مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی، اسباب - اعجاز احمد

مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کا جب بھی حقیقی اور غیر جانبدار ہوکر جائزہ لیا جائے گا تو اس کے مندرجہ ذیل اسباب نظر آئیں گے :

1- بنگالی سیاستدانوں کی الگ ملک کی خواہش

مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی سیاستدانوں کی 1940 ء سے ہی علیحدہ ملک کی خواہش تھی۔ بڑے مسلم لیگی سیاستدان حسین شہید سہروردی نے 1940ء کی قراردادِ پاکستان سے پہلے قائداعظم کو ایک کے بجائے دو مسلم ریاستوں کی تجویز دی تھی جس کو قائداعظم نے اصولی طور پر منظور کرلیا تھا تاہم دو قومی نظریہ، جس کی بنیاد پر پاکستان بننے کی امید تھی کے کمزور پڑجانے کے خطرے کے پیش نظر اس بات کو بعد میں طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

2- سوشلسٹ ملحدین کا اثرورسوخ

بنگال میں اسلام مخالف نظریاتی سوشلسٹ عناصر کا مضبوط ہونا اور ان کا آہستہ آہستہ عوامی لیگ کی قیادت میں جاتے رہنا۔ مارچ 1949ء میں قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد سوشلسٹ عناصر جن میں 90 ملحدین تھے، نے باقاعدہ طور پر یہ طے کیا کہ اب ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ اب ہم مشرقی بنگال کو ایک الگ سیکولر سوشلسٹ ریاست بنائیں گے جس میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ ان سوشلسٹ ملحدین کو پاکستان سے نفرت اسلام سے نفرت کی وجہ سے تھی۔ یہ سوشلسٹ ملحدین زیادہ تر اسکول، کالج، یونیورسٹی کے اساتذہ، صحافی، ناول، کہانی اور ڈرامہ نویس تھے اور ان سب ذرائع سے عام افراد تک اپنا پیغام پہنچا رہے تھے۔

یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پہلی پھانسی پانے والے محترم عبدالقادر ملّا کو عوامی لیگی حکومت، عوام اور متعصب اسپیشل ٹریبونل سمیت کوئی بھی پھانسی دینا نہیں چاہتا تھا مگر سوشلسٹ ملحدین نے مین ڈھاکہ شہر میں کئی مہینوں تک چلنے والا طویل دھرنا دے کر اور پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور حکومت پر دباؤ ڈال کر اسے ممکن بنایا۔ یہ بات طے ہے کہ اگر عبدالقادر ملّا کو پھانسی نہیں ہوتی تو پھر کسی کو بھی پھانسی نہیں ہوتی۔

3- جغرافیائی دوری

دنیا میں کوئی ملک ایسا موجود نہیں ہے جس کے دو خطوں کے درمیان 2200 کلومیٹر طویل فاصلہ ہو اور درمیان میں دشمن ملک موجود ہو۔

4- جغرافیائی پوزیشن

بنگلہ دیش جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں ہے یعنی بنگلہ دیش کے چاروں طرف بھارت ہے۔ بنگلہ دیش کی 95 سرحد بھارت سے لگتی ہے جس میں 83 خشکی اور 12 سمندری راستہ ہے۔

5- مفاد پرست لوگوں کی رہنمائی

جیسے لوگ ہوتے ہیں ویسے ہی اپنا رہنماء چنتے ہیں۔ مشرقی اور مغربی دونوں خطوں میں مفاد پرست لوگ عام عوام کی رہنمائی کر رہے تھے۔ عوام کو اچھائی کی طرف بلانے والے کمزور تھے اور برائی کی طرف گھسیٹنے والے مضبوط تھے نتیجہ یہ آیا کہ متحدہ پاکستان کے ہر ہر علاقے میں عوام نے مفاد پرست اور لالچی لوگوں کو اپنی رہنمائی کا منصب دیدیا۔

6- جمہوریت کو پنپنے نہ دینا

دنیا کا کوئی ترقی یافتہ ملک ایسا نہیں ہے جہاں جمہوریت نہ ہو۔ 1954ء سے ملک پاکستان پٹری سے اتر گیا تھا جب اگلے چار سالوں میں پانچ وزیراعظم برطرف کیے گئے۔ اس وقت طاقت کا ٹرائیکا تین افراد کے پاس تھا جس میں سے ایک بنگالی تھا یعنی اسکندر مرزا جو غدارِ بنگال میر قاسم کا پڑ پوتا تھا اور اب ایران میں دفن ہے، دوسرا لاہور کا غلام محمد اور تیسرا ایوب خان۔ ایوب خان نے ملک کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

جماعت کی پالیسی

1971ء میں جماعت اسلامی کی کوئی نئی پالیسی نہیں بنی تھی بلکہ یہ پالیسی 1947ء سے اسلام دشمن قوتوں سے کشمکش کے تسلسل کی پالیسی تھی۔ بالکل اس طرح جیسے اگر آج اسفندیار ولی خیبر پختونخوا کی افغانستان سے الحاق کے لیے گوریلا جنگ شروع کردے تو کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ایسا سمجھے کہ وہ حقوق نہ ملنے کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اس وقت فوج کی پالیسی جو بھی ہو محبِ اسلام و پاکستان اس کا مقابلہ کریں گے۔ اسی طرح 1971ء میں ہر باشعور شخص کو پتہ تھا کہ عصبیت کے نعرے کے پیچھے اسلام دشمنی ہے۔

فوج کا کردار

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محبِ وطن قوتوں کو کسی طور پر بھی فوجی حکومت کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔ فوجی حکومت کا انجام صرف تباہی ہوتا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنا چاہیے کہ فوج سمیت پاکستان کے تمام اداروں میں بھی لالچی اور خود غرض لوگ اسی تناسب سے ہیں جس تناسب سے وہ عام معاشرے میں موجود ہیں۔ ایوب خان کے ذاتی عزائم کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

البتہ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے جو لوگ فوج پر الزام لگاتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ فوج کا اصل مقابلہ بھارت سے نہ تھا بلکہ اپنے ہی پاکستان آرمی کے بنگالی فوجیوں سے تھا جو لڑنے کا ہنر جانتے تھے۔ انہوں نے عام بنگالی جنگجوؤں کو سامنے رکھا ہوا تھا اور خود پاکستان کے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو گھیر گھیر کر مار رہے تھے۔ ان دونوں کی مکمل عسکری، معاشی، سیاسی اور سفارتی سپورٹ بھارت کر رہا تھا۔ ایسے میں پاکستان کے فوجیوں نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔

غازی اور شہید کی کہانی بھی غیر حقیقی ہے۔ فوج چاروں طرف سے گھر چکی تھی اور اس کے سامنے زیادہ تر عام بنگالی تھا جس کو مارنا انسانی اور اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف تھا۔ لڑائی بارڈر پر نہیں ہورہی تھی بلکہ گلی کوچے میں ہورہی تھی جہاں اصل دشمن کو پہچاننا ناممکن تھا۔ جس صورتحال میں فوج کو بھیجا گیا تھا اس صورتحال میں اس سے بہتر حل ممکن نہ تھا جو فوج نے کیا۔ یہاں قربانی دینے کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی اخلاقیات کے اصولوں کا معاملہ تھا۔

سبق

سقوطِ ڈھاکہ میں عام لوگوں کے لیے یہ سبق ہے کہ جب تک قوم کا اخلاقی کردار درست نہ ہو جتنا چھوٹا ملک بھی بنالیں عام عوام کو حقوق نہیں ملیں گے۔ 16 دسمبر 2017ء کو جب مغربی پاکستان کی طرف سے ظلم و ناانصافی کو رُکے ہوئے نصف صدی میں صرف چار سال رہ گئے ہیں، آج بھی دنیا بھر میں بنگلہ دیش کی پہچان سستی لیبر سے ہوتی ہے جو کہ 55 ڈالر ماہانہ ہے جبکہ پاکستان میں یہ ریٹ 130 ڈالر ماہانہ ہے۔ بنگلہ دیش میں سستی لیبر ریٹ کی یہ پہچان چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ عام بنگالی غربت اور بےبسی کی کیسی کربناک زندگی گزار رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قوموں کا اخلاق و کردار درست کرنے کے لیے نہ صرف اپنا اخلاق و کردار درست کرنا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق و کردار کے لوگوں کو اپنا رہنماء بھی بنانا ہوگا۔

سقوطِ ڈھاکہ میں اسلام پسندوں کے لیے بھی یہ سبق ہے کہ وہ اپنی دعوت کو جلد سے جلد اور تیزی سے بڑھائیں اور اسی پر بنیادی توجہ مرکوز کریں کیونکہ کم افرادی قوت کا مطلب یا موت ہے یا مقصد سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہے۔

Comments

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کرنے کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پچھلے 26 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آجکل اسی شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.