اور جن پر معافی کا در کھلتا ہے - روبینہ فیصل

خدا کی لاٹھی بے آواز ہو تی ہے، کرما، poetic justice کچھ بھی کہہ لیں، ان کا مطلب ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ 'جیسی کرنی ویسی بھرنی'، یعنی جو بویا وہی کاٹنا ہے۔ زندگی کے باغ میں کیکٹس کے بیج بوئیں گے تو گلاب نہیں نکلیں گے۔یہ سب باتیں ہم اپنی روز مرہ کی زندگیوں میں بارہا سنتے ہیں۔ یاد کون رکھتا ہے؟ کوئی بھی نہیں، نہ میں نہ آپ!

یاد تب ہی آتا ہے جب قدرت کا انتقام ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑا ہو تا ہے۔ تب وقت مٹھی سے پھسل چکا ہو تا ہے۔ ہم اپنے حصے کے کمزور لمحوں میں جن میں جذباتی، جسمانی یا روحانی لغزشیں شامل ہو تی ہیں، ان کے آگے بے بس ہو کر، کوئی جرم، کوئی غلطی یا کوئی گناہ سر زد کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ کسی کا دل دُکھانا بھی ہو سکتا ہے، کوئی پیسوں کی ہیرا پھیری یا مکمل فراڈ بھی ہوسکتا ہے، کسی انسان کو جان سے مار دینا بھی ہو سکتا ہے۔ نفس کے قیدی انسان سے کیا نہیں ہو سکتا؟

کمزوری چاہے نفسی ہو،معاشی ہو، اخلاقی ہو، جسمانی ہو یا جنسی ہو، انسان کو ہارنے کے خوف سے اتنا طاقت ور بنا دیتی ہے کہ وہ کسی بھی پائے کا جرم بغیر کسی لغزش کے کر سکتا ہے۔ شیخ سعدی نے کہا تھا نا کہ کمزور بلی کو بھی جب موت اپنے سامنے نظر آتی ہے تو اس میں اتنی طاقت آجاتی ہے کہ وہ موت کا منہ نوچ سکتی ہے۔ یہ کمزور لوگ اپنی زندگی کی خاطر دوسروں کا منہ،دل کلیجہ جو بھی ملے نوچتے ہیں،چباتے ہیں۔ یعنی کہ بظاہر طاقتور نظر آنے والے لوگ، کسی نہ کسی کمزوری کا شکار ہو تے ہیں۔ اور یہ لوگ اس کمزوری کو چھپانے کے لیے، کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو تے ہیں۔

اپنے حکمرانوں کی زندگیوں پر گہر ی نظر ڈالیں تو یہ بظاہر طاقتور، امیر کبیر، بااختیار لوگ انتہائی غریب، مریض اور ہارے ہو ئے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کو اپنی مصنوعی زندگیوں کو طوالت دینے کے لیے نہ جانے کس کس غریب کے دل کا خون نچوڑنا اور جسموں کا ماس نوچنا پڑتا ہے۔

جزائیں اور سزائیں، قیامت کے بعد کسی جنت یا دوزخ کی محتاج نہیں ہیں۔ اس کا سلسلہ دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں۔ یہ بات سب اپنی اپنی زندگیوں میں کبھی نہ کبھی بھگت چکے ہیں مگر ماننے کو تیار نہیں کیونکہ ماننے سے پہلے یہ ماننا ضروری ہو جاتا ہے کہ غلطی ہم سے ہوئی، گناہ ہم سے ہوا، فراڈ یا دھوکہ ہم نے کیا، کسی انسان کا یا کسی کے جذبات کا خون ہم سے ہوا۔ یہ جو فطرت کے توازن یا خدائی انصاف کو ماننا ہے اس سے پہلے خود کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا جرم قبول کر نے کا مر حلہ ہو تا ہے۔ جو یہ سر کر جائے اللہ اسے اپنے قریب آنے کا بھی موقع دیتا ہے ورنہ ایک کے بعد دوسری دلدل، خوشیوں کا نقاب پہنے انسان کو بہکاتی رہتی ہے۔پہلے وہ اپنی غلطی یا جرم کا اعتراف کر ے گا، یہ اعتراف اس کی خون کی رگوں سے ہو تا ہوا جب اس کی آنکھوں تک اترے گا، تو آنکھیں آنسو نہیں لہو برسائیں گی، جب سارا چہرہ خون سے تر ہو جائے گا، تو اندر کی خشکی بھی اپنی موت آپ مر جائے گی۔ سزا کو اپنے "جرم کی اولاد" سمجھ کر قبول کر نے سے معاملات بہت حد تک آسان ہو جاتے ہیں۔ انکاری ہو نے کا مطلب ہے، آپ نے اپنے پورے وجود کو جھٹلا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹک ٹاک اور ہماری نوجوان نسل - سطوت اویس

قران ِ پاک میں کن لوگوں کا ذکر ہے، جو گونگے اور بہرے ہیں اور جن کے سینوں پر قفل لگا دیا گیا ہے، وہ یہی لوگ ہیں جن کی سزائیں زندگی میں ہی ان کے سامنے ننگا ناچ ناچتی ہیں مگر وہ انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں نہیں نہیں یہ ہماری غلطی کی سزا نہیں، بلکہ یہ فلاں نے ہمارے ساتھ کیا، یا فلاں نے نہیں کیا۔ میں تو ایسا یا ایسی نہیں ہوں۔ اپنی انا کے غبارے میں ہوا بھر کر پیٹ اور سینہ پھلائے کہتے پھرتے ہیں ہم جیسا نیک شریف انسان ہی کوئی نہیں۔ اندر سے جانتے ہیں اپنی غلطیاں بھی، غلاظتیں بھی، مکر اور فریب بھی۔ مگر لوگوں اور خدا کے ساتھ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ انہیں خود سے بھی سچ لگنے لگ جا تا ہے۔

ذہین فطین اور ناقا بل ِ شکست نظر آنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی بھیانک پھانسی اور اس سے پہلے اسے ملنی والی کال کوٹھری کی اذیت اور ذلت۔ ذہین اور حسین اندرا گاندھی کا بھیانک قتل اوربنگالی شیر مجیب الرحمٰن کا خاندان سمیت بھیانک انجام،( 16دسمبر جب بھی آتا ہے، یہ چہرے میری آنکھوں کی آگے گھومنے لگ جاتے ہیں)۔ سقوط ِ ڈھاکہ کے یہ تین طلسمی کردار کیسے اپنے خاندانوں سمیت ایک جیسے انجام کو پہنچے،بھٹو صاحب کے دو بیٹے مرتضی، شاہنواز اور بیٹی بے نظیر، سب کہاں گئے؟ نہ طبعی عمریں جیے، نہ طبعی موتیں مرے۔

اندرا گاندھی کا شیر جوان راجیو گاندھی کہاں گیا؟ ایک نسل قتل ہو ئی اور اگلی نسل میں یا مریض یا زنخے۔ تو کس کے لیے اتنے لوگوں کا دل دکھایا اور مال چرایا تھا؟ کس کے لیے؟

کیا بہت زیادہ جینے کی خواہش بہت سوں کو مار دینے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے؟

بات ظالموں کے زندہ رہنے کی خواہش کی بھی ہو تی، کیونکہ ان کی خواہش تو آب ِ حیات پی کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے کی ہو تی ہے، مگر ان کی بقا ہو تی نہیں۔ ان کی اولاد زندہ صورت میں بھی مردہ نظر آتی ہے۔ بے جان پتھر کے بُت یا مورتیاں۔ دماغی طور پر مفلوج، اپنے ہی گوشت کا بوجھ سہارتے کیا یہ زندہ ہیں؟ اسی لیے جن کی عقلوں پر قفل ہیں، انہوں نے کیا سمجھنا۔ نہ ان کی زندگیوں میں کو ئی محبت، نہ خلوص نہ سچائی۔ کیونکہ رشتوں میں بھی بے وفائی اور دھوکہ بوتے ہیں، کاٹنے کے وقت پر وفا اور خلوص کیسے ملے گا؟ جھوٹ کی لعنت میں لتھڑے گندے چہرے، جن کے اردگرد جھوٹے لوگ کائی کی طرح اُگ آتے ہیں۔ اور ان سے خدا اتنا ناراض ہوتا ہے کہ انہیں ان کے گناہوں کا بھی احساس نہیں ہو نے دیتا، معافی اور توبہ کا مر حلہ تو بہت دور کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ ! - فرحت طاہر

میں جب حسین یا حسن نواز کے پاک نام دیکھتی ہوں تو ان کے چہروں کو ان ناموں اور حرکتوں سے بالکل بے ربط پاتی ہوں بلکہ ان کے چہروں سے ایک عبرت ہے جو مجھے ہر پل پاکستانیوں کے لیے ٹپکتی نظر آتی ہے۔ اگر پاکستانی عبرت کے ان چہروں کو پہچان سکیں تو۔ حماقتیں، موٹاپے اور عیاشیاں۔ کہا تھا نا دماغی، جسمانی، جنسی کمزوریوں والے مر د ہی نارمل حد کی عیاشیوں، گناہوں اور بے حسیوں کے معاملے میں بہت طاقتور ہو تے ہیں۔ ان کے احمق چہروں سے نہ سمجھ آئے تو شہباز شریف کی شادیوں اور لونڈیوں کی تعداد اور ان کے ڈاکٹر سے جنسی طاقت کے انجکشنوں کا استعمال پو چھ لیں۔ سمجھ آجائے گا کہ کمزور لوگ کس طرح کے ہتھکنڈوں سے اپنے آپ کو طاقتور ثابت کر تے ہیں۔ مردانگی کی تعریف عورتوں کے ڈھیر کو اکھٹا کر نا نہیں، بلکہ کسی ایک سچی عورت کے ساتھ سچا رشتہ نبھانے میں ہے، اس کے لیے آپ کو انجکشن کی ضرروت نہیں پڑتی۔

ایک نسل تک پھر بھی دم تھا، قتل ہو ئی، اگلی نسل تو ہیجڑا ہی ہو گئی۔ بھٹو خاندان کے نام کی ذمہ داری کن لچکیلے اور نازک کندھوں پر ہے؟ الطاف حسین کی نسل کدھر ہے؟ فضل الرحمن، اسفند یار؟ میں ان کے ناموں کو آگے بڑھانے والوں، ان کے جمع کیے ہو ئے خزانوں کے رکھوالوں، ان کے روشن ستاروں کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ مگر سوائے بڑے بڑے معدوں کے، اور لاتعداد بیماریوں کے مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ کیا یہ poetic justiceچشم کُشا نہیں؟

یہ ظالم اور بے حس لوگ کس کے لیے غریب لوگوں کے ستاروں کو دنیا کے آسمان سے مٹا رہے ہیں؟ خدا کی لاٹھی کی آواز نہیں ہو تی۔ کتنی دفعہ یاد کروانا پڑے گا؟ اس کی ضرب محسوس ہو تو اسے مان لو۔ اور 16 دسمبر کو خون میں لت پت معصوموں کی نعشوں کو بھولنے سے پہلے اپنے اور اپنے بچوں کے مسخ شدوں چہروں کو ضرور غور سے دیکھنا، اور اگر میرے رب نے تمھیں معاف کر دیا تو، صدق ِ دل سے رونے کی، معافی مانگنے اورتو بہ کر نے کی لذت سے بھی آشنا کر دے گا۔ کیونکہ جن پر میرا رب معافی کا در کھولتا ہے، انہی کے دلوں سے قفل ہٹاتا ہے، اپنے جرم کا اعتراف کرنے کی جرات اور دوسروں کا احساس کرنے کی توفیق دیتا ہے۔