آؤٹ آف باڈی، ایسٹرو پروجیکشن اور نیئر ڈیتھ تجربہ - عظیم الرحمٰن عثمانی

دعوت دین کے لیے سڑکوں پر آتے جاتے لوگوں سے جب گفتگو کی جائے تو متفرق عقائد، فلسفوں اور مزاجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ جن سے آپ کے لیے سوچ کے نت نئے زاویے کھل جاتے ہیں۔

کچھ سال قبل، میں لندن کے ایک ایسے علاقے میں دعوت دین کے لیے ایک ٹیم کے ساتھ شامل ہوا جو پہلے سے وہاں متحرک تھی۔ اس ٹیم کا ایک داعی بالخصوص میری توجہ کا مرکز تھا۔ یہ ایک نہایت ذہین، شریعت پر کاربند اور خوبصورت انداز گفتگو رکھنے والا انسان ہے۔ جسے دعوت کے حوالے سے اللہ پاک نے عمدہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ روز کسی غیرمسلم کا اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا ایک روٹین سا ہے۔ اس روز اتفاق سے میں اور وہ ہی موجود رہ گئے۔ دونوں مختلف افراد سے گفتگو میں منہمک تھے۔ یہاں تک کے شام ہونے لگی۔ ایک انگریز خاتون سے میں اور وہ مل کر گفتگو کرنے لگے۔ یہ خاتون مراقبوں کی شوقین تھیں اور کشف و الہام رکھنے کی دعویدار۔ مکالمے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میرا دوست داعی اور وہ انگریز خاتون غیبی کم شیطانی دنیا کے بارے میں وہ معلومات رکھتے ہیں جو بناء عملی تجربے کے ممکن ہی نہیں۔ خاتون، میرے اس داعی دوست کے تجربات سے متاثر تھی اور پھر اسلام کے پیغام کو سمجھنے کی طرف زیادہ راغب۔ گفتگو ختم ہوئی تو یہ داعی مجھ سے بچ کر نکلنا چاہتا تھا، اس کی خواہش تھی کہ میں اسے نہ کریدوں مگر میں کب ماننے والا تھا؟ اسے زور دے کر معلوم کیا کہ کیسے اسے اس شیطانی دنیا کا اتنا زیادہ ادراک ہے؟ مجبور ہوکر اس نے بتایا کہ نوجوانی میں وہ ایک بگڑا ہوا انسان تھا جس نے کالے جادو اور اس سے متعلق مشقوں کو اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اختیار کر رکھا تھا۔ ان مشقوں کی بدولت یہ دونوں دوست اپنے اجسام سے باہر آجاتے اور اس دنیا کا مشاہدہ کرتے جو اردگرد ہماری آنکھوں سے نہاں موجود ہے۔ ایسی دنیا جہاں شیاطین دہشت ناک سیاہ سایوں کی صورت ہر جگہ موجود ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ آپ ان ہی کا حصہ بن جائیں۔ اس دنیا میں آپ کو زنا سمیت ہر حرام شہوت میسر ہے۔ لطف بھی حقیقی دنیا سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ شروع شروع میں تو یہ دونوں دوست اپنی مرضی سے حالت نیند میں اپنے جسم سے باہر نکلتے مگر پھر ایسا ہوا کہ یہ سائے انہیں ان کی مرضی کے خلاف نکلنے پر مجبور کرنے لگے۔ واپس اپنے جسم میں داخل ہونا چاہتے تو یہ جسم کے سینے پر سوار داخل ہونے سے روکتے۔ اس داعی کے دوست کو اسی حالت میں یہ سائے پکڑ کر ایک ایسے مقام پر لے گئے جہاں ایک بہت بڑی کتاب موجود تھی۔ یہ سائے چاہتے تھے کہ اس کتاب پر قسم کھا کر وہ بھی ان میں مستقل شامل ہوجائے۔ ان دونوں کی نیندیں سکون سب حرام ہوگیا تو یہ دین کی جانب پلٹے۔ اپنے گناہوں سے توبہ کی اور ذکر اذکار کا اہتمام کیا۔ جس سے ان کی حالت بتدریج بہتر ہوتی گئی۔ گو مکمل شفاء ابھی بھی نہیں ہے۔ میں مسلسل سوالات پوچھتا رہا اور تفصیل حاصل کرتا رہا۔

کچھ عرصہ قبل مجھے میرے ایک نہایت قریبی دوست نے رابطہ کیا جو میرے ساتھ انگلینڈ ہی میں مقیم ہے۔ میرا اور اس کا ساتھ بیس، بائیس سال پرانا ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو بہت خوبی سے پہچانتے ہیں۔ کالج، انجینئرنگ اور ماسٹرز ہم نے ساتھ ساتھ کیا ہے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں۔ میرے اس دوست کی حلقہ احباب میں ایک عادت معروف رہی ہے کہ وہ ضروری غیرضروری ہر چیز کی معلومات رکھتا ہے۔ پھر وہ اس کے کمرے میں پڑے دنیا جہاں کے عجیب و غریب الیکٹرانک گیجٹس ہوں یا پھر اس کے کمپیوٹر میں موجود عجیب ترین معلومات۔ اس کی اسی عادت کے سبب دوست یار اسے 'وکی پیڈیا' کہہ کر پکارتے ہیں۔ جس روز اس نے مجھ سے رابطہ کیا، اس دن خوف و پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھے۔ اس نے بتایا کہ پچھلی کچھ راتوں سے اس کا وجود جسم سے باہر آجاتا ہے اور ہر شے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ایک سنہرے رنگ کی رسی سے (اسٹرنگ) اس کی گردن کے پچھلے حصے سے نکل کر جسم سے جڑی رہتی ہے اور وہ اسی حالت میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے یا گھر سے باہر گھوم آتا ہے۔ اس کا بیان بھی یہی تھا کہ کچھ نیک غیبی وجود بھی محسوس ہوتے ہیں مگر اکثر چاروں طرف سیاہ سائے ہیں جو چاہتے ہیں کہ میں اسی دنیا میں مستقل رہنے لگوں۔ یہاں بہت سی ماورائی قوتیں اسے حاصل ہو جاتی ہیں اور یہ تجربہ اتنا حقیقی ہے کہ اس کا 'ریشنل مائنڈ' اسے کسی درجے میں بھی خواب ماننے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روح کی پیاس - راحیلہ چوہدری

اس آؤٹ آف باڈی تجربوں کے دوران اس نے خود کو بار بار پرکھا کہ کہیں یہ اس کے ذہن کا دھوکا تو نہیں؟ مثال کے طور پر وہ باہر کھڑی گاڑی کو دیکھ کر آیا جس کا ٹائر پنکچر تھا۔ دوسرے روز صبح باہر جا کر دیکھا تو واقعی پنکچر ٹائر کے ساتھ گاڑی موجود تھی۔ یا اپنے برابر کر کمرے میں موجود چیزوں کو دیکھ کر آیا اور صبح انہیں ویسا ہی رکھا پایا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے لگتا تھا کہ یہ سائے اب اسے اپنے جسم میں جانے سے روک رہے ہیں، ایک بار تو اسے نہایت سختی سے روکا گیا۔ پہلے پہل وہ اپنے جسم سے باہر اس لیے نکلا تھا کہ اس نے کچھ ذہنی ریاضتیں کی تھیں مگر اب اس کا یہ نکلنا اپنی مرضی سے نہیں تھا بلکہ یہ سائے اسے پکڑ کر نکال لیتے تھے۔ یہ بتاتے ہوئے اس کے چہرے پر شدید خوف کے سائے تھے۔ اتنا خوف کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے سے ہی انکاری ہورہا تھا۔ بڑی کوششوں کے بعد اسے اس حالت سے واپس نجات حاصل ہوگئی۔ اس سب کے بات میں نے کئی بار اپنے اس دوست سے بات کی اور قسمیں لے کر اس کی پوری داستان سنی ہے۔ ہمارے مشترکہ دوستوں کی شدید خواہش ہے کہ میں بھی ان ریاضتوں کا اہتمام کرکے اپنے جسم سے باہر اس غیبی دنیا کا جائزہ لوں اور پھر بتاؤں کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا ذہن کا دھوکا؟ گو جن دونوں احباب کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے وہ مجھے ایسی کسی بھی کوشش سے منع کرتے ہیں کہ یہ تجربہ نہایت ہولناک اور کنٹرول سے باہر بھی ہوسکتا ہے۔

ان کے علاوہ بھی کئی ایک واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب لوگوں کے ان تجربات سے بھرا ہوا ہے۔ کچھ کو یہ تجربات بہت مثبت اور پسندیدہ لگے اور کچھ کو منفی اور شیطانی۔ ان تجربات میں فرد کے عقائد کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے جو اس کی صحت کے بارے میں شکوک پیدا کرتی ہے مگر اتنی تعداد میں ان واقعات کا ہونا اور ہونے والے قریب قریب سب ہی لوگوں کا اسے سچ ماننا ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان تجربات میں بہت سی باتیں بالکل ایک جیسی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر بیس میں سے ایک فرد کو یہ تجربہ ہوچکا ہے۔ ان میں نیورو سرجنز سے لے کر نیورو سائنٹسٹ تک بھی شامل ہیں۔ سائنسی حوالے سے اسے کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ دماغ کا ایک خاص حصہ اگر متحرک ہو جائے تو وہ ہمیں خیال کو حقیقت بنا کر پیش کرنے لگتا ہے۔ اس کا ردّ دوسرے محققین کرتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے بہت سے کیسز موجود ہیں جب ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کے دوران انسان کو 'نیئر ڈیتھ ایکسپیرینس' ہوا اور بے ہوشی یا کوما یا کلینیکل ڈیتھ کے دوران مریض نے خود کو اپنے بدن سے باہر پایا۔ ہر شے کا مشاہدہ کیا اور واپس جسم میں آکر اپنے تجربات کا درست بیان کیا۔ یہی نہیں بلکہ کئی نے تو اس تجربے کے دوران دوسرے کمروں میں ہونے والی گفتگو بھی سنی اور بیان کی۔ میرے اپنے والد کے ساتھ یہی تجربہ ہوچکا ہے جب 1992ء میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور آئی سی یو میں جان بچانے کی کوشش کے دوران میرے والد اپنے جسم سے باہر آگئے اور ہوا میں تیرنے لگے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ انتہائی پرلطف احساس تھا اور وہ ایک روشنی کی جانب تیرتے جارہے تھے۔ اس دوران انہیں ہم سب کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں جو انہیں شدید ناگوار گزری کہ میں اتنا خوش ہوں اور یہ رو رہے ہیں؟ اسی کے بیچ انہوں نے میری والدہ کی فریاد و چیخ سنی جس سے وہ بجلی کی طرح واپس اپنے جسم میں واپس داخل ہوگئے۔ بعد میں میری والدہ نے اس فریاد اور چیخ کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں:   روح کی پیاس - راحیلہ چوہدری

اس موضوع پر ایک بیسٹ سیلر کتاب 'سائیکک وارئیر' کا مطالعہ ذہن کے نئے دریچے کھول سکتا ہے۔ یہ سابقہ سی آئی اے ایجنٹ 'ڈیوڈ مور ہاؤس' کی تصنیف ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ کس طرح سی آئی اے میں وہ اور اس کی ٹیم 'آؤٹ آف باڈی یعنی جسم سے باہر آکر' روس کی جاسوسی کیا کرتے تھے۔ ڈیوڈ اب باقاعدہ 'ریموٹ ویونگ' سیکھاتے ہیں۔ سائنسی اور فلسفیانہ اذہان والے اشخاص میں سے کچھ ان تجربات کو دماغ کا دھوکا اور کچھ 'کانشئیس نیس' کے بناء جسم باقی رہنے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ چرچ اسے جنت جہنم کا سفر سمجھتا ہے اور اکثر مسلم محققین نے اسے برزخی زندگی سے تعبیر کیا ہے۔

اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اسے حتمی طور پر جاننے کا دعویٰ کوئی نہیں کرسکتا۔ البتہ راقم کا اپنا رجحان بھی برزخی زندگی کے حق میں ہے جو نیند میں جزوی اور موت میں کلّی طور پر سامنے آنے لگتی ہے۔ گو جب تک مکمل موت واقع نہ ہوجائے تب تک اس میں ہمارا ذہن آمیزش کرتا رہتا ہے۔ یہی آمیزش اس تجربے کی صحت پر شکوک پیدا کرتی ہے۔ قران حکیم سے بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نیند اور موت دو جڑواں بہنیں ہوں۔ سورۃ زمر کی آیت 42 ملاحظہ ہو : 'اللہ ہی سب کی روحیں قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان کی بھی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہوتا ان کی نیند (کی حالت) میں پھر ان جانوں کو تو وہ روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہوتا ہے اور دوسری جانوں کو وہ چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ مدت تک بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں'۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.