریم ملتی تھی لیکن اس کو بتا دیا تھا کہ وہ صرف گائوں کی حفاظت پر مامور ہے اور اگر اس نے گائوں کی کوئی دیوار پھلانگنے کی جرات کی تو پھر اس کو غدار تصور کیا جائے گا۔ بڑے چودھری صاحب کے دنیا سے گزرنے اور چودھری غلام کے حق میں بابا رحمت کے فیصلے کے بعد چوکیدار کا خوف بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ شروع میں چوکیدار نے بابا رحمت کے پاس زیادہ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا اور اکثر ان کو مخلتف فیصلوں میں صلاح مشورہ دینے لگا۔ بابا رحمت کے ساتھ لائن سیدھی کرنے کے بعد چوکیدار کا زیادہ وقت چودھری کے ڈیرے پر گزرنا شروع ہوگیا اور اس نے چودھری کو مشورے دیے کہ وہ پاس والے گائوں والوں کو زیادہ منہ نہ لگائے اور اگر اس چودھری سے کوئی کام بھی پڑے تو چوکیدار کو بھیج کر کروایا کرے۔ چودھری کو یہ تجویز اچھی لگی اور اس نے چوکیدار کو نہ صرف دیگر گائوں کے چودھری سے بات چیت میں شریک کرنا شروع کردیا بلکہ اکثر فیصلے بھی اس کی مشاورت سے ہونے لگے۔ ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک آگئی کہ چوکیدار گائوں کا اصل چودھری اور غلام صاحب چھوٹے چودھری دکھائی دینے لگے۔ مہمان اب چوکیدار کے پاس آتے اور چودھری کو کم کم ہی لفٹ کراتے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر جب چودھری غلام نے اکڑفوں دکھانے کی کوشش کی تو ایک دن چوکیدار نے غصے میں آکر اس کو کان سے پکڑ کا گائوں سے باہر نکال دیا۔ گائوں والے اگرچہ چودھری غلام سے تنگ تھے لیکن ان کو چوکیدار کو چودھراہٹ دینا بھی قابل قبول نہیں تھا تاہم بابا رحمت نے اس موقع پر گائوں والوں کو سمجھایا کہ چوکیدار ان کی بہتری کیلئے آیا ہے اور کچھ دن کے بعد وہ گائوں کے تعینات کردہ چودھری کو منصب سونپ کر خود چوکیداری جاری رکھے گا۔ گائوں والے باتوں میں آگئے اور پھر چوکیدار ہی گائوں کا چودھری بن گیا۔

چوکیدار نے اس دوران ساتھ والے گائوں سے بلاوجہ تصادم کرکے آدھا گائوں بھی کھودیا جس کی وجہ سے پھر معاملہ اس کے ہاتھ سے نکلا اور اس کو چودھراہٹ گائوں کے ایک پڑھے لکھے شخص کو دینا پڑ گئی۔ چوکیدار نے اگرچہ عارضی طور پر یہ بارگراں اٹھا لیا تھا تاہم نئے چودھری ذوالفقار کے ساتھ دل میں رنجش برقرار رکھی اور چند سال بعد اس نے جب چودھری ذوالفقار کو پکڑ کر قتل کیا تو اس موقع پر ایک بار پھر بابا رحمت نے گائوں والوں کو تشفی دی کہ چودھری ذوالفقار گائوں والوں کیلئے خطرہ بن چکا تھا اس لئے اس کا قتل ضروری تھا۔ ایک بار پھر چوکیدار کو طویل عرصہ گائوں پر راج کا موقع ملا۔ اگرچہ اس بار وہ صوم و صلوہ کا پابند نظر آتا تھا لیکن بابا رحمت کے ساتھ مل کر گائوں والوں کو اذیت دینے کی اس کی پرانی روش چل رہی تھی۔ چوکیدار کو ایک نوجوان نواز اچھا لگا تو اس نے گائوں والوں کے سامنے اس نوجوان کی تعریفیں شروع کردیں تاکہ اپنی جگہ اس نوجوان کو چودھری بنوا کر گائوں میں برسوں سے نافذ غداری کے قانون سے بچائو کی راہ نکالی جاسکے۔ اس دوران چودھری ذوالفقار کی بیٹی بھی بڑی ہوچکی تھی اور اس نے بھی چوکیدار کیخلاف گائوں والوں کو کھڑا کرنا شروع کردیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چودھری چوکیدار ایک دن جب زمینوں کو چکر لگانے گئے تو حادثے کا شکار ہوکر جہان فانی سے کوچ کرگئے جس کے بعد گائوں والوں نے چودھری ذوالفقار کی بیٹی کو گائوں کی سربراہ بنا دیا۔ پرانے چوکیدار کا دایاں ہاتھ سمجھا جانے والا نواز نامی شخص بھی اب گائوں میں معتبر بن چکا تھا اور اس نے بھی چودھراہٹ کیلئے ہاتھ پائوں مارنے شروع کردیئے۔ اس دوران بابا رحمت نے پرانی روش جاری رکھی اور کبھی اس کو لگتا کہ چودھری ذوالفقار کی بیٹی کے فیصلے درست ہیں تو کبھی وہ چودھری نواز کے فیصلوں کو درست قرار دے دیتا۔ اس دوران گائوں میں ایک نیا چوکیدار رکھا گیا جوکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر اتنا طاقتور ہوگیا کہ اس نے چودھری ذوالفقار کی بیٹی اور چودھری نواز کو گائوں بدر کردیا اور بابا رحمت کی مدد سے ایک بار پھر چودھری بن گیا۔

بابا رحمت نے ہر چوکیدار کے چودھری بننے کو نظریہ ضرورت کے تابع جائز قرار دیا اور ایک وقت تو یہ آیا کہ بابا رحمت کا نام ہی بابائے ضرورت پڑ گیا۔ اس دوران بابا رحمت کو چوکیدار چودھری کی کوئی بات بری لگی اور پہلی بار بابا رحمت اور چوکیدار میں جھگڑا ہوا۔ بابا رحمت نے پورے گائوں کو پیعچھے لگایا کہ وہ چوکیدار کو نکالنے میں اگر اس کا ساتھ دیں تو پھر گائوں میں امن و سکون ہوجائے گا۔ گائوں والے بابا رحمت کی باتوں میں آگئے لیکن جیسے ہی چوکیدار رخصت ہوا تو ویسے ہی بابا رحمت نے پھر پر پرزے نکال لئے اور گائوں والے بیچارے پھر پرانی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہے۔ وقت گزرا اور پھر بابا رحمت کو چودھری نواز اور نئے چودھری عمران کے بیچ فیصلے کیلئے بلایا گیا۔ بابا جی نے ماضی کی طرح ایک بار پھر چودھری نواز کو تو الگ ترازو سے تولا جبکہ چودھری عمران کا فیصلہ اس طرح کیا کہ سب کو یقین آگیا کہ بابا رحمت کا قانون اندھا ہوگیا ہے۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ بابا جی کو گلی گلی وضاحت دینا پڑ رہی ہے کہ گائوں والے ان کے انصاف پر سوال نہ اٹھائیں بلکہ ماضی کی طرح آنکھیں بند کرکے بابا رحمت کے فیصلوں کو ماننے کی روایت جاری رکھیں۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے گائوں کے بابا رحمت کو عزت و تکریم تو شائد مل رہی ہے لیکن گائوں کے لوگ ان کا ماضی دیکھ کر سب کو بھی یہی بتاتے ہیں کہ بابا رحمت بندہ نیک ہے لیکن اسی کے ساتھ نیکی کرتا ہے جس کی لاٹھی مضبوط ہو۔

نوٹ: یہ کہانی میرے گائوں کے بابا رحمت کی ہے۔ اس کہانی کی کسی اور گائوں کے بابا رحمت سے مماثلت اتفاقی سمجھی جائے۔ شکریہ

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com