انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات - وقاص احمد

پاکستان میں کام کرنے والی سماجی و سیاسی تحاریک اور جماعتیں چاہے وہ اصلاحی نوعیت کی ہوں، انسانی فلاح اور خدمت خلق سے متعلق ہوں یا پھر جلسے، الیکشن، ممبری اور کرسی کے نظام سے وابستہ، ان کے قائدین اور کارکنان کے درمیان یہ موضوع اکثر زیرِ بحث رہتا ہے کہ اجتماعی سطح پہ بڑی تبدیلی کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ پاکستان کے حالات بڑے پیمانے پر کیسے بدل سکتے ہیں؟ معاملات کیسے سدھریں گے؟ تبدیلی کا یہ عمل کیا آہستہ آہستہ ہوتا ہے یا ایک طوفان کی طرح حا لات بدل جاتے ہیں؟

واضح رہے یہ مضمون اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں مسائل چھوٹی موٹی نوعیت کے ہیں اور یہ کہ ملک آئینی، قانونی اور معاشی و معاشرتی و عدالتی اصول و ضوابط کے نفاذ کے معاملے میں ٹھیک چل رہا ہے اور بس کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کی ضرورت ہے۔ یہ مضمون اُن افراد کے لیے بھی نہیں ہے جن کے لیے مسئلہ صرف اور صرف جمہوریت کا تحفظ ہے۔ اور اس طاقت و اختیار کے دائرے میں تقسیم ہونے والی مراعات، سہولیات، تعیشات اور اختیارات ہی ان کا مطمع نظر ہے۔ سادہ سی بات ہے انسان اور ان پر مشتمل تحریکیں، تنظیمیں اور جماعتیں جن چیزوں کو جتنی حقیقی اور شعوری اہمیت دیتی ہیں، ان کے لیے اتنی ہی محنت، جتن اور تگ و دو کرتی ہیں؛ شفاف، غیر جانبدار اور دباؤ سے آزاد احتسابی نظام کے لیے، پولیس، ایف آئی اے کی بہتری اور غیر جانبداری کے لیے، عدالتی اصلاحات کے لیے، پینے کے صاف پانی کے لیے، محض بنیادی تعلیم و صحت کے لیے، عوام کا پیسہ غربت میں پسی ہوئی عوام پر خرچ کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں نے کتنی با معنی کانفرنسیں کیں؟ پارلیمنٹ نے کتنے بل پاس کیے یا حزب اختلاف نے کتنے احتجاج کیے؟ کتنےدھرنے دیے؟ دنیا بھر میں حکومت اور اشرافیہ کے لیے کفایت شعاری پر مبنی قانون سازی ہوتی ہے اور ہماری حکورمت اس پوری فکر سے ہی نا آشنا ہے۔ یہی سب چیزیں مل کر فلاحی جمہوریت کا اصل مفہوم اجاگر کرتی ہیں۔

تدریجی اور انقلابی تبدیلی:

تبدیلی کے حوالے سے زندگی کے اجتماعی گوشوں کام کرنے والے سب ہی لفظِ تدریج اور لفظِ انقلاب کا استعمال، آزادانہ کرتے ہیں۔ سیاستدان بھی، دینی رہنما بھی، وعظ و نصیحت کرنے والے علماء بھی، خدمت خلق کے میدان میں کام کرنے والے بھی، خانقاہوں میں تزکیہ کرنے کرانے والے بھی، لکھاری اور صحافی بھی۔ سب ہی اپنے اپنے کام اور پیشے سے انقلاب یا بڑی تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ایک لحاظ سے غلط بھی نہیں ہے کیونکہ اردو لغت میں عمومی طور پر عربی کے اِس مشتق اسم لفظ یعنی ’’انقلاب ‘‘ کا مطلب، تبدل، تغیّر، الٹ پلٹ کے ہیں۔ دل کے اسی مسلسل الٹ پلٹ کی وجہ سے دل کو قلب بھی کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تو کسی سےعشق ہوجانا بھی ایک انقلاب ہے۔ ایک ذات میں برپا ہوجانے والا جذباتی انقلاب، اک دِلی انقلاب جو دعوت و تبلیغ سے کسی بہت گناہ گار شخص کو اللہ والا بنا سکتا ہے۔ انتھک محنت، بے لوثی اور عوامی چندےسے دنیا کی سب سے بڑی پرائیوٹ ایمبولینس سروس کا نیٹ ورک وجود میں لے آتا ہے۔

لیکن لغات دیکھنے سے مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ لفظ ِانقلاب کا مطلب گوکہ تبدیلی ہی ہے لیکن انقلاب سے جنم لینے والی تبدیلی کے ساتھ، ’’بڑی اور عظیم ‘‘، ’’اچانک‘‘،’’یکدم‘‘، ’’غیر متوقع ‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں ورنہ انقلاب کے لفظ میں جو معنی و احساس پوشیدہ ہے وہ حاصل نہیں ہوپاتا۔

یعنی اگر کسی نظریہ، کسی شخصیت سے محبت اور اس کی عظمت ایک فرد میں کم عرصے میں ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ افکار و نظریات سے التزام اور محبت اس کے عمل میں بر گ و بار لانے لگیں تو اس کیفیت کو سوچ کا، شعور کا انقلاب کہنا چاہیے۔ جو انسان کے کردار و عمل میں بھی انقلابی تبدیلی لے آتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں اس کی عظیم مثال ہیں۔ گوکہ صحابہ ؓ میں (نسبتاً عرض کر رہا ہوں کہ) تدریجاً غور و فکر کے ساتھ ایمان لانے والے بھی تھے اور اچانک جذباتی طور پر بھی۔ چونکہ بات ایمبولینس سروس کی آئی تو خدمت کی طرف مائل ہونا اور زندگی ا س مشن میں وقف کردینا ایدھی صاحب کی ذاتی زندگی کے حوالے سے تو انقلاب تھا لیکن اگر معاشرے کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ دیکھا گیا کہ ان کا کام اور نیٹ ورک ایک تدریج سے آگےبڑھا۔ تبلیغی جماعت دعوت و تبلیغ سے کسی بندے کی ذاتی زندگی میں انقلابی اور کسی بندے کے اندر تدریجی تبدیلی تو لے آتی ہے لیکن دونوں ہی معاملے میں اجتماعی نظام کے ’’سٹیٹس کو‘‘ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بلکہ اگر اجازت ہو کہنے کی تو فلاحی کا م اور لوگوں کو نیک بندہ بنانے کوششیں، سدھارنے کی محنتیں، اجتماعی مسائل کے حوالے سے ہر حالت میں مکمل غیر مشروط امن و صبر کی تلقین بدمعاش اور ظالم حکمرانوں اوربے عدل ’’سٹیٹس کو‘‘ کو ایک طرح سے فائدہ ہی دیتی ہے اگر اس تحریک کے ساتھ انقلابی سوچ و فکر نہ جڑی ہو۔ چونکہ ان نیک کاموں سے حکمرانوں کو کسی عوامی طبقے کی جانب سے کسی بھی نوعیت کے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے اللہ کے ہر رسول کی دعوت ایک سطح اور مقام پر پہنچ کر انتہائی سیاسی ہوجاتی ہے۔ حکمران طبقے کا اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہوجاتاہے۔ اس بات پر درخواست ہے کہ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا۔ ظالمانہ نظام بھوکے پیدا کرتا رہے گا فلاحی ادارے کھانا کھلاتے رہیں گے۔ مفسدانہ نظام لوگوں میں بگاڑ پیدا کرتا رہے گا، اصلاحی جماعتیں لوگوں کی اصلاح کرتی رہیں گی۔ عدل و انصاف کے لاکھوں مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور دردمند وکلاء ان میں سے کچھ کی مفت مدد اور لیگل ایڈ فراہم کرتے رہیں گے جبکہ اس پورے کھیل میں چند سو خاندان بھرپور فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   برمحل - نزہت وسیم

انقلابی تبدیلی کے برخلاف تدریجاً تبدیلی کی ایک اچھی مثال بچے کی تعلیم ہے جو پہلی جماعت سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور سال بہ سال ترقی کرتے ہوئے گریجویشن مکمل کرتا ہے۔ اس درمیان سب معاملات ایک مقررہ تناسب سے آگے بڑھتے رہتے ہیں اور کوئی بات غیر متوقع نہیں لگتی۔ اسی طرح اگر نسبت سے بات کی جائے تو دن سے اندھیری رات تک کا عمل تدریجاً ہوتا ہے۔ کسی مسئلے، نظریے اور مطالبے پر عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کا شعوری اور علمی طور پر متفق ہونا ایک تدریجی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اور ان باشعور لوگوں میں سے ایک بڑی تعداد کا اُسی مسئلے کی اہمیت اور شدت کو سمجھتے ہوئے ایک تنظیم و جماعت بنا دینا، یہ بھی ایک تدریجی عمل ہے۔ جیسے رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے اسلام قبول کرنے والے ہر صحابی ؓاور صحابیہ ؓ کی انفرادی زندگی میں انقلاب برپا ہوا لیکن مجموعی طور پر مکے میں اگر مسلمانوں کی تعداد کی بات کی جائے میں اس میں تدریجاً ہی اضافہ ہوا۔

انقلاب کے سیاسی مفاہیم:

یہاں تک تو ہم نے انفرادی سطح کے انقلاب اور تدریجی تبدیلی کو سمجھا۔ اب بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، جب کسی سیاسی محفل میں بحثیں اور مکالمے ہوتے ہیں تو جیسے پہلے بتایا گیا کہ انقلاب کے لفظ پر بہت ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ تنکے کے بھی ہلنے کو انقلاب سے تعبیر کردیا جاتا ہے۔ اور یہ محض اس لیے کہ کچھ دلوں کو مطمئن کیا جا سکے کہ دیکھو ہم بھی انقلابی کام کر رہے ہیں۔ یا کسی بھی تبدیلی کو کہہ دیا جاتا ہے کہ یہی تو انقلاب ہے۔ کہہ دیا جاتا ہے کہ اس پر آشوب دور میں روٹی کپڑے کا نعرہ لگانا ہی تو انقلاب ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مشرف صاحب کے استعفیٰ کے بعد زرداری صاحب کا ایوان صدر میں آجانے کو بھی بعض تجزیہ کاروں نے انقلاب کہا حا لانکہ دوسری طرف براک اوباما کے امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر بننے کو صرف ایک تاریخی تبدیلی ہی کہا گیاکسی نے انقلاب نہیں کہا۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں برپا ہونے والی سول رائٹس موومنٹ کے نتیجے میں ہونے والے ریفارمز ایک سماجی سطح کا انقلاب تھا جو ایک عوامی دباؤ سے امریکی حکومت کو کرنا پڑا اور اس انقلابی تبدیلی کے بعد تدریجاً جنم لینے والے حالات و و اقعات نے بات یہاں تک پہنچا دی کہ ایک مسلمان باپ کا سیاہ فام شخص وائٹ ہاؤس کا آٹھ سال مکین رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمیں اُڑنے کو پر چاہئیں - محمد جمیل اختر

سیاسی معنوں میں انقلاب کا مطلب ہے کہ انسان کے اجتماعی نظام یعنی سیاسی، معاشی یا سماجی دائرہ کار میں جسے حکومت وقت اور حکومتی مشینری کنٹرول کرتی ہے، کسی غیر معمولی اقدام اور واقعے کے نتیجے میں کوئی بنیادی تبدیلی کردی یا کروادی جائے جو پہلے سے موجود حا لات و نظام میں حکمرانوں سے یا سوشو اکنامک آرڈر میں متوقع نہیں تھی۔ یہ غیر معمولی اقدام عوام کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ فوج کی طرف سے بھی اور دونو ں کی طرف سے مل کر بھی۔ لیکن یہ اندرونی قوتوں کی ہی طرف سے ہوتا ہے۔ امداد بیرونی قوتوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔

وکی پیڈیا لکھتا ہے کہ ’’ کسی سیاسی طاقت کے مرکز یا اس کے کے بنیادی نظام میں عوام کے دباؤ سے (نسبتاً کم عرصے میں) بنیادی تبدیلی کا وقوع پزیر ہوجانا ریولیوشن کہلاتا ہے۔

Princeton's WordNet پر ریولیوشن کا پہلا مطلب درج ہے’’ بڑی تبدیلی کا ہوجانا ‘‘اور بعد میں لکھا ہے، کہ’’ کسی حکومت کو طاقت سے گرا دینا۔ ‘‘ Wiktionary پر لکھا ہے’’حکومت میں سیاسی ہلچل کے ذریعے کسی بڑی تبدیلی کا لے آیا جانا ‘‘۔ اور دوسرا مطلب کسی حکومت کو طاقت سے بدل دینا ہے۔

یعنی ضروری نہیں کہ انقلاب میں حکومت ہی طاقت سے بدل ہی دی جائے،آئین یا ریاست سے بغاوت کی جائے۔ عوام تو خود ریاست کا حصہ ہوتی ہے۔ لیکن بذریعہ عوامی دباؤ اور سیاسی تحریک اجتماعی نظام میں کسی بنیادی تبدیلی کو حکومت سے کروالینا (بغیر اقتدار چھینے یعنی بغیر بغاوت کے ) بھی انقلاب کے زمرے میں آسکتا ہے۔ یعنی احتجاجی اور مطالباتی تحریک کے ذریعے حکومت وقت کو ایسے کام پر مجبور کردینا جو وہ کرنے والی نہیں تھی۔

یہ واضح رہے بغاوت کا مطلب بھی ریاست اور حکومت میں فرق واضح ہونے سے کافی بدل گئے ہیں۔ اب حکومت کی کسی پالیسی پر احتجاج کرنا، کسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام پر آواز اٹھانا بغاوت یا خروج نہیں سمجھا جاتا۔ اب کسی خاندانی حکومت کے افراد کا تمام ریاستی اداروں پر کنٹرول ویسا نہیں ہوتا جیسے بادشاہتوں میں ہوتا ہے۔ ہر ادارہ چونکہ اپنی جگہ آئین و قانون کا پابند ہوتا ہے اس لیے وہ سیع تناظر میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ احتجاج کا آغاز کہیں خود کسی حکومتی غیر آئینی، غیر قانونی، دینی اساسات کے خلاف کام کرنے سے تو نہیں ہوا۔ اور اسی تجزیہ کی بنا پر دوسرے مضبوط ریاستی ادارے خاص طور پر عدالت معاملے کو حکومت کی خواہش و منشاء کے بر خلاف بھی ہینڈل کر سکتی ہے۔

اگلے مضمون میں ان شاء اللہ تاریخی حوالوں سے انقلاب، ریفارمز اور احتجاجی مطالباتی تحریک میں فرق واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور اس بات پر بھی کہ آخر یہ کیوں وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ کیوں ایک اچھے خاصے چلتے ہوئے نظام میں بد امنی اور بے سکونی پیدا ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • یہ سطریں آپکی اس تحریر کا سرنامہ ہونی چاہیے ۔ نہایت واضح انداز میں ایک انتہائی اہم مسئلے کی نشاندہی ہیں۔ " فلاحی کا م اور لوگوں کو نیک بندہ بنانے کوششیں، سدھارنے کی محنتیں، اجتماعی مسائل کے حوالے سے ہر حالت میں مکمل غیر مشروط امن و صبر کی تلقین بدمعاش اور ظالم حکمرانوں اوربے عدل ’’سٹیٹس کو‘‘ کو ایک طرح سے فائدہ ہی دیتی ہے اگر اس تحریک کے ساتھ انقلابی سوچ و فکر نہ جڑی ہو۔"

    • جزاک اللہ اسماعیل بھائی تبھی اگر ہم اللہ کے رسولوں کو کائنات کا سب سے عظیم ریفارمرز اور مصلح مانتے ہیں تو آپ انمیں سے ہر کی تحریک کے مراحل دیکھ لیجئے۔ سب نے ہی حق کا پرچار کرتے کرتے اپنی جان کی بازی لگائی۔ حق اگر دعوت و تبلیغ سے ہی اثر پزیر ہوجائے تو کسی کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہاں اچھے تحریکی افراد پیدا کرنا ایک جان گسل اور طویل کام ہوسکتا ہے ۔