وٹامن - نصرت یوسف

مائع صابن کا ملائم جھاگ برتنوں پر تیزی سے لگاتی وہ ان کو سنک میں جمع کر ہی تھی، اس کا نام جو بھی تھا، مگر وہ شہزادی کے نام سے جانی جاتی تھی.

''زندگی واقعی اتنی بری نہیں"،
اس نے اب پانی کے ٹھنڈے، گرم نلوں کو اپنے حساب سے گھما کر دھار بناتےسوچا۔

کھلی کھڑکی سے ہوا کے ایک ہی جھونکے نے اس کے اکہرے بدن پر پہنی موٹی سوتی قمیض کے پار ٹھنڈ کی لہر پہنچائی تو اس نے گردن گھما کر ذرا فاصلے پر اطمینان سے بیٹھی سیل فون پر باتیں کرتی اسی جیسی اکہرے بدن والی عورت کو دیکھا جو اسی کے لباس جیسا سوت پہنے تھی.

حقیقت تو یہ تھی کہ شہزادی کو کپکپاتے دیکھ کر پچھلے دنوں ہی جوڑا دیا گیا تھا، گئے برس جو ملا تھا وہ بھی شہزادی کے پاس تھا، اس شہر کے موسم کے لیے آرام دہ گرم بھی، لیکن اگر وہ کپکپاتی نہیں تو ایک جوڑا اور کیسے ملتا؟

پچھلے برس کے جوڑے پر اس کی بیٹی سکون محسوس کرتی تھی، جو گھر سے قریب مشروب بنانے والے کارخانے کے ملازمین کو کھانے کے وقت گھر پر تیار سموسہ، رول فراہم کرتی تھی۔ اسےبھی یخ ہوا میں ماں کو ملا جوڑا ہی آرام دہ لگتا، ہلکا وزن، خوبصورت رنگ اور موسم کے لیے بےحد مناسب۔ یہ جانتے کس ماں کا دل چاہتا کہ وہ اولاد کو اپنی گرمی نہ دے، سو شہزادی نے بھی دے دی۔

جلد ہی اسکو دوسرا جوڑا مل گیا لیکن یہ اس جیسا نہ تھا، سردی اس میں شہزادی سے لپٹ جاتی تھی۔ رات فرش کی ٹھنڈک نے بازار سےخریدے استعمال شدہ قالین کےاندر جگہ بنا کر شہزادی میں برف سی بھردی۔ اس نے سردی لگنے کا دھیما سا شکوہ کیا بھی کب ؟ جب وہ خوشگوار ماحول میں کھڑی تھی، مگر ماتھے کی شکن اور الفاظ کی چبھن اسے چپ کر گئی۔ "جو خود پہنا، وہی تمھیں دیا، شکرگزاری نہ کرو لیکن شکوہ بھی تو نہ سناؤ."

دینے والا ہاتھ اور دماغ بھی محنت کرتا تھا، تن آسان نہ تھا۔ شہزادی کی نیم گرم پانی میں پھولتی انگلیوں کی پوریں بالکل ایسی لگتی تھیں جیسے اس کے ارد گرد موجود اکہرے بدن کی نرم پوروں میں دبی وٹامن کی گولی۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.