اے میری پیاری اقصیٰ - محمد حسان

اقصی، اے میری پیاری اقصیٰ
مجھے تم سے محبت ہے۔!
تمھارا خیال آتے ہی میرے رگ وپے میں ایک چنگاری سی جنم لیتی ہے۔
ایک لاوا میرے سینے میں دہکنے لگتا ہے۔
میری آنکھوں میں تمھاری آزادی کے خواب بستے ہیں۔
میرے لبوں پر ان خوابوں کی تعبیروں کے نغمے سُر بکھیرتے ہیں۔
میرا من ان پرسوز نغموں کی حلاوت کو اپنی روح میں سمو کر حیات آفرین جذبوں کی بنا تعمیر کرتا ہے۔!

اے اقصیٰ۔!
اے میری پیاری اقصی۔!
تمھارا چپہ چپہ گوشہ گوشہ مقدس ہے۔
تمھارے در دیوار سے پاکیزہ کرنیں ٹپکتی ہیں۔
تمھارا گنبد عظمت رفتہ کے سب ادوار کی کہانی سناتا ہے۔

اے میری اقصی۔!
سوچتا ہوں جب محمد ﷺ پل بھر میں سر زمین حجاز سے تمھاری دہلیز پر پہنچیں ہوں گے تو انبیا کی سرزمین پر آ کر ان کا دل کس طرح سے دھڑکا ہوگا۔ اقصی تم کتنی خوش قسمت ہو کہ یہاں آ کر میرے آقا ﷺ نے تمام انبیا کی امامت فرمائی۔ تمھارے پہلو میں سلیمان اور داؤد علیھم السلام جلوہ افروز رہے۔ غلام کو اپنے اونٹ پر بٹھائے، لگامیں تھامے پیدل آتے عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب تمھارے شہر کی کنجیاں دی گئی ہوں گی تو تمھاری خوشی اور مسرت کا کیا عالم ہوگا۔؟
اے اقصٰی یہ سب واقعات میرے دل میں تمھارا تقدس پیدا کرتے ہیں، اور تم مجھے محبوب لگنے لگتی ہو۔!

مگر اے اقصٰی۔!
میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اُس دن کو جب خلافت کی قبا ٹوٹنے پر برطانوی سامراجیوں نے تمھاری سرزمین پر ناپاک قدم رکھے تھے۔ میں یہ سب سہہ گیا کہ اس وقت پوری دنیا میں میرا وجود کرچی کرچی تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جب اقوام عالم نے اپنے اصول بنا کر تمھاری سر زمین کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا، اسرائیل کا ناپاک وجود اس زمین پر قائم ہوا، میں نے اس تقسیم کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا تھا کہ اس تقسیم میں تم آزاد ہی رہی تھی۔ اور پھر 1967ء میں تاریخ کا وہ سیاہ دن بھی آیا جب اسرائیلی فوجیوں نے تم پر چڑھائی کر دی۔ ساری اقوام عالم صیہونیوں کی چیرہ دستیوں پر لبوں پر تالے لگائے خاموش تماشائی بنی رہیں اور تمھاری نام لیوا امت کے حکمران نادانیوں کے المناک باب رقم کرتے رہے۔

وہ دن اور آج کا دن، دنیا کے 55 اسلامی ملکوں کے سربراہوں نے بے حسی، بزدلی اور نامردی کی شرمناک داستانیں ہی رقم کی ہیں۔ اگر اس عرصہ میں اکا دکا کوئی مسلم حکمران غیرت کا مظاہرہ کر بھی دیتا تو بھی اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی رہی۔ شیخان حرم تمھاری حفاظت کے نام نہاد ٹھیکدار بن کر سادہ لوح امت کی وفائیں لوٹتنے رہے۔ حاجیوں کو پانی پلانے کا ثواب تو کماتے رہے مگر تمھاری پکار پر لبیک کہنے کے لیے کبھی تلوار پر گرفت نہ کرسکے۔ تمھارے آس پاس کے سب مسلم حکمران تمھارے نام پر سیاست چمکاتے اپنے اپنے اقتدار کو طوالت دیتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹرمپ کے ٹویٹ - محمد عنصر عثمانی

اے اقصٰی۔!
مجھے یاد ہے جب عقل اور اسباب کی دنیا میں تمھاری آزادی کا خواب حسرت اور مایوسی کی گھٹا میں دم توڑنے لگا تو تمھارے بیٹوں نے عشق کا میدان سجایا۔ القدس کے کوچہ و بازار میں آزادی اور خیبر خیبر یا یہیود، جیش محمد سوف یہود کے نعرے اس جانفشانی سے بلند ہوئے کہ ساری دنیا ورطہ حیرت سے دشت بدندان رہ گئی۔ وہیل چئیر پر بیٹھے بوڑھے شیخ احمد یسین نے دولت، طاقت اور اقتدار کے نشے میں مست عرب حکمرانوں کو آئینہ دکھایا۔ حماس اور انتفاضہ کی تحریک برپا ہوئی۔ گولیوں اور سنگینوں کے مقابل دنیا نے غلیلوں اور پتھروں سے لڑنے کا عجیب منظر دیکھا۔ ٹینکوں کے سامنے نہتے نوجوان سینہ سپر ہوگئے، اور پھر جذبہ شوق شہادت اور ٹیکنالوجی کے مقابلہ میں جذبہ جیتتا رہا۔ سرخ رومال، غلیل اور پتھر دنیا میں حریت کا استعارہ بن گئے۔ ایثار و قربانی، خلوص و وفا اور شجاعت و بہادری کا ایک ایک منظر آج کی دجل و فریب میں جکڑی اس مادی دنیا میں ناقابل یقین ٹھہرا۔

اے اقصٰی۔!
تیس سال تک انتفاضہ نے تمھاری آزادی کے خوابوں کو دنیا کے سامنے ایک حقیقت اور جائز حق کے طور پر زندہ رکھا، تمھاری اس زندگی کے بدلے ان کی دو نسلیں اجڑ گئیں، تمھارے کوچہ و بازار نوجوانوں کے سرخ خون سے سیراب ہوئے۔ ماؤں نے اپنے چاروں بچوں کو تمھارے حضور پیش کر دیا، تمھاری بیٹیوں نے سرفروشی کی حیرت انگیز مثالیں پیش کیں، لاکھوں اسیران وفا تمھاری خاطر اذیتیں سہتے رہے۔ ہولناک بمباری سے غزہ کی بستیاں اجاڑ دی گئیں مگر وہ سب تمھاری آزادی کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوئے۔!

اب ایک طویل عرصے بعد صہیونیوں نے پینترا بدلا ہے۔ اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے امریکی سامراج سے اعلان جنگ کروایا ہے۔

اقصٰی!
میں سخت غصے میں تھا جب امریکی صدر ٹرمپ نے تمھارے القدس میں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا۔ ساری دنیا میں کہرام برپا ہوگیا، ہر ملک نے مذمت کی، اور تو اور بہت سے امریکیوں نے بھی اسے پگلے صدر کا پاگل پن قرار دیا۔
مگر یہ کیا؟ دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کیطرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی، کے مصداق یہاں تو راہبر ہی راہزن نکلے۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔

اقصٰی!
میں ٹرمپ کے اعلان اور صہیونیت کی چال پر کیا سیخ پا ہوں؟ مجھے تو شیخان حرم کی غداریوں کے گھاؤ ہی برداشت نہیں ہو پا رہے۔ جانتا ہوں کہ اسرائیل کا وجود شیخ مکہ کی خلافت عثمانیہ سے بغاوت اور برطانوی سامراج سے وفاداری کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا، مگر بعد میں آنے والے سالوں میں تو ان کو ملنے والی دولت اور عظمت، تم سے وفاداری کے دعووں سے ہی تو عبارت رہی تھی۔ ہر دور میں ہم نے شیخان حرم سے امیدیں رکھیں، مگر انہوں نے ہر دور میں تم سے وابستہ اُمت کی آرزوؤں کا خون کیا۔

کتنی دل دہلا دینے والی خبر ہے کہ ایک ماہ پہلے شہزادہ محمد بن سلمان نے محمود عباس کو بلا کر صدی کی سب سے بڑی ڈیل کی آفر کرتے ہوئے بیت المقدس سے دستبردار ہونے کا کہہ دیا تھا، ایک نیا شہر تعمیر کر کے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اس میں جا بسنے کے نہ صرف احکامات دیے بلکہ عملدرآمد نہ کرنے پر دو ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ جب اپنے ہی نشیمن پر ایسے بجلیاں گرانے لگیں تو پھر ایسے میں کس سے گلہ کرے کوئی؟ شہزادہ عالم نے اپنی سلطنت کے لیے 2030ء کا ویژن دیا ہے، اکنامک سٹی بن رہا ہے، ساحل پر کسینوز کی بستیاں آباد ہونے لگیں ہیں، سرزمین عرب پر عریانی رقصاں ہوگی، شہزادہ عالم نے 45 کروڑ ڈالر میں مسیح کی پنٹنگ خرید کر اپنی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم پاکستان کے نام کھلا خط - عابد محمود عزام

شہزادہ عالم کی بات ایک طرف۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد جب دنیا بھر میں احتجاج اور مذمت کی لہر تھی، ایسے عالم میں بھی حرمین کی مساجد تمھارے ذکر سے خالی رہیں۔ مسجد الحرام کے امام الشیخ ماھر بن حمد المعیقلی نے اپنے جمعہ کے خطاب میں صرف ایک جملہ کہا کہ سعودی عرب کا عالم اسلام اور اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے کلیدی کردار ہے۔ مملکت سعودی عرب فلسطینی قوم کے آئینی حقوق کی حمایت کرتی ہے۔ باقی پورا خطبہ انہوں نے والدین سے حسن سلوک اور ایفائے عہد پر بات کی۔ اسی طرح مسجد نبوی کے امام عبداللہ البعیجان نے اپنے خطبہ میں سال کے بدلتے موسم اور ان میں قدرت خداوندی کی حکمت پر بات کی۔ وہ بھی بیت المقدس کے معاملے پر کوئی بات کرنے کی جرات نہیں کرسکے۔

اے میری اقصٰی۔!
یہ منظر مجھے شدید رنج و الم میں مبتلا کر کے مایوسی کی دلدل میں دھکیلتا ہے، مگر سلام ہے فلسطین کے شیروں پر، کہ تمھاری حرمت پر قربان ہونے والے اہل غزہ نے ایک بار پھر سے انتفاضہ برپا کر دی ہے۔ تمھارا بیٹا محمود المصری ٹرمپ کے اعلان کو اپنے خون سے مسترد کرنے والا پہلا شہید امید اور یقین کی شمع جلا گیا ہے، نشان منزل بتا گیا ہے۔ اہل فلسطین بیدار ہیں، برستی گولیوں اور آسمان سے ہوتی بمباری کے باجود سڑکوں پر نعرہ زن ہیں۔ شیخ احمد یٰسین کے جانشین اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل اس تحریک کے سالار ہیں، اور پوری امت کو عظمت کے راستے کی جانب پکار رہے ہیں۔

اے اقصٰی۔!
مجھے تم سے محبت ہے،
میری آنکھوں میں تمھاری آزادی کے خواب سجے ہیں،
میرے لبوں پر اقبال، فیض و جالب کی طرح تمھاری عظمت و رفعت کے نغمے مچلتے ہیں۔
میں شیخان حرم کی بے وفائیوں کے ماتم اور سوگ میں وقت برباد نہیں کرنا چاہتا،
انتفاضہ نے اعلان کیا ہے سنگینیوں کے آگے تمھارے بیٹوں کے سینے ختم نہ ہوں گے۔

میں بھی اہل فلسطین کی طرح تم پر اپنی جان نچھاور کرنا چاہتا ہوں۔
تمھیں زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔!