حکومت کا ٹیسٹر - فیاض راجہ

موجودہ قومی اسمبلی کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو پوری ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہوجائے تو الیکشن کمیشن کو 60 روز میں نئے انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔ یوں الیکشن کمیشن پر آئینی طور پر لازم ہے کہ 31 جولائی سے قبل الیکشن کرائے، تاہم آئین میں غیر معمولی صورتحال کی سہولت کا فائدہ اٹھایا جائے تو بھی الیکشن کمیشن کو 15 اگست 2018 تک انتخابات کروانا ہوں گے۔

اگر کسی وجہ سے حکومت قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کر لے تو یہ سوفیصد آئینی ہے۔ اس کے لیے حکومت کسی بھی وقت قومی اسمبلی تحلیل کر کے آئندہ عام انتخابات کا اعلان کرسکتی ہے، تاہم اس صورت میں الیکشن کمیشن کو اسمبلی ٹوٹنے کے 60 نہیں بلکہ 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہوں گے۔ یعنی اگر 31 دسمبر کو قومی اسمبلی توڑی جاتی ہے تو الیکشن کمیشن کو 31 مارچ 2018 سے قبل ہر صورت انتخابات کروانا ہوں گے۔

پاکستان جیسے ملک میں عام انتخابات کے لیے تاریخ اور وقت کا فیصلہ کرتے ہوئے اداروں کو رمضان، عیدین اور محرم کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یوں اسمبلی کی مدت پوری کرنے کی صورت میں آئیڈیل وقت 15 جولائی سے 15 اگست کے درمیان بنتا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے ایک دھڑے کے اندر یہ سوچ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ وسط اپریل کے بعد ملک میں ہونے والی لوڈشیڈنگ نواز لیگ کے سیاسی نعرے کو نقصان پہنچائے گی اور 31 مئی تک حکومت میں بیٹھ کر وہ شدید تنقید کی زد میں ہوں گے۔ مارچ میں احتساب عدالتوں سے آنے والے بظاہر خلاف فیصلوں اور ماڈل ٹاؤن میں تیزی کے باعث وہ شدید مشکلات میں گھر جائیں گے۔ اس دھڑے کی رائے ہے کہ انھیں دسمبر کے آخر یا جنوری کے آغاز میں حکومت سے جان چھڑا کر نگران سیٹ اپ لانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ مارچ میں احتساب عدالتوں اور ماڈل ٹاؤن کیس کے فیصلوں کے وقت مظلومیت اور اداروں کی جانب سے نواز لیگ کے خلاف سازش کی تھیوری کو آگے بڑھاتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے، جس کا آغاز وہ حکومت چھوڑتے ہی کرسکتے ہیں۔ تاہم ایسی صورتحال میں انھیں سینٹ الیکشن جو مارچ کے پہلے ہفتے میں ہونا ہے، کی قربانی دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف کے نوجوانوں کے لیے ایک مشورہ - محمد عامر خاکوانی

سینٹ الیکشن ہونے کی صورت میں نواز لیگ کی ایوان بالا میں موجودہ 27 نشستیں بڑھ کر 36 ہوجائیں گی جو بہرحال سادہ اکثریت نہیں، مگر مستقبل کی کسی بھی ممکنہ حریف مرکزی حکومت کے لیے نواز لیگ کا ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتی ہیں۔ نواز لیگ کے اندر دوسرا دھڑا سینٹ کے انھی انتخابات کو بنیاد بنا کر اگست 2018ء کے پہلے ہفتے میں نئے انتخابات کروانے کا حامی ہے۔ اس دھڑے کا خیال ہے کہ جلدی حکومت چھوڑ دینے سے کہیں ان کی قیادت اور اراکین کے خلاف کئی دوسرے کیسز اور محاذ نہ کھول دیے جائیں، جس سے نگران سیٹ اپ طویل ہونے اور نواز لیگ کے سیاسی نقصان میں مزید اضافے کے امکانات نہ پیدا ہوجائیں، تاہم اس دھڑے کا مخالفین کا خیال ہے کہ جولائی اگست کی گرمی میں ہونے والے عام انتخابات نواز لیگ کے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوی کا پردہ چاک کر سکتے ہیں۔

ایک اہم ترین آئینی نکتہ یہ بھی ہے کہ جب تک مردم شماری کے نتائج کا حتمی گزیٹڈ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کردیا جاتا، پرانی حلقہ بندیوں پر نئے عام انتخابات کروانا ہرگز غیرآئینی نہیں، تاہم اہم بات یہ ہے کہ اگست کے آخری ہفتہ میں مردم شماری کے عبوری نتائج آنے کے بعد حکمران جماعت نے دو ماہ ضائع کیے اور نومبر میں نئی حلقہ بندیوں کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا جو اب سینٹ میں اپنی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے منزل کو سامنے رکھے بغیر سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ مردم شماری کے عبوری اعداوشمار اور بلاکس کی روشنی میں حلقہ بندیوں اور نئی ووٹر فہرستوں کی تیاری کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے باخبر حلقوں کا دعوی ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جب چاہیں سینٹ سے حلقہ بندیوں کا بل منظور کرواسکتی ہیں، مگر دونوں جماعتوں کے حلقوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات ہی کرانا پڑے تو اس کے لیے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہی کیا ہے یہ کام تو پرانی حلقہ بندیوں سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بنتے ٹوٹتے سیاسی اتحاد - ار شدعلی خان

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بھی قبل از وقت انتخابات کا شور مچا کر ایک طرح سے پرانی حلقہ بندیوں والی تھیوری ہی کو سپورٹ کر رہی ہے کیونکہ قومی اسمبلی توڑنے کے تین ماہ کے اندر انتخابات کروانے کی آئینی شرط کی صورت میں اتنے کم وقت میں نئی حلقہ بندیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ کی اہمیت، ارکان میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

سابق صدر آصف زرداری گزشتہ دنوں ایک جلسے میں جبکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف ایک میڈیا گفتگو میں سیاسی فائدے کے لیے قبل از وقت انتخابات کروانے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے گزشتہ دنوں دو ٹی وی چینلز پر کنفیوزڈ انٹرویوز بھی اس سمت اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کے آپشن پر غور کر رہی ہے اور اس کے لیے ذومعنی گفتگو کرکے ''ٹیسٹر'' لگا رہی ہے۔

ماضی میں ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات علیحدہ علیحدہ بھی ہوتے رہے ہیں، تاہم 1997ء سے ملک میں قومی اورچاروں صوبائی کے انتخابات ایک ہی روز کرانا آئینی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت توڑنا حکمران جماعت کے اختیار میں ہے، تاہم سندھ اور خیبر پختونخواہ میں اپوزیشن کی حکومت ہے، یوں حکمران جماعت کو صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ تحریک انصاف پر بھی بیک ڈور رابطوں کا ٹیسٹر لگانا پڑے گا۔ مگر نواز لیگ کو اس اقدام سے پہلے سوچنا ہوگا کہ تحریک انصاف کا گزشتہ تین ماہ سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی کہیں ''ٹیسٹر'' تو نہیں تھا۔