ن لیگ اپنے خلاف خود سازش تو نہیں کر رہی؟ ارشدعلی خان

مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی کام سیدھے طریقے سے نہیں کرنا۔ سیدھے سادھے کام کو انتہا درجے تک مشکل بنا دینا اور پھر چیختے رہنا کہ ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ 12 دسمبر کے دن جہاں باران رحمت نے مملکت خداداد کے طول و عرض میں سردی کی شدت میں اضافہ کر رکھا تھا وہیں قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے سیاسی ماحول میں انتہائی گرما گرمی نظر آئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا تو فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل تھا جس کی تصدیق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے یہ کہہ کر کی کہ اجلاس شروع ہونے تک بل ایجنڈے پر موجود تھا، تاہم بعد میں بغیر کسی سے مشاروت کے عین وقت پر فاٹا اصلاحات کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا، جس پر فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ اجلاس کے دوران فاٹا اراکین سمیت اپوزیشن کی جماعتوں نے نہ صرف سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا، بلکہ اجلاس سے احتجاجا واک آوٹ بھی کیا۔ قومی اسمبلی کے باہر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں سمیت دیگر طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں نے بھی فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے نکالنے اور اس بل کو پاس نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا اور مسلم لیگ ن کے خلاف نعری بازی کی۔

ذرائع کے مطابق اس اہم بل کو ایجنڈے سے نکالنے کا سبب ایک بار پھر جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان بنے، جنھوں نے وزیر برائے سیفران عبدالقادر بلوچ کو فون کر کے فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مشاروت کے بغیر فاٹا اصلاحات بل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کرنا اتحاد کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اگر حکومت کو فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی سے پاس کرانا تھا یا اس پر بحث کرانا تھی تو جمعیت علمائے اسلام ف جیسے اپنے اتحادیوں سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی اور جب اپوزیشن جماعتوں کو یہ یقین دہانی کرا دی گئی کہ پیر کے دن فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہوگا تو پھر حکومت کو مولانا کے ایک ٹیلی فون کال پر لیٹنا نہیں چاہیے تھا بلکہ ان کو اپنا مؤقف اور اپنی مشکلات سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   فسادن خالہ کی کچھ سچی باتیں - یاسر محمود آرائیں

فاٹا اصلاحات بل کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے اپنے اراکین یعنی ایم این اے شہاب الدین اور وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیرمقام کے بھائی عباد خان بھی اپنی حکومت کے خلاف ہیں۔ پیر کے دن قومی اسمبلی کے باہر شہاب الدین کا کہنا تھا کہ جب تک فاٹا سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین پارلیمان اور عوام سیاسی مصلحتوں سے بالاتر نہیں ہوتے تب تک غلام رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ان کے ساتھ انتہائی زیادتی کی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر عباد خان کا کہنا تھا کہ فاٹا اراکین اور عوام ہمارے بھائی ہیں، اگر یہ دھرنا اور احتجا ج کریں گے تو ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو یہ کہیں گے ہم ویسا کریں گے، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

ایک طرف تو یہ صورتحال ہے کہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت آبیل مجھے مار کے مصداق ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا تو دوسری طرف جماعت اسلامی نے فاٹا سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اہتمام کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ جماعت اسلامی کا یہ لانگ مارچ اور دھرنا بھی فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے تھا۔ اسی طرح دھرنا کنگ عمران خان نے بھی فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت کو 48گھنٹے کا وقت دیا تھا جس کے بعد وہ بھی اپنے کارکنان کے ہمراہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ عمران خان کو سڑکوں پر آنے اور دھرنا دینے کے لیے ایک بہانے کی ضرورت ہے جو میرے خیال میں وفاقی حکومت خود ان کو فراہم کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا احتجاج حکومت وقت کی موجودہ مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنے گا، ہوسکتا ہے مسلم لیگ ن کی گرتی ہوئی دیوار کے لیے یہ آخری دھکا ثابت ہو۔ ن لیگ کے پانچ ارکان اس سے قبل فیصل آباد میں تحریک ختم نبوت ﷺ کے دھرنے میں اپنے استعفے پیر حمید الدین سیالوی کے پاس جمع کرا چکے ہیں۔ پیر سیالوی کا دعوی ہے کہ مسلم لیگ ن کے مزید اراکین بھی استعفی دینے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان کے نااہل ہونے سے بھی علیحدگی کی آوازیں بڑھ سکتی ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   کھیل ابھی ختم نہیں ہوا - یاسر محمود آرائیں

پہلے تو مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت ہی مشکلات کا شکار تھی، تاہم اب پنجاب حکومت کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے. پہلے تو تحریک انصاف ہی قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہی تھی تاہم اب اس مطالبے میں دیگر جماعتوں کی آوازیں بھی شامل ہوتی جارہی ہیں۔ اسی طرح میاں شہباز شریف اور پنجاب حکومت کے خلاف جسٹس باقر نجفی رپورٹ آنے تک کوئی خاص ردعمل نظر نہیں آ رہا تھا لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ آنے کے بعد عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری پاکستانی سیاست کے مرکز و محور بنے ہوئے ہیں، اور ان سے ملنے میں ہر سیاسی جماعت سبقت لے جانے کے لیے کوشاں ہے، تقریبا تمام سیاسی جماعتیں میاں شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوا زشریف کے نااہل ہونے کے بعد وہ تسلسل کے ساتھ مسلم لیگ ن کے خلاف سازشوں کا ذکر کرتے رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ سازش کرنے والوں کا نام آج تک ان کی زبان پر نہیں آیا، وہ اشاروں کنایوں میں الزام لگانے تک محدود ہیں، تاہم فاٹا اصلاحات بل کو جس طرح اچانک قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے نکالا گیا ہے، اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے خلاف ساز ش کرنے میں والوں میں سب سے آگے ہے.

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں